مرض اور جنت

'افکارِ قاسمی شمارہ 7 جون 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مئی 31, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    درس حدیث
    مرض اور جنت
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    احمد قاسمی
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">

    نت نئے امراض کی زیادتی بیشک گناہوں کی کثرت کا سبب ہیں ۔کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے شائد ہم (امت مسلمہ)سے زیادہ نافرمان امت روے زمین پر دوسری کوئی نہیں۔
    ہم جیسے گناہ گار تو خیر کسی گنتی میں نہیں اللہ والے جوشب وروز طاعت الٰہی میں مصروف جن کے تقوی امانت ودیانت راستبازی ، نیکوکاری ، حق گوئی وبیباکی ،خشئیت الٰہی مسلم ہے کبھی کبھی ان پاکیزہ نفوس کو کسی مہلک بیماری میں دیکھ کر ذہن الجھنے لگتا ہے یہ اللہ والے ہیں اللہ کے دوست اور اس کے چہیتے ہیں ایک عامیانہ تصور یہ ہے کہ شدید بیماری کا شکار ہونے والا کسی شدید مجرمانہ افعال کا مر تکب ہوا ہے اسی وجہ سے غالبا یہ قہر الٰہی میں آگیا ہے ۔جبکہ حقیقت حال اس کے بر عکس ہے بیماری وابتلا بھی مسلم امہ کیلئے بڑی نعمت اور باعث اجر وثواب ہے ۔جناب محمد عربی ﷺ نے فر مایا ! اللہ تعالیٰ جسکو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں اس کو صحت وتندرستی ، عیش وعشرت ، مال ودولت کی شکل میں اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتا ہوں یہاں تک کہ وہ خالی ہا تھ میرے پاس آتا ہے ۔ نیز فر مایا جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو اس کے پاس یہ دیکھنے کیلئے بھیجتا ہے کہ میرا بندہ مرض میں کیا کہتا ہے ۔ مومن بندہ کو اللہ کی تعریف کرتے ہوئے دیکھ کر فر شتے عرض کرتے ہیں الٰہی آپ کا بندہ بیماری وتکلیف میں آپ کی تعریف کر رہا ہے حکم ہوتا ہے میرے بندہ سے کہہ دو اگر اس مرض میں وہ مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا اور اگر صحت یاب ہو گیا تو اس گوشت سے بہتر گوشت اور اس خون سے بہتر خون دوں گا اور اس کے سارے گناہ معاف کردوں گا .
    ایک دفعہ کسی کے سوال کے جواب میں پیغمبر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ! یہ بیماریاں اور‘‘ تکلیفیں مسلمان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں‘‘حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا معمولی تکلیفیں بھی، ارشاد فرمایا ۔۔۔۔! چھوٹی چھوٹی تکلیفیں تو کیا ،مسلمان کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ بھی بھی کفارہ سیات بن جاتا ہے ‘‘
    یہ سنتے ہی جوش ایمان سے بے ساختہ یہ دعا زبان پر جاری ہوگئی ‘‘الٰہی میں ہمیشہ بخار میں مبتلا رہوں‘ مگر نماز با جماعت ، حج ‘ عمرہ اور جہاد کے قابل رہوں‘‘ یہ دعا فورا قبول ہو گئی ،اس کے بعد آپ کو ہر وقت خفیف سی حرارت رہتی تھی، غالبا اسی وجہ سے آپ کے مزاج میں قدرے حدت پیداہو گئی تھی۔
    حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوتے ہیں ۔حضور ﷺ کو بخار تھا ،ہاتھ چھو کر کہنے لگے آپ ﷺ کو بہت شدید بخار ہے فرمایا ہاں! دو آدمیوں کے برابر ہے کیا اس لئے آپ کو اجر بھی سب سے زیادہ ملے گا ؟ فرمایا ہاں! اس کے بعد فر مایا جو مسلمان بھی بیماری ومصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اس سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے( پت جھڑ کے وقت )
    رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے تمہارا پروردگار فر ماتا ہے اپنی عزت وجلال کی قسم میں کسی بندہ پر رحم فرمانا چاپتا ہوں تو اس کو مختلف امراض ومصائب میں مبتلا کردیتا ہوں تاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں پھر بھی باقی رہ جاتے ہیں تو موت کی سختی ذریعہ معاف کر دیتا ہوں تا کہ وہ بندہ گناہوں سے پاک وصاف ہو کر میرے پاس آئے ۔اللھم یسر امور اٰخرتنا ودنیانا مع الراحۃ
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں