#فراست #فقیہ #تہمت #گناہ #سزا

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نبیل خان, ‏ستمبر 15, 2017۔

  1. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,680
    موصول پسندیدگیاں:
    769
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    #فراست #فقیہ #تہمت #گناہ #سزا
    .
    مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ) تھا۔
    جس میں مردہ عورتوں کو نہلایا جاتا تھا اور تجہیزوتکفین کی جاتی تھی۔
    ایک مرتبہ اس میں ایک فوت شدہ خاتون کو نہلانے کیلئے لایا گیا۔

    غسل دیا جا رہا تھا کہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ تو بدکار ہے اور اس کی کمر سے نیچے ایک تھپڑ مارا۔ برا بھلا کہنے والی اور مردہ عورت کو مارنے والی عورت کا ہاتھ جہاں اس نے مارا تھا مستقل چپک گیا۔ عورتوں نے بہت کوشش و تدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا۔
    بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔ ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے چپکا ہوا ہے اب اس کو کس تدبیر سے الگ کیا جائے۔ مردہ کو دفن کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے۔ معاملہ شہر کے والی اور حاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاء سے مشورہ کیا۔ بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیا جائے۔ کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کا ہاتھ چپکا ہے۔ اتنے حصہ کو کاٹ لیا جائے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ میت کی بے عزتی نہیں کی جا سکتی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ زندہ عورت کا ہاتھ کاٹنا اسکو پوری زندگی کیلئے معذور بنا دے گا۔ شہر کا والی اور حاکم امام مالکؒ کا قدرشناس اور ان کے تفقہ اور فہم وفراست کا قائل تھا۔ اس نے کہا کہ میں جب تک اس بارے میں امام مالکؒ سے بات کر کے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔
    امام مالکؒ کے سامنے پورا معاملہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے سن کر فرمایا نہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹا جائے اور نہ مردہ عورت کے جسم کا کوئی حصہ الگ کیا جائے۔ میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایا ہے وہ اس کا بدلہ اور قصاص طلب کر رہی ہے لہٰذا اس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزارا جائے۔
    چنانچہ شرعی حد جو تمہت لگانے کی ہے یعنی اسی کوڑے۔
    کوڑے مارنے شروع کئے گئے۔ ایک۔ دو۔ دس۔ بیس۔پچاس۔ ساٹھ۔ ستر بلکہ اناسی کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکا رہا۔ جوں ہی آخری کوڑا مارا گیا۔ اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہو گیا۔
    یقینا اس واقعہ میں دوسروں پر بےجا تہمتیں لگانے والوں کے لیے بڑی عبرت موجود ہے۔
    *اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ میں رحمت عطا فرمائیں ۔۔۔ آمین*

    (بحوالہ بستان المحدثینن للشاہ عبدلعزیز دہلوی. صفحہ25۔انوارالمسالک لمحمد بن علوی المالکی الحسنی 244،شرح التجرید الصحیح للعلا)
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں