قتیل شفائی کی ایک غزل

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از سیف, ‏اپریل 4, 2013۔

  1. سیف

    سیف وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    24
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=center][align=center]کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں

    نہ ہو بلا سے خریدار ، آؤ سچ بولیں


    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر

    یہی ہے موقع اظہار ، آؤ سچ بولیں


    ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا

    بنامِ عظمت کردار ، آؤ سچ بولیں


    سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے

    پکار کر سرِ دربار ، آؤ سچ بولیں


    تمام شہر میں ایک بھی نہیں منصور

    کہیں گے کیا رسن و دار ، آؤ سچ بولیں


    جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش

    اگر ضمیر ہے بیدار ، آؤ سچ بولیں


    چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے

    نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں


    قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا

    کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں​
    [/align][/align]
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے

    نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں


    قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا

    کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں​
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا

    کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں

اس صفحے کو مشتہر کریں