قرآن خوانی

'الغزالی دار الافتاء' میں موضوعات آغاز کردہ از ارشاد احمد غازی, ‏دسمبر 5, 2016۔

  1. ارشاد احمد غازی

    ارشاد احمد غازی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    55
    موصول پسندیدگیاں:
    30
    صنف:
    Male
    السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں
    مساجد کے آئمہ یا مدارس کے طلبہ یا عام انسان کسی کے مرنے کےبعد کبھی بھی مرنے والے کے گھر قران خوانی کریں اس طور پر کہ وہاں جا کر ناشتہ کریں یا کھانے کا وقت ہو تو کھانا کھاویں اور آنے جانے کا کرایہ اور کچھ سو دوسو روپے مرنے والے کے گھر والوں سے لینا یا وہ خود دیں از روئے شریعت کیا جائز ھے اور اس طرح قران خوانی کیا درست ھے مدلل جواب مرحمت فرمائیں
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,522
    موصول پسندیدگیاں:
    721
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مکرمی !
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    فی الحال الغزالی دارالافتا میں کوئی مفتی نہیں ہے اس لئے آپ کے سوال کا جواب فتاویٰ دا رلعلوم دیوبند سے نقل کیا جارہا ہے ۔امید ہے تشفی ہو جائیگی۔
    (1) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اور علمائے محققین قرآن خوانی کے بارے میں ، کیا یہ درست ہے اگر کسی خاص دن کی تعیین نہ کی جائے، قرآن خوانی میں قرآن پڑھاجاتا ہے، اجتماعی دعا کی جاتی ہے اور کھانا بھی پیش کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

    جواب:قرآن پڑھنے والوں کو قرآن پڑھنے کے عوض میں کھانا کھلا دیا گیا تو پڑھنے والوں کو کوئی ثواب نہیں ملا۔ جب پڑھنے والوں کو ثواب نہیں ملا تو کسی دوسرے کو کیوں کر ثواب پہنچا سکتاہے قرآن صرف اللہ کے واسطے پڑھا جائے کسی طرح کا کوئی معاوضہ نہ لیا جائے
    .
    ارشاد احمد غازی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں