محبت کی تعریف

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 6, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    محبت کی تعریف​


    ہر حال میں محبوب کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ،اس کو محبت کہتے ہیں راحت وسرور ہو یا رنج وغم، نفع ہو یا نقصان، ہر صورت میں اپنی خواہش ختم کر کے محبوب کی خواہش کا غلام ہو جانا، اسی کا نام محبت ہے اسی مفہمون کو شاعر اپنے الفاظ میں بیا ن کرتا ہے
    وقف الھویٰ بی جیت انت فلیس لی ۔۔۔۔۔۔ متآخر عنہ ولا متقدم
    محبت نے مجھے جماکر کھڑا کردیا جہاں پر کی تو ہے۔۔اب نہ میں اس جگہ سے ٓگے بڑھ سکتا ہوں اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہوں۔

    اجد الملامۃ فی ھواک لذیزۃ ۔۔۔۔۔۔ حبّا لذکوک فلیلمنی اللوم
    مجھے تیرے عشق میں ملامت بھلی معلوم ہو تی ہے۔۔یہ تیرے تذکرے کو محبوب رکھنے کی بنا پر۔لہذا ملامت کر نے والے اب چاہے جتنی ملامت کریں۔

    اشبھت اعدائی فصرت احبھم۔۔۔۔۔۔ اذا کان حظی منک حظی منھم
    رقیب میرے دشمن بن گئے تو میں جوابا ان کا دوست ہو گیا جبکہ مجھے کوئی فائدہ تجھ سے پہونچ رہا ہو۔اور وہ بھی تجھ سے نفع اندوز ہو رہے ہوں

    فامنتنی فاھنت نفسی صاغرا ۔۔۔۔۔۔ ما من یھون علیک ممن یکرم
    تو نے مجھے حقیر جانا میں نے پھر بھی خود کو حقیر گردان لیا ۔اس لئے جب تو کسی کو حقیر سمجھے تو وہ معززکیسےہو سکتا ہے ۔

    تشیر فادری ماتقول بطرفھا۔۔۔۔۔۔ وطرق طرفی عند ذاک فتفھم
    محبوبہ مجھے اشارہ دیتی ہے تو میں اسکے گو شہ چشم کے اشاروں کو فورا سمجھ لیتا ہوں اور جوابا میں اپنی آنکھ بند کر لیتا ہوں تو میرا یہ جواب محبوبہ کیلئے قابل فہم ہو تا ہے ۔

    تکلم منا فی الوجوہ عیوننا ۔۔۔۔۔۔ فنحن سکوت والھویٰ بتکلم
    ہم دونوں جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہماری زبان خاموش اور آنکھیں مصروفَ گفتگو ہو تی ہیں گویا کہ ہم چپ اور مصروف گفتگو ہیں۔

    کہتے ہیں کہ غیرت اوصافَ محبت ہے غیرت کے ہو تے ہو ئے عشق کو راز میں رکھنا ممکن نہیں لہذا جس کی زبان اس مضمون کو بیان کر نے میں دراز ہو اور سر بستہ رازوں کو کھولنے میں مصر ہو تو اسے محبت کا ذائقہ نصیب نہیں وہ صرف اپنے دل کی آسودگی کی خاطر چرچے کر رہا ہے اگر اسے حقیقی محبت کا ذائقہ نصیب ہوتا تو وہ تفصیل اور تشریح کا محتاج نہ ہوتا ،اسلئے کہ عشق صادق لفظوں سے نمایا ں نہیں کیا سکتا وہ تو اداؤں سے پکڑا جا سکتا ہے اور اسکو کوئی سمجھ نہیں پاتا سوائے محبوب کے ۔

    رہی عوام کی محبت تو وہ احسانات کی پیداوار ہے اور دوست کی راہ پر چلنے سے مضبوط ہو تی ہے اور دوست کی متعین کردہ منزل کی جانب بڑھنے سے نشونما پاتی ہے ۔یہ محبت وساوس کی جڑ کاٹتی ہے اس میں محبوب کی خدمت خوشگوار ہوتی ہے اور انسان کو مصائب پر صبر کا سلیقہ آجاتا ہے ۔عوام اسے ہی ایمان کی معراج قرار دیتے ہیں ۔ صوفیا کے نزدیک بندے سے جو کچھ بھی سر زد ہو تا ہے وہ اسکی بندگی کا مظاہرہ ہو تا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ بندہ خدا تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں لگا رہے اس کا منظور نظر فقط خدا ہو اس سلسلہ میں نہ وہ نشان منزل کا طلب گار ہو اور نہ اسے معبود حقیقی کی معرفت کیلئے دلائل کی ضرورت ہو ۔گویا اپنے حواس کو معطل کر کے مظاہرٔ عبدیت کرتا ہوا بارگاہ الہی میں دائما حاضر باش ہو ۔

    حکایت:
    حضرت ابرہیم خواص سفر کر رہے تھے دورانَ سفر ان کو پیاس لگی چاروں طرف نگاہ ڈالی دور تک پانی کا نام ونشان نہ تھا ۔پیاس کی شدت کا جب غلبہ ہوا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ انھیں اپنے چہرہ پر کچھ ٹھنڈک محسوس ہو ئی ۔آنکھ کھول کر دیکھا تو ایک خوبصورت نوجوان عمدہ گھوڑا پر سوار ہے ۔ سبز رنگ کا لباس زیب تن کئے اور زرد رنگ کا عمامہ باندھے ہو ئے پانی کا پیالہ لئے ہو ئے کھڑا ہے ۔اس نے مجھ کو پانی پیش کیا اور مجھ سے کہا کہ میرے گھوڑے پر سوار ہو جا ۔چنانچہ میں ان کے پیچھے بیٹھ گیا اس نے مجھے سے دریافت کیا کہ کہاں کا قصد ہے ؟ میں نے عرض کیا مدینہ جانے کا ارادہ ہے اس نے کہا یہی مدینہ ہے تشریف لے جائیے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں جا کر عرض کرنا کہ رضوان خازن جنت نے آپ کو سلام عرض کیا ۔
  2. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    بہت ہی خوب بھیا
  3. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,568
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت ہی خوب ہے
  4. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین

اس صفحے کو مشتہر کریں