فقہ حنفی سے غیر مقلدین کی ناراضگی کے اسباب

'دیگر ادیان، مذاہب و مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏جنوری 26, 2014۔

  1. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    فقہ حنفی سے غیر مقلدین کی ناراضگی کے اسباب
    -
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ملک عرب میں پیدہ ہوئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کے لئے عام ہے۔​

    وما ارسلناک الا کافۃ للناس
    (السباء 28)
    یایحاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا
    (اعراف158)
    اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں ملک عرب میں پھیل چکا تھا اور عجم کے بہت سے علاقے خلافت راشدہ کے دور میں اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔قرآن پاک میں آخرین منھم اور بخاری و مسلم میں لو کان العلم عند ثریا لتناولہ رجل اور رجال من اھل فارس (اوکماقال علیہ السلام) عظیم الشان پیش گوئی تھی کہ اشاعت اسلام میں رجل فارس کا عظیم حصہ ہوگا۔
    چنانچہ اس پیش گوئی کے مطابق حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ذریعہ اور ان کے مقلدین کے واسطہ سے اسلام ساری دنیا میں پھیلا۔
    مورخ ابن ندیم فرماتے ہیں :
    والعلم برا و بحرا شرقا و غربا بعدا وقربا تدوینہ رضی اللہ عنہ
    (الفھرست صفحہ 299)
    خشکی و سمندر،مشرق و مغرب،بعید اور قریب ہر جگہ علم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہی مرتب کردہ ہے۔

    حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    سواد اعظم ازل اہل اسلام متابعان ابی حنیفہ اند علیھم الرضوان
    (مکتوبات دفتر دوم صفحہ 14)
    یعنی مسلمانوں میں سے بڑی جماعت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلدین کی ہے۔

    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں "

    درجمیع بلدان وجمیع اقالیم بادشاہاں حنفی اند و قضاۃ و اکثر مدرساں عوام حنفی اند
    (کلماتطیبات صفحہ 177)
    تمام اسلامی دنیا کے بادشاہ حنفی ہیں اور تمام عدالتوں کے قاضی حنفی ہیں اور مدارس اسلامیہ کے اکثر مدرسین اور اسلامی دنیا کے عوام اکثر حنفی ہیں۔

    جب دنیا بھر میں ہمیشہ اکثریت احناف کی رہی ہے تو ظاھر ہے کہ اگر فقہ حنفی میں غلطیاں ہوتیں تو ساری دنیا میں اک عالمگیر تحریک اٹھتی ۔ مگر اس عالمگیر مزہب کے مقابلہ میں نہ تو کسی اسلامی ملک میں تحریک اٹھی،نہ ہی مراکز اسلام مکہ اور مدینہ سے تحریک اٹھی،بلکہ یہ تحریک دور برطانیہ عہد وکٹوریہ میں صرف مشترکہ ہندستان میں اٹھی۔
    مشترکہ ہندستان ہندستان میں اسلام یاتو حضرات صوفیاء کرام رحمہ اللہ لائے جیسے سید علی ہجویری رحمہ اللہ ،خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ وغیرہم رحمہ اللہ، یہ سب حنفی تھے ، یا اشاعت اسلام میں بادشاہوں نے حصہ لیا، جس کی پیش گوئی زبان نبوت سے کی گئی تھی۔

    عصابتان من امتی احرزھما اللہ من النار عصابۃ یغزوالھند و عصابۃ تکون مع عیسٰی بن مریم۔
    (مسند احمد ص178،ج5-نسائی باب غزوۃالھند)
    حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    وعدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی غزوۃ الھند فان استشھدت کنت من خیر الشھداء فان رجعت فانا ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ المحرر
    (مسند احمد ص229،ج2)
    اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    یکون فی ھٰذہ الامۃ بعث الی السندوالھند
    (مسند احمد ص369،ج2)
    اس پیش گوئی کے مطابق ہند فتح ہوا اور فاتحین ہند سب کے سب حنفی تھے۔ اس ملک میں اسلام لانے والے بھی حنفی،اسلام پھیلانے والے بھی حنفی اور اسلام قبول کرنے والے بھی حنفی تھے۔
    چنانچہ
    نواب صدیق حسن خان صاحب جوکہ فرقی جماعت اہل حدیث کے اکابرین میں سے ہیں فرماتے ہیں:

    "خلاصہ حال ہندستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے یہاں اسلام آیا ہے، چونکہ اکثر لوگ بادشاہوں کے طریقہ اور مزھب کو پسند کرتے ہیں، اس وقت سے آج تک یہ لوگ حنفی مزھب پر قائم رہے ہیں اور اسی مزھب کے عالم فاضل اور قاضی اور مفتی اور حاکم ہوتے رہے۔یہاں تک کہ ایک جم غفیر نے مل کر فتاوٰی ہندیہ یعنی فتاوٰی عالمگیری جمع کیا۔"
    (ترجمان وہابیہ صفحہ10)
    اک اور جگہ لکھتے ہیں :
    حنفیہ جن سے یہ ملک بھرا ہوا ہے
    (ترجمان وہابیہ صفحہ15)

    الغرض پاک و ہند میں تقریبا بارہ سوسال فقہ حنفی ہی ملک کا قانون رہی۔ عدالت اور مساجد سب پر بلاشرکت غیرے حنفیہ کا تسلط رہا۔ اس کے بعد حالات نے پلٹا کھایا۔ یہاں اسلامی حکومت کی بجائے انگریزی حکومت آگئی۔اس دور میں فرقہ غیر مقلد یعنی نام نہاد اہل حدیث پیدا ہوا۔

    چنانچہ غیر مقلدین کے مشہور محدث اور مؤرخ مولانا شاہ جہاں پوری نے 1900ء میں کتاب "الارشاد الٰی سبیل الرشاد" لکھی،اسمیں لکھتے ہیں:

    "کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیر مانوس مزھب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے لوگ بالکل ناآشنا ہیں۔پچھلے زمانہ میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آتئے۔بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے۔ اپنے آپ کو تو وہ اہل حدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں،مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی یا لامزھب لیا جاتا ہے۔"
    (الارشاد ص13)

    معلوم ہوا کہ یہ مزھب انیسویں صدی میں پیدا ہوا اور یہ فرقہ شاذہ ہے۔اب سوال ہے کہ یہ لوگ تقلید (جسکو یہ مزھب قید کہتے ہیں) چھوڑ کر غیر مقلد کیوں بنے؟ جس کا نام انہوں نے آزادی مزھب رکھا ہے کیا یہ قرآنی حکم تھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا ؟تو بات یہ ہے کہ نہ قرآن میں ہے کہ اجتہادی مسائل میں عوام پر مجتہد کی تقلید حرام ہے نہ ہی کسی حدیث میں۔ یہ سب ملکہ وکٹوریہ کے اشارہء ابرو پر کیا گیا ۔

    چنانچہ نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں

    "گورنمنٹ نے آزادی کامل ہر مزھب والے کو مسلمان ہو یا ہندو یا اور کچھ عطاء فرمائی ہے، جس کا اشتہار بڑی دھوم دھام سے دربار قیصری میں بمقام دہلی مجمع جملہ رؤسا و معززین ہند رعایا برایا کو سنایا گیا ۔"
    (ترجمان وہابیہ ص8)
    "یہ آزادگی ہماری مزھب مروجہ جدیدہ سے عین مراد قانون انگلشیہ ہے۔"
    (ترجمان وہابیہ ص20)
    "قید مزھب خواہ مزھب نیچریہ ہو یا مزھب مقلدین ۔۔۔۔ایک بڑی بلا ہے اور سبب عداوت "
    (حکومت انگلشیہ ص29)
    "ہم سب مزھبوں سے آزاد ہیں"
    (حکومت انگلشیہ ص30)
    "اپنے دین میں وہی آزادی برتتے ہیں جس کا اشتہار بار بار انگریزی سرکار سے جاری ہوا۔خصوصا دربار دہلی سے جو سارے درباروں کا سردار ہے۔ جو رسائل رد تقلید مزھب میں اب تک تالیف ہوئے وہ شاہد عدل ہیں اس بات پر کہ مدعی اس طریقہ(غیر مقلدیت) کا قید مزھب خاص سے آزاد ہے۔۔۔۔اب تامل کرنا چاھئیے کہ دشمن سرکار کا وہ ہوگا جو کسی (تقلید مجتہد) میں اسیر ہے یا وہ ہوگا جو آزاد (غیر مقلد اور دولت برطانیہ) کا فقیر ہے۔"
    (حکومت انگلشیہ ص32)

    نواب صدیق حسن خان صاحب فقہ حنفی کے بارے میں لکھتے ہیں

    "یہ چاھتے ہیں کہ وہی تعصب مزہبی و تقلید شخصی اور ضد اور جہالت آبائی جو ان میں چلی آتی ہے قائم رہے اور جو آسائش رعایا ہند کو بوجہ آزادگی مزھب (غیر مقلدیت) گورنمنٹ نے عطاء کی ہے وہ اٹھ جائے اور امن باقی نہ رہے۔سارے مسلمان ایک مزھب خاص کے پابند ہوکر خوب اپنا تعصب گورنمنٹ سے ظاھر کریں اور جب موقعہ پاویں مثل زمانہ غدر کے فساد برپا کریں۔"
    (ترجمان وہابیہ ص56)

    پروفیسر محمد مبارک غیر مقلد شاگرد خاص مولوی عطاء اللہ حنیف بھوجیانی لکھتے ہیں

    "جماعت غرباء اہلحدیث کی بنیاد صرف محدثین کی مخالفت کے مقصد کے لئے رکھی گئی۔صرف یہی مقصد نہیں بلکہ تحریک مجاھدین یعنی سید احمد شہید (رحمہ اللہ) کی تحریک کی مخالفت کرکے انگریز کو خوش کرنے کا مقصد پنہاں تھا۔"
    (تحریک مجاہدہن ص48)

    اس فرقہ جدیدہ نام نہاد اہل حدیث کا مقصد وجود یہی تھا کہ اہل سنت والجماعت حنفی مجاھدین کا راستہ روک کر انگریز سے جہاد ختم کیا جائے اور ان سے فساد کیا جائے۔ چنانچہ اس فرقہ کے دوہی مقاصد تھے۔
    1
    انگریز سے جہاد حرام
    2
    مسلمانوں کی مساجد میں فساد فرض۔


    اہل اسلام میں لڑائی ڈالنے کے لئے فقہ کو نشانہ بنایا گیا۔چنانچہ

    مولانا عبدالوہاب صاحب بانی جماعت غرباء اہل حدیث کہتے ہیں:

    "کتب فقہ مروجہ اسلام کے بلکل منافی ہیں ۔کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے ان پر عمل کرنا محض گمراہی اور حرام ہے۔بھلا اکل حلال کے ہوتے ہوئے خنزیر کھانا کب روا ہے۔"
    (خطبہ امارت ص13،14)
    مولوی محمد جونا گڑھی نے بھی ارشاد محمدی کے صفحہ 3 پر فقہ کو "خنزیر " کہا اور جماعت المسلمین کے بانی مسعود احمد نے بھی فقہ کو "خنزیر" کہا (التحقیق فی جواب التقلید) اور نواب صدیق حسن خان غیر مقلد لکھتے ہیں"سرچشمہ سارے جھوٹے حیلوں اور مکروں کا اور کان تمام فریبوں کی دغابازیوں کی علم رائے (اجتہاد) ہے۔ جو مسلمانوں میں بعد پیغمبر بر حق کے پھیلا ہے اور مہاجال ان سب خرابیوں کا بول چال فقہاء اور مقلدوں کی ہے۔ غرض یہ کہ اگر غور سے دیکھو اور خوب خیال کرو تو سارے عالم کا فساد اور تمام خرابیوں کی بنیاد یہی گروہ ہے جو اپنے آپ کو کسی مزھب وغیرہ کا مقلد کہتا ہے۔"
    (ترجمان وہابیہ ص24)

    غیر مقلدوں نے انگریزی قانون کو خدا کی رحمت اور امن و سلامتی کا پیغام مان کر اسلامی قانون فقہ کو سو،کوک شاستر،جھوٹ،فریب،دغابازی وغیرہ کہا۔(معاذ اللہ)

    نئی فقہ کی تدوین​



    فقہ حنفی سے ناراض ہوکر اب انہیں نئی فقہ کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے یمن کے زیدی شیعوں سے بھیک مانگی۔ نواب صدیق حسن خان نے فقہ حنفی کو تو جھوٹ فریب کہا مگر زیدی شیعہ شوکانی یمن کی فقہ کی کتاب "الدرالبھیتہ " کو من و عن قبول کرلیا اور اس کی شرح "الروضۃ الندیہ" لکھ کر اپنے مزھب کی فقہ بنالیا۔

    اس کے بعد نواب وحید الزمان غیر مقلد نے ھدیۃ المہدی،نزل الابرار من فقہ نبی المختار اور کنز الحقائق اور میر نورالحسن نے عرف الجادی من جنان ھدی الھادی اور صدیق حسن نے بدور الاھلہ وغیرہ کتابیں لکھیں، مگر ان کتابوں کا جو حشر ہوا وہ خدا کسی دشمن کی کتاب کا بھی نہ کرے۔ نہ ہی غیر مقلد مدارس نے ان کو قبول کیا کہ ان میں سے کسی کتاب کو داخل نصاب کرلیتے،نہ ہی غیر مقلد مفتیوں نے ان کو قبول کیا کہ اپنے فتاوٰی میں ان کو لیتے اور ناہی غیر مقلدین عوام نے ان کو قبول کیا۔ وہ مرزا کادیانی اور سوامی دیانند کی کتابوں سے اتنا نہیں جلتے جتنا ان کتابوں کے نام سے جلتے ہیں۔ جس طرح بعض کفار نے قرآن کی آیت "والمساء ذات البروج " کے مقابلہ میں جملہ "والنساء ذات الفروج" گھڑا تھا، مگر قرآن کے مقابلہ میں اب کافر اس کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں، اس سے زیادہ غیر مقلدین اپنی کتابوں کو چھپاتے ہیں اور ان کے نام سے بھی گھبراتے ہیں۔ وہ شیعوں کے قرآن کی طرح غار میں ہیں۔



    حضرات یاد رہے اللہ تعالٰی نے اسلام کو ساری دنیا میں غالب رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ الحمدللہ فقہ حنفی ساری دنیا میں غالب ہے ۔خود غیر مقلدین کے مدارس میں داخل نصاب ہے۔ثم الحمدللہ۔ فتاوٰی ثنائیہ ،فتاوٰٰ علماء حدیث اس کے حوالوں سے بھرپور ہیں اور جو فقہ ان کے مقابلہ میں اٹھی تھی اس کے کھنڈرات بھی مٹ چکے ہیں۔ الحمدللہ

    فقہ حنفی پر حملوں کی ابتداء​



    جب یہ نام نہاد فرقہ اہل حدیث یعنی درحقیقت لامزھب و غیر مقلدیت کے پروردہ اپنی فقہ مرتب نہ کرسکے یا رکھ سکے، تو فقہ حنفی پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کردی۔ ایک برائے نام مسلمان جس کا نام ہری چند والد دیوان چند کھتری تھا، نے "الظفر المبین" نامی کتاب لکھی۔ علمائے اہل سنے والجماعت نے اس کے جواب میں "الفتح المبین" لکھی اور دونوں کتابوں کو علماء حرمین شریفین کے سامنے پیش کردیا ۔ علمائے حرمین شریفین نے "الفتح المبین" کے مسائل کو صحیح قرار دیا اور "الظفر المبین" کے مؤلف کو گمراہ،گمراہ کنندہ اور واجب القتل قرار دیا(الفتح المبین) یہاں بھی غیر مقلدین کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک غلط انداز​



    حکومت برطانیہ کو سب سے زیادہ مخالفت مسلمانوں سے تھی، اسلئے اس دور میں قرآن و سنت اور فقہ پر منظم حملے کروائے گئے۔ پادری فانڈر،ماسٹر رام چند نے قرآن مجید کے خلاف محاذ قائم کیا اور متواتر قرآن پاک جس کی ہر جگہ تلاوت ہورہی تھی اس کی شاذ اور متروک قراءتوں پر اعتراضات کئے، جس سے ناواقف عیسائی خوش ہوگئے کہ ہمارے پادرریوں نے بڑا کام کیا ،قرآن پر اعتراضات کئے۔
    مگر مسلمانوں کے دل میں قرآن پاک کے بارہ میں وسوسہ بھی پیدہ نہ ہوا۔ کیونکہ جس قرآن پاک کی تلاوت وہ کرتے تھے اس پر اعتراض نہ ہوسکا اور جن متروک اور شاذ قراءتوں پر انہوں نے اعتراضات کئے وہ مسلمانوں میں پہلے سے ہی متروک تھیں۔
    اسی طرح فقہ پر اعتراضات کرنے کے لئے ضروری تھا کہ پہلے فقہ کے مفتٰی بہا اور غیر مفتٰی بہا شاذ و متروک اقوال میں امتیاز کرکے مفتٰی بہا اقوال کو قرآن و حدیث سے غلط ثابت کیا جاتا اور پھر اسی مسئلہ کے صحیح حکم کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا جاتا۔ لیکن وہ اس سے عاجز رہے۔
    مولوی محمد جوناگڑھی،مولوی محمد یوسف جے پوری اور ابوالقاسم بنارسی فقہ کے بارہ میں اتنی معلومات رکھتے تھے جتنی پادری فانڈر اور سوامی دیانند قرآن کے متعلق، اور یہ علم حدیث سے بھی کورے تھے۔ ان لوگوں کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو فقہ کے صحیح اور ضعیف اقوال میں ہر گز امتیاز نہ تھا، نہ ہی صحیح اور ضعیف حدیثوں کی بصیرت تھی۔ فقہ حنفی کے وہ مفتٰی بہا مسائل جن پر دنیا بھر میں حنفی عمل کررہے ہیں ان کو کسی صریح غیر معارض حدیث کے خلاف ثابت کردینا ان کے بس کا روگ نہ تھا اور نہ ہی یہ کرسکے۔ ہاں ایسی شاذ جزئیات جن پر نہ کبھی کسی حنفی مفتی نے فتوٰی دیا اور نہ ہی دنیا بھر میں کسی جگہ حنفیوں کا ان پر عمل ہے ان کو محل طعن بنایا گیا، جس سے ہمارا اعتقاد فقہ حنفی پر اور قوی ہوگیا کہ اس کے مفتٰی بہا مسائل پر اعتراض نہیں ہوسکا۔



    طریق فیصلہ

    اسلام مکمل دین ہے اور عقائد کے بعد نماز سب سے بڑی عبادت ہے۔ مزاھب اربعہ میں نماز کے مسائل بڑی تفصیل سے موجود ہیں۔ نماز کی شرائط،ارکان،واجبات،سنن،مس تحبات،مباحات،مکروہات،مفسد ات اور مسائل سہو۔ یہ حضرات غیر مقلدین اپنی مکمل نماز اس ترتیب سے احادیث صحیحہ ،صریحہ، غیر معارضہ سے ثابت کردیں۔مگر یہ ہر گز اس پر آمادہ نہیں ہوئے اور دوسرے نمبر پر حنفی نماز جو کہ ہر جگہ پڑھی جارہی ہے بالترتیب ہر ہر مسئلہ کو حدیث صحیح صریح غیر معارض سے غلط ثابت کردیں۔ لیکن یہ بھی ان کے بس کا روگ نہیں۔ اور اس کے لئے ان کا کوئی ذمہ دار غیر مقلدعالم تیار نہیں۔ جب نماز جیسی عبادت جو دن میں پانچ دفعہ فرض ہے، اس میں یہ اس قدر جاہل ہیں تو باقی دین سے ان کا کیا آئے گا ؟

    آسان طریقہ​


    ایک دفعہ ایک غیر مقلد عالم نے کہا فقہ حنفی کے تمام مسائل قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو میں بہشتی زیور لے کر اس کے پاس چلاگیا کہ میں بالترتیب وضو کے مسائل سے شروع کرکے ایک ایک مسئلہ پڑھتا ہوں ۔ آپ ہر مسئلہ کے خلاف ایک صحیح صریح غیر معارض حدیث لکھوادیں۔ پھر اس غلط مسئلہ کے مقابلہ میں جو صحیح مسئلہ ہو وہ مسئلہ لکھوا کر اس کے موافق ایک صحیح صریح غیر معارض حدیث لکھوادیں۔ تو وہ بہت پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ فقہ حنفی کے سارے مسائل حدیث کے خلاف نہیں ہیں ، بعض حدیث کے مطابق ہیں اور بعض مخالف۔ میں نے کہا ، میں بالترتیب ایک ایک مسئلہ پڑھتا جاتا ہوں ، ان میں سے جو مسئلہ حدیث کے مطابق ہو اس کے متعلق ایک ایک حدیث صحیح صریح غیر معارض لکھواتے جائیں اور جو جو مسئلہ حدیث کے مخالف ہو اس کے متعلق و خلاف ایک ایک حدیث صریح صحیح غیر معارض لکھوا کر پھر صحیح مسئلہ لکھوا کر اسکے موافق حدیث صحیح صریح غیر معارض لکھواتے جائیں۔ لیکن وہ فرار ہوگیا اور ان کا کوئی عالم بھی (تاحال) اسکے لئے تیار نہیں ۔ کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ وہ نہ حدیث کا علم کامل جانتا ہے نہ ہی فقہ کا علم کامل رکھتا ہے۔

    (نوٹ)
    اگر کوئی حنفی نماز کو رد اور غیر مقلد نماز کو ثابت کرنا چاھتا ہو تو اسے باسند حدیث پیش کرنا ہوگی اور ہر ہر راوی کی جرح و تعدیل مفسر اور باسند پیش کرنا ہوگی۔نہ کسی جگہ اپنا قیاسی قول پیش کرے گا،کیونکہ ان کے ہاں قیاس شیطان کا کام ہے،نہ کسی امتی کا قول پیش کرے گا، کیونکہ یہ شرک تقلیدی ہے اور بے سند بات بے دینی ہے۔ ہاں ہم اہل سنت والجماعت ادلہ اربعہ پیش کرتے ہیں اور اس کا حق ہے ہمیں ۔ الغرض فقہ حنفی سے ناراضگی کے اسباب صرف جہالت اور حسد ہیں ۔بے شک​
    تجلیات صفدر جلد اول

اس صفحے کو مشتہر کریں