محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

'حیاۃ الصحابہ' میں موضوعات آغاز کردہ از Islamic Student, ‏اگست 17, 2018۔

  1. Islamic Student

    Islamic Student وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    بسم اللہ الرحمٰن الرحمٰن الرحیم
    الصلوٰۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،کہ
    أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَوَلَدِہِ:یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، تم میں کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور بیٹے سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔
    (رقم الحدیث13۔جزء1۔صفحہ23۔مکتبۃالشاملۃ)
    مذکورہ حدیث کریمہ میں رسول کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی ہے، قسم کھا کرفرمائی ہے تاکہ امت کے سامنے بات کی پختگی واضح ہو کر ان کے دل کی گہرائی میں اتر جائے۔
    مذکورہ بالا حدیث میں دیگر باتوں کے علاوہ ایک انتہائی قابل توجہ بات یہ ہے کہ جناب رسول صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا کہ ایمان کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامومن کو اپنی جان سے زیادہ محبوب و عزیز ہونا ضروری ہے ،حالانکہ آپ کی ذات گرامی اس درجہ رفیع المرتبت ہے کہ آپ قسم نہ بھی کھائیں تب بھی آپ کی ہر بات ٹھیک اور شبہ سے بلند و بالاہے او رجب آپ کوئی بات قسم کھا کر فرما دیں تو وہ بات کتنی زیادہ پختہ ہو گی کیونکہ معلوم ہے کہ قسم کلام کی پختگی پر دلالت کرتی ہے۔
    نیز مذکورہ حدیث شریمہ میں وارد لفظ(الوالد) کے بارے میں محدثین کرام نے ایک سوال اٹھایاہے،کہ آیا اس لفظ(الوالد) میں ماں بھی اس میں داخل ہے؟...یا....نہیں؟...
    توحافظ ابن حجر علیہ الرحمۃ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں،کہ
    اگر لفظ (الوالد) سے مراد وہ ہے،کہ جس کا بچہ ہو، تو یہ لفظ باپ اور ماں دونوں کو شامل ہے،یا اس طرح بھی کہاجاسکتاہے،کہ جس طرح اضداد میں سے ایک کے ذکر سے دوسرا سمجھا جاتا ہے،اسی طرح ماں...یا... باپ میں سے کسی ایک کے ذکر کرنے سے دوسرا خود بخود اس میں شامل سمجھا جائے گا۔
    مذکورہ جواب کی روشنی میں لفظ (الوالد)کا ذکر ،بطور تمثیل کیا گیا ہے اور اس سے انتہائی قریبی افراد مراد ہیں، تو گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا حاصل کلام یہ ہوا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتہائی قریبی لوگوں سے بھی زیادہ پیارے ہیں.
    (فتح الباری۔جزء1۔صفحہ23۔مکتبۃالشاملۃ)
    خلاصہ کلام یہ ہے،کہ مذکورہ احادیث کریمہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایمان کا معیار اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا و مافیہا کی ہر شے سے بڑھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے محبت کی جائے اور جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو کوئی شخص نام کا مسلمان تو ہو سکتا ہے،مگر مومن نہیں ہو سکتا۔
    بخاری شریف میں ہے،کہ
    کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِی فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ فَإِنَّہُ الْآنَ وَاللَّہِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِی فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْآنَ یَا عُمَرُ:ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس طرح بیٹھے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہواتھا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ،کہ اے عمر(رضی اللہ عنہ )تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے؟... حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ابھی مرحلۂ تربیت سے گزر رہے تھے ،عرض کرنے لگے ،حضور( صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے سب سے بڑھ کر آپ کی ذات سے محبت ہے مگر گاہے بگاہے محسوس ہوتا ہے کہ اولاد کی محبت آپ کی محبت سے قدرے زیادہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے اے عمر(رضی اللہ عنہ ) اگر یہ بات ہے تو تمہارا ایمان ابھی مکمل نہیں ہوا،اس فرمان کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دل کی کایا پلٹ گئی، یہاں تک کہ ان کے دل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت دیگر تمام محبتوں پر غالب آ گئی اور وہ بے ساختہ پکار اٹھے کہرب ذوالجلال کی قسم ،اب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے اور مرتے دم تک کبھی کم نہیں ہو گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کہ اب بات بنی۔(یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا)۔
    (رقم الحدیث۔6142۔جزء20۔صفحہ314۔مکتبۃالشاملۃ)
    واضح رہے ،کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ظاہر و باطن بالکل یکساں تھا اور ان کے کردار میں منافقت کا شائبہ تک نہ تھا۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استفسار پر دل کی بات بتا دی۔

اس صفحے کو مشتہر کریں