محفلِ سماع میں ایک ریا کار پیر کا قصہ

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏فروری 10, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایک ریاکار پیر صاحب نے محفل سماع سجائی اور مصنوعی وجد میں اُچھلنے لگا، لوگ بھی اُچھلنے لگے۔ پیر صاحب کی پگڑی میں چار آنے بندھے ہوئے تھے کہ اچانک گِرہ کھل گئی اور چار آنے گِر گئے۔ اب اگر پیر صاحب سنجیدہ ہوکر اس کو ڈھونڈتا ہے تو لوگوں کو اعتراض ہو گا کہ وجد میں نہیں ہے جھوٹا ہے، اور اگر چار آنے زمین پر گِرے پڑے رہنے دیتا ہے تو اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، چنانچہ وہ ریاکار سر دھنتا ہوا زبان سے اپنے چیلے کو کہتا ہے:
    آنچہ برسرداشتم بگذاشتم بگذاشتم​
    یعنی پگڑی میں جو چار آنے تھے وہ گِر گئے ہیں، گِرگئے ہیں۔
    اس کے جواب میں اس کاٹھگ مُرید بھی آدھا شعر پڑھتا رہا، سردھنتا رہا اور جواب دیتا رہا:
    غم مخور صوفی! کہ من برداشتم برداشتم​
    یعنی غم نہ کر صوفی! میں نے اُٹھا لئے ہیں،اُٹھا لئے ہیں۔
    (یوں) پورا شعر اس طرح بنا:
    آنچہ برسرداشتم بگذاشتم بگذاشتم
    غم مخور صوفی! کہ من برداشتم برداشتم​
    اس قسم کے ٹھگ لوگوں کا سماع کیا اور اس کی محفل کیا؟ اور اس میں وجد آنا کیا؟ سب دھوکہ ہے۔

    (ماخذ)

    ٹاگ:
    @[احمدقاسمی]
    @[عامر]
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ہاہاہا Frying Pan Mash
  3. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کمال ہوگیا،حیرت کی بات ہے کہ جعلی پیرتوتھاہی ہوشیارلیکن اس کاجعلی مریداس سے بھی زیادہ تیزوطرارنکلا۔

اس صفحے کو مشتہر کریں