فقس اور آزادی

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہری, ‏نومبر 23, 2015۔

  1. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ای فتاوی ٹیم ممبر رکن

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    نئی چالیں نئی گھاتیں نہ سکھلا ہمسفر مجھکو
    جدا منزل تری در پیش ہے اپنا سفر مجھکو
    تجھے تیری خرد نے کر دیا مدہوش تو جانے
    جنوں نے کر دیا ھے این و آں سے با خبر مجھکو
    پئے ہنگامہ تو نے سینکڑوں طوفاں اٹھائے ہیں
    کیا اسکو کبھی خود کو کبھی زیرو زبر مجھکو
    قفس میں ہے سکوں مجھکو قفس میں مجھکو رہنے دے
    میں ہوں آزاد تو پا بند آزدی نہ کر مجھکو
    محمد یوسف، سیفی خان اور احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اوکے رہنے دیا اب خوش
  3. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ای فتاوی ٹیم ممبر رکن

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کاش یہ ایسا ہی آسان ہوتا سیفی بھائی آپنے اشعار پر غور نہیں فرمایا یہ مسلمان کا خطاب ہے مغرب کو، جو اپنے ننگے پن کو آزادی کہہ کے جبراً سر تھوپتے ہیں ـ
    محمد یوسف نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں