قیامت کے دن

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 21, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,884
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    قیامت کے دن​
    سلیمان بن عبد الملک شام سے حج کے لئے مدینہ منورہ گیا تو حضرت ابو حازمؓ سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں جو گفتگو ہوئی اس کا خلاصہ یہ ہے۔
    سلیمان:۔ روزِ قیامت بندوں کی ملاقات پروردگار سے کس صورت میں ہوگی؟
    ابو حازم :۔ اگر بندہ دنیا میں نیکی کر کے گیا تو اس طرح ہو گی جیسے کوئی شخص مدت کے بعد سفر کر کے اپنے گھر واپس پہنچے اور بہت سامان واسباب ساتھ لائے ۔اہلِ خانہ اسکی آمد سے خوش ہوں اور خوب خاطر داری کریں ۔اور اگر وہ بدی کر کے گیا تو اس کا سامنا ایسے ہو گا جیسے کسی کا غلام چوری کر کے بھاگ گیا ہو اور آقا نے اس کی تلاش اور گرفتاری کیلئے پیادے دوڑائے ہوں اور وہ اس کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوںمیں جکڑ کر اور گلے میں طوق ڈال کر آقا کے حضور لائیں وہ اس وقت آقا کے سامنے کتنا شرمسار اور قابلِ نفریں ہوگا !
    سلیمان:۔(آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے ) کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اپنا حال جان لیتا کہ ان صورتوں میں سے کس صورت میں مالک کے سامنے میری پیشی ہو گی !
    ابو حازم:۔ یہ معلوم کرنا تو بالکل آسان ہے قرآن نے اس حقیقت سے پردہ اٹھادیا ہے۔
    سلیمان:۔ کس آیت میں ؟
    ابو حازم::اِنَّ الْا َبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ۔وَاِنْ الْفُجِّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ۔ترجمہ: بے شک نیک لوگ (جنت کی) نعمتوں میں ہوں گے اور بدکار جہنم میں۔
    اب تم خود ہی اپنے اعمال کا جائزہ لے لو کہ آیا تم ابرار میں سے ہو یا فجار میں سے؟
    سلیمان:۔ اگر انجام کاراعمال پر منحصر ہے تو پھر رحمت کیا ہوئی؟
    ابو حازم:۔یہ بات بھی قرآن مجید سے پو چھ لو ۔
    سلیمان:۔کس آیت سے؟
    ابو حازم:۔ اِنَّ رَحْمَت َ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ۔ترجمہ:یقیناً اللہ کی رحمت احسان کیش لوگوں کے قریب ہے۔
    سلیمان:۔ (خوف کی حالت میں روتے ہوئے بے حال ہو کر اٹھتا ہے ار کہتا ہے ) تمہاری اس قسم کی باتیں سننے میں مجھ میں تاب نہیں۔میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے ۔
    مولانانورالحسن انور نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں