مجھے فراموش مت کرنا

'سیرت سلف صالحین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏جنوری 20, 2017۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,276
    موصول پسندیدگیاں:
    1,706
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مجھے فراموش مت کرنا
    .​
    ( حضرت مولانا قاری محمد طیب علیہ الرحمہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنے والد محترم حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور قرآن مجید سے متعلق ایک نہایت بصیرت افروز اور سبق آموز واقعہ...ہم اس واقعہ کو قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ میں تلخیص کے ساتھ پیش کررہے ہیں.)
    مولانا لکھتے ہیں :​
    ” میرے والد ماجد نے وفات سے تقریبا پندرہ بیس دن قبل مجھے دارالعلوم دیوبند کے دارالمشورہ میں خلوت میں طلب فرمایا، میں حسب الحکم حاضر ہوا...
    مجھے دیکھتے ہی غیر معمولی طور پر آبدیدہ ہوگئے حتی کے وفورِگریہ کی وجہ سے چند منٹ تک بات بھی نہ کرسکے.... مجھے یہ پریشانی ہو ئی کہ کہیں مجھ سے تو کوئی ناگواری پیش نہیں آئی....
    میں نے اس کا ذکر کیا تو فرمایا نہیں بلکہ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور بہت تھوڑا وقفہ باقی رہ گیا ہے، مجھے اس وقت یہ واقعہ سنانا ہے کہ جب میں قرآن کاحافظ ہوچکا تو حضرت والدماجد رحمۃ اللہ علیہ (حضرت محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ بانی دارالعلوم دیوبند بے حد مسرورتھے....
    ختم قرآن کی خوشی میں شہر کے عمائد اور اعزہ و احباب کے ایک بڑے مجمع کی لمبی چوڑی دعوت کی، تقریب سے فارغ ہوکر مجھے خلوت میں اسی طرح طلب کرکے فرمایا :
    میاں احمد! خدا کاشکر ہے کہ تم حافظ ہوگئے... وقت آئے گا تم عالم بھی ہو گے... تمھاری عزت بھی ہو گی، ملک میں تمہاری شہرت بھی ہو گی اور تمہیں دولت بھی میسرآئے گی لیکن یہ سب چیزیں تمہارے لئے ہوں گی...
    قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے” مجھے فراموش نہ کرنا “... فرمایا کہ وہ وقت ہے اور آج کا دن ہے، میرا یہ دوامی عمل ہے کہ میں ہمیشہ دوپارے یومیہ حضرت قبلہ والد صاحب کوایصال ثواب کی نیت سے پڑھتاہوں، جوالحمد للہ آج تک ناغہ نہیں ہوئے.... “
    مولانا لکھتے ہیں :
    یہ واقعہ سنا کر مجھ سے فرمایا کہ طیب! الحمدللہ تم حافظ وعالم ہو چکے ہو، وقت آئے گا تمہاری عزت بھی ہو گی، شہرت بھی ہو گی اور حق تعالی تمہیں دولت بھی بہت کچھ عطا فرمائے گا لیکن یہ سب کچھ تمہارے لئے ہو گا....​
    یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے...
    ” مجھے فراموش مت کرنا“​
    چنانچہ حضرت قبلہ والد صاحب کی وفات کے بعد آنے والے مہینے کی پہلی ہی تاریخ سے میں نے حضرت کی نصیحت بلکہ وصیت کے مطابق مغرب کے بعد اوابین میں ایک پارہ یومیہ پڑھنے اور حضرت مرحوم کو ایصال ثواب کرنے کا معمول بنا لیا ہے جو الحمدللہ آج تک جاری ہے....!!
    (چراغ راہ از مولانا محمد رضوان القاسمی )
    محترم قارئین !​
    حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم اور اپنے دادا جان کے جس طرز عمل اور قرآن مجید سے والہانہ محبت وشغف اور تعلق وشوق کو بیان کیا ہے اس میں ہمارے اور آپ سب کے لئے عبرت اور نصیحت کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں....
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 20, 2017
    اشماریہ اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں