فتنہ انجمن سرفروشان کے عقائد و نظریات کے قرآن و حدیث سے جوابات

'دین الٰہی گو ہر شاہی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اشرف يوسف, ‏نومبر 19, 2012۔

  1. محمد اشرف يوسف

    محمد اشرف يوسف وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    61
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پہلا عقیدہ:
    نبی کریم ﷺ مجھ کو جو تعلیم دیتے ہیں میں وہی بتاتا ہوں۔
    اسلام کے ارکان نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج میں روحانیت نہیں ہے، روحانیت تو صرف ذکر میں ہے جیسے کہ گوہر شاہی خود تحریر کرتے ہیں:
    ’’نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور عبادات میں روحانیت نہیں، روحانیت کا تعلق دل کی ٹک ٹک کے ذریعہ اللہ اللہ کرنا ہے جس کے ذریعہ انسان میں موجود دیگر مخلوقات بھی بیدار ہوکر اللہ اللہ کرنے لگ جاتی ہیں، پھر یہ نمازیں پڑھتی ہیں، روزے رکھتی ہیں، ان کا یہ عمل قیامت تک جاری رہتا ہے‘‘۔
    (حق کی آواز:۳)
    جواب:
    اس کے خلاف علماء اہل سنت و الجماعت فرماتے ہیں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ نماز، روزہ، حج زکوٰۃ اور عبادات یہ دین میں اصل مقصود ہیں، اگر کوئی ان کے بارے میں یہ کہے کہ اس میں روحانیت نہیں ہے تو یہ کفر کی بات ہے۔
    (احسن الفتاویٰ:۱/۳۱۹)
    خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اور روحانیت یعنی طریقت حقیقت کے لحاظ سے ایک ہیں، طریقت، شریعت پر عمل کرنے کا ہی نام ہے، یعنی وہ طریقہ جس کے ذریعہ سے آدمی کامل شریعت پر عمل پیرا ہوسکے۔


    دوسرا عقیدہ: قرآن مجید کے چالیس پارے ہیں
    اس بارے میں خود گوہر شاہی کہتے ہیں:
    ’’یہ قرآن پاک عوام کے لئے ہے، جس طرح ایک علم عوام کےلئے جبکہ دوسرا علم خواش کے لئے ہے جو سینہ بہ سینہ عطا ہوا، اسی طرح قرآن پاک کے دس پارے اور ہیں جب ہم نےاللہ کو جاننے کی غرض سے مغل باغ سیہون شریف میں ذکر و فکر، تلاوت، عبادت و ریاضت اور مجاہدادت کئے تو ہم پر باطنی راز منکشف ہونا شروع ہوگئے، باطنی مخلوقات ہمارے سامنے آگئیں اور وہ دس پارےبھی سامنے آگئے‘‘۔
    (حق کی آواز:۵۲)
    اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھا ہے:
    ’’تیس پارے ظاہری قرآن پاک کے، دس پارے باطنی، کل ملا کر چالیس پارے ہوئے‘‘۔
    (حق کی آواز:۵۴)
    جواب:
    اس قسم کا عقیدہ بھی قرآن و حدیث کے سراسر خلاف ہے، قرآن مجید میں اللہ جل شانہ خود ارشاد فرماتے ہیں:
    إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ o
    (حجر:۹)
    ترجمہ: بے شک ہم نے قرآن اتارا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    مسلمانوں کا عقیدہ:
    مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ قیامت تک ہر قسم کی تحریفِ لفظی و معنوی سے قرآن محفوظ رہے گا، زمانہ کتنا ہی بدل جائے مگر قرآن میں تبدیلی نہیں آئے گی اور قرآن کی حفاظت کے بارے میں ذخیرۂ احادیث موجود ہے۔


    • تیسرا عقیدہ:
    رسول کریم ﷺ کی زیارت کے بغیر کوئی آدمی آپﷺ کا امتی نہیں بن سکتا۔
    خود گوہر شاہی اپنی بدنام کتاب مینارہ نور میں تحریر کرتے ہیں:
    ’’جب تک آپ ﷺ کسی کو زیارت نہ دیں تو اس کے امتی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
    (مینارۂ نور:۳۴)
    جواب:
    اہل سنت و الجماعت کے نزدیک اس قسم کی شرط لگانا امتی ہونے کے لئے آج تک کسی نے بھی نہیں لگائی اور نہ اس کا کوئی ثبوت قرآن سے ہے اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ سے، تو یہ شرط کیسے قابل قبول ہوگی؟
    علماء نے تو مسلمان ہونے کے لئے اتنا لکھا ہے کہ جو بھی دل سے اللہ کی توحید کی گواہی دے اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی دے وہ نبی کریم ﷺکا امتی اور مسلمان ہے اور آپﷺ کی امت میں شامل ہے، خواہ زندگی بھر وہ نبی کریمﷺ کی میارت کرسکا ہو یا نہ کرسکتا ہو وہ مسلمان ہے۔
    اللہ کی پہچان اور رسائی کے لئے روحانیت سیکھو، خواہ تمہارا تعلق کسی بھی فرقہ یا مذہب سے ہو، اس بارے میں خود گوہر شاہی ہی تحریر کرتے ہیں:
    ’’اللہ کی پہچان اور رسائی کے لئے روحانیت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی فرقہ یا مذہب سے ہو، مسلمان یہ کہیں گے کہ بغیر کلمہ پڑھے کوئی کیسے اللہ تک پہنچ سکتا ہے؟ جب کہ عملی طور پر ایسا ہورہا ہے؟ عیسائی، ہندو اور سکھوں کے ذکر کے بغیر کلمہ پڑھے چل رہے ہیں‘‘۔
    (گوہر:۴)
    ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
    ’’اللہ کی پہچان اور رسائی کے لئے روحانیت سیکھو خواہ تمہارا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو‘‘۔
    (فرمان گوہر شاہی، مینارۂ نور)
    اس بارے میں علماء اہل سنت و الجماعت اور پوری امت کا ہی اتفاق ہے کہ اسلام قبول کئے بغیرکوئی بھی عمل اللہ کے یہاں مقبول نہیں ہے، جیسے کہ قرآن و احادیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے، مثلاً:
    قرآن سے ثبوت
    ۱۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ ۔
    (اٰل عمران:۸۵)
    ترجمہ: جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
    احادیث سے ثبوت
    ۱۔ و الذی نفسُ محمد بیدہ لا یسمع بی احد من ھذہ الامۃ یہودی ولا نصرانی ثم یموت و لم یؤمن بالذی اُرسلتُ بہ الا کان من اصحاب النار۔
    (مسلم و کذا مشکوٰۃ:۱۲)
    ترجمہ: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے نہیں اس امت میں سے کوئی بھی یہودی اور نہ نصرانی کہ میرے بارے میں سنے اور پھر میرے لائے ہوئے دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے مگر یہ کہ وہ جہنمی ہوگا۔
    ۲۔ قال علیؓ فی آخر خطبۃ لہ ایھا الناس دینکم دینکم فان السیئۃ فیہ خیر من الحسنۃ من غیرہ ان السیئۃ فیہ تغفر و ان الحسنۃ فی غیرہ لا تقبل۔
    (روح المعانی:۳/۱۰۹)
    ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آخری خطبوں میں سے ایک خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! اپنے دین کو پکڑو،اس لئے کہ اس میں گناہ غیر دین میں نیکی سے بہتر ہے، اس لئے کہ دین اسلام میں گناہ معاف ہوجاتا ہے اور غیر دین میں نیکی بھی قبول نہیں ہوگی۔
    ۳۔ مشہور روایت ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میرے دین کی اتباع کرتے۔
    علماء عقائد سے ثبوت
    ۱۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ۔
    (نبراس:۳۶۰)
    ترجمہ: (اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ) بیشک مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی۔
    اور عقیدۃ الطحاویہ میں ہے:
    ۲۔ و اذا زال تصدیق لم ینفع بقیۃ الاخر فان تصدیق القلب شرط فی اعتبارھا و کونھا نافعۃ۔
    (عقیدۃ الطحاویہ:۳۴۱)
    ترجمہ: جب دل میں ایمان کی تصدیق نہ رہے تو باقی اعمال کار آمد نہیں ہوں گے اس لئے کہ دل کی تصدیق اعمال کے معتبر اور کار آمد ہونے کے لئے شرط ہے۔


    چوتھا عقیدہ: انبیاء علیہم السلام توہین کرنا
    مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں گوہر شاہی نے لکھا ہے:
    ترجمہ: ’’جب حضرت آدم علیہ السلام کا جثہ (جسم) بنایا گیا تو شیطان نے نفرت سے تھوکا جو ناف کے مقام پر پڑا اور شرک سے ایک جرثومہ اندر داخل ہوا، جو بعد میں شیطان کا آلہ کار بنا اور آدم علیہ السلام نفس کی شرارت سے اپنی وراثت یعنی بہشت سے نکل کر عالم ناسوت میں پھینکے گئے‘‘۔
    (مینارہ نور:۱۲)
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے:
    ’’بیت المقدس سے دو میل دو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزار ہے، یہودی مرد اور عورتیں وہاں شراب نوشی کرتے ہیں، حتی کہ وہ مزار فحاشی کا اڈّا بن گیا جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کے لطائف وہ جگہ چھوڑ گئے اور وہ مزار خالی بت خانہ رہ گیا‘‘۔
    (مینارۂ نور۶۲)
    جواب:
    اس کے بر خلاف جمہور امت کا اجماع ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تحقیر و توہین کفر ہے، یہی بات قرآن و احادیث اور جمہور امت کے اقوال سے معلوم ہوتی ہے۔
    انبیاء علیہم السلام کی تحقیر کفر ہے، قرآن سے اس کا ثبوت
    ۱۔ ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا o
    (کہف:۱۰۶)
    ترجمہ: جنہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اُڑایا ان کا بدلہ جہنم ہے۔
    ۲۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ oلَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۔
    (توبہ: ۶۵،۶۶)
    ترجمہ: کہہ دو کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ استہزاء کرتے تھے، اب عذر مت بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔
    ۳۔ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ ۔ ()
    ترجمہ: تاکہ تم اللہ پر ایمان اور اس کے رسول پر اور رسول کی عزت اور توقیر کرو۔
    انبیاء علیہم السلام کی تحقیر کفر ہے، احادیث سے اس کا ثبوت
    ۱۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ایما مسلم سبّ اللہ اور سبّ احدا من الانبیاء فقد کذّب الرسول ﷺ وھی ردّۃ ..... فان رجع فیھا و الا قتل۔
    (الصارم المسلول:۱۹۵)
    ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس کسی مسلمان نے اللہ یا کسی نبی کو گالی دی اس نے آپﷺ کو کی تکذیب کی اور یہ مرتد ہوگیا، وہ تو بہ کرے تو صحیح ورنہ قتل کردیا جائے گا۔
    ۲۔ عن مجاھد قال اتی عمر رضی اللہ عنہ برجل سبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقتلہ ثم قال عمر رضی اللہ عنہ من سبّ اللہ تعالیٰ او سبّ احدا من الانبیاء فاقتلوہ۔
    (الصارم المسلول:۱۹۵)
    ترجمہ: حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: جو شخص اللہ کو یا کسی نبی کو گالی دے اس کو قتل کردو۔
    (انبیاء علیہم السلام سے متعلق جمہور امت کا عقیدہ)
    تحفہ شرح منہاج میں ہے:
    ۱۔ او کذّب رسولاً او نبیًّا اور نقّصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوزنبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اللہ علیہ وسلم و عیسیٰ علیہ السلام نبی قبلہ فلا برد۔
    (تحفہ شرح منہاج:۲۴۱)
    ترجمہ: کافر ہوجاتا ہے اگر کسی رسول ہادی کی تکذیب کرے یا کسی قسم کی کمی بیان کرے، تحقیر تصغیر سے نام لے یا ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کے لئے منصبِ نبوت کو جائز سمجھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو نبیﷺ سے پہلے منصب نبوت دیا جاچکا ہے اس پر کچھ شبہ نہیں ہے۔
    ۲۔ یکفر اذا شکّ فی صدق النبی صلی اللہ علیہ وسلم او سبّہ او نقّصہاو صغّرہ .... و یکفر بہ بنسبۃ الانبیاء الی الفواحش۔
    (الاشباہ و النظائر:۱۳۷)
    ترجمہ: کافر ہوجاتا ہے جب کسی نبی کے صدق میں شک کرے یا گالی دے یا ان کی شان میں کمی کرے یا تصغیر سے نام لے اور فواحش کو انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کرے ان سب سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔
    اسی طرح علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ۳۔ الکافر بسب نبی ..... فانہ یقتل حدًّا۔
    (رد المحتار:۴/۲۳۱)
    ترجمہ: نبی کو گالی دینے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے، اس کو حدًّا قتل کردیا جائے گا۔

    انچواں عقیدہ:
    مہدی ہونے کا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ ہدایت میرے ذریعہ سے پھیلے گی۔
    اس بارے میں خود گوہر شاہی کہتے ہیں:
    ’’لوگ اگر ہمیں امام مہدی کہتے ہیں تو اصل میں جس کو فیض ملتا ہے وہ ہمیں اتنا ہی سمجھتا ہے، کچھ لوگ تو ہمیں اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں، ہم انہیں اس لئے کچھ نہیں کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ جتنا ہماری طرف زیادہ ہوگا ان کے لئے بہتر ہوگا‘‘۔
    (سوالنامہ گوہر:۸۔ سنہ ۱۹۹۷ء)
    جواب:
    برخلاف مسلمانوں کے کہ ان کا عقیدہ اور اجماع یہ ہے کہ حضرت مہدیؒ قیامت کے قریب قریب پیدا ہوں گے۔
    نام ان کا محمد، والد کا نام عبد اللہ، والدہ کا نام آمنہ ہوگا، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے، مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوں گے۔
    نیز حضرت مہدی کے بارے میں متعدد روایات مروی ہیں، مثلاً :
    ۱۔ عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ۔
    (ابوداؤد:۲/۲۴۰۔ و کذا ابن ماجہ)
    ترجمہ: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ مہدی میرے خاندان سے ہوں گے، یعنی اولاد فاطمہ میں سے ہوں گے۔
    ۲۔ و عن علیؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیخرج من صلبہ رجل یسُسمّٰی باسم نبیکم یشبہہ فی الخلق ولا یشبہہ فی الخلق یملأ الارض عدلاً۔
    (ابو داؤد:۲/۲۴۱۔ مشکوٰۃ:۴۷۱)
    ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی صلب سے ایک شخص پیدا ہوگا جو تمہارے نبیؐ کے نام سے موسوم ہوگا اور خلقت میں مشابہ ہوگا، مگر خلق میں نہیں، وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔
    ۳۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی و اسم ابیہ الحدیث ..... ھذا الحدیث حسن صحیح۔
    (ترمذی:۲/۴۶)
    ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے خاندان ایک شخص عرب کا مالک اور بادشاہ ہوگا، اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ نام کے مطابق ہوگا۔
    ۴۔ و عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم الساعۃ حتی تملأ الارض جوراً و عدواناً ثم یخرج من اھل بیتی فجل یملأھا قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلماً و عدواناً۔
    (ابوداؤد:۲/۲۳۹)
    ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ زمین ظلم و بے انصافی سے بھردی جائے گی، پھر میرے خاندان سے ایک شخص نکلے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا، جیسے کہ اس سے پہلے جو ظلم و بے انصافی سے بھری ہوئی تھی۔
    حضرت مہدی کے بارے میں احادیثِ متواتر
    اتنی کثرت سے حضرت مہدی کے بارے میں روایات نقل کی گئی ہیں جو حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ جس کا انکار کرنا ممکن نہیں، علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    فقرر ان الاحادیث الواردۃ فی المھدی المنتظر متواترۃ والاحادیث الواردۃ فی نزول عیسی بن مریم علیہ السلام متواترۃ۔
    (کتاب الاداعۃ:۷۷)
    ترجمہ: وہ احادیث جو حضرت مہدی موعود کے بارے میں وراد ہیں وہ متواتر ہیں اور وہ احادیث جو نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مروی ہے وہ متواتر ہیں۔
    ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی کا آنا قیامت کی علامات میں سے ہے اور ان کی علامات جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں ان میں کوئی بھی علامت گوہر شاہی میں نہیں پائی جاتی، اس لئے یہ مہدی موعود نہیں ہے۔
    (مزید وضاحت کے لئے دیکھیں: عقائد الاسلام، مولف ابومحمد عبد الحق حقانی:۱۸۱ تا ۱۸۶۔ عقیدہ سفارینہ:۲/۶۷)

    چھٹواں عقیدہ:
    کلمہ میں محمد رسول اللہ کی جگہ پر گوہر شاہی رسول اللہ کہنا۔
    اس بارے میں گوہر شاہی خود اپنی بدنام زمانہ کتاب ’’حق کی آواز‘‘ میں لکھتے ہیں:
    ترجمہ: ’’جشن ولادت کے موقع پر ایک رنگین اسٹیکر R,A,G,S نیشنل انگلینڈ نے جاری کیا، جس میں کلمہ اور میرا نام لکھا تھا، حالانکہ اس میں کوئی ایسی بات نہ تھی، پھر بھی مخالفوں کے شر کی وجہ سے فوری ضبط کرلیا‘‘۔
    (مہدی منتظر:مصنف شیخ ابن حجر مکیؒ، اس کتاب میں دو سو علاماتِ مہدی لکھی ہیں)
    جواب:
    کلمہ طیبہ میں دوسرا جز محمد رسول اللہ ﷺ ہے، اس پر جمہور امت کا اجماع ہے، جس طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کلمہ کے دوسرے جز میں نام ذکر کیا جاتا تھا تو اسی طرح گوہر شاہی نے بھی اپنا نام کلمہ میں ہی شامل کرلیا اس طرح ہے۔
    (حق کی آواز:۵۱۴)
    لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ
    لا الہ الا اللہ ابراھیم خلیل اللہ
    لا الہ الا اللہ اسماعیل ذبیح اللہ
    لا الہ الا اللہ موسیٰ کلیم اللہ
    لا الہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ
    لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
    اسی طرح گوہر شاہی نے بھی کلمہ کے ساتھ اپنا نام جوڑ لیا اور یہ لکھوایا:
    لا الہ الا اللہ گوہر شاہی رسول اللہ
    نیز جمہور امت کا اتفاق ہے کہ کلمہ طیبہ میں کسی قسم کا تغیر کرنے سے آدمی اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، علماء اہل سنت والجماعت کا عقیدہ تو یہاں تک کہ ہے کہ صرف نبی کریم ﷺ کو نبی نہ ماننے والا کافر ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کو بھی نہ ماننا کفر ہے، یہی بات قرآن و احادیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، علامہ ابن حزم ظاہری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الفصل میں فرماتے ہیں:
    صح الاجماع علی ان کل من جحد شیئا صح عندنا بالاجماع ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتیٰ بہ فقد کفر ۔
    (کتاب الفصل:۴/۲۵۵)
    ترجمہ: اس بات پر اجماع ہے کہ ہر وہ شخص جس نے اس امر کا انکار کیا جو اجماعاً ثابت ہوچکا ہو کہ اس امر کا جو رسول اللہ ﷺ خدا کی طرف سے لاتے ہیں وہ کافر ہے۔
    اور کتاب ایثار الحق میں ہے:
    ان الکفر ھو جحد الضروریات من الدین او تاویلھا۔
    (ایثار الحق:۲۵)
    ترجمہ: کفر ضروریاتِ دین کا انکار کرنا ہے یا اس کی تاویل کرنا ہے۔

    ساتواں عقیدہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا دعویٰ
    اس بارے میں گوہر شاہی خود تحریر کرتے ہیں:
    ’’امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوچکے ہیں جو ان کے قریبی لوگ ہیں وہ انہیں جانتے رہے ہیں اور جو بھی ان کے قریب ہوجاتا ہے وہ انہیں جانتا ہے اور اس طرح کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘‘۔
    (حق کی آواز، ملفوظات گوہر شاہی:۱۷۔تاریخ اشاعت:۱۵/جون ۱۹۹۸ء)
    اسی طرح دوسری جگہ پر ان کا مریدیہ لکھتا ہے:
    ’’حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ کے دورۂ امریکہ کے دوران مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۹۷ء نیو میکسیکو کے شہر طاؤس Taus کے ایک مقامی ہوٹل Eimdnti ladge میں حضرت سیدنا گوہر شاہی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظاہری ملاقات فرمائی، یہ ملاقات آج ۲۸/جولائی ۱۹۹۷ء تک ایک راز میں رہی، لیکن اب جب کہ مرشد پاک نے اس راز سے پردہ اٹھانا مناسب جانا تو کرم فرماتے ہوئے کچھ تفصیلات ارشاد فرمائی، ..... نیو میکسیکو کے ہوٹل میں پہلی رات قیام کے دوران رات کے آخری پہر میں نے ایک شخص کو اپنے کمرے میں پایا، ہلکی روشنی تھی، میں سمجھا ہمارا کوئی ساتھی ہے، پوچھا کیوں آئے ہو؟ جواب دیا: آپ سے ملاقات کے لئے، میں نے لائٹ آن کی تو یہ کوئی اور چہرہ تھا جسے دیکھ کر میرے سارے وظائف ذکر الٰہی سے جو میں آگئے اور مجھے ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی، جیسی فرحت میں نے آپﷺ کی محفلوں میں کئی بار محسوس کی تھی، لگتا تھا کہ انہیں ہر زبان پر عبور حاصل ہے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں عیسٰی بن مریم ہوں، ابھی امریکہ میں ہی رہ رہا ہوں، پوچھا رہائش کہاں ہے؟ جواب دیا کہ نہ پہلے میرا کوئی ٹھکانہ تھا نہ اب کوئی ٹھکانہ ہے، پھر مزید جو کچھ گفتگو ہوئی وہ ہم کو گوہر شاہی نے بتانا مناسب نہیں سمجھا، حضرت گوہر شاہی فرماتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد جب میں امریکی زوناٹوسن میں ایک روحانی سنٹر (Tocson3335 Eastgantnek A.Z) پر گیا، وہاں کتابوں کے ایک اسٹال پر میزبان خاتون میں ہری کے ساتھ ہی اسی طرح نوجوان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصویر دیکھی، میں پہچان گیا اور اس خاتون سے پوچھا یہ تصویر کس کی ہے؟ کہنے لگی عیسٰی بن مریم کی ہے، پوچھا کیسے ملی؟ تو بتایا اس کی جان پچان کے کچھ لوگ کسی مقدس روحانی مقام پر عبادت و ریاضت کے لئے گئے تھے اور اس مقام کی تصاویر کھینچ کر جب پرنٹ کروائی گئیں تو کچھ تصاویر میں یہ چہرہ بھی آگیا، جب وہاں نہ کسی نے دیکھ اور نہ تصویر اتاری، وہ تصویر اس خاتون سے حاصل کرنے کے بعد چاند پر موجود ایک شبیہ سے اس تصویر کو جب ملاکر دیکھا تو وہ ہو بہو وہی تصویر نظر آئی، اب یہاں لندن آکر گارڈین اخبار والوں کو اشتہار کے لئے جب یہ تصویر دی تو انہوں نے بھی اپنے کیجریٹر کے ذریعہ چاند والی تصویر سے ملاکر اس تصویر کی تصدیق کی، اب ان حوالوں کی روشنی میں اس راز پردہ اٹھانا مناسب سمجھتے ہیں کہ واقعی یہ تصویر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی ہے‘‘۔
    (اشتہار شائع کردہ سرفروش پبلیشر)
    جواب:
    پوری امت کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں، قیامت کے قریب میں نزول فرمائیں گے اور پھر کچھ عرصہ زمین پر رہ کر انتقال ہوگا اور آپﷺ کے پہلو میں مدفون ہوں گے۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں احادیث میں آتا ہے جس وقت وہ آسمان سے اتریں گے اسی وقت لوگ ان کو دیکھ لیں گے، پہلے سے وہ زمین پر موجود نہیں ہوں گے۔
    ۱۔ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ۔
    (مسلم:۲/۴۰۱۔ ترمذی:۲/۴۷۔ ابن ماجہ:۲/۳۰۶)
    ترجمہ: حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کو بھیجیں گے تو وہ دمشق کے مشرقی سفید مینارے کے پاس دو چادریں اوڑھے ہوئے دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھتے ہوئے اتریں گے۔
    نوٹ: اس سے معلوم ہوتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں اتریں گے، گوہر شاہی کے بقول وہ امریکہ میں اترے ہیں، جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اس وقت نماز کا وقت ہوگا۔
    ۲۔ عن جابر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ ۔
    (مسلم: ۱/۸۷۔ و کذا فی مشکوٰۃ:۴۸۰)
    ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور وہ قیامت تک غالب رہے گی، پھر فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے، مسلمانوں کے امیر کہیں گے کہ تشریف لائیں نماز پڑھائیں، وہ جواب دیں گے کہ نہیں! اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ بزرگی دی کہ تمہارا بعض بعض پر امیر ہے۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو جہاد بھی کریں گے
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ۔
    (بخاری:۱/۴۹۰۔ مسلم:۱/۸۷۔ ترمذی:۱/۴۶)
    ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھاکر ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تمہارے اندر (عیسیٰؑ) ابن مریم عادل حاکم بن کر اتریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرنے کا حکم دیں گے اور جزیہ ختم کردیں گے اور مال بہنے لگے گا کوئی صدقہ اور زکوٰۃ قبول والا نہیں ملے گا۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چالیس سال رہ کر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوں گے۔
    عن عبد الله بن عمر قا ل : قا ل رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ينزل عيسى بن مريم إلى الأرض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا وأربعين سنة ثم يموت فيدفن معي في قبري فأقوم أنا وعيسى بن مريم في قبر واحد بين أبي بكر وعمر ۔
    (مشکوٰۃ:باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجال)
    ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین پر اتریں گے، پھر شادی کریں گے اور اولاد پیدا ہوگی، پھر پینتالیس سال عمر پوری کرکے وفات پائیں گے اور میرے پاس میری قبر میں دفن ہوں گے، پھر میں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک قبر سے اٹھیں گے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان۔
    ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب اتریں گے اور قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ان کا نزول بھی ہے اور جب وہ دمشق میں اتریں گے تو حضرت مہدی موجود ہوں گے اور تمام مسلمان ان کو پہچان لیں گے۔
    آٹھواں عقیدہ:
    عورتوں سے مصافحہ اور معانقہ کرنا اور جسم دبوانا درست ہے۔
    روحانی سفر میں گوہر شاہی لکھتے ہیں:
    ترجمہ: ’’وہ مستانی سے پہلے سے بھی زیادہ قریب ہوں گے کبھی آنکھوں میں عجیب سی مستی چھا جاتی، پھر مختلف اولاد کی طرح اتراتی، جبکہ اس کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ بھی تھی، میرے ہاتھ کو پکڑ کر سینے سے لگاتی اور کبھی ناچنا شروع ہوجاتی‘‘۔
    (روحانی سفر:۳۷)
    اسی طرح کتاب میں دوسری جگہ پر لکھتے ہیں:
    ’’جب کبھی دل پریشان ہوتا یا بچوں کی یاد ستاتی تو وہی عورتیں یکدم ظاہر ہوجاتیں پنکھا کرتیں اور پھر نعت پڑھتیں اور وہ پریشانی کا لمحہ گذرجاتا اور کبھی جسم میں درد ہوتا تو وہ آکر دبادیتیں جس سے مجھے سکون ملتا‘‘۔
    (روحانی سفر)
    جواب:
    جبکہ دوسری طرف احادیث صریح ہیں کہ عورتوں سے ملنا، دیکھنا، ہاتھ ملانا، جسم دبوانا یہ سب ناجائز ہے۔
    ۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مرد کسی عورت سے تنہائی میں ملتا ہے تو اس کے ساتھ تیسرا ساتھی شیطان ہوتا ہے۔
    (ترمذی)
    ۲۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سر میں سوئی چبھودی جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں۔
    (طبرانی، بیہقی)
    ۳۔ اجنبی عورتوں کو سلام کرنا اسی طرح اجنبی مردوں کو عورتوں کا سلام کرنا جائز نہیں۔
    (ابونعیم و کنزل العمال:۸/۲۶۴)
    ۴۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاتھ کا زنا نا محرم کو پکڑنا ہے۔
    (بخاری)
    علماء فرماتے ہیں کہ نامحرم عورت سے بات چیت کرنا، مصافحہ کرنا اور معانقہ کرنا اور جسم دبوانا وغیرہ سب امور حرام ہیں
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محمد اشرف یوسف صاحب آپ نے ایک انتہائی اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور حق کو خوب اسان فہم انداز میں بیان کیا ہے اللہ کریم آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے اور ہم سب کی حفاظت فرمائے اور خاتمہ باالخیر فرمائے آمین یا رب العٰلمین
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  4. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں