قنوت نازلہ

'متفرق مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 15, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ وبرکاتہ بھائ
    حضرات گرامی
    ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا مسئلہ یے ہیکہ قنوت نازلہ پڑھنا کہاں سے ثابت ہے اور کیوں پڑھی جاتی ہے
    سائل محمد راحل سہارنپوری

    الجَوَابُ

    حَامِداً وَ مُصَلِّياً وَ مُسَلِّماً

    وَ عَلَيْكُمُ اَلسَّلامُ وَ رَحْمَةُ اَللهِ وَ بَرَكاتُهُ

    قنوت دعا کو کہتے ہیں اور نازلة کے معنی مصیبت کے ہیں ، جب مسلمانوں پر کوئی عام مصیبت آجائے ، مثلا : کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عمومی طور پر ظلم و ستم ہونے لگے ، تو ایسے موقع پر قنوت نازلہ کا پڑھنا صحیح اور معتبر روایات سے ثابت ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ میں ظالموں کے نام لے کر کے بد دعا فرمائی اور مظلوموں کے نام لے کر دعا فرمائی ، بیر معونہ کے موقع پر جب ستر صحابہ کو دھوکہ دے کر شہید کر دیا گیا ، تو اس وقت ایک مہینہ تک مسلسل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی ، قنوتِ نازلہ پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سَمِعَ اللّٰہ ُ لِمَنْ حَمِدَہ کہہ کر ہاتھ اٹھائے بغیر امام کھڑا ہو جائے اور قیام کی حالت میں دعائے قنوت پڑھے اور مقتدی اس کی دعا پر آہستہ آواز سے آمین کہتے رہیں ، پھر دعا سے فارغ ہو کر اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جائیں ، بقیہ نماز امام کی اقتداء میں اپنے معمول کے مطابق ادا کریں ۔

    دعائے قنوت یہ ہے :

    اللّٰهمَّ اھْدِنَا فِیْ مَنْ ھَدَیْتَ ، وَعَافِنَا فِیْ مَنْ عَافَیْتَ ، وَ تَوَلَّنَا فِیْ مَنْ تَوَلَّیَتَ ، وَ بَارِکْ لَنَا فِیْ مَا أَعْطَیْتَ ، وَ قِنَا شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لَا یُقْضیٰ عَلَیْکَ ، اِنَّه لَا یَعِزُّ مَنْ عَافَیْتَ ، وَ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنا وَ تَعالَیْتَ اَللّٰهمَّ اغْفِرْلَنَا وَ لِلْمُوْمِنِیْنَ وَ لِلْمُومِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ ، وَ أَصْلِحْھُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِهِمْ ، وَ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوبِھِمْ وَ اجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَ الْحِکْمَةَ ، وَ ثَبِّتْھُمْ عَلیٰ مِلَّةِ رَسُوْلِکَ ، وَ اَوْزِعْھُمْ أَنْ یَشْکُرُوا نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمتَ عَلَیْھِمْ ، وَ أَنْ یُوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدتَّھُمْ عَلَیْه ، وَ انْصُرْھُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَ عَدُوِّھِمْ ، اِلٰهَ الْحَقِّ ، سُبْحَانَکَ ، لَا إِلَهَ غَیْرُکَ اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِینَ ، وَ الْعَنِ الْکَفَرَةَ وَ الْمُشْرِکِیْنَ ، الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ ، وَ یُقَاتِلُوْنَ أَوْلِیَائَکَ اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیَنَ کَلِمَتِھِمْ ، وَ فَرِّقْ جَمْعَھُمْ ، وَ شَتِّتْ شَمْلَھُمْ ، وَ زَلْزِلْ أَقْدَامَھِمْ ، وَ اَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ ، وَ خُذْھُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ ، وَ أَنْزِلْ بِھِمْ بَأْسَکَ الَّذیْ لَا تَرُدُّہ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ

    ترجمه : یا اللہ ! ہمیں راہ دکھلا اُن لوگوں میں جن کو آپ نے راہ دکھلائی ، اور عافیت دے اُن لوگوں میں جن کو آپ نے عافیت عطا فرمائی، اور کارسازی فرمائیے ہماری ان لوگوں میں جن کے آپ کارسازہیں، اور برکت دے اُس چیز میں جو آپ نے ہم کو عطا فرمائی اور بچا ہم کو اُس چیز کے شر سے جس کو آپ نے مقدر فرمایا؛ کیوں کہ فیصلہ کرنے والے آپ ہی ہیں، آپ کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، بے شک آپ کا دشمن عزت نہیں پاسکتا اور آپ کا دوست ذلیل نہیں ہوسکتا، برکت والے ہیں آپ اے ہمارے پروردگار ! اور بلند و بالا ہیں ۔ یا اللہ ! مغفرت فرما مومن مردوں اور عورتوں کی اور مسلمان مَرد اور مسلمان عورتوں کے گناہ معاف فرما اور اُن کے حالات کی اصلاح فرمااور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے اور اُن کے دلوں میں الفت باہمی اور محبت پیدا کردے اور ان کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے اور ان کو اپنے رسول کے دین پر ثابت قدم فرما، اور توفیق دے انہیں کہ شکر کریں تیری اُس نعمت کا جو تو نے انھیں دی ہے اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرا وہ عہدجو تو نے ان سے لیا ہے ، اور غلبہ عطا کر اُن کو اپنے دشمن پر اور اُن کے دشمن پر اے معبود برحق ! تیری ذات پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ یا اللہ ! مسلم افواج کی مدد فرما اور کفار و مشرکین پر اپنی لعنت فرما جو آپ کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے دوستوں سے مقاتلہ کرتے ہیں ، یا اللہ ! اُن کے آپس میں اختلاف ڈال دے اور اُن کی جماعت کو متفرق کردے اور اُن کی طاقت کو پارہ پارہ کردے اور اُن کے قدم اکھاڑ دے اور اُن کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دے اور اُن کو ایسے عذاب میں پکڑ لے جس میں قوت و قدرت والا پکڑتا ہے اور اُن پر وہ عذاب نازل فرما جس کو آپ مجرم قوموں سے اٹھایا نہیں کرتے ۔

    جواھر الفقه : 2 /: زکریا ، جدید

    ✍ نقَلَهُ الْـ؏ـبْد : مُحمَّد سَلْمان الانْوريْ الایْلُوْلَوِيْ
    Last edited: ‏اکتوبر 15, 2020
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں