فقہ حنفی پر ایک نظر

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اگست 12, 2016۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,577
    موصول پسندیدگیاں:
    771
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    فقہ حنفی پر ایک نظر

    بیان بالا سے واضح ہو چکا ہے کہ جس علم صحابۂ کرام کے مرجع آخر وخزینہ دار حضرت ابن مسعودؓ تھے، وہ تابعین کبار کو پہنچا ،ان سے ابراہیمؒ نخعی کو، ان سے حماد بن سلیمانؒ کو،ان سے امام ابو حنیفہؒ کو،ان سے ابو یوسفؒ ومحمدؒ بن حسن وغیرہما تلامذہ کو ،یہی وہ علم تھا جس کی تدوین وترویج کا اہتمام اکابر صحابہ کرامؓ نے اہتمامِ کتاب اللہ کے بعد اس زمانے میں کیا جبکہ روایت حدیث قلیل تھی، بلکہ روقی جاتی تھی ، خلفائے راشدین کا دور اسی کے اہتمام میں صرف ہو گیا ،امام اعظمؒ اور ان کے تلامذہ کی کوششوں نے اس علم دین کو مدون ومرتب کر کے ایک ایسان آئین شریعت ملک وملت کے سامنے رکھدیا جو حق وہدایت کی قوت سے دنیائے اسلام کی عبادات ومعاملات کی ضرورتوں اور حاجتوں کو روا کر نے اور دنیائے اسلام میں پھیلنے کیلئے تیار وآمادہ تھا ،اس علم کی عجیب خصوصیت ہے کہ چار پشت تک تابعین کے سینوں میں رہنے کے بعد امت کو ملا ،اسکا نتیجہ بدیہی یہ ہے کہ امام اعظمؒ کا علم صحابۂ کرامؓ کے علم کا مجموعہ ہے اور وہ فقہ حنفی ہے۔

    (۲)مذہبِ اسلام روئے زمین کے انسانوں کے لئے آخری دین الٰہی ہے ، اس کا اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے ، یہ بھی اس کا اعلان ہے کہ وہ تمام ادیان پر حق وہدایت کی قوت سے غالب رہے گا ،اور یہ حزب اللہ کا طرۂ امتیاز غلبہ ہے ۔

    اسلام کے فرقِ باطلہ کے با طل ہو نے کی بڑی دلیل اس میں ہے کہ وہ کبھی دیر پا غلبہ رو ئے زمین پر نہ پا سکے ،ان کا زمانہ یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح انہوں نے اپنے وجود کو قائم رکھا ، مثال کے لئے دیکھو فقۂ با طنیہ کی تاریخ۔

    مذہب حقہ میں سب سے زیادہ غلبہ مذہب حنفی کو ابتدا سے آج تک حاصل رہا ہے ، مؤرخین ومحدثین اس کے شیوع کو زمین پر چھا جانے سے تعبیر کرتے ہیں ،امام سفیان بن عُینیہ کا قول تم نے پڑھا ہے کہ "ابو حنیفہ کی رائے آفاق میں پہنچ گئی ،وقد بلغ الاٰفاق"،خطیب نے امام ابو یوسفؒ کے حالات میں لکھا ہے ـوبث علم ابو حنیفہ فی اقطار الارضۤ،انہوں نے اما م ابو حنیفہ کا علم زمین کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچا دیا ۔

    شیخ طا ہر پٹنی صاحب ِمجمع البحار نے المغنی میں فقہ حنفی کا سارے آفاق میں پھیل جانا اور روئے زمین کو ڈھک جا نا لکھا ہے ان کے الفاظ ہیں "العلم المنتشرفی الاٰفاق وعلم طبق الارض" یہ بھی لکھا ہے کہ اگر مذہبِ فقہ حنفی میں اللہ تعالیٰ سرِّ خفی نہ ہوتا تو نصف یا اسکے قریب اسلام اکے کے تقلید کے جھنڈے کے نیچے جمع نہ ہوتا ، ملا علی قاریؒ نے دو ثلث اہل اسلام کا گیا رہویں صدی ہجری میں حنفی ہو نا لکھا ہے ۔

    اس کی قوتِ ظہور اور خوبیٔ تدوین وکمالِ ترتیب کا اندازہ اس سے کرو کہ امام اعظمؒ کی وفات کے ٹھیک سولہ برس بعد خلیفۂ بغداد ہادیؔ کے عہد میں امام ابو یوسف ۶۶ھ؁ میں قاضی مقرر ہو تے ہیں ، وہ قوت ان کے علم میں ہے کہ عہد اسلام میں اول مرتبہ قاضی القضاۃ کی طیلسان ان کے وجود پر راست آتی ہے ،اور فقہ حنفی کی روئے زمین پر کار فر ما بن جاتی ہے ۔ہارون رشید کی خلافت کے شایان قاضی القضاۃ اول امام ابو یوسفؒ ہی ٹھہرے، ، خلافت عباسیہ کے بعد جتنی ایسی قوتیں بر سرِ کار آئیں جن کی قوت اور غلبہ کو بین الاقوام اور بین الممالک مرتبہ حاصل ہوا وہ قریبا سب کے سب حنفی تھیں ، مثالاً آل سلجوق، آل عثمان ، عالمگیر ی ہندوستان بجائے خود ایک بر اعظم تھا ، یاد تازہ کرو حافظ ابن قیمؒ کے اس بیان کی کہ مسروقؒ کا قول ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ کا علم وہ خلیج ہے کہ اگر اس پر روئے زمین کا تشنۂ کام وارد ہو جائیں تو سیراب ہو سکیں ، ملاؤ اس کے ساتھ حضرت مجد د الف ثانیؒ کا کشف کہ "نظرِ کشفی میں دوسرے مذاہب حیاض وجدوال کی شکل میں منکشف ہوتے ہیں ، مذہب حنفی بشکل دریائے زخّار جو عرش سے گر رہا ہے ،دوسرے مذاہب حقہ عموماً یا ملک سے مخصوص رہے یا نسل سے ، بین الاقوامی مرتبہ کمتر پا سکے ۔

    اسلام کی قوت وحقانیت کی کھلی ہو ئی دلیل اس میں ہے کہ اس کے احکام میں مختلف ممالک ومختلف نسلہائے انسانی کی ضرورتوں کا لحاظ پا یا جاتا ہے ،اور ان کے حامل مذاہب اربعہ مختلف ممالک اور مختلف نسلوں میں کس مناسبت سے پھیلے تو لم نفسیات کا دلچسپ باب ہو گا۔

    دیکھو! تا بعین وتبع تا بعین کے دور میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں صاحبِ مذاہب امام ومجتہد تھے ، جن کے مذاہب پھیلے ،اور مضمحل ہو گئے ،بالآخر تبوع چار ہی رہے ۔

    ان میں بھی جو شیوع وغلبہ مذہب حنفی کو رہا ظاہر ہے ، معلوم ہو تا ہے کہ اسلام میں غلبہ وظہور کی جو قوت وبرحق وہدیٰ کی مدد سے تھی اس کا وافر حصہ مذہب حنفی میں ودیعت تھا ،اور یہی وہ خفی سرِّ الٰہی ہے جس کو شیخ طاہر پٹنی مذہبِ حنفی کی کا میابی وغلبہ کا سبب بتا تے ہیں۔

    ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے ،عام طور سے مذہبِ حنفی اور مذہبِ مالکی کی کا میابی کا سہرا امام ابو یوسفؒ اور امام یحیی بن یحیی المصمودی کے سر با ندھا جاتا ہے کہ ان کا وجود نہ ہو تا تو شیوع حاصل نہ ہوتا ، یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں امام ان دونوں مذہبوں کے شیوع ورواج کا زبردست ذریعہ بنے ، لیکن یہ صحیح نہیں کہ ان کے شیوع اور ترویج کی علت تامہ وہ دونوں ہیں ،اس پر غور کرنا چاہئے کہ تعلیم سے شاگرد پیدا ہوتے ہیں ، تصانیف پیدا ہو تی ہیں نہ کہ استاد کی تعلیم کی خوبی شاگرد پیدا کرتا ہے ،شخصی کو ششوں سے فروع ورواج تعلیم ضرور ہوتا ہے ، مگر عالمگیر غلبہ وظہور صدیوں تک قائم وباقی رہے وہ خود اس تعلیم کی اندرونی قوت واثر ہی سے ہو سکتا ہے ، بالآخر کامل شاگردوں کا وجود بھی تو قوت وخوبی تعلیم کا منت کش ہے ،امام ابو یوسفؒ اور امام یحییؒ بھی مذہب حنفی ومالکی کی قوت کا ثبوت ہیں۔

    نتیجۂ واقعات بالا یہ ہے کہ محدثین کرام کی شہادت وتوثیق کے بموجب امام ابو حنیفہؒ کا علم حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا علم تھا جو تینتیس برس کی ضمنیت تام اور قرب خاص میں مشکوٰۃ نبوت سے براہ راست حاصل کیا گیا ،اور جو با لآخر تمام صحابۂ کرام کے علم کا مجموعہ بنا اور چار پشت تک تا بعینؒ کبار وکرام سے سینوں سے گزرکر امام اعظمؒ کے تلامذہ رشید کو پہنچا یا ،اور جو آخر تک فقہائے عظام کی کوششوں سے ایک عالم کے واسطے سرمایۂ اعمال حسنہ بنا ہوا ہے ،اور چو نکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اقرب الیٰ اللہ وسیلۃً تھے لہذا خالق اکبر جل جلالہ کی بارگاہ میں اس کے عاجز بندوں کیلئے وسیلۂ عظمیٰ ہے ۔فالحمد للہ علیٰ ذالک ( امام ابو حنیفہؒ اور ان کے ناقدین ۔تالیف مولانا حبیب الرحمن خان شیروانیؒ صفحہ ۶۹ تا ۷۲)
    محسن اقبال قمر، ابن عثمان اور اکبرکبیر نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. qureshi

    qureshi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    292
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    جگہ:
    Afghanistan
    ماشاء اللہ ۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    جزاك الله خيرا۔
    بہت قوی تحریر ہے ۔ ماشاء اللہ۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. محسن اقبال قمر

    محسن اقبال قمر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    20
    موصول پسندیدگیاں:
    7
    صنف:
    Male
    جگہ:
    United Arab Emirates
  5. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محسن قمر صاحب ایک مسئلہ میں رہنمائی فرمایئے۔ فقہ حنفی کا مدار عبداللہ بن مسعود کی فقہ پر ہے اس میں کوئی شک والی بات نہیں۔
    صرف ایک مسئلہ میری سمجھ سے باہر ہے ابن مسعود کی طرف رکوع میں تطبیق والے عمل کو منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ حضور کے زمانے میں منسوخ ہو چکا تھا۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ابن مسعود منسوخ ہونے کے باوجود اس پر عمل کرتے رہے ہوں۔
    مجھے یقین ہے ایسا انہوں نے کچھ وقت ضرور کیا ہوگا لیکن اس پر ہمیشہ مداومت نہیں کی ہوگی۔ لیکن اس بات کا ثبوت چاہیے کہ انہوں نے یہ عمل چھوڑ دیا تھا۔
    شائد اس وقت اسکا ثبوت کسی قدیم لائبریری میں کسی مخطوطے کی شکل میں موجود ہو۔
  6. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    دوسرے بھائی بھی ان شاء اللہ اپنے خیالات کا اظہارکریں گے ۔
    میرے ذہن میں بھی کچھ باتیں آئی ہیں ۔ زندگی کا پتہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے عرض کر رہا ہوں ۔

    یہ کوئی قاعدہ کلیہ حصر کے ساتھ نہیں ہے کہ کہ فقہ حنفی کا مدار صرف عبداللہ بن مسعودؓ کی فقہ پر ہے ۔بیشک اُن کی اکثر آراء پر ضرور ہے ۔
    اسی طرح بعض علماء کو یہ غلط فہمی رہی ہے کہ شاید فقہ حنفی ساری ابراہیم نخئیؒ کی آراء پر مشتمل ہے ۔ جیسا کہ شاہ ولی اللہ ؒ کے قول سے محسوس ہوتا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے ۔

    جب صاحب مذہب امام ابوحنیفہؒ مجتہد ہیں ۔ اور خود اُن کی تصریحات اس بارے میں موجود ہیں ۔ مثلاََ

    مشہور روایت جو اُن کے کم ازکم ۶ شاگردوں نے روایت کی ہے کہ جس میں امام صاحبؒ اپنے اصول بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ۔قرآن و سنت کے بعد وہ صحابہؓ کے قول پر عمل کرتے ہیں ۔اور صحابہؓ کے مختلف اقوال میں سے اختیار کرتے ہیں ۔
    اور تابعین ابراہیم ؒ ، شعبیؒ ، حسنؒ ، ابن سیرین ؒ ،عطاءؒ ، سعیدؒ ، وغیرہ تک بات آئے تو
    جیسے وہ اجتہاد کرتے ، امام صاحب بھی اجتہاد کرتے ۔

    دوسری روایت میں اپنے علم کا ماخذ خلیفہ وقت کے سامنے بتاتے ہیں۔۔

    أبي حنيفَة قَالَ دخلت على أبي جَعْفَر أَمِير الْمُؤمنِينَ فَقَالَ يَا ابا حنيفَة عَمَّن أخذت الْعلم
    قلت عَن حَمَّاد عَن ابراهيم عَن أَصْحَاب عمر بن الْخطاب وَعلي بن أبي طَالب
    وَعبد الله بن مَسْعُود وَعبد الله بن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُم
    قَالَ بخ بخ استوثقت مَا شِئْت يَا أَبَا حنيفَة


    یعنی ابوحنیفہؒ خلیفہ ابوجعفر کے پاس آئے تو اس نے پوچھا ۔ ابوحنیفہؒ آپ نے کس سے علم حاصل کیا ہے ۔
    امام صاحبؒ بولے ۔حماد اور ابراہیم کے واسطہ سے اصحاب عمرؓ ۔ علیؓ ۔ عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عباسؓ کا علم ۔
    اس پروہ متاثر ہوا اور اس نے تعریف کی ۔

    اور ائمہ ثلاثہ کی کتب احادیث و فقہ انہی اقوال کی تائید کرتے ہیں ۔

    بلکہ یہ ۴ صحابہؓ جن کا اوپر نام لیا ہے ۔ یہ بقول شاہ ولی اللہ ؒ ۔۔ کثیر الفتاوی ہونے میں سب سے ممتاز تھے ۔
    ان کے علاوہ بھی فقہ حنفی میں دوسروں کی نسبت ہر علاقے کی بھی روایات و اقوال وا ٓثار صحابہؓ پر عمل کیا جاتا ہے ۔
    یہاں تاریخ تدوین حدیث مولانا عبدالرشید نعمانیؒ سے کچھ عبارت ملاحظہ کریں ۔
    [​IMG]
    [​IMG]


    یہ غلط فہمی کئی حضرات کو رہی ہے کہ شاید امام صاحب اور فقہ حنفی صرف حضرت عبداللہؒ کی ہی فقہ پر مشتمل ہے ۔یا حضرت علیؓ۔کیونکہ کوفہ کا زیادہ علم حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ ؓ ہی کا ہے ۔ ایسا اکثری ہے کُلی نہیں ۔

    مشہور شافعی محدث محمد بن نصر مروزی ۲۹۴ھ نے بقول ذہبیؒ ایک کتاب ہی اسی موضوع پر لکھی ہے کہ وہ مسائل جس میں ابوحنیفہ نے علیؓ اور عبداللہ ؓ سے اختلاف کیا ۔۔۔وصنف كتابا فيما خالف أبو حنيفة عليا وابن مسعود

    مشہور محدث امام اعمشؒ نے بھی ایک موقع پر امام ابویوسفؒ سے پوچھا ۔ تمہارے صاحب (یعنی ابو حنیفہ) نےعبداللہ بن مسعودؓ کا قول کیوں ترک کر دیا ”باندی کی آزادی اس کے حق میں طلا ق ہے “
    امام ابو یوسف نے جواب اس حدیث کی وجہ سے جو آپ نے ہی روایت کی ہے ۔
    اعمشؒ بولے کونسی حدیث؟
    ابویوسفؒ بولے آپ نے ابراہیم سے ،انہوں نے اسود سے ،انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ہے کہ بریرۃَؓ کو جب آزادی حاصل ہوئی تو انہیں اختیار دیا گیا تھا۔
    یہ جواب سن کر امام اعمش بولے ’’بے شک ابو حنیفہؒ تو فقیہ تھے اور بہت پسند کیا ، دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا ابوحنیفہ حدیث کے موقع ومحل کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور اس میں بڑا شعور رکھتے ہیں ۔(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ، صیمری ۲۶ ، انتقاء ابن عبدالبر ۱۴۷)

    اور یہ تو مناقب و تاریخ کی کتب میں ہے ۔ کتاب الآثار،امام ابوحنیفہ ۔بروایت محمد میں بھی ایسا ہی ہے ۔

    محمد قال: أخبرنا أبو حنيفة, عن حماد, عن إبراهيم, عن ابن مسعود رضي الله عنه في المملوكة تباع ولها زوج, قال: بيعها طلاقها.
    قال محمد: ولسنا نأخذ بهذا, ولكنا نأخذ بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اشترت عائشة رضي الله عنها بريرة, فأعتقتها فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أن تقيم عند زوجها, أو تختار نفسها, فلو كان بيعها طلاقها ما خيرها.


    وبلغنا عن عمر, وعلي, وعبد الرحمن بن عوف, وسعد بن أبي وقاص, وحذيفة أنهم لم يجعلوا بيعها طلاقها, وهو قول أبي حنيفة رحمه الله.

    یعنی حضرت ابن مسعودؓ کا قول نقل کرکے اس کی شرح میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم اُن کے قول کو اختیارنہیں کرتے حضرت بریرہؓ والی حدیث کی وجہ سے ،
    اور ہمیں حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، عبد الرحمٰن بن عوفؓ ، سعد بن ابی وقاصؓ اور حذیفہؓ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے اس کے بیچنے کو طلاق قرار نہیں دیا ۔

    اور یہی امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور خاص تطبیق کے مسئلہ میں بھی امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ ہی کے قول کی وجہ سے حضرت ابن مسعودؓ کے قول پر عمل نہیں کیا ۔ جیسا کہ کتاب الآثار میں ہے ۔

    95 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَقَامَ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: هَكَذَا، اصْنَعُوا إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً. وَكَانَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ وَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: «يُجْزِئُ إِقَامَةُ النَّاسِ حَوْلَنَا»

    قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ۔۔۔۔۔۔بِقَوْلِهِ فِي التَّطْبِيقِ كَانَ يُطَبِّقُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، ثُمَّ يَجْعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ، وَلَكِنَّا نَرَى أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَيُفَرِّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ تَحْتَ الرُّكْبَتَيْنِ۔۔۔۔۔۔ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

    96 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " جَعَلَهُمَا خَلْفَهُ، وَصَلَّى بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، وَكَانَ يَجْعَلُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ إبراهيم: صَنِيعُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَبُّ إِلَيَّ "
    قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ صَنِيعِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى


    امام محمد ؒ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا طرز عمل ہمیں حضرت ابن مسعودؓ کے طرز سے زیادہ پسند ہے ۔
    اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ۔

    ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف فیہ مسائل صحابہؓ میں بھی تھے ۔ اور امام ابوحنیفہؒ نے حضرت ابن مسعودؓ کے قول کو کبھی چھوڑا بھی تو اُن سے زیادہ بڑے صحابہؓ حضرت عمرؓ اور عشرہ مبشرہؓ کے قول پر عمل کیا ۔
    اور فقہ حنفی کے اصول میں ایسا ہی ہے ۔
    اور اختلاف کرنے کا کیا ہی خوب اور قابل اتباع طریقہ ہے کہ یہ قول ہمیں زیادہ پسند ہے ۔

    ادھر تک تو بات اس بارے میں تھی کہ فقہ حنفی کا صرف حضرت عبداللہ ؓ کے اقوال ہی پر مدار نہیں ہے ۔
    بلکہ کئی جگہہ انہوں نے اُن سے اختلاف بھی کیا ہے ۔اسی طرح تابعی ابراہیم نخئؒ سے بھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب حضرت عبداللہ ؓ کے بارے میں وضاحت ۔

    آپؓ چونکہ مجتہد صحابہ میں سے تھے اس لئے اجتہادی رائے مختلف ہو سکتی ہے ۔ اور ہر مسئلہ کی تصریح ہونا کتب میں ضروری نہیں ہے کہ فلاں صحابیؓ سے فلاں مسئلہ ثابت کیا جائے ۔ اس لئے مخطوط کتاب کی تلاش کی ضرورت نہیں ۔

    ہاں اس مسئلہ میں تو ایک روایت مشہور کتب میں موجود ہے جس سے مسئلہ کی وضاحت کی جاسکتی ہے اور ائمہ نے کی بھی ہے ۔ مثلاََ علامہ عینیؒ نے عمدۃ القاری میں یہی فرمایا ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ ہر وقت نبی کریمﷺ کے ساتھ رہتے تھے اور یقیناََ اُن سے یہ بات مخفی نہیں رہی ہوگی بس یہ ہے کہ اُن کے اجتہاد میں یہ عمل منسوخ نہیں ہوا بلکہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ یا تطبیق پر عمل کرلیں یا گھٹنے پکڑنے پر ۔

    اور علماء فرماتے ہیں کہ چونکہ تطبیق میں چونکہ عزیمت ہے اور دوسرے عمل میں رخصت تو عبداللہ ؓ اپنے اجتہاد سے اس مسئلہ کو اختیاری سمجھتے ہوئے عزیمت پر عمل کرتے تھے ۔

    اس کی دلیل مصنف ابن ابی شیبہؒ میں موجود حضرت علیؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ جب رکوع کرو تو اگر چاہو تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لو ، چاہو تو تطبیق کر لو ۔

    2553- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : إذَا رَكَعْتَ فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ هَكَذَا وَإِنْ شِئْتَ وَضَعْت يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ هَكَذَا. يَعْنِي : طَبَّقْتَ.

    مصنف ۲۔۴۳۹

    بقول حافظ ابن حجرؒ و علامہ عینیؒ اس اثر کی سند حسن درجہ کی ہے ۔

    اور دونوں حفاظ نے فتح الباری اور عمدۃ القاری میں عبداللہؓ کی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے پیش کیا ہے ۔

    اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ تطبیق کوئی حرام نہیں ہے ، کیونکہ عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگرد جنہوں نے حضرت عبداللہ ؓ کے پیچھے تطبیق والی نماز پڑھی پھر حضرت عمرؓ کے ساتھ بھی پڑھی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہم پہلے ایسا کرتے تھے پھر چھوڑ دیا ۔ اور حضرت عمرؓ نے اُن کو نماز دہرانے کا نہیں کہا ۔

    اور کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کا قول بھی ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عمرؓ کا عمل زیادہ پسندیدہ ہے ۔

    اور حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعودؓ جو کوفہ کے علم کے سب سےبڑے ستون ہیں ۔ میں سے حضرت علی ؓ کی رائے صاف موجود ہے کہ وہ اس معاملے میں اختیار کے قائل تھے ۔ تو حضرت عبداللہ ؓ کا بھی قول اس معاملے میں اختیار کا ہوگا ۔

    جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اور علامہ عینیؒ نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے ۔

    وَهُوَ ظَاهِرٌ فِي أَنَّهُ كَانَ يَرَى التَّخْيِيرَ ۔۔۔۔فتح الباری
    فَهَذَا ظَاهر فِي أَنه، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، كَانَ يرى التَّخْيِير
    ۔۔۔عمدۃ القاری

    واللہ اعلم۔
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    ابن عثمان بھائی کی باتوں سے اتفاق ہے۔

    اس میں ایک چیز مزید یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہمیشہ تطبیق ثابت نہیں ہے۔ یہ ایک دو بار کا واقعہ ہے کیوں کہ لفظ "کان" سے ہمیشگی ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ علامہ نوویؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔
    ابتدائے اسلام میں تطبیق جائز تھی مگر لازم نہیں تھی یعنی کوئی کر لیتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ پھر تطبیق منسوخ ہو گئی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو صرف اس کے نسخ کا علم نہیں ہوا۔ جب وہ پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز ادا فرماتے تھے اس وقت بھی کئی صحابہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے تھے اور بعد میں بھی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جس سے وہ اس بارے میں تحقیق کرتے۔
    خود حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا اگر یہ عمل ہمیشہ کا ہوتا تو علقمہ اور اسود آپ کے حاضر باش شاگرد تھے، وہ اسے اس انداز میں بیان نہ کرتے کہ ہم ان کے پاس تھے اور نماز کا وقت آیا۔۔۔۔۔ بلکہ وہ تو ہر نماز میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے دیکھتے۔ اگر ان کا یہ عمل نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی مسلسل ہوتا تو آپ ﷺ یا دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی نہ کوئی انہیں منسوخ ہونے کا ضرور بتاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا اس لیے یہ نسخ بھی ان سے پوشیدہ رہ گیا۔
    یہ بھی ممکن ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس تطبیق کو صرف تین کی جماعت میں جائز سمجھتے ہوں جیسے اس روایت میں تین تھے، اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ نسخ کے بعد تین کی جماعت کا آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی موقع نہ ملا ہو۔

    یار لوگ اس تطبیق پر رفع یدین کو قیاس کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر رفع یدین میں نبی کریم ﷺ نے ترک رفع یدین کا عمل ترک کر دیا ہوتا اور رفع یدین شروع کر دیا ہوتا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سب لوگوں کو اور خود نبی کریم ﷺ یہ کرتے دیکھتے اور پھر ظاہر ہے اس کے بارے میں معلوم کرتے۔ اگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خود معلوم نہ کرتے تو ادھر ادھر والے ضرور بتاتے۔
    و اللہ اعلم
  8. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آپکی اس رائے سے میں اختلاف کرونگا۔ کیونکہ ایسی بات ابن مسعود کے بارے میں درست نہیں کہ انکو اسکے نسخ کا علم نہیں ہو سکا۔ نسخ کے احکامات تو سارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں ہی نازل ہوئے ہونگے بعد میں تو ممکن نہیں۔ ابن مسعود حضرت عمر کے زمانے میں کوفہ چلے گئے تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر کا دور دیکھا ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر کا بھی کچھ دور دیکھا۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں 32 ھجری میں انکی وفات ہوئی۔
    میرے خیال میں اتنے جلیل القدر صحابی کے بارے میں یہ کہنا کہ انکو نسخ کا علم نہیں ہو سکا یہ انکی شان سے بالاتر ہے۔ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ یا تو کسی ایک وقت کا واقعہ ہے جب انہوں نے یہ عمل کیا تھا۔ اور دوسری بات یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس عمل میں دونوں باتوں کو اختیار کرتے تھے۔
  9. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    اگر انہیں معلوم تھا کہ یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے تو یہ آخری دونوں باتیں کیسے ممکن ہیں؟ یعنی کسی وقت عمل کرنا یا دونوں باتوں کو اختیار کرنا؟
  10. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت عبداللہ بن مسعود بڑے فقہاء صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ حضور کے دور سے لے حضرت عمر کے دور میں کچھ عرصہ تک حجاز میں موجود رہے۔ کوئی وجہ تو ہوگی کہ کبار صحابہ نے بھی انکو اس عمل پر منع نہیں کیا اور بعد والوں کے پوچھنے پر انکو بتا دیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحابہ میں اس بارے میں کہ یہ منسوخ ہے یا اس میں اختیار ہے دو رائے ہوں۔
    Last edited: ‏اکتوبر 10, 2017
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    اس پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اس بارے میں دو رائے تھیں۔ البتہ انہیں کبار صحابہ نے منع کیوں نہیں کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کا عمومی عمل ہی نہیں تھا جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیکھتے تو منع کرتے۔ میں نے اوپر اس کی وضاحت کی ہے۔
  12. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ ہے دلیل ابن عثمان کی پوسٹ

    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    Last edited: ‏اکتوبر 11, 2017

اس صفحے کو مشتہر کریں