محبت اہم یا والدین؟

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از syed sadiq qadri, ‏فروری 11, 2017۔

  1. syed sadiq qadri

    syed sadiq qadri حکیم سید صادق قادری رکن

    پیغامات:
    12
    موصول پسندیدگیاں:
    12
    صنف:
    Male
    جگہ:
    پاکستان
    محبت اہم یا والدین
    *
    حضرت علقمہ رضیﷲعنہ کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان پر حالت نزع طاری ہوئی تو دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان ان کو کلمہ شہادت کی تلقین کرنے آئے۔لیکن ان کی زبان اسے ادا نہیں کرپارہی تھی تو نبی پاک صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ان کی والدہ کو بلاکر ان کا حال دریافت فرمایا تو ان کی والدہ نے کہا "وہ بہت زیادہ نماز پڑھنے والا ,روزے رکھنے والا اور صدقہ دینے والا تھا ۔"مزید کہا کہ "میں اس سے ناراض ہوں"وجہ پوچھی گئی تو وہ کہنے لگیں "وہ اپنی بیوی کو مجھ پر ترجیح دیتا تھا اور میری نافرمانی کرتا تھا۔"
    تو رسولﷲ صلیﷲعلیہ وآلہ رسلم نے فرمایا"علقمہ کی ماں کی ناراضگی نے اس کی زبان کو کلمہ شہادت پڑھنے سے روک دیا ہے۔"پھر نبی پاک صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ان کی والدہ محترمہ کو سمجھایا تو انہوں نے حضرت علقمہ کو معاف کردیا۔تو حضرت علقمہ رضیﷲعنہ کی زبان سے کلمہ شہادت جاری ہوگیا۔اور حضرت علقمہ کا وصال ہوگیا۔
    نبی پاک صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ان کی قبر کے کنارے کھڑے ہوکر فرمایا"اے مہاجرین و انصار ۔جس نے اپنی بیوی کو اپنی ماں پر فضیلت دی اس پر اللہ عزوجل,فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔اللہ اس کے نہ نفل قبول فرمائے گا نہ ہی فرض مگر یہ کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرئے اور اپنی ماں سے حسن سلوک کرئے اور اس کی رضا چاہے ۔اللہ کی رضامندی ماں کی رضامندی میں ہے اور اللہ کی ناراضی ماں کی ناراضی میں ہے۔"
    (الزواجر عن اقتراف الکبائر جلد 2)
    جب بیوی جیسے مقدس رشتہ کو ماں پر ترجیح دینا اتنا بڑا گناہ ہے تو جو لوگ اپنی نام نہاد محبت کو اپنے والدین پر ترجیح دیتے ۔ان کی وجہ سے والدین کو دھوکا دیتے,ان کی وجہ سے والدین کی نافرمانی کرتے ان کا گناہ کتنا عظیم ہوگا۔
    *
    حضرت ابن عمر رضیﷲعنہ نے فرمایا"ایک عورت میرے نکاح میں تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا۔حضرت عمر رضیﷲعنہ (ان کے والد) اسے ناپسند کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے فرمایا "اسے طلاق دے دو"تو میں نے انکار کیا ۔حضرت عمر رضیﷲعنہ نے اس بات کا ذکر رسولﷲ صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم سے فرمایا تو نبی پاک صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے فرمایا"اسے طلاق دے دو"
    (سنن ابو داؤد جلد3 حدیث نمبر 1697)
    اگر محبت والدین سے اہم ہوتی تو رسولﷲ صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم ہرگز طلاق دینے کا نہ کہتے.یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے فی زمانہ طلاق کو عیب سمجھا جاتا ہے اور بلاوجہ شرعی طلاق دینا ظلم ہے لہذا اس روایت کو پڑھ کر ہرگز یہ مطلب نہ نکالیں کہ ذرا سی گھریلو لڑائی جھگڑے میں ماں باپ کے کہنے پر بیوی کو طلاق دے دی جائے بلکہ حتی الامکان مرد کو اس فعل سے بچنا چاہیئے کہ
    حلال چیزوں میں سب سے ناپسند اللہ کو طلاق دینا ہے۔
    *
    فرمان مصطفی صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم
    "اپنے والدین کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہیں مال اور تمہاری ہر چیز سے محروم کردیں۔
    (المعجم الاوسط جلد6 حدیث نمبر 7956)
    معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت محبت سے زیادہ اہم ہے۔
    اللہ پاک ہمیں والدین کی اطاعت کو ہر حال میں مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
    تحریر=سید صادق
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں