فتویٰ اورتقویٰ

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 24, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
    فتویٰ اورتقویٰ
    ناصرالدین مظاہری ​

    حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ سے ایک شخص نے مسئلہ معلوم کیاکہ میرے کپڑوں پر ایک درہم سے کم جگہ میں گندگی لگی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں کیا نمازہوجائے گی؟
    حضرت امام اعظمؒ نے فرمایاکہ نمازہوجائے گی۔
    اس واقعہ کے بعدایک دفعہ یہی صورت حضرت امام اعظم ؒ کے ساتھ پیش آئی تو آپؒ اپنے گھرتشریف لے گئے اور کپڑے بدل کرنمازاداکی،مذکورہ سائل نے یہ منظردیکھا تو عرض کیاکہ حضرت آپ نے مجھے ایسا ایسا مسئلہ بتلایاتھااور یہی کیفیت جب آپ کے ساتھ پیش آئی ہے تو آپ نے کپڑے بدل کر نمازادافرمائی ایساکیوں؟
    فرمایاکہ: میں نے تمہیں جو بات بتائی تھی وہ توہے فتویٰ اور تم نے میراجو عمل دیکھاہے یہ ہے تقویٰ ۔
    اس واقعہ سے عرض یہ کرناہے کہ اس وقت عام طورپر مسلمانوں نے فتویٰ کوتواپنااوڑھنابچھونابنالیالیکن تقویٰ سے کلی طورپرانحراف اور اعراض برتناشروع کردیاحالانکہ جس طرح شریعت مطہرہ میں فتویٰ کاایک مقام ہے اسی طرح تقویٰ کی بھی اپنی ایک حیثیت ہے اور ارشادباری تعالیٰ ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقاکم جیسے واضح اور کھلے ہوئے ارشادات کے باوجودتقویٰ کے ساتھ ہماراسوتیلاعمل ایک مجرمانہ حرکت ہے۔
    صحیفۂ ہدایت قرآن کریم کواس کی ابتداء ہی میں متقین کی ہدایت کاذریعہ بتایاگیااورفرمایاکہ’’ذلک الکتاب لاریب فیہ،ہدیً للمتقین‘‘
    اسلام میں تقویٰ اور فتویٰ لازم ملزوم ہیں ،فتویٰ اگرمحل ہے توتقویٰ اس کی چہاردیواری ہے،معروفات کی رغبت وتعمیل کانام اگرسرچشمۂ امانت ہے تو اس کی خلاف ورزی کانام سرچشمۂ فتنہ ہے،منکرات سے بچاؤکانام اگرحیاء ہے تو اس کے ارتکاب اورسیہ کاری کے سرچشمہ کوفحش کانام دیاجائے گاگویاامانت،فتنہ،حیاء اور فحش یہ چارقوتیں ہیں جن سے معروف،منکر،براورتقویٰ کاتعلق ہے اولین کا تعلق افعال بروخیرکے کرنے اورچھوڑنے سے ہے اور اخیرین کاتعلق متروکات تقویٰ کے ترک اورارتکاب سے ہے ،فتویٰ پر عمل کے لئے تقویٰ کی حیثیت باڑھ اور سرحدکے قائم مقام ہے۔
    اسلام کے شیوع اور نشروشاعت میں تقویٰ کا جوکرداررہاہے اور دیگرادیان ومذاہب میں متقی وپرہیزگاروں کوجو عزت وعظمت حاصل ہوئی ہے وہ فتویٰ پرعمل پیراجماعت سے زیادہ ہے۔
    کئی سال ہوئے راقم الحروف سے ایک غیرمسلم نے بڑی صفائی کے ساتھ ایک بات کہی تھی کہ ’’اگرمسلمان مسلمان بن جائے تو کو ئی ہندوہندونہیں رہے گا‘‘ایمان اوراسلام کی دولت سے محروم اسشخص کے ان الفاظ کی آپ جس قدرتشریح کرناچاہیں کریں،لیکن حقیقت یہی ہے کہ آج اسلام کو مسلمانوں ہی سے زیادہ نقصان پہنچ رہاہے اورمسلمان ہی اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔
    خورجہ ضلع بلندشہرکی ایک مسجدمیں سرکاری بجلی کے وولٹیز کم ہونے کے باعث طے پایاکہ ایک اسٹیب لائزر رکھ دیاجائے،اس مسجدکے متولی معروف تاجرجناب الحاج رثیق احمدصاحب ہیں انہوں نے معلوم کیاکہ پہلے یہ تحقیق کروکہ اسٹیب لائزرکے ذریعہ جولائٹ ملتی ہے وہ قرب وجوارکے تاروں سے کشیدکی ہوئی ہوتی ہے یا خوداسٹیب لائزرکی پیداکردہ ہے؟لوگوں نے غلطی سے بتادیاکہ اسٹیب لائزرازخودلائٹ نہیں بڑھاتابلکہ قرب وجوارسے کھینچ کرسپلائی کرتاہے ،حاجی رثیق احمدصاحب نے یہ سننے کے بعد مسجدمیں اسٹیب لائزر رکھنے سے منع کردیا اور کہاکہ اگرقرب وجوارسے کھینچ کرلائٹ دیتاہے تویہ حقوق العبادکی پامالی ہے۔
    یہ واقعہ دین بیزاری کے اس ماحول میں سنجیدہ طبقہ کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتاہے ،اسی طرح آج عام طورپراجلاس اورمختلف تقریبات کے اشتہارات بلااجازت دیواروں اورعمارتوں پرچسپاں کئے جارہے ہیں، بعض مکان مالکان نے باقاعدہ لکھوابھی رکھا ہے کہ یہاں اشتہارچسپاں کرنامنع ہے اس کے باوجود اشتہار چسپاں کرنے کو معیوب نہیں سمجھاجاتاحالانکہ بلااجازت اشتہارات اوربورڈکا چسپاں کرناناجائز ہے۔
    معاشرہ میںایک اور بیماری یہ پیداہوتی جارہی ہے کہ دکانوں کے سامنے سڑکوں کا اچھاخاصا حصہ اپنے تصرف میں لایاجاتاہے،دوکان کا سامان سڑکوں تک پھیلادیاجاتاہے جو سراسرسڑکوں کاناجائزاستعمال ہے اگرحکومت اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے تب بھی سڑکوں کی تنگی کے سبب دوسروں کو ایذاء پہنچتی ہے جواسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔
    ہمارے استاذحضرت مولانااطہرحسین نوراللہ مر قدہ (متوفیٰ ۱۴۲۸ھ)نے مظاہرعلوم کی تدریسی زندگی کااکثرحصہ مدرسہ قدیم کی مسجداولیاء کے ایک گوشہ میں چٹائی پربیٹھ کرگزاراہے ،ان کا معمول تھا کہ جب تک سبق ہوتاپنکھاچلتارہتااور سبق ختم ہوتے ہی پنکھابندکرادیتے،پوچھنے پر فرماتے کہ یہ پنکھامال وقف ہے اور مال وقف سے ذاتی فائدہ اٹھاناغلط ہے(واضح رہے کہ یہ مسجدمدرسہ ہی کے زیرانتظام ہے )
    اسی طرح ایک مرتبہ حضرت والاؒنے راقم کو ایک کتاب مستعارپڑھنے کے لئے مرحمت فرمائی احقرنے حسب وعدہ کتاب پڑھ کر واپس کردی اور واپسی کے وقت یہ بھی عرض کردیاکہ حضرت! یہ کتاب بہت ہی عمدہ محسوس ہوئی میں نے اس کی فوٹوکاپی کرالی ہے،فرمایا:تم نے غلط کیابلااجازت کتاب کی نقل کرنااورفوٹوکاپی کرانابھی صحیح نہیں ہے،پھر فرمایاکہ آج کل مصنفین وناشرین کی کتابیں ان کی اجازت کے بغیرشائع کرنے کا چلن عام ہوچکاہے جو غلط ہے ۔
    ہمارے ایک دوست محمدشاداب جوکمپیوٹر انجینئرہیں انہوں نے سہارنپورکے ’’رادھاسوامی ست سنگ بیاس‘‘ نامی غیرمسلم فرقہ کے بارے میں بتایاکہ اس فرقہ کی سہارنپورشاخ کے ایک دفترمیں کمپیوٹرسسٹم رکھاگیااس سلسلہ میں مجھ سے خدمات لی گئیں،دفترکے انچارج نے کمپیوٹرسافٹ ویرسے متعلق مجھ سے معلوم کیاکہ فلاں فلاں سافٹ ویرآپ کے پاس ہیں ؟میں نے کہاجی ہاں موجودہیں،انچارج نے پھرپو؎چھاکہ اصلی ہیں ؟میں نے کہا کہ نہیں بلکہ میرے پاس جوپروگرام ہے اس کی دوسری کاپی کرکے لوڈکردوں گا۔انچارج نے نقلی پروگرام خریدنے سے صاف منع کردیااور کہاکہ ’’ان کمپیوٹروں کے ذریعہ دھارمک کام ہوں گے اور دھارمک کاموں میں نقلی پروگرام لوڈکرنایقیناً غلط ہے چنانچہ اصل سافٹ ویرہی خریدے گئے۔
    یہ واقعات تحریرکرنے سے ہمارامقصدصرف اتناہے کہ مسلمان بحیثیت مسلمان خودکوپہچانے اس کی وہ خوبیاں جن کو غیروں نے اختیارکر کے حیرت انگیزترقی کی ہے وہ خوبیاں اپنے اندرپیداکرنے کی کوشش کریں،اسلام کی وہ شبیہ جوہمارے کرداروعمل سے داغدارہورہی ہے اس میں شفافیت لائی جائے اوراللہ تعالیٰ کے ارشادگرامی’’ یاایہا الذین آمنواآمنوا‘‘کے قالب میں خودکو ڈھال لیں اور’’حاسبواقبل ان تحاسبوا‘‘ کی عملی تصویربنالیںپھر وعدۂ الہی ومن یتق اللّٰہ یجعل لہ مخرجاویرزقہ من حیث لایحتسب کابچشم خودمشاہدہ کریں۔
    آج عام طورپرحرام ومشتبہ مال سے احتیاط میں ہم سے مجرمانہ غفلت سرزدہورہی ہے وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے،سوچنے کی بات ہے کہ مشکوک مال سے پرہیزکرنے میں ہماراکیاکردارہے؟بیع وشرائ، تجارت وزراعت،صنعت وحرفت اورملازمت ہرمیدان میں ہم نے تقویٰ کوکس طرح پس پشت ڈال رکھاہے اس کا محاسبہ اور احتساب ہم نہیں کررہے ہیں،آموں کے باغات سے لے کرگنے کے کھیت تک ساری فصل آج کے دورمیں قبل ازوقت بیچ دی جاتی ہے حالانکہ بیع معدوم جائزہی نہیںہے۔
    حضرت عمرفاروق ؓکاارشادگرامی ہے کہ
    ’’اللہ تعالیٰ کے تم سے حساب لینے سے پہلے پہلے تم اپنامحاسبہ کرلواس سے اللہ پاک کا حساب آسان ہوجائے گااوراعما ل نامے کے تولے جانے سے پہلے پہلے تم اپناموازنہ کرلو‘‘(حیاۃ الصحابۃ)
    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تقویٰ وطہارت سے کون ناواقف ہوگا،آپؓنے ٹیکس وصول کرنے والے کے کنویں سے پانی اور اس کے مکان کے سایہ میں بیٹھنے سے بھی منع فرمایاہے‘‘(ابن عساکر)
    ناپ تول میں کمی کوآج تجارت کی معراج سمجھ لیاگیاہے،حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچائی اورامانت داری کے ساتھ کاروبارکرنے والوں کو انبیائ،صدیقین اور شہداء کی صف میں کھڑے ہونے کی بشارت دی ہے ۔التاجرالصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہدائ۔
    ملازمین حضرات مفوضہ امورمیں کوتاہی اور کاہلی کومعمول بنابیٹھے،وقت پر نہ آنااور وقت سے پہلے چلے جاناعام بات ہوگئی،وقت کے دوران بھی فضولیات میں مشغول رہنے کو عادت بنالیاگیااورمنتظم کے عفو ودرگزر سے ناجائزفائدہ اٹھایاجانے لگا۔
    حضرت مولانامفتی محمدشفیع دیوبندیؒ نے ’’معارف القرآن‘‘میں سورۂ تطفیف کی تفسیراورتشریح کرتے ہوئے تحریرفرمایاہے کہ
    ’’اسی طرح حقوق العبادمیں جو شخص مقررہ حق سے کم کرتاہے وہ بھی تطفیف کے حکم میں ہے،مزدورملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معاہدہ کیاہے اس میں سے وقت چرانااور کم کرنابھی اس میں داخل ہے ،وقت کے اندرجس طرح محنت سے کام کرنے کا عرف میں معمول ہے اس میں سستی کرنابھی تطفیف ہے،اس میں عام لوگوں میں یہاں تک کہ اہل علم میں بھی غفلت پائی جاتی ہے ،اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو ئی گناہ ہی نہیں سمجھتا‘‘۔اعاذنااللّٰہ منہ (معارف القرآ ن ص ۶۹۴جلد۸مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی)
    حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ کے مبارک دورمیں ان کی خانقاہ کے مدرسہ میں ہراستاذ اور ملازم کے پاس ایک رزنامچہ رکھارہتاتھامثلاً ایک استاذہے اور اس کوچھ گھنٹے سبق پڑھاناہے ،سبق کے دوران کوئی مہمان ملنے کے لئے آگیاتو جس وقت مہمان آتااستاذاپنے روزنامچے میں مہمان کے آنے کا وقت لکھ لیتااور جب جاتاتوجانے کا وقت بھی لکھ لیتا،پورے مہینہ یہ سلسلہ چلتااوراخیرمہینہ میں جب تنخواہ ملتی تواستاذ دفترمیں ایک درخواست دیتاکہ اس مہینہ میں میرے پاس اتنے مہمان آئے اور ملاقات میں اتناوقت لگااس لئے اتنی دیرکی تنخواہ وضع کرلی جائے ۔
    شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنیؒ نے ایک دفعہ جمعیۃ علماء ہندکی مسجدمیں نئی چٹائیاں بچھی ہوئی دیکھ کرناظم اعلیٰ حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ کے حسن انتظام کی تعریف فرمائی ،کسی نے عرض کیاکہ یہ انتظام ناظم اعلیٰ کانہیں ہے بلکہ آپ کے خادم چودھری عبدالرحمن کی عقیدت ہے جوکہ چٹائیاں فروخت کرتے ہیں،انہوں نے اس وقت فروخت کی چٹائیاں بچھادی ہیں۔حضرت مدنیؒ نے یہ سنتے ہی چٹائیاں اٹھوادیں اورفرمایاکہ عبدالرحمن اِن چٹائیوں کو غیرمستعمل اور نئی بتاکرفروخت کرے گا،حالانکہ استعمال میں آچکی ہوں گی،لہٰذایہ کب درست ہوگا؟۔ (الجمعیۃ :شیخ الاسلام نمبرص ۳۰۵)
    حضرت مدنیؒ نے دارالعلوم دیوبندکی تدریسی خدمات کے دوران کبھی استحقاقی رخصتوں کی تنخواہ نہیںلی ، اسی طرح ہمارے استاذ محترم حضرت مولانااطہرحسینؒ نے بھی کبھی استحقاقی رخصتوں کامشاہرہ نہیں لیا،فقیہ الاسلام حصرت مولانامفتی مظفرحسینؒ اورحضرت مولاناعلامہ محمدیامین سہارنپوریؒکایہ ایک مستقل معمول تھاکہ تنخواہ ملنے پر’’کوتاہی ملازمت‘‘کے نام سے کچھ رقم مدرسہ کوواپس کردیاکرتے تھے،الغرض!ان حضرات کے حزم واحتیاط ، تقویٰ وتدین اور زہدوورع کو دیکھ اورپڑھ کرصرف یہی کہاجاسکتاہے کہ
    تمام عمر اِسی احتیاط میں گزری
    کہ آشیاں کسی شاخ چمن پہ بار نہ ہو
    ہمارے اکابرنے تقویٰ وتدین کے سلسلہ میں اپنے کرداروعمل کی خوشبوسے اپنے زمانہ کو معطر ومعنبر کردیاتھا، مشکوک کھجورکھالینے پرنیندکانہ آنا،مشتبہ لقمہ کھاکرزبردستی قے کردینا،مدرسہ کے اوقات میں ذاتی کام سے احتیاط،مال وقف سے پرہیز،کوتاہی ملازمت کی تلافی،اوقات مدرسہ میں مدرسہ کی دری اور چٹائی پر بیٹھ کرمہمانوں سے بھی ملاقات نہ کرنا،ذاتی کام میں مدرسہ کے قلم اورکاغذ،بجلی وروشنائی کے استعمال سے بچتے رہنا،یہ جاننے کے بعدکہ آموں کی خریدوفروخت شریعت کے تقاضہ اور منشاء کے خلاف ہورہی ہے آموں کا کھاناہی بندکردینا،بکری کا بچہ چوری ہوجانے کی اطلاع پاکرگوشت کھاناچھوڑدیا،قرض دارکی دیوارکے سایہ سے بھی محتاط رہنا،خرایدارکے سامنے اس بات کی بھی وضاحت ضروری سمجھناکہ یہ سوت سورج کی روشنی میں کاتاگیاہے اور یہ سوت چاندکی روشنی میں غرض اس قسم کے ہزاروں واقعات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
    جب تک سیرت وسنت اورشریعت وطریقت کودل وجان سے نہ لگالیں کامیابی ہمارے قدم نہیں چوم سکتی،فلاح وکامرانی ہمارے لئے چشم براہ نہیں ہوسکتی اور دنیوی واخروی نقصان وخسران سے ہم نہیں بچ سکتے، ہمیں اپنایہ معمول اور عادت بنالینی ہوگی کہ ہم ایسے رزق اور غذاسے بچیں جس غذاسے ہماری پرواز میںکوتاہی، ہمارے افکارمیں گندگی اورہمارے شعورووجدان میں پراگندگی پیداہو۔
    اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
    جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
    یااللہ! ہرقسم کے حرام ومشتبہ مال سے محفوظ فرماکررزق حلال عطا فرما اورتقویٰ کی دولت سے ہمکنارفرما۔
    ٭٭٭
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    افسوس ہم لوگ فتویٰ میں بھی مختلف حیلوں سے ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نفس بھی راضی ہو جائے اور فتویٰ کا انکاری بھی نہ بنوں، تقویٰ کا کیا کہنا؟
    ہمارے اکابر و اسلاف نے ہمیشہ تقویٰ پر عمل کیا، اور پھر اللہ تعالیٰ بھی انھیں ولایت کا تاج پہناتے ہیں اور بے شمار انعاماتِ ربانی عطا ہوتے ہیں ۔ اگر واقعات بیان کرنا شروع کروں تو شاید احاطہ نہ کر سکوں، ان کی شان بقولِ حضرت عارف باللہ۔۔۔۔۔۔
    رَضائے دوست کی خاطر یہ حوصلے ان کے
    دِلوں پہ زخم ہیں پھر بھی یہ مسکراتے ہیں
    عجیب مظھرِ اضداد ہیں تِرے عاشق
    خوشی میں روتے ہیں اور غم میں مسکراتے ہیں​
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India

    حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ سے ایک شخص نے مسئلہ معلوم کیاکہ میرے کپڑوں پر ایک درہم سے کم جگہ میں گندگی لگی ہوئی ہے ،ایسی صورت میں کیا نمازہوجائے گی؟
    حضرت امام اعظمؒ نے فرمایاکہ نمازہوجائے گی۔
    اس واقعہ کے بعدایک دفعہ یہی صورت حضرت امام اعظم ؒ کے ساتھ پیش آئی تو آپؒ اپنے گھرتشریف لے گئے اور کپڑے بدل کرنمازاداکی،مذکورہ سائل نے یہ منظردیکھا تو عرض کیاکہ حضرت آپ نے مجھے ایسا ایسا مسئلہ بتلایاتھااور یہی کیفیت جب آپ کے ساتھ پیش آئی ہے تو آپ نے کپڑے بدل کر نمازادافرمائی ایساکیوں؟
    فرمایاکہ: میں نے تمہیں جو بات بتائی تھی وہ توہے فتویٰ اور تم نے میراجو عمل دیکھاہے یہ ہے تقویٰ ۔


    ظاہرہے فتویٰ کے اپنے وصول ہیں اور تقویٰ اپنی جگہ ۔شاید اسی سبب سے امام رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں پر عمل کر کے دونوں کے حکم کے بارے میں ارشاد فر مادیا ۔ارباب اہل علم سمجھتے ہیں کتنے ایسے مسائل اور مواقع آتے ہیں جہاں تقویٰ کو بنیاد بنا کر فتویٰ دینے میں امت شدید حرج میں مبتلا ہو جائیگی۔
    شکریہ جناب مظاہری صاحب۔

اس صفحے کو مشتہر کریں