مراقبہ موت

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 9, 2017۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,522
    موصول پسندیدگیاں:
    721
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مراقبہ موت
    مجوزہ شیخ المشائخ حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی صاحب تھانوی نوراللہ مرقدہٗ​
    وہ دستورالعمل جو دل پر سے پردے اُٹھاتا ہے ، جس کے چند اجزا ہیں۔ ایک تو کتابیں دیکھنا یا سننا۔ دوسرے مسائل دریافت کرتے رہنا۔ تیسرے اہل اللہ کے پاس آنا جانا اور اگر ان کی خدمت میں آمدورفت نہ ہوسکے تو بجائے انکی صحبت کے ایسے بزرگوں کی حکایت و ملفوظات ہی کا مطالعہ کرو یا سن لیا کرو۔ اور اگر تھوڑی دیر ذکر اللہ بھی کرلیا کرو۔ تو یہ تو اصلاحِ قلب میں بہت ہی معین ہے۔ اور اسی ذکر کے وقت میں سے کچھ وقت محاسبہ کے لئے نکال لو۔ جس میں اپنے نفس سے اِس طرح باتیں کروکہ اے نفس ایک دن دنیا سے جانا ہے۔ موت بھی آنے والی ہے۔ اس وقت یہ سب مال و دولت یہیں رہ جاویگا۔ بیوی بچے سب تجھے چھوڑ دینگے۔ اور خدا تعالیٰ سے واسطہ پڑیگا۔ اگر تیرے پاس نیک اعمال زیادہ ہوئے تو بخشا جائیگا۔ اور گناہ زیادہ ہوئے تو جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا جو برداشت کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے تو اپنے انجام کو سوچ اور آخرت کیلئے کچھ سامان کر۔ یہ عمر بڑی قیمتی دولت ہے اس کو تو اپنے انجام کو سوچ اور آخرت کیلئے کچھ سامان کر۔ یہ عمر بڑی قیمتی دولت ہے اس کو فضول رائگاں مت برباد کر۔ مرنے کے بعد تو اس کی تمنا کرے گا کہ کاش میں کچھ نیک عمل کرلوں۔ جس سے مغفرت ہوجائے۔ مگر اس وقت تجھے یہ حسرت مفید نہ ہوگی پس زندگی کو غنیمت سمجھ کر اس وقت اپنی مغفرت کا سامان کرلے۔ ( ماخوذ از وعظ اسباب الفتنہ)

اس صفحے کو مشتہر کریں