قبولیت دعاء کے مراتب اربعہ

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 22, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حدیث: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا جو شخص بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے ، بس یا تو اس کو جلدی سے دنیا میں اس کی مراد مل جاتی ہے یا اس دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ بنا دیا جاتا ہے یا جتنی دعا کی ہے اتنے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے ، جب تک وہ گناہ کی یا رشتہ توڑنے کی دعا نہیں کرتا یا وہ جلدی نہیں کرتا ،صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا میں جلدی کیونکر ہوتی ہے ؟ آپ نے فر مایا ایسے کہ وہ یہ کہے میں نے پروردگار سے (بار بار) دعا کی مگر اس نے میری دعا قبول نہیں .
    حدیث مذکور میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں یہ بھی حقیقت میں دعا کا قبول ہونا ہی ہے البتہ ہم نے جو مانگا تھا وہ نہیں ملا ،ا س لئے ہم نے مقبول نہ ہو نے سے تعبیر کیا ،حالانکہ اللہ تعالیٰ مومن کی دعا رد نہیں کرتا بلکہ دنیا وآخرت میں جو بھی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے عطا فر ماتا ہے اور اسکی چار صورتیں ہیں ۔
    (۱)جو دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہو جاتی ہے۔(۲) دعا کے بدلے آخرت میں نیکیاں ذخیرہ کردی جاتی ہیں۔(۳) دعا کے بدلہ گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ۔(۴) کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے۔
    اس امرکی تصریح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے جو مسند احمد ابن حنبل میں ہے ۔ حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا جو مسلمان دعا مانگے اور اس میں کوئی ایسی دعا نہ ہو جس میں گناہ اور رشتے ناطے توڑنے کا ذکر ہو تو خد تعالیٰ دعا مانگنے والے کو ان تین چیزوں میں سے ایک چیز ضرور عطا کر دیتا ہے (۱) یا تو اس کا مقصد جلد پورا کر دیتا ہے (۲) یا اس کی دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ کر دیتا ہے (۳) یا دعا مانگنے والے کی کوئی اس درجہ کی مصیبت دور کر دیتا ہے ( جتنی کہ اس نے دعا میں اپنے نفع کی خواہش کی تھی) صحابہ نے سن کر عرض کیا اب ہم خوب دعا مانگا کریں گے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ،اللہ تعالیٰ کا فضل بہت زیادہ ہے ( اس کے یہاں دینے سے گھاٹا نہیں آتا۔اسی حقیقت کا تذکرہ حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں ہے ۔ حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : زمین پر جو کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو خدا اسکو وہ چیز عطا فر ما دیتا ہے یا اسکے برابر کوئی مصیبت اس سے ٹال دیتا ہے جب تک وہ کسی گناہ یا رشتے ناطے توڑنے کی دعا نہیں مانگتا ،یہ سن کر ایک شخص نے کہا پھر تو ہم خوب مانگا کریں گے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ،اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ دینے والا ہے ۔
  2. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ واقعی مبنی بر حقیقت ارشادات ہیں
    ہم انسان چونکہ بے صبرے ہیں اس لیے جلدی بازی کو ہی ترجیح دیتے ہیں
    اور اگر تاخیر ہوجائے تو اللہ تعلی کو بھی ہم معادف نہیں کرتے
    جبکہ وعدہ ہے کہ دعا ہر حآل میں قبول ہوتی ہے
    اللہ ہمیں صبر کی توفیق نصیب فرمائے
  3. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    واقعی اللہ ہمیں صبر کی توفیق نصیب فرمائے ! آمین
  4. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین

اس صفحے کو مشتہر کریں