مثبت خبریں بھی پھیلائیں ۔۔ میڈیا کی ذمہ داری

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نورمحمد, ‏دسمبر 22, 2011۔

  1. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,110
    موصول پسندیدگیاں:
    336
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    “میں بہت تیزی سے اسکوٹر چلا رہا تھا کہ اچانک سامنے ایک بچی آگئی۔ بچاتے بچاتے بھی بچی اسکوٹر سے ٹکرا گئی۔ جب میں نے پاس آکر دیکھا تو بچی کے سر سے خون نکل رہا تھا۔ میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر بچی کو اٹھا یا اور ہسپتال کی طرف بھاگا”۔
    حجام روانی سے ساتھ یہ قصہ اپنے ساتھی کو سنا رہا تھا اور میں بھی اس کی باتیں دلچسپی سے سن رہا تھا۔ حجام نے اپنی بات جاری رکھی۔
    “ہم دونوں بچی کو لے کر ہسپتال میں گئے اور اسے ٹریٹمنٹ دلوائی۔اب مسئلہ یہ تھا کہ بچی کو کس طرح اس کے گھر والوں تک پہنچایا جائے۔چنانچہ میں نے اپنی امی کو فون کرکے بلایا اور اس محلے میں بھیجا جہاں یہ ایکسڈنٹ ہوا تھا ۔میری ماں نے گھر گھر جاکر بچی کے متعلق پوچھا۔بالآخر ایک گھر سے جواب آیا کہ وہ بچی ان کی ہے۔ اس طرح وہ بچی اپنے ماں باپ تک پہنچادی گئی”۔
    حجام نے اپنی گفتگو ختم کی۔میں نے اس سے دریافت کیا
    “تم چاہتے تو بھاگ بھی سکتے تھے”۔
    “ہاں۔ کیوں کہ لوگ اکثر مارنے پیٹنے پر اتر آتے ہیں۔ حالانکہ میری غلطی نہیں تھی لیکن پھر بھی لوگ مجھے ہی قصور وار سمجھتے۔ اس رسک کے باوجود میں نہیں بھاگا کیونکہ اس طرح ایک بچی کی جان جاسکتی تھی”۔ حجام نے جواب دیا۔
    میں سوچنے لگا کہ اگر یہ خبر کسی اخبار کے رپورٹر کو بتاِئی جائے یا ٹی و ی چینل والوں کو دی جائے تو وہ اس کی اشاعت نہیں کریں گے کیونکہ یہ ان کے طے شدہ خبر کے میعار پر پوری نہیں اترتی۔ ان کی خبر کا میعار اکثر منفی امور کو ہی خبر گردانتا ہے۔ چنانچہ باپ کا اپنی بیٹی کو قتل کردینا، عورت کا آشنا کے ساتھ فرار، بیوی کا شوہر کو ہلاک کرکے اسکا گوشت فرج میں رکھ دینا، قبر ستان کے مالی کا مردہ نعشوں کے ساتھ بد فعلی کرنا، فائرنگ سے ہلاکت، جلاؤ ، گھیراؤ یا ایکسڈنٹ میں مارے جانے جیسے معاملات کو خبر گردانا جاتا ہے۔ دوسری طرف کسی انسان کا دوسرے کی مدد کرنا، باپ کا اپنے بچوں کی خاطر دن رات محنت کرنا، کسی کی جان بچادینا وغیرہ خبر نہیں سمجھے جاتے۔ چنانچہ جب ٹی وی اور اخبارات میں قتل و غار ت گری اور چوری ڈکیتی کی خبریں دن و رات نشر ہوتی ہیں تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ اسی شر کےگرداب میں پھنسا ہوا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ روزانہ ہزاروں گاڑیاں ایکسڈنٹ سے محفوظ رہتی ہیں، لاکھوں لوگ زندہ اپنے گھروں کو محفوظ لوٹتے ، بے شما ر افراد لٹنے سے بچ جاتے اور لاتعداد لوگ اپنے بچوں کے لئے قربانیاں دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن میڈیا یہ پہلو سوسائٹی کو دکھانا نہیں چاہتا کیونکہ اس میں سنسنی نہیں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جائے جو یقینی طور پر زیادہ حاوی اور مؤثر ہے۔

    از پروفیسر محمد عقیل
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت عمدہ اور مفید پوسٹ ہے ۔۔ ۔ ۔۔۔۔ شکریہ
  3. رجاء

    رجاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,198
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  4. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    بہترین تحریر پر آپ کا شکریہ
  5. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ای فتاوی ٹیم ممبر رکن

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=justify]درست کہا آپ نے جناب میں اتنا اور زیادہ کرونگا کہ یہ سوچ آج کی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے آپ ذرا غور کریں کہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ کتنا زبردست ہے کہ انھوں نے اپنا حق چھوڑدیا تاکہ امت ميں جاری لمبی جنگ کا خاتمہ ہو اور ایسا ہی ہوا بھی کہ آپ کے اقتدار سے علیحدگی کے اعلان کرتے ہی خانہ جنگی ختم ہوگئی ، لوگوں نے آپ کو بزدل کہا،چند ٹکوں کے عوض بکنے والا کہا،اپنے نانا کی گدی کو بیچنے والا کہا (نعوذ باللہ) سب کچھ سنا ، سب کچھ برداشت کیامگر امت کو بکھرنے سے بچایا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا کارنامہ بھی کم نہیں لیکن امت کے فائدے اور دل پر جبر اور ذہنی تکلیف کے اعتبار سے یہ کارنامہ اس سے بھی اعلی ارفع اور بے مثال ہے، لیکن اس کا کوئی نوٹس نہیں، کوئی ذکر خیر نہیں ، جو لوگ مشاجرات صحابہ کا رونا روتے نہیں تھکتے ،جنھوں نے ان مشاجرات کے نقصانات کی تفصیلات پر کتب خانے بھر ڈالے ہیں ان "فکر مندوں" نے بھی اس پیکر امن کو اس قابل نہیں گردانا کہ اس کے اس کردار کو امت کے سامنے آئیڈیل بناکر پبش کرتے اور امت کو اس واقعے سے ہونے والے فوائد کی تفصیلات بتاتے ،اس کارنامہ کو انجام دینے میں امام کو کیا کیا "زہر" تمام حیات پینا پڑا ہوگا اس کی جزئیات سے آگاہ کرتے مگر آہ آج عالم یہ کہ امت کے اس محسن کا نام بھی حضرت حسین کا بھائی ہونے کی وجہ سے لے لیا جاتاہے ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حد تو یہ کہ آپ کی زندگی پر کوئی مستقل کتاب تک نہیں، جب کہ کربلا کے واقعات کا یہ عالم ہے کہ اگر آپ کسی مشہور مزار سے گذر بھی جائیں تو ایک آدھ قوالی تو کان میں پڑ ہی جائیگی - یہ اسی منفی امور کی تشہیر کی بنا پر ہے۔
    [/align]
  6. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    میڈیا مثبت کم اور منفی کام زیادہ کرتا ہے ۔ ۔اس کی تازہ مثال سہراب گوٹھ کراچی کا معاملہ ہے کہ میڈیا نے کس طرح مدارس دینیہ کی کردار کشی کی ۔ ۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی
  7. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مظاہری بھائی ۔ ۔ اگر وہ اس کا ذکر کر دیں تو پھر انہیں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو حدیث ہے جس میں اس صلح کی پشینگوئی ہے وہ بھی ذکر کرنی پڑے گی ۔ ۔ اگر حدیث ذکر ہو گئی تو سیدنا امیر معاویہ ؛رضی اللہ عنہ کے ایمان کا سرٹفکیٹ بھی ذکر کرنا پڑے گا ۔ ۔ اگر وہ ایسا کرین گے تو پھر ا ن کے جھوٹے مذہب کی عمارت زمین بوس ہو جائے گی ۔ ۔

    ویسے مجھے بھی دکھ ہوتا ہے کہ اہلسنت میں بھی ان کا ذکر کم ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
  8. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بھائی خبر تو یہ ہوتی ہے کہ کتا انسان کو نہیں انسان کتے کو کاٹ لے۔
  9. مظاہری

    مظاہری نگران ای فتاوی ای فتاوی ٹیم ممبر رکن

    پیغامات:
    211
    موصول پسندیدگیاں:
    202
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    میں نے اپنے پیغام میں اہل سنت کے ہی عمل کا رونا رویا ہے نور بھائی شیعوں کو تو بھول جائیے کہ ان کے نا پاک ارادے تو جگ ظاہر ہو چکے

اس صفحے کو مشتہر کریں