ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید

'افکارِ قاسمی شمارہ 7 جون 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏جون 3, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    درس قرآن
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد قاسمی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    <P style="font-family:Trade Arabic Unicode Bold;"> ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید </P>
    اور کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگراں مقررہے۔
    یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگراں فر شتہ محفوظ نہ کر لیتا ہو ، حضرت حسن بصریؒ اور قتادہ نے فر مایا یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں ، خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو ، حضرت ابن عباس ؒ نے فر مایا کہ صرف وہ کلمات لکھے جاتے ہیں جن پر کوئی ثواب یا عتاب ہو ،ابن کثیرنے ؒ یہ دونوں قول نقل کر نے کے بعد فر مایا کہ آیت قرآن کے عموم سے پہلی ہی کی ترجیح معلوم ہوتی ہے ، کہ ہر ہر لفظ لکھا جاتا ہے پھر علی بن ابی طلحہ کی ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فر مائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہو جاتے ہیں اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے ، خواہ گناہ وثواب اس میں ہو یا نہ ہو ، مگر ہفتہ میں جمعرات کے روز اس پر فرشتے نظر ثانی کرکے صرف وہ رکھ لیتے ہیں جن میں ثواب یا عتاب ہو یعنی خیر یا شر ہو، باقی کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
    امام احمد نے حضرت بلال بن حارث مزنی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ ! " انسان بعض اوقات کوئی کلمہ خیر بو لتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ، مگر یہ اس کو معمولی بات سمجھ کر بو لتا ہے ،اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہونچا ،کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنی رضائے دائمی قیامت تک لکھ دیتے ہیں اس طرح انسان کوئی کلمہ اللہ کی ناراضی کا ( معمولی سمجھ کر ) زبان سے نکال دیتا ہے اس کو گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ ووبال کہاں تک پہونچے گا ،اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضی قیامت تک کے لئے لکھ دیتے ہیں (ابن کثیر )
    تفسیر مدارک میں اس آیت کے تحت تین قول مر قوم ہیں(۱) وہ ہر چیز لکھتے ہیں یہاں تک مرض کی انین بھی (۲) کہ وہ بات لکھتے ہیں جس میں اجر یا گناہ ہو تا ہے (۳) فرشتے اس سے الگ نہیں ہوتے سوائے دو حالتوں کے ۔ (۱) پیشاب (۲) پا خانہ ۔
    تفسیر درمنثور میں ہے امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت حذیفہ بن یمان سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ کلام کے دروازے ہیں جب ان سے نکل آئے تو لکھ دی جاتی ہے اور جب تک باہر نہ نکلے وہ نہیں لکھی جاتی ۔بول ،حلق کا کوا ۔ اور دو جبڑے اور اور دو ہونٹ ۔امام منذر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے یہ قول بیان کیا ہے کہ ابن آدم (انسان) جو بات بھی کرتا ہے وہ لکھ دی جاتی ہے ۔حتی کہ اس کا اپنی بیماری کی حالت میں کراہنا بھی ( لکھ دیا جاتا ہے)امام ابن شیبہ امام احمد نے الزہد میں اور حکیم ترمذی رحمہم اللہ نے حضرت عمر بن ذرسے اور انہوں نے اپنے باپ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا : بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر بات کر نے والے کی زبان کے پاس ہے ۔ لہذا بندے کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے اور جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اس میں خوب غور وفکر کر لینا چاہئے ۔
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں