قطع تعلقی قرآن و حدیث کی روشنی میں

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏اپریل 16, 2017۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    5,952
    موصول پسندیدگیاں:
    1,532
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جب ہم مل کر رہتے ہیں تو آپس میں ناراضگی اور شکایات ہو ہی جاتی ہے،مگر ان شکوے شکایت کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ ایک دوسرے کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کردینا چاہیے، جو لوگ کسی چھوٹی یا بڑی بات پر قطع تعلقی کرلیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
    اللہ رب العزت نے ہمیں قطع رحمی سے منع فرمایا ہے:
    ”اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہء کہ تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کروگے اور آپس میں قطع رحمی کروگے۔ یہ لوگ ہیں جن پر اللّٰہ تعالی نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا کردیا۔“(القرآن)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَاطِعُ رَحِم
    ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“(بخاری)
    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
    ”اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجیے جس سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔“
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ”اللّٰہ کی عبادت کرو،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،نمازقائم کرو،زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرو۔“
    (بخاری)
    آج کل لوگ دنیاوی معاملات کی وجہ سے ایک دوسرے سے تعلق ختم کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔ شاید انہیں علم نہیں ہوتا کہ قطع تعلقی کی وجہ سے کتنا بڑا نقصان ہے ۔ جیسا کہ شعب الایمان میں ایک روایت ہے کہ:
    ”رحمت اس قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں قاطع رحم ہو۔“
    یہی وجہ تھی کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی ایسی مجلس میں اللّٰہ تعالی سے دعا کرنے پر تیار نہیں ہوتے تھے جس میں قطع تعلقی کرنے والا موجود ہوتا،کیونکہ اس کی وجہ سے رحمت اور دعا کی قبولیت رکنے کا خدشہ ہوتاتھا۔
    حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ ایک دن فجر کی نماز بعد ایک حلقے میں بیٹھے تھے،آپ رضی اللّٰہ عنہ نے لوگوں سے کہا
    ”میں قطع رحمی کرنے والے کو اللّٰہ کی قسم دیتاہوں کہ وہ ہماری مجلس سے اٹھ جائے، کیونکہ ہم اپنے رب سے دعا کرنا چاہتے ہیں اور آسمان کے دروازے قطع تعلقی کرنے والے کے لیے بند ہیں۔“
    (طبرانی)
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کسی مومن سے تین دن سے زیادہ بولنا چھوڑدے،جب تین دن گزر جائیں اور اس سے ملاقات ہوتو اسے سلام کرے،اگر وہ سلام کا جواب دے تو دونوں ثواب میں شریک ہونگے،لیکن اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو سلام کرنے والا ترک تعلق کے گناہ سے بری ہوجائے گا۔“
    (الادب المفرد)
    ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی محفل میں فرمایا
    ”میں ہر قطع تعلقی کرنے والے کو سختی سے کہتاہوں وہ اس محفل سے چلا جائے ۔“ پہلے تو کوئی نہیں اٹھا مگر جب آپ رضی اللّٰہ عنہ نے یہی الفاظ تین دفعہ دہرائے تو ایک نوجوان کھڑا ہوا اور محفل سے چلا گیا۔یہ محفل درس کی محفل تھی ۔ وہ نوجوان شرمندہ تھا کیونکہ اس نے اپنی ایک پھوپھی سے دو سال سے قطع تعلق کیا ہوا تھا۔ وہ نوجوان سیدھا اپنی پھوپھی کے پاس گیا پھوپھی اسے دیکہ کر حیران ہوئی اور پوچھا ”آج کیسے آگئے؟“ نوجوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی تمام بات بتلائی ۔ پھوپھی نے کہا حضرت سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ وہ نوجوان حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کے پاس گیا اور سوال دہرایا۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:
    ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ بنی آدم کے اعمال اللّٰہ تعالی کی بارگاہ میں ہر جمعرات کی شام(شبِ جمعہ) کو پیش کیے جاتے ہیں ۔ اس وقت قطع تعلقی کرنے والے کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔“
    (الادب المفرد)
    اللہ پاک ہم کو اس برے فعل سے بچائے اور صلح رحمی کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں