محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏ستمبر 16, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی ولادت بروز جمعرات 6 ربیع الثانی 1326ھ مطابق 1908ء کو ضلع مردان میں شیخ ملتون ٹاؤن کے مغرب میں واقع "مہابت آباد" نامی بستی میں ہوئی۔

    آپ کا سلسلۂ نسب خاندانِ نقشبندیہ کے مشہور شیخ سید آدم بنوری رحمہ اللہ سے ملتا ہے جو حسب ذیل ہے: سید محمد یوسف بن سید محمد زکریا بن میر مزمل شاہ بن میر احمد شاہ بن میر موسیٰ بن غلام حبیب بن رحمت اللہ بن عبد الاحد بن حضرت محمد اولیاء بن سید محمد آدم بنوری۔ یہی سلسلہ نسب حضرت سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما تک پہنچتا ہے، اس لیے آپ سادات میں سے حسینی کہلاتے ہیں۔

    آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب اور ماموں صاحب سے حاصل کی، اس کے بعد پشاور، کابل اور ان کے مضافات میں متوسط درجات کی کتب کی تعلیم حاصل کی، اور آخر میں تکمیل کے غرض سے دارالعلوم دیوبند میں تقریباً دو سال تک وہاں کے ممتاز اساتذہ سے تلمذ حاصل کیا، دورۂ حدیث کی تکمیل جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہما اللہ سے کی، دونوں اکابر اساتذہ کے ہاتھوں آپ کی دستاربندی ہوئی، ڈابھیل سے فراغت کے بعد علامہ کشمیری رحمہ اللہ سے پہلے دیوبند میں، پھر کشمیر میں معیت و استفادہ خاصہ کا تعلق رہا اور بجا طور پر آپ کے قلب نے حضرت شاہ صاحب کے علوم کو اپنے اندر جذب کیا، خود فرماتے تھے بظاہر میں حضرت شاہ صاحب کے تلامذہ میں اقل استفادۃً ہوں لیکن شیخ سے عشق و محبت نے شیخ کے علوم سے مناسبت تامہ پیدا کردی تھی، حضرت بنوری کو علامہ کشمیری اور علامہ عثمانی کے علاوہ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور علامہ محمد زاہد کوثری سے بھی اجازت حدیث اور استفادہ کا خصوصی تعلق تھا۔

    تصوف اور تزکیہ میں جن مشائخ سے آپ نے کسبِ فیض کیا اُن میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، حضرت مولانا حکیم الامت شاہ اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا محمد شفیع الدین نگینوی مہاجر مکی اور حکیم الامت حضرت مولانا محمد زکریا رحمہم اللہ تعالیٰ سرفہرست ہیں۔

    علوم عقلیہ اور نقلیہ سے فراغت کے کچھ عرصہ بعد 1937ء میں آپ مصر کے سفر پر گئے جہاں آپ کی زیر نگرانی "نصب الراية" اور "فیض الباري" جیسی بلند پایہ اور علمی تحقیقی کتابیں شائع ہوئیں۔ اسی سفر میں حرمین شریفین کی زیارت نصیب ہوئی اور وہاں کے علماء اور محدثین سے استفادہ اور افادہ کا موقع ملا۔

    اس سفر کے بعد ڈابھیل میں چند سالوں تک شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہنے کے بعد تقسیمِ ہند کے موقع پر پاکستان آئے اور کچھ عرصہ دار العلوم الاسلامیہ ٹنڈو الہ یار میں شیخ التفسیر کے منصب پر علم دین کی نشر و اشاعت میں مصروف رہے۔

    اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں ایک عظیم الشان دینی مدرسہ کی بنیاد رکھنی تھی، جس کے لیے داعیہ اور اسباب پیدا ہوئے، چنانچہ کراچی کے چند احباب کی معیت میں جمشید روڈ پر ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جسے بعد میں "جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن" کے نام سے دنیا میں شہرت ملی۔

    قدرت نے آپ کو ان تمام نمایاں امتیازی خصوصیات، صفات و کمالات اور ملکات سے مالا مال فرمایا تھا جو کسی بھی دینی و علمی میدان کی پیشوائی کے لیے مطلوب ہوتی ہیں، مثلاً توبہ و انابت، خوف و خشیت الٰہی، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور اس کی بدولت صفاءِ قلب و نورِ اَذکار و اَوراد، عمل بالحدیث کا شوق و جذبہ، متونِ حدیث پر نظر، اصولِ حدیث کی مہارت، رجال اور طرق و علل سے آگاہی، مذاہبِ اربعہ کے مراجع و ماٰخذ، اصولِ فقہ و علم الخلافیات سے واقفیت تامہ، عربیت میں پختگی، کلام و فلسفہ و حقائق پر نظر، وسعت و سرعتِ مطالعہ، قلم کی روانی و سلاست، خطابت و بیان میں جرات کے ساتھ سنجیدگی اور وقار، بیدار مغزی و شدتِ احساس، وسعتِ فکر و نظر، اہتمام و انتظام، تنظیم و تدبیر کی اعلیٰ مثال اور اِعلاء حق کے لیے اُٹھنے والی ہر تحریک کے لیے قائدانہ اوصاف کے حامل تھے۔

    آپ کی نمایاں ملی اور دینی خدمات میں تحریکِ ختمِ نبوت کی امارت و قیادت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے علاوہ فتنۂ پرویزیت کا تعاقب اور علمی محاسبہ شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اندرون و بیرون ملک کئی اداروں کے صدر یا رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جن میں سے چند مشہور اداروں کے نام یہ ہیں:

    1. رابطة العالم الإسلامي، مكة المكرمة (رکن)
    2. مجمع البحوث الإسلامية، قاهرة، مصر(رکن)
    3. المجمع العلمي العربي، جمهورية سورية، شام (رکن)
    4. مجلس علمی جنوبی افریقہ (نگران اعلیٰ)
    5. جمعیت علماء ہند (جنرل سیکریٹری)
    6. جمعیت علماء گجرات و بمبئی (صدر)
    7. جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل (شیخ الحدیث)
    8. مجلس دعوت و تحقیقِ اسلامی کراچی (صدر)
    9. دار العلوم اسلامیہ ٹنڈو الہ یار (شیخ التفسیر)
    10. عالمی مجلس ختم نبوت (امیر)
    11. وفاق المدارس العربیۃ پاکستان (بانی و صدر)
    12. انتخابِ اساتذہ کمیٹی کراچی یونیورسٹی (رکن)
    13. اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان (رکن)
    آپ کی تصنیفی و تعلیمی خدمات میں معارف السنن، بغية الأریب في مسائل القبلة و المحاریب، نفحة العنبر في حیات الشیخ محمد أنور، یتیمة البیان في شيء من علوم القرآن کے علاوہ بعض دیگر تصانیف اور ایک درجن سے زائد علمی کتابوں پر مقدمات اور تعلیقات شامل ہیں، جن میں عوارف المنن مقدمة معارف السنن، مقدمة فیض الباري، مقدمة نصب الراية، مقدمة أوجز المسالك، مقدمة اللامع الدراري سرفہرست ہیں۔

    حضرت بنوری رحمہ اللہ اپنے ضعف اور پیرانہ سالی کے باوجود 13 اکتوبر 1977ء کو اسلامی مشاورتی کونسل کے ایک اہم اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد تشریف لے گئے، وہاں طبیعت کے ناساز ہونے پر آپ کو فوراً سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا، دو دن ہسپتال میں رہنے کے دوران بروز سوموار سہ پہر کے قریب کلمہ طیبہ پڑھا اور وہاں پر موجود تیمار داروں کو سلام کرنے کے بعد قبلہ رو ہوکر اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے۔

    إنا لله و إنا إليه راجعون

    آپ کی میت کراچی لائی گئی جہاں ہزاروں کی تعداد میں علماء، متوسلین، طلباء اور عوام الناس نے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے احاطہ میں عارف باللہ حضرت اقدس ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمہ اللہ کی امامت میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور جامعہ ہی کے احاطہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں