لفظ محبت

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از مولانانورالحسن انور, ‏فروری 16, 2013۔

  1. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
    سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

    یہ کِس کا تصوّر ہے، یہ کِس کا فسانہ ہے؟
    جو اشک ہے آنکھوں میں، تسبیح کا دانہ ہے

    دل سنگِ ملامت کا ہرچند نشانہ ہے
    دل پھر بھی مرا دل ہے، دل ہی تو زمانہ ہے

    ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہے
    رونے کو نہیں کوئی، ہنسنے کو زمانہ ہے

    وہ اور وفا دشمن، مانیں گے نہ مانا ہے
    سب دل کی شرارت ہے، آنکھوں کا بہانہ ہے

    شاعرہوں میں شاعر ہوں، میرا ہی زمانہ ہے
    فطرت مرا آئینہ، قدرت مرا شانہ ہے

    جو اُن پہ گزرتی ہے، کس نے اُسے جانا ہے؟
    اپنی ہی مصیبت ہے، اپنا ہی فسانہ ہے

    آغازِ محبت ہے، آنا ہے نہ جانا ہے
    اشکوں کی حکومت ہے، آہوں کا زمانہ ہے

    آنکھوں میں نمی سی ہے چُپ چُپ سے وہ بیٹھے ہیں
    نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانہ ہے

    ہم درد بدل نالاں، وہ دست بدل حیراں
    اے عشق تو کیا ظالم، تیرا ہی زمانہ ہے

    یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا اُن سے
    کل اُن کا زمانہ تھا، آج اپنا زمانہ ہے

    اے عشق جنوں پیشہ! ہاں عشق جنوں پیشہ
    آج ایک ستمگر کو ہنس ہنس کے رُلانا ہے

    تھوڑی سی اجازت بھی، اے بزم گہہ ہستی
    آ نکلے ہیں، دم بھر کو رونا ہے، رُلانا ہے

    یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

    خود حسن وشباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا
    جب دیکھئے، تب وہ ہیں، آئینہ ہے، شانا ہے

    ہم عشقِ مجسّم ہیں، لب تشنہ ومستسقی
    دریا سے طلب کیسی، دریا کو رُلانا ہے

    تصویر کے دو رُخ ہیں جاں اور غمِ جاناں
    اک نقش چھپانا ہے، اک نقش دِکھانا ہے

    یہ حُسن وجمال اُن کا، یہ عشق وشباب اپنا
    جینے کی تمنّا ہے، مرنے کا زمانہ ہے

    مجھ کو اسی دُھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا
    اب آئے، وہ اب آئے، لازم اُنہیں آنا ہے

    خوداری و محرومی، محرومی و خوداری
    اب دل کو خدا رکھے، اب دل کا زمانہ ہے

    اشکوں کے تبسّم میں، آہوں کے ترنّم میں
    معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے

    آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن
    بندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانا ہے

    جگرمرادآبادی​
    بنت عبد الحميد نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  3. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    تلک الایام ندالہابین الناس :
  4. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,291
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
  5. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب کلام شیئر کیا۔۔۔ !

اس صفحے کو مشتہر کریں