ماہ شعبان المعظم کی ناجائز رسوم اور بدعات و منکرات

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏اپریل 20, 2019۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,259
    موصول پسندیدگیاں:
    1,702
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماہ شعبان المعظم کی ناجائز رسوم اور بدعات و منکرات

    از فقیہ الامت مولانا مفتی سید عبدالکریم گمتھلوی ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ

    منکراتِ ماہ ہذا:
    اس شبِ مبارک میں صرف دوتین باتیں ثابت ہیں ، عبادت کرنا اور قبرستان میں جاکردعائے مغفرت کرنا۔اس کے علاوہ شریعت میں کچھ واردنہیں ہوا، حتیٰ کہ اس رات کوایصالِ ثواب وغیرہ کی بھی کوئی اصل نہیں ۔اگر مفصل دلائل مطلوب ہوں تو ’’ترجیح الراحج‘‘ حصہ سوم، فصل سوم ضرورقابل ملاحظہ ہے ۔مگرجاہل لوگوں نے عبادت کی جگہ بہت سی بے ہودہ رسمیں ایجاد کر رکھی ہیں جن کو سیدی مرشدی حضرت حکیم الامت مولاناتھا نوی دامت برکاتہم نے ’’إصلاح الرسوم ‘‘میں بخوبی بیان فرمایاہے ۔لہٰذا بعینہٖ’’ إصلاح الرسوم‘‘ کی عبارت درج ذیل ہے :
    شب براء ت میں حدیث شریف سے اس قدرثابت ہے کہ حضور ﷺ بحکم حق تعالیٰ جنت البقیع میں تشریف لے گئے اور اموات کے لیے استغفار فرمایا ۔اس سے آگے سب ایجاد ہے جس میں مفاسدِ کثیرہ پیداہوگئے ہیں:
    ۱۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضورسرورِعالم ﷺ کا دندانِ مبارک جب شہیدہوا تھا آپﷺ نے حلوہ نوش فرمایاتھا۔ یہ بالکل موضوع اور غلط قصہ ہے، اس کااعتقاد کرناہرگز جائز نہیں بلکہ عقلاًبھی ممکن نہیں ہے، اس لیے کہ یہ واقعہ شوال میں ہوانہ کہ شعبان میں ۔
    ۲۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت امیرحمزہؓ کی شہادت ان دنوںمیں ہوئی ہے، یہ اُن کی فاتحہ ہے۔ یہ بھی محض بے اصل ہے اور اوّل توتعیّنِ تاریخ کی ضرورت نہیں، دوسرے خودیہ واقعہ بھی غلط ہے ۔آپ کی شہادت بھی شوال میں ہوئی تھی، شعبان میں نہیں ہوئی ۔
    ۳۔ بعض لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ شبِ براء ت وغیرہ میں مُردوں کی روحیںگھروں میں آتی ہیں اوردیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لیے کچھ پکایا یانہیں ۔ظاہر ہے کہ ایساامر مخفی بجز دلیلِ نقلی کے اور کسی طرح ثابت نہیںہوسکتا اور وہ یہاں نداردہے ۔
    ۴۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب شبِ براء ت سے پہلے کوئی مرجاوے تو جب تک اس کے لیے فاتحہ شبِ براء ت نہ کیا جاوے وہ مُردوں میں شامل نہیں ہوتا۔یہ بھی محض تصنیف یاراںاور بالکل لغوہے، بلکہ رواج ہے کہ اگر تہوار سے پہلے کوئی مرجاوے توکنبہ بھر میں پہلا تہوار نہیں ہوتا۔ حدیثوں میں صاف مذکورہے کہ جب مُردہ مرتاہے ،مرتے ہی اپنے جیسے لوگوں میں جا پہنچتاہے ،یہ نہیں کہ شبِ براء ت تک اٹکا رہتاہے۔
    ۵۔ حلوے کی ایسی پابندی ہے کہ بدوں اس کے سمجھتے ہیں کہ شب براء ت ہی نہیں ہوئی۔ اس پابندی میں اکثرفسادِ عقیدہ بھی ہوجاتاہے کہ اس کو مؤکدضروری سمجھنے لگتے ہیں، فسادِعمل بھی ہوجاتاہے، فرائض وواجبات سے زیادہ اس کااہتمام کرنے لگتے ہیں اور ان دونوں کامعصیت ہونافصل اوّل میں بالتشریح مذکورہوچکاہے۔
    ان خرابیوں کے علاوہ تجربہ سے ایک اور خرابی ثابت ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ نیت بھی فاسد ہوجاتی ہے، ثواب وغیرہ کچھ مقصود نہیں رہتاہے، خیال ہوجاتاہے کہ اگراب کے نہ کیا تولوگ کہیں گے کہ اب کی خست اور ناداری نے گھیر لیاہے ۔اس الزام کو رفع کرنے کے لیے جس طرح بن پڑتاہے مر مار کر کرتاہے۔ ایسی نیت سے صَرف کرنامحض اسراف وتفاخرہے جس کاگناہ ہونا بارہا مذکور ہوچکا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ اس کے لیے قرض سودی لینا پڑتا ہے، یہ جداگناہ ہے ۔
    ۶۔جولوگ مستحقِ اعانت ہیں ان کو کوئی بھی نہیں دیتا یا ادنیٰ درجہ کا پکا کر ان کو دیا جاتا ہے، اکثر اہلِ ثروت و برادری کے لوگوں کوبطورِمعاوضہ کے دیتے لیتے ہیں اور نیت اس میں یہی ہوتی ہے کہ فلاں شخص نے ہمارے یہاں بھیجاہے اگر ہم نہ بھجیں گے تو وہ کیا کہے گا۔ غرض اس میں بھی ریا وتفاخر ہوجاتا ہے۔
    ۷۔ بعض لوگ اس تاریخ میں مسور کی دال ضرور پکاتے ہیں ، اس ایجاد کی وجہ آج تک معلوم نہیں ہوئی ،لیکن اس قدر ظاہر ہے کہ مؤکد سمجھنا بلاشک معصیت ہے۔ یہ تو کھانے پکانے میں مفاسدایجاد کرتے ہیں، ان کے علاوہ آتش بازی کی رسم اس شب میں شایع ہے ۔اس کی نسبت بابِ اوّل میں بیان ہوچکاہے حاجتِ اِعادہ نہیں ۔تیسرے زیادتی اس میں یہ کی گئی ہے کہ بعض لوگ شب بیداری کے لیے فرائض سے زیادہ اس میں لوگوں کو جمع کرنے کااہتمام کرتے ہیں، ہر چند کہ اجتماع سے شب بیداری سہل تو ہوجاتی ہے مگر نفلی عبادت کے لیے لوگوں کو ایسے اہتمام سے بلانا اور جمع کرنا یہ خود خلافِ شریعت ہے جیسا کہ اسی باب کی فصلِ اوّل میں بیان ہوچکا ہے۔ البتہ اتفاقاً کچھ لوگ جمع ہوگئے اس کا مضایقہ نہیں ۔
    ۸۔بعض لوگوں نے اس میں برتنوں کابدلنا اور گھر لیپنا اور خود اس شب میں چراغوں کازیادہ روشن کرنا عادت کرلی ہے۔ یہ رسم بالکل کفارکی نقل ہے اور حدیثِ تشبہ سے حرام ہے۔
    چوںکہ حضرت والاآتش بازی کابیان بابِ اوّل کی فصل سوم میں تحریر فرماچکے ہیں اس واسطے دوبارہ اس کو تحریر کرنے کی حاجت نہ تھی مگر اس جگہ تتمیمِ فائدہ کی غرض سے اس رسم کے رد کو ضروری سمجھ کر ’’ما ثبت بالسنۃ‘‘سے کچھ مضمون لکھاجاتا ہے جو خاص طور پر حضرت شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی ؒ مؤلفِ ’’ ما ثبت بالسنۃ‘‘ نے شب ِبراء ت میں آتش بازی کا بے ہودہ مشغلہ کرنے والوں کے متعلق تحریر فرمایا ہے۔ وہو ہٰذا:
    اور بدعتِ شنیعہ میں سے وہ رسم ہے جس کا اکثر بلادِہندمیں لوگوں نے رواج دے رکھاہے ،یعنی چراغ جلانااور ان کو مکانوں اور دیواروں پر رکھنا اور اس پرفخر کرنا اور آتش بازی کے ساتھ لہو و لعب کے لیے جمع ہونا۔کیوںکہ یہ وہ امرہے جس کی معتبر کتابوں میں کوئی اصل نہیں بلکہ غیر معتبر کتابوں میں بھی نہیں، اور کوئی ضعیف اور موضوع روایت تک بھی اس کے بارے میں وارد نہیں ہوئی اور نہ اس کا بلادِہندکے سوا کسی ملک میں رواج، نہ حرمین شریفین میں(زادہما اللّٰہ تعالٰی تعظیمًا وتشریفًا) اور نہ ان کے سوا عرب کے دیگر حصص میں اور نہ بلا دِ عجم میں، سوائے ہندوستان کے، بلکہ ممکن ہے اور یہی ظنِ غالب ہے کہ ہندوئوں کی رسم دیوالی سے اس رسم کولیاگیا ہے کیونکہ ہندوستان میں عموماً رسومِ بدعیہ زمانۂ کفرہی کی باقی ہیں اور مسلمانوں میں (کفار کے ساتھ )میل جول کرنے اور کفار (کی نسل )میں سے باندیاں اور بیویاں رکھنے کے سبب پھیل گئی ہیں۔
    بعض علمائے متأخرین نے فرمایا ہے کہ خاص خاص راتوں میں بکثرت چراغ جلانے کارواج بدعاتِ شنیعہ سے ہے ۔ کیوںکہ حاجت سے زیادہ چراغ جلانے کے رواج میں کسی موقع پربھی کوئی اثرِ شرعی منقول نہیں۔ اور علی بن ابراہیم نے کہا ہے کہ روشنی کی بدعتِ اوّل برامکَہ سے شروع ہوئی، وہ لوگ آتش پرست تھے۔ پس جب مسلمان ہوئے توانھوں نے اسلام میں وہ بات داخل کرلی جس کو اپنی ملمع سازی سے اسلامی طریقہ قراردے دیا اور (اس سے )ان کی اصل غرض صرف آتش پرستی تھی۔ جب کہ مسلمانوں کے ساتھ ان چراغوں کی طرف سجدہ کرتے تھے، یعنی مسجد میں صف سے آگے چراغ ہوں گے توآتش پرستی بھی ہوجاوے گی، (نعوذباللہ) مسلمان ہوکر بھی شرک کاروگ دلوں میں رہا اور پھر اس کو جاہل اماموں نے صلوٰۃِ غائب وغیرہ کی طرح عوام کو جمع کرنے کا اور ریاست و وجاہت حاصل ہونے کاجال بنالیا اور قصہ خوانوں نے اپنی مجلسوں کواس کے ذکرسے پُر کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ائمۂ ہدیٰ کو ایسے منکرات دور کرنے کے لیے کھڑاکیا تو وہ مٹ گئے۔ اور آٹھویں صدی کے شروع میں بلادِمصروشام سے بالکل اٹھ گئے۔

    فائدہ: اس تحقیق سے معلوم ہواکہ روشنی اور آتش بازی کی رسمِ قبیح، اسرافِ بے جاوغیرہ کی وجہ سے سخت حرام ہونے کے علاوہ رسومِ شرکیہ میں سے ہے، اور جوشخص رسومِ شرکیہ کا ارتکاب کرلے اس کے متعلق بموجب ِحدیث مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ سخت اندیشہ ہے کہ ان مشرکین کے ساتھ اس کا حشرہو جنھوں نے یہ رسومِ شرکیہ جاری کی تھیں۔
    کیا اب بھی لوگ ان خرافات سے بازنہ آئیں گے؟ حق تعالیٰ تمام رسومِ بدعیہ و شرکیہ کو دنیا سے جلدمٹادے اور اسلامی سنت کو جاری فرمادے۔ آمین ثم آمین....

    الفضائل و الاحکام للشھور و الایام المعروف بارہ مہینوں کے فضائل و احکام . ص31 تا 34​

اس صفحے کو مشتہر کریں