فرزانہ فرح ۔۔۔۔۔۔۔تفریحی ادب کا روشن نام

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از شرر, ‏جنوری 21, 2013۔

  1. شرر

    شرر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    92
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    (تبصرہ )
    [align=center] فرزانہ فرح ۔۔۔۔۔۔۔تفریحی ادب کا روشن نام ​
    [/align]
    ‘‘ شوخیٔ تحریر‘‘ کی خالق ڈاکٹر فرزانہ فرح محتشم کافی شوخ وشنگ شخصیت کی مالک ہیں
    ( جیسا کہ احباب نے کتاب میں تعارف کرایا ہے ) عربی مقولہ ہے ‘‘ ہر برتن میں جو کچھ ہوتا ہے وہی ٹپکتا ہے ‘‘ شخصیت کی شو خی تحریر میں بھی ہے ۔ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کی خاک سے بہت سی نامور خواتین اٹھی ہیں جو شہرت وعظمت کا بلند آسمان چھونے میں کا میاب ہوئیں ڈاکٹر فوزیہ چودھری ، ڈاکٹر حلیمہ فردوس، ڈاکٹر مہ جبین نجم ، ڈاکٹر فاطمہ زہرا اور فریدہ رحمت اللہ عصر حاضر کی ان ممتاز خواتین میں ہیں جنھوں نے اپنے شعور وفکر اور علم وادب کی روشنی سے ماحول کو منور کیا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر فرزانہ اسی زر خیز خطہ کی ہیں ۔
    بی اے ، ایم اے ، پی یچ ڈی ( ڈاکٹر) لکچرر، طنز ومزاح نگار ، انشائیہ نگار ، افسانہ نگار ، شاعرہ ، معلمہ اور پر نسپل فرزانہ فرح محتشم نام بہت بڑا ہے اور کام بھی بڑا ہے ( عمر عورت کی اور تنخواہ مرد کی پو چھنے کی چیز نہیں ) البتہ فکر وفن کے اعتبار سے مصنفہ کی عمر بہت ہی کم ہے امید ہے کہ طبعی عمر سے بھی زیادہ لمبی زندگی گزاریں گی ( ہو نہار بچے کے پاؤں پالنے ہی میں نظر آتے ہیں ) ان کی سب سے بڑی (پہلی ) کہانی کاسن طباعت ۲۰۱۰؁ء ہے ۔اور ابھی ۲۰۱۲؁ء ختم نہیں ہوا ۔ انشائیوں کا مجموعہ منظر عام پربھی آگیا گویا ان کے بڑے نام میں مصنفہ کا لفظ جڑ گیا ۔ ابتدا ئے عشق میں لوگ روتے ہیں لیکن فرزانہ تو فرزانہ ہیں ( فرح نام کا حصہ ہے جس کے معنی خوشی کے ہیں ) وہ خوش ہیں ۔
    (اللہ نظر بد سے بچائے )
    محمد اقبال صاحب ان کے اندر ‘‘ ماہ تمام‘‘ کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھ چکے ہیں ۔ وزنی بھاری اور ڈھیر ساری جھلک دیکھنا اللہ ان کو نصیب کرے ۔ فرزانہ فرح نامی اس ہیرے کی تلاش اور اس کی تراش خراش کاکام جس با اقبال جو ہری نے کیا ہے وہ یہی محمد اقبال ہیں ۔اردو کے لئے ان کی جاں سوزی ودل سوزی قابل دید وداد ہے ۔ فرماتے ہیں میں نے تاریک گوشوں کا ماتم نہ کر نے کے بجائے ٹمٹماتے جگنوؤں اور مچلتی کر نوں پرنظریں جمائیں ۔ ایک طرف قرطاس وقلم کے ذریعے یہ ادنیٰ کو شش تو دوسری طرف دل کی خاموش زبان سے دعائیں کہ اردو زبان کو چند تازہ قلم شاعر وادیب ملیں جو کہ کرناٹک کے پیکر ادب میں تازہ خون کی لہر دوڑائیں ( ص ۱۹ شوخیٔ تحریر)
    بے چارے بہت مصروف آدمی ہیں ۔ ترتیب وتہذیب کتاب کے وقت بھی اتنے مصروف تھے کہ پروف ریڈنگ کا خیال تک نہیں آیا ۔ کوئی یہی ایک کتاب تھوڑے ہی تر تیب دینی تھی ۔اور فقط کتاب تھوڑے ہی بلکہ فنکاروں اور قلم کاروں کی تہذیب بھی کرنی تھی ۔اور ہے ۔ چونکہ محنت کا اچھا پھل ان کو مل رہا ہے اس لئے ان پر ترس نہیں آرہا ہے بلکہ حسد ہو رہا ہے ۔
    خلیل مامون مدیر نیا ادب بنگلور، افتخار امام صدیقی مدیر شاعر ممبئی ، وجاہت قریشی مدیر اورنگ آباد وٹائمز اورنگ آباد ، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال مدیر شگوفہ حیدرآباد ، منیر احمد جامی صاحبان ، جہانِ زبان وادب کی بزرگ شخصیتیں ہیں اگر یہ حضرات کسی مبتدیٔ عشق پر اعتمادظاہر فر مادیں اور چاہتوں کے صاغر سے نوازیں تو حوصلے کی لو اونچی ہونا ضروری ہے پھر اسے فکر نہیں کہ ع :آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟۔ جبھی تو مجتبیٰ حسین لکھنے پر مجبور ہوئے کہ ـــــــــــــ"انشائیہ کی پختہ کاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زبان وبیان کے تخلیقی استعمال سے بخوبی واقف ہیں ۔موضوع
    کے جن گوشوں کو انہوں نے اپنے انشائیہ میں اجاگر کیا ہے وہ ان کے گہرے مشاہدے اور سماجی شعور کی پختگی کو ظاہر کرنے کے علاوہ طنز ومزاح کے لئے در کار ضروری حربوں کے بر جستہ استعمال پر ان کی قدرت کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔ ص ۹۷ شوخیٔ تحریر۔
    فرزانہ صاحبہ نے اپنے ایک انشائیہ میں چند شعراء کا تذکرہ کیا ہے ان میں ندا فاضلی صاحب بھی ہیں ۔اتفاق سے یہ مضمون ان کی نظر سے بھی گزرا ۔انھوں نے جوابا ًلکھا ، کافی دلچسپ تحریر ہے ۔ آپ کی انشائیہ تنقید کے دائرہ میں میرے علاوہ سارے آسودگان خاک ہیں ۔ لیکن آپ کے طرز نگارش نے ضرور متوجہ کیا ـــــــــــــ"آگے لکھتے ہیں ـــــــــــــ" مضمون کی نثر شگفتہ اور LIGHT HUMOUR کی آمیزش سے پر لطف ہے ص ۹۸ شوخیٔ تحریر ۔
    جس تنقید کا ندا فاضلی صاحب نے ذکر کیا ہے وہ درج ذیل ہے ۔
    ندا فاضلی یہ سنتے ہی اپنے منہ میں لا تعداد دفعہ چوسے گئے پان کو دانتوں کی چکی سے مزید مہین پیستے ہوئے ، فارغ البال سر پر ہاتھ پھیرتے سامنے آئے ۔فرشتہ نے کہا ۔ ندافاضلی پر الزام ہے کہ انہوں نے روتے بچوں کو چپ کر انے کے بہانے مسلمان بھائیوں کی نمازیں قضا کرائیں ۔طالبعلموں کو کتاب سے متنفر کرتے ہوئے دھوپ میں نکلنے اور گھٹاؤں میں نہانے کی تر غیب دیتے ہوئیـــــــــــــ" ـــــــــــــSUNSCREEN LOTION ــــــــــــــــــــــــــ "کے لئے مار کیٹنگ کی ۔ سورج کو آسمان سے اٹھا کر مرغ کو چونچ میں پھنسا کر مرغے کو بانگ دینے سے مرحوم ( یعنی محروم ۔ ناقل )کر دیا ۔البتہ زمین کے پورے لینڈ اسکیپ کو ـــــــــــــ" جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تری محفل ہے ـــــــــــــ" کہہ کرـــــــــــــ PW.Dوالوں کی نیند یں حرام کردیں۔ تب سے محکمہ اراضی والے بیدار ہو چکے ہیں اور مختلف مٹھ اور سادھؤوں کو عطا کردہ خطئہ ارض پر کاروائی کا ہتمام ہونے لگا ہے ص ۲۹ شوخیٔ تحریر ۔
    ندا فاضلی کے علاوہ فیض احمد فیض ،احمد فراز ، جون ایلیا اور جانثار اختر اور پروین شاکر کے حوالے بھی آئے ہیں لیکن ام واقعہ یہ ہے کہ اصل تنقید تو کسی اور پر کی گئی ہے ۔ بیرون ریاست کرناٹک کے قارئین کے لئے واضح کردوں کہ ماضیٔ قریب میں روز نامہ سالار بنگلور کے ادبی ایڈیشن میں ـــــــــــــ" صبا انجم ـــــــــــــ" نامی ایک قلم کار کا ظہور ہوا جس کی تنقید سے اچھے اچھوں کی ہوا اکھڑ گئی اکثر فنکار اس سے نالاں تھے ۔اور فرضی کردار خیال کرتے تھے ۔فرزانہ صاحبہ بھی انہیں میں ہیں ( حالانکہ ان کو رعایتی پاس ملا ہوا تھا ) صبا انجم کے بارے میں فرزانہ فرح اظہار
    خیا ل کرتی ہیں ۔
    سب سے آخر میں بنگلور سے ـــــــــــــ" صبا انجم ـــــــــــــ" کو بلایا گیا ۔ مجمع سے ایک بر قعہ پوش نمودار ہوا جس کا ڈیل ڈول ، قد وقامت ، وضع قطع سب پو شیدہ تھی ( یعنی تھے ناقل) نہ مردانگی نہ نسوانیت ۔ چال تک سے جس کی جنس کا اندازہ لگانا محال تھا ۔ فرشتہ گویا ہوا ۔ یہ آج کے آخری مجرم ہیں ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آج تک سالار کے قارئین کو بے وقوف بنا یا ہے ایک نقلی نام اور غیر حقیقی پہچان لے کر یہ ادبی ایڈیشن میں دندناتے ہوئے داخل ہوئے ہیں اور خود کو عہد حاضر کا کلیم الدین احمد یا وارث علوی سمجھ کر تمام تخلیق کاروں پر تنقید کے در وا کر دیئے ہیں ۔ پتہ ایسا دیتے ہیں جہاں خود نہیں رہتے ، فون نمبر نہیں دیتے ۔اس پر مستزاد کہ خط لڑکی بن کر لکھتے ہیں اورغزلیں مرد بن کر ۔ان کی ایک غزل جس کے ردیف وقافیے ۔۔۔۔۔۔ـــــــــــــ" جیسا کہ میں ـــــــــــــ" پر مبنی تھے ۔انہوں نے اپنے حالات زندگی کا پر دہ فاش کر دیا ہے ۔ اس کے مطالعے سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے کہ گرمی کی شدت سے گھبرا کر یہ ـــــــــــــ" کاغذ کے کپڑے ـــــــــــــ" پہن کر سوتے ہیں کبھی صلیب پر الٹے لٹک جاتے ہیں کہ کچھ تو ہوا لگے ۔ مگر ان کے پڑوسی تشکیک میں مبتلا ہو کر انہیں پکڑنے سے گریز کرتے ہیں کہ کون جانے آ بیل مجھے مار والی بات ہو جائے یا بیل کے پردے سے گائے بر آمد ہو ۔ یوں بھی ان دنوں گاؤ کشی کے خلاف بِل پاس ہو چکا ہے ،اس لئے لوگ سماجی اور قانونی خظرے کے پیش نظر ان کی سینگوں سے بچ کے چلتے ہیں ۔اور یہ بڑے آرام سے سب کو ٹھیلتے ہیں ۔ص ۳۴ شوخیٔ تحریر
    یہ حساب وکتاب تو ڈاکٹر فرزانہ کے خواب میں ہوا پتہ نہیں کیوں صبا انجم ڈر گئیں اور جاتے جاتے سردار اسلم کو سالار کے تخلیق کاروں پر مسلط کر گئیں ۔ خیر یہ موقع اس مقدمہ کے نمٹانے کا نہیں ۔ واضح رہے کہ انشائیہ میں صرف صبا انجم کے لئے مجرم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔
    بات سے بات پیدا کرنا اور بال کی کھال نکالنا نہ آئے تو طنز ومزاح نگاری ہو چکی ۔ فرزانہ فرح جہاں تہاں سے موضوع چن لیتی ہیں ۔الفاظ اور خیال کا خزانہ ہے ہی بڑے سلیقہ اور طریقہ سے ان کوبرتتی ہیں تخلیق معنیٰ کا کام چابک دستی اور ہنر مندی سے کرتی ہیں ۔ہونٹوں تلے دھیمی سی مسکان ان کی تحریر کی تا ثیر ہے ۔
    اپنے انشائیوں میں تر میم شدہ یا بغیر ترمیم اشعار تڑ کا لگا کر لطف وذائقہ دو چند کر دیتی ہیں ۔مگر کبھی کبھی چکنائی زیادہ ہونے سے ذائقہ بگڑ جاتا ہے ۔ بعض مصرعوں اور شعروں کا ترمیم کے بعد وزن باقی نہیں رہا ۔ حالانکہ خود اچھے اشعار کہتی ہیں ۔بعض اشعار غلطی سے دوسرے سے منسوب ہو گئے ہیں ۔روایات میں عوج بن عنق کو سب سے لمبا آدمی کہا گیا ہے ۔ یہ شخص موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھا اور ان کا مخالف تھا ۔ دریا سے مچھلی پکڑتا اور سورج کی تپش میں بھون کر کھا لیتا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اچھل کر لاٹھی ماری تو اس کی پنڈلی پر پڑی ۔ فرزانہ نے دریا سے مچھلی پکڑنے اور سورج بھوننے کا واقعہ حضرت شیث علیہ السلام سے منسوب کیا ہے ۔ حقیقت کیا ہے خدا جانے طنز ومزاح میں ایک بھی سنجیدہ جملہ قاری کو گراں گزرتا ہے ۔ فرزانہ معلمہ ہیں معلومات کا خزانہ ان کے پاس ہے وہ بعض ضروری باتیں اپنے مضمون میں شامل کر لیتی ہیں ایسے ضروری جملے بین القوسین میں لکھتیں تو عبارت کی روانی میں ذرا بھی فرق نہیں پڑتا ۔ذیل کی عبارت ملاحظہ ہو۔
    ۱ؔؔؔ؎ کم بخت یہ لڑکے فیل ہو جائیں تو کل کلال کو نو کری تک نہ ملے گی ۲؎ ،جھٹ سے مرزا رفیع سودا یاد آجاتے ہیں ۔ ۳؎ روٹی تو کما کھائے کس طرح مچھندر (ص ۵۱ شوخیٔ تحریر)اس عبارت میں نمبر ۲؎ والا جملہ اپنی موجودہ صورت میں زیادہ رواں نہیں ۔اسی طرح یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔پھر یہ ترنم امتحان گاہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل جاتا ہے جیسے معاشرہ میں سماجی برائی یا اجسام میں متعدی بیماری پھیل جاتی ہے ہوتے ہوتے یہ آواز الفاظ کی صورت اختیار کر جاتی ہے یہ دیکھ کر DINGDON THEORY کے موجد پروفیسر ہایس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ جن کا قول ہے الخ اس طرح حوالہ دینا گراں لگتا ہے ۔ مگر ایسے دو چار جملوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
    خستہ حال سڑکوں کا نوحہ ڈاکٹر فر زانہ کے الفاظ میںسنتے چلئے ـ" فرد اور سماج دونوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور اُدھر ٹرافک میں پھنسی گاڑی نہیں رینگتی " اچانک ہمیں میرضاحک اور مرزا رسوا کی چپقلش یاد آگئی اور وہ گھوڑا بھی جس پر چڑھ کے ایک نوجوان بیاہ کر نے نکلا تھا، جس کا "۔۔۔۔۔۔۔ سبزے سے خط سیاہ ہوا پھر ہوا سفید " آج بھی لوگوں کا یہی عالم ہے اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ اپنے نو نہالوں کی " مسلمانی " کراتے ہی انہیں سہرے سے لیس کر کے ٹرافک کے میدان کارزار میں جھونک دیجئے ۔ تاکہ وہ ان خندقوں اور دشمنوں سے لڑتے ہوئے غازی بن کر جب سسرال پہنچے تو ابھی ان میں اتنی جان باقی رہے کہ اپنے پیچھے ایک نئی نسل چھوڑ سکیں ص ۴۸
    یہ فکر انگیزی بھی قابل دید ہے " ہمیں تو یہی فکر مارے ڈالتی ہے کہ اب گیس، پٹرول اور لکڑیوں کا کال پڑ جائے تو کیا ہوگا دنیا میں کیسی لے دے مچ جائیگی ۔ لکڑی نہ باقی رہے تو دھرنا دینے والوں پر لاٹھی چارج کیسی ہو گی ؟ مٹی کا تیل نہ ہو تو ساس بہو کو کیسے جلائے گی؟ زنا با لجبر کے بعد ظالم اپنی ہوس کاشکار بنی لڑکی پر کیا چھڑک کر جلائیں گے ؟ عوام ، حکومت کا غصہ بس اور ٹائر پھونک کر کیسے نکالے گی ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ماضی میں ایسا کوئی مسئلہ نہ تھا ورنہ بغداد کی لائبریری کو چنگیز خان اور روم کو نیرو ؔکیسے پھونکتا ؟آخر تاریخ بھی " جلتے جلتے بنتی ہے ص ۶۹
    ڈاکٹر فرزانہ فرح، رنگ رمضان یوں دکھاتی ہیں ۔
    آخر ی عشرہ کے دو تین روز بڑی گہما گہمی کے ہوتے ہیں ۔ کپڑوں ، درزیوں ، کھلونوں ، میوؤں ، عطر ومہدی ، عید کارڈ ز کی دکانوں میں و ہ
    اژ دھام ہوتا ہے کہ کھوے سے کھووا چھلتاہے ، پاکٹ ماروں اور آنکھیں سینکنے والے عشاق کی تو دلی مراد بر آتی ہے ۔ انتیسویں روزہ والے دن بس یہ حضرات ہی دعا مانگتے ہیں کہ اس سال روزے پو رے تیس ہوں ، اور چاند نظر نہ آئے تا کہ ان کے سارے کام دھندے اسی زور وشور سے جاری رہ سکیں ۔ چاند دیکھنے کا چارم آج بھی اس نو عیت کا ہوتا ہے ، لڑکے بالے چھتوں پر چڑھ کر دوسروں کے صحن میں " اپنا چاند " ڈھونڈنے میں ساری بینائی اور قوت صرف کر دیتے ہیں اور چاند ہے کہ دیکھ کے ہی نہیں دیتا ۔
    آتے آتے آئے گا چھت پر ہلال ۔۔۔۔ جاتے جاتے بیقراری جائے گی ۔
    بذلہ سنجی وظرافت نگاری کے علاوہ خاکہ نگاری وافسانہ نگاری اور شاعری کے مختلف الجہات میدانوں میں سفر کر نے والی فرزانہ فرح کا سفر اللہ کرے جاری رہے ۔
    جسیم الدین شرر ۔ مسجد خیف بی ٹی یم لے آؤٹ بنگلور


اس صفحے کو مشتہر کریں