فرقہ جہمیہ

'دیگر ادیان، مذاہب و مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 17, 2014۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    فرقہ جہمیہ
    فرقہ جہیہ کا بانی جہم بن صفوان ہے ۔ یہ شخص فرقہ جبریہ میں سے تھا جو اصلا کوفی نسل میں سے تھا یہ خلافت بنو امیہ کے دور میں نہر جیحون کے کنارے واقع شہر ترمذ میں پیدا ہوا جو حقیقتا یہودی تھا، صحیح ابن خزیمہ نے ابن قدامہ کے طریق سے ابو معاذ بلخی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جہم بن صفوان نہایت فصیح وبلیغ تھا لیکن علم سے بے بہرہ جا ہل ہو نے کے ساتھ اہل علم کی مجلسوں سے قطعا نا آشنا تھا اور صرف معرفت قلب کو عین ایمان سمجھتا تھا ۔
    حضرت امام ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے بارے میں جہم بن صفوان نے تشبیہ کی نفی میں اتنی شدت برتی کہ وہ تعطیل وتمجید کی دلدل میں جا گھسا ، خلافت بنو امیہ کے آخری دور میں تقریبا ۱۳۰ھ میں مسلم بن احوز مازنی نے خراسان کے مشہور شہر مرو میں جہم بن صفوان کو قتل کر دیا ، اس طرح امت کو ایک فتین سے نجات ملی ،اس کی طرف منسوب فرقہ کو، فرقہ جہمیہ کہا جاتا ہے لیکن جہمی خود اپنے آپ کو صوفیاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔
    فرقہ جہمیہ اپنے عقائد فاسدہ کے آئنہ میں :
    اب ذیل میں فرقہ جہمیہ کے چند اصولی اور بنیادی عقائدکا ذکر کیا جاتا ہے جو اہل سنت کے عقائد سے منحرف اور الگ ہیں اور اسلامی عقائد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
    (۱) ایمان صرف معرفت قلب کا نام ہے اگر وہ حاصل ہے تو انکار لسان کے باوجود بندہ کامل الایمان ہے ۔
    (۲) ایمان کے بعد اعمال صالحہ کی کوئی ضرورت نہیں اور افعال سیۂ سے بھی ایمان متا ثر نہیں ہوتا ۔
    (۳) تمام افعال کا اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ۔
    (۴) بندہ مجبور محض ہے اسے کوئی اختیار نہیں ۔
    (۵) کلام اللہ حادث اور مخلوق ہے ۔
    (۶) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی چیز قدیم نہیں ۔
    (۷) رؤیت باری تعالیٰ محال اور قطعا نا ممکن ہے ۔
    (۸) انبیاء اور ان کے امتیوں کا یمان یکساں اور ایک درجہ کا ہے اس میں کوئی تفاوت نہیں ۔
    (۹) اللہ تعالیٰ کا علم حادث ہے کسی چیز کے وجود اور اسکی خلقت سے پہلے اللہ کو اس کا علم نہیں ہوتا ۔
    (۱۰) جنت اور جہنم کو ان کے مستحقین کے داخل ہو نے کے بعد فنا کر دیا جائیگا قرآن کریم وحدیث میں خالدین وغیرہ جیسے الفاظ کثرت کے معنیٰ میں وارد ہوئی ہیں ۔
    (۱۱) اللہ کو کسی ایسی صفت کے ساتھ متصف کرنا جائز نہیں جو بندوں میں پائی جاتی ہو یہی وجہ ہے کہ جہمیہ نے اللہ تعالیٰ کے حی اور عالم ہو نے کا انکار کردیا کیونکہ یہ بندوں کے بھی اوصاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کو صرف فاعل وقادر قراردیا کیونکہ یہ بندوں کے اوصاف نہیں ہیں ۔
    (۱۲) جہمیہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا صراحتا انکار کرتے ہیں ۔
    (۱۳) معتزلہ کی طرح یہ بھی ہر اس غیبی خارق عادت ثابت شدہ امر کا ناکار کرتے ہیں جو ان کی عقل سے با ہر ہو ۔
    (۱۴) باری تعالیٰ کیلئے تحیز با لمکان کے قائل ہیں
    qureshi نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں