فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات قسط1

'فقہاء ومحدثین' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 22, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,626
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات( دا ر الافتاء دا ر العلوم دیوبند)​

    (1) دارالافتاء کے قیام سے پہلے فتاویٰ نویسی
    گیارہوی صدی ہجری کے اواخر تک اہل ہند کے لئے دینی رہنمائی کا مر کز دار السلطنت دہلی تھا اور زیادہ تر اہل علم اور ارباب افتاء کا تعلق مدرسہ امینیہ ( دہلی ) سے رہا ہے ، جس کو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد حضرت شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ نے قائم فر مایا تھا ،اسی ادارہ کے فیض یافتہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1282ھ میں دا ر العلوم دیوبند قائم فرمایا تو اس علاقہ کے لوگوں کی دینی رہنمائی کے لئے دارالعلوم دیوبند واحد مر کز بن گیا اور اس علاقےاور قرب وجوار سے استفتا ء حضرت نا نوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آنے لگے۔

    (2) فتاویٰ نویسی کا پہلا دور
    حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ چند خاص موضوعات پر تو از خود جواب لکھتے ، مگر عموما اپنی متواضعانہ طبیعت کی وجہ سے استفتاء مولونا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے فر مادیتے تھے، افسوس کہ حضرت نا نوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ کی نقل محفوظ نہیں کی جا سکی اور جو کچھ بھی آپ کے مکاتب محفوظ ہیں ، وہ بھی فتاویٰ کے رنگ میں نہیں ، بلکہ علمی وتحقیقی رسائل کی شکل میں ہیں ۔۔۔ یہ دار العلوم کی فتاویٰ نویسی کا پہلا دور تھا ۔

    (3)دارالعلوم دیوبند سے فتاویٰ کا دوسرا حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1297ھ کے بعد کا ہے ، حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد اکابرین نے متفقہ طور پر فقیہ النفس حضرت مولانارشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ اور سر پرست کی حیثیت سے نا مزد فر مایا ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں فتاویٰ کی کثرت تھی عوام کے علاوہ علماء اور مشائخ بھی آپ سے رجوع ہوتے تھے اور آپ کے دیئے گئے فتویٰ پر اعتماد کرتے تھے اور کہا جا سکتا ہے کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ سے ہی در اصل دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی اور پورے ہندوستان میں اس کو خاص مرجعیت حاصل ہوئی ۔

    (4) تیسرا دور
    حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت دارالعلوم کے سر پرست کی حیثیت سے فتویٰ دیتے تھے ،اسی زمانہ میں حضرت مولانا یعقوب نا نوتوی رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین تھے ، چنا نچہ کچھ فتاویٰ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی تحریر فر ماتے تھے اور یہ ‘‘ کچھ‘‘ بھی اتنے زیادہ ہوتے تھے کہ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا کار ِتعلیم میں دشواری محسوس ہو نے لگی اور 1301ھ میں مجلس شوریٰ کی تجویز کے ذریعہ بڑی حد تک آپ کو اسباق سے فارغ کر دیا گیا ۔۔۔ اس دارالعلوم سے فتویٰ نویسی کا تیسرا مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

    (5) جوتھا دور
    حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین تھے، اس زمانہ میں حضرت مولانا اشرفعلی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند میں تحصیل علم کی خاطر اور حضرت مولانا یعقوب رحمۃ اللہ علیہ سے خصوصی استفادہ کیلئے تشریف لائے ،آپ کی تعلیم کے آخری مرحلہ میں چند کتابوں کے اسباق بھی آپ سے متعلق ہو گئے اور حضرت مولانا یعقوب رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ بھی اکثر وبیشتر آپ کے حوالہ کر دیتے تھے اور نظر ثانی کے بعد اسے جاری فر ما دیتے تھے ، یہ فتاویٰ بھی اس تعداد میں ہوتے تھے کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تمام فتؤں کو تین حصوں میں تقسیم فر مایا ہے،جس میں پہلا 1301 ھ تک کا ہے ، جو دارالعلوم دیوبند میں رہ کر آپ نے لکھا ، دوسرا حصہ 1314ھ تک کا ہے ، جو کا نپور کے قیام کے زمانہ میں آپ نے تحریر فر مایا اور تیسرا حصہ 1315ھ کے بعدسے وفات تک کا ہے ، جو تھانہ بھون میں رہ کر آپ نے لکھا ، گویا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلوم دیوبند میں جو فتاویٰ لکھے ،اسے دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ نویسی کا چوتھا دور کہا جا سکتا ہے ، کیوں کہ اس وقت سب سے زیادہ آپ نے ہی فتاویٰ لکھے ہیں۔

    (6) پانچواں دور
    حضرت مولانا یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مولانا نانوتوی کی وفات ( 1310ھ) تک ایسی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں لیا جاسکتا ، جو صرف فتاویٰ نویسی کے لئے خاص ہو، بلکہ یہ کام دار العلوم کے تمام اساتذہ پر منقسم تھا اور مختلف اساتذہ کے نام اور دار العلوم کے مہتمم حضرت مولانا رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام استفاءات آتے تھے اور مہتمم صاحب کے نام کے استفتا بھی مختلف اساتذہ پر تقسیم کر دئے جاتے تھے اس سب کے جواب کو جمع کر کے دار العلوم کی طرف سے روانہ کر دیا جاتا تھا 1304ھ میں جب کہ دار العلوم کی عمر 22 سال کی تھی خدمت افتاء کا اعلان کیا گیا ، مگر با ضابطہ دار الافتاء قائم نہیں کیاگیا ، بلکہ حسبَ اساتذہ کرام ہی جواب لکھتے رہے، یہ دار العلوم سے فتاویٰ نویسی کا پانچواں مرحلہ تھا۔
    ۔۔۔ غرض دار العلوم میں با ضابطہ دار الافتاء قائم ہو نے سے پہلے مولانا قاسم نا نوتوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا رشید احمد گنگوہیرحمۃ اللہ علیہ، مولانا یعقوب نا نو توی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور دار العلوم کے مختلف اساتذہ نے اس کا انجام دیا اور دینی وشرعی معالات میں لوگوں کی رہنمائی فر مائی۔
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: فصلائے دیوبند کی فقہی خدمات قسط1

    جزاک اللہ مولانا
  3. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
    ائمہ دیوبند کا اسلام کے ہر شعبے میں کام اس مسلک کی حقانیت کی دلیل ہے۔
  4. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,568
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت مفید پوسٹ ہے جزاک اللہ،،،،،،،،
  5. احمداسد

    احمداسد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    60
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
    عندذکرالصالحین تتنزل الرحمۃ
    فاستبشروا فاستبشروا!!!!!!
  6. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

اس صفحے کو مشتہر کریں