مسئلہ حیات اور اکابرین اشاعت !

'سیرت سرور کائنات ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏اگست 15, 2014۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    کئی علماء کرام کو دیکھا ،سنا اور پڑھا ہے کہ وہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے "جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ" کے علمائے کرام کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ"حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کے منکر ہیں ،حالانکہ ایسا بلکل نہیں ہے آج میں اس پوسٹ میں اکابرین اشاعت التوحید کا "متفقہ" مسلک ومشرب نقل کرتا ہوں اور نقل بھی اُس شخصیت کے قلم سے جسے سب سے زیادہ موردِ الزام بنایا جاتا ہے ،اور انہیں اول نمبرحیات النبی کا" منکر" کہا جاتا ہے،میری مراد ہے"پیر طریقت ولی کامل علامہ سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ"

    "حضرت نبی کریم خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وعدہ الٰہی انک میت و انھم میتون کے مطابق حقیقۃ موت وقع ہوئی آپ کی روح اقدس جسد اطہر سے منقطع ہو کر جنت الفردوس میں رفیق اعلی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اور حضرات صحابہ کبار رضی اللہ عنھم نے آپ کے جسدِ اطہر کو واقعی میت سمجھ کر قبر میں دفن کیا۔اور اس عالمِ دنیا سے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ برزخ میں مثل شھداء بلکہ شھداء سے اعلی و ارفع حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی وہ حیات ِ دنیویہ نہیں بلکہ اس سے بدرجہا اعلی و ارفع وافضل حیاتِ برزخیہ ہے نہ کہ حیات دنیویہ لیکن اگر کوئی اس(برزخی حیات ناقل) حیات کو دنیوی کے نام سے تعبیر کرے اور آپ کی حیات برزخیہ سے بھی انکار نہ کرے تو اُس کو جماعت اہل السنت سے خارج نہیں کرنا چاہئیے ،حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام اور خصوصا سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد الموت سب سے اعلیٰ وارفع واجمل وافضل حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی ہے یہ جمہور اہل السنت والجماعت کا مسلک ہے اس پر کتاب اللہ احادیث صحیحہ اور ارشادات صحابہ رضوان اللہ علیہم شاہد ہیں"(عنایت اللہ بخاری عفی عنہ مسجد جامع گجرات)

    (ماہ نامہ تعلیم القرآن ،جولائی اگست 1960 ص 33 ۔۔۔و تسکین الصدور ص 283۔284)

    اس فتوی کی تصدیق اشاعت التوحید کے جلیل القدر پچاس اکابرین نے فرمائی تھی۔ اُن میں سے چند کے نام نقل کرتا ہوں

    (1) شیخ الحدیث مولانا نصیر الدین صاحب غور غشتوی رحمہ اللہ تعالیٰ(2)شیخ الحدیث مولانا عبد الرحمن صاحب بہبودی رحمہ اللہ تعالیٰ
    (3)جامع المعقول و المنقول مولانا ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، انہی والے)(4)شیخ الحدیث مولانا قاضی شمس الدین صاحب رحمہ اللہ
    (5)شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ(6) شیخ الحدیث مولانا قاضی نور محمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ قلعہ دیدار سنگھ
    (7)شیخ الادب مولانا قاضی غلام مصطفی صاحب مرجانوی رحمہ اللہ تعالیٰ(8)شیخ القرآن مولانا محمد طاہر صاحب پنج پیری رحمہ اللہ تعالیٰ
    (9)شیخ التفسیر مولانا محمد امیر صاحب بندیالوی رحمہ اللہ تعالیٰ (10)شیخ الحدیث مولانا احمد حسین صاحب سجاد بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ
    (11)شیخ الحدیث مولانا قاضی عصمت اللہ صاحب ابن قاضی نور محمد رحمہ اللہ تعالیٰ

    اس فتوی کے بعد میں علمائے کرام سے بالخصوص اور عوام الناس سے بالعموم یہ درخواست کرونگا کہ کسی کی طرف کوئی بات ،مسلک عقیدہ منسوب کرنے سے پہلے اس کا اُس کی جماعت کا مسلک و مشرب معلوم کر لینا چاہئیے پھر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہئیے ورنہ نہیں
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو
    Last edited: ‏اگست 15, 2014
  2. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    مسلکِ شَیخ القر آن فی حیاتِ سید الانس والجان !

    " حضرت عزیر علیہ السلام نے حالت موت کی مدت صرف ایک دن یا اس سے بھی کم بتائی ،یہ محض ان کا اندازہ اور تخمینہ تھا ،سو سال عرصہ انہیں ایک روزہ خواب کی طرح معلوم ہوا ،اس سے معلوم ہوا کہ حالت موت میں یہ جلیل القدر پیغمبر بھی اختلاف لیل ونہار اور انقلابات زمانہ سے بالکل بے خبرتھے ۔اگر انہیں ان چیزوں کا احساس ہوتا تو مدت کا یہ تخمینہ وہ بیان نہ کرتے بلکہ ان کی پوری مدت کا ٹھیک ٹھیک علم ہوتا اس واقعہ سے سماع موتیٰ کی نفی ہوتی ہے ۔کیونکہ حضرت عزیر علیہ السلام دنیا میں ہونے والے تمام انقلابات سے بے خبر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وفات کے بعد انبیاء علیہم السلام کی ارواحِ طیبہ ان کے ابدانِ مبارکہ میں موجود نہیں رہتیں اور ان کی حیات دنیوی ناسوتی نہیں ہوتی بلکہ برزخی ہوتی ہے"(جواہر القرآن ج1ص127)

    " ان روایتوں اور عبارتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ شھداء اور دیگر اموات کی طرح انبیاء علیہم السلام کی ارواح بھی ان کے ابدان سے نکالی جاتی ہیں ،دوم یہ کہ ان کی ارواح کو ان کے اصلی ابدان کے مماثل مشک وکافور کے مثالی اجسام دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔سوم یہ کہ انبیاء کرام علیہ السلام کی ارواح کا مُستقر اعلیٰ علیین ہے ،نہ کہ ان کے ابدان ،کیونکہ ان کے ابدان تو قبور ارضی میں مدفون ہوتے ہیں ۔لیکن دیگر اموات کے برعکس ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت و شرف عطا فرمایا ہے کہ ان کے ابدان قبروں میں بالکل صحیح سالم رہیں گے جس طرح رکھے گئے تھے اور ان کو مٹی نہیں کھاتی"
    (جوہر القرآن ج1 ص193)

    "دو مستقل جملے استمال کرنے سے دونوں موتوں کی نوعیت یا کیفیت کے اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں جیسا کہ بعض کا خیال ہے ،بلکہ مستقل اور موکد جملوں سے درجات میں تفاوت کے باوجود موت میں مُتساوی ہونا علی وجہ الکید بیان کرنا مقصود ہے۔۔۔۔۔۔باقی رہی انبیاء علیہم السلام کی دنیا سے رخصت کے بعد عالمِ برزخ کی زندگی تو اس پر تمام اہل سنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو عالم برزخ میں نہایت اعلیٰ و ارفع برزخی حیات حاصل ہے جو بعض اعتبار سے دنیاوی حیات سے بھی اقویٰ ہے"

    (جواہر القرآن سورہ زمر آیت 30)
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    تحقیق حیات شہداء۔از جواہر القرآن
    حیات شہداء کے بارے میں قرآن مجید کی دو آیتیں ہیں ایک تو یہی زیر تفسیر آیت اور دوسری آیت سورۃ بقرہ رکوع 19 میں گذر چکی ہے یہاں فرمایا کہ شہداء کو مرد سے مت سمجھو اور وہاں فرمایا کہ ان کو مردہ مت کہو۔ حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہداء قتل کردئیے جاتے ہیں اور ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے پرواز کر جاتی ہیں اور ان کے ابدان سے اس طرح جدا ہوجاتی ہیں کہ ان سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ علامہ بیضاوی کا قول آگے آرہا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ شہداء کرام کی دنیوی زندگی تو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے اور روح کے بدن سے نکل جانے کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ شہادت کے بعد جو ان کو زندگی اور حیات حاصل ہوتی ہے وہ دنیوی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مختلف ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں زندہ تھے تو ان کی زندگی بھی دنیوی تھی یعنی روح اور بدن دونوں کے ملاپ سے وہ زندہ تھے لیکن موت سے دنیوی زندگی ختم ہوگئی اور برزخ کا زمانہ شروع ہوگیا اس لیے اب اس زندگی کو برزخی زندگی کہا جائے گا اور یہ زندگی بلا مشارکت بدن عنصری صرف روح کے لیے ہوگی یہ معاملہ چونکہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ برزخ عالم غیب کی چیز ہے اس لیے اس برزخی حیات کی کیفیت کے بارے میں عقل وفکر، رائے اور قیاس سے کچھ کہنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں نصوص کتاب وسنت سے جو کچھ ثابت ہو اس سے تجاوز کرنا جائز ہے۔ علامہ سید محمود آلوسی سورۃ بقرہ میں وَلٰکِنْ لَّاتَشْعَرُوْنَ کے کے تحت فرماتے ہیں۔ ای لا تحسون ولا تدرکون ما حالھم بالمشاعر لانھا من احوال البرزخ التی لا یطلع علیھا ولا طیر للعلم بھا الا بالوحی (روح ج 2 ص 20)۔ حیات شہداء کی کیفیت کی طرف قرآن مجید میں تو چند اجمالی اشارات ہی ہیں۔ تفصیل نہیں ہے مثلاً قرآن مجید میں اس طرف اشارہ ہے کہ قتل کے بعد شہداء کو جو حیات ملتی ہے۔ وہ دنیوی نہیں بلکہ برزخی اور عالم غیب کی ایک حالت ہے۔ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ سے اسی طرف اشارہ ہے وہ اپنے مہربان رب کے پاس اور عالم غیب میں زندہ ہیں۔ علامہ خازن لکھتے ہیں۔ انھم احیاء عنداللہ تعالیٰ فی عالم الغیب لانھم صاروا الی الاخرۃ (تفسیر خازن ج 1 ص 109) قرآن مجید میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ شہداء عالم برزخ میں کھاتے پیتے بھی ہیں۔ حیات شہداء کی تفصیلی کیفیت سب سے عمدہ اور صحیح ترین وہی ہے جو خود صاحب وحی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں دریافت کیا کہ یارسول اللہ وہ کس طرح زندہ ہیں ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ وہ قتل ہوچکے ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا وہ اس طرح زندہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرما کر ان کو جنت میں آزاد چھوڑ دیا ہے۔ وہ جنت میں جہاں چاہیں آتے جاتے اور سیر کرتے ہیں۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ وقال اخرون ارواحھم فی اجواف طیر خضر وانھم یرزقون فی الجنۃ ویاکلون ویتنعمونوھذا ھو الصحیح من الاقوال لن ما صح بہ النقل فھو الواقع (قرطبی ج 4 ص 270) علامہ ابو السعود حنفی امام واحدی سے ناقل ہیں۔ الاصح فی حیاۃ الشہداء ماروی عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من ان ارواحم فی اجواف طیور خضر وانھم یرزقون ویاکلون یتنعمون (ابو السعود ج 1 ص 138)۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود سے آیت وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قَتَلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتاً الایۃ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بھی رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شاءت ثم تاوی الی تلک القنادیل الحدیث (صحیح مسلم ج 2 ص 135، جامع ترمذی ج 2 ص 126، ابن ماجہ ص 201، تفسیر ابن جریر ج 4 ص 106، ص 107) اسی طرح حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال ان ارواح الشھداء فی طیر خضر تعلق من ثمر الجنۃ او شجر الجنۃ (جامع ترمذی ج 1 ص 197، ابن ماجہ ص 104، ص 316، نسائی ج 1 ص 292، موطا امام مالک ص 84، مسند احمد ج 6 ص 386) اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لما اصیب اخوانکم باحد جعل اللہ ارواحھم فی اجواف طیر خضر تروانھا والجنۃ وتاکل من ثمارھا واوی الی قنادیل من ذھب فی ظل العرش الحدیث (مستدرک حاکم ج 2 ص 88، ص 297 تفسیر ابن جریرج 4 ص 106، مسند احمد ج 1 ص 266، ابو داوٗد ج 1 ص 348) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری (رض) سے بھی اسی مضمون کی ایک مرفوع حدیث مروی ہے ملاحظہ ہو۔ درمنثور ج 2 ص 96۔ ان حدیثوں کے الفاظ میں اگرچہ خفیف سا اختلاف ہے لیکن ماحصل سب کا وہی ہے جو پہلے بیان کیا جاچکا ہے ان حدیثوں میں حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہایت وضاحت سے شہداء کی (برزخی) زندگی کی حقیقت بیان فرما دی ہے صحابہ کرام (رض) اور تابعین سے بھی یہی کچھ منقول ہے اور اسی کو محققین مفسرین نے راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، کعب الاحبار، عکرمہ، سدی کبیر، ابو العالیہ، قتادۃ، ربیع وغیرہم کے اقوال کے لیے ملاحظہ ہو۔ تفسیر ابن جریر ج 2 ص 23 ج 4 ص 106، ص 107 وتفسیر در منثور ج 1 ص 155، ج 2 ص 96۔ حاصل کلام یہ کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں ان کے ابدان طیوری اجسام مثالی ہیں۔ نہ کہ عنصری کیونکہ شہداء کے عنصری ابدان توقبروں میں مدفون ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں شہداء کی حیات محض روحانی اور برزخی ہے جسمانی نہیں اور ان کے ابدان قبروں میں ہیں۔ لیکن ان کی ارواح طیوری قالبوں میں نعیم جنت سے متمتع ہورہی ہیں۔ علامہ بیضاوی سورۃ بقرہ میں فرماتے ہیں۔ وَلٰکِنْ لَّاتَشْعُرُوْن ما حالاھم وھو تنبیہ علی ان حیوتھم لیست بالجسد ولا من جنس ما یحس بہ من الحیوانات وامنا ھی امر لایدرک بالعقل بل بالوحی (تفسیر بیضاوی ج 1 ص 201) لیکن تم نہیں جانتے کہ وہ کس حال میں ہیں اور یہ اس امر پرتنبیہ ہے کہ ان (شہداء) کی حیات جسمانی نہیں اور نہ زندوں کی مانند ظاہر حواس سے محسوس قسم کی زندگی ہے اور نہ اس کا ادراک عقل سے ہوسکتا ہے بلکہ اس کی کیفیت کا ادراک صرف وحی سے ہوسکتا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی فرماتے ہیں حیات شہداء بمعنی تعلق ارواح بابدانست برائے استیفائی لذاتی کہ موقوف برآلات بدنیست نہ تعلق ارواح باابدان سابقہ ونہ بقا کی روح بادراک وشعور الخ (عزیزی ص 685) یعنی حیات شہداء کا مطلب یہ ہے کہ وہ لذات حاصل کرنے کیلئے جن کا حصول آلات پر موقوف ہے ارواح ابدان مثالیہ سے متعلق ہوجائیں یہ مطلب نہیں کہ ارواح سابقہ (عنصری) ابدان سے متعلق ہوجائیں اور نہ یہ کہ روح کا ادراک وشعور باقی رہے۔
    حیات انبیاء علیہم السلام
    اس دنیائے آب وگل سے رحلت وانتقال کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے ایک ہی مقرر فرمائی ہے اور وہ ہے موت اور اس سے کسی فرد بشر کو مفر نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (انبیاء رکوع 3) یعنی ہر جی موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ خواہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا خدا کے تمام پیغمبر موت نوش فرما چکے ہیں (حضرات ادریس الیاس اور خضر علیہم السلام کے بارے میں محقق اور صحیح مذہب یہی ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں) چنانچہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔ اَمْ کُنْتُمْ شَھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ (بقرہ ع 16) کیا تم اس وقت موجود تھے جب حضرت یعقوب پر موت کا وقت آیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا۔ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللہُ مِنْ بَعْدِهٖ رَسُوْلاً (مومن رکوع 4) یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تم کہنے لگے کہ اب تو اللہ تعالیٰ کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد ہے۔ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتُ مَادَلَّھُمْ عَلیٰ مَوْتِهٖ اِلَّا دَابَّةُ الْاَرْضِ تَاکُلُ مِنْسَاَتَہٗ (سبا رکوع 2) پس جب ہم نے اس (سلیمان) پر موت کا حکم جاری کردیا تو ان (جنون) کو اس کی موت کا پتہ کسی نے نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا اور خود جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (زمر رکوع 3) آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ علاوہ ازیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت پر تمام صحابہ کرام (رض) کا اجماع بھی ہوچکا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں موجود ہے کہ جب حضور (علیہ السلام) کی وفات ہوئی تو حضرت عمر (رض) اس صدمہ جانکاہ کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور ازخود دل گر فتہ ہو کر اعلان کرنے لگے خبردار کوئی یہ مت کہے کہ حضور فوت ہوگئے ہیں۔ ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ جب حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے صورت حال دیکھی تو آپ نے تمام صحابہ کرام کے سامنے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اس کا اقتباس ملاحظہ ہو۔ من کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات ومن کان یعبداللہ فان اللہ حی لا یموت وقال اِنَّکَ مَّیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ (صحیح بخاری ج 1 ص 517) تم میں سے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ آپ تو فوت ہوگئے اور آپ پر موت وارد ہوچکی اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا سو اللہ زندہ جاوید ہے اور یہ آیت تب بھی پڑھی بیشک آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے جب خطبہ دیا تو صحابہ (رض) میں سے کسی نے بھی ان کی کسی بات پر انکار نہیں کیا اور حضرت عمر نے بھی تسلیم کرلیا کہ واقعی آپ وفات پا چکے ہیں چنانچہ تمام صحابہ کرام نے یہی سمجھ کر کہ آپ وفات پا چکے ہیں آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارک میں دفن کیا الغرض موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام بنی آدم اسی دروازے سے گذر کر عالم برزخ میں پہنچے اور جو باقی ہیں وہ بھی اسی دروازے سے گذریں گے۔ اور موت کے معنی ہیں روح کا بدن عنصری سے نکل جانا اور اس سے جدا ہوجانا۔ امام راغب اصفہانی اس آیت میں موت کا مفہوم اس طرح بیان فرماتے ہیں وقولہ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ فعبارۃ عن زوال القوۃ الحیوانیۃ وبانۃ الروح عن الجسد (مفردات ص 494) یعنی موت قوت حیات کے زائل ہوجانے اور روح کے بدن سے جدا ہوجانے کا نام ہے۔ علامہ ابو عبداللہ قرطبی لکھتے ہیں۔ واجل الموت ھو الوقت الذی فی معلومہ سبحانہ ان روح الحی تفارق جسدہ (قرطبی ج 4 ص 226) اَجَلْ موت اس وقت کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق جاندار کی روح اس کے بدن سے جدا ہوگی علامہ سیوطی فرماتے ہیں قال العلماء الموت لیس بعدم محض ولا فناء صرف وانما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما وتبدل حال وانتقال من دار الی دار (شرح الصدور ص 5 وبشری الکئیب ص 15، 16) علماء نے کہا ہے کہ موت عدم محض اور فناء صرف کا نام نہیں بلکہ موت بدن سے تعلق روح کے منقطع ہوجانے، روح اور بدن میں جدائی اور پردہ حائل ہوجانے اور ایک دار (دنیا) سے دوسرے دار (عالم برزخ) کی طرف منتقل ہونے سے عبارت ہے اور علامہ سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں۔ الاماتۃ بمعنی اخراج الروح وسلب الحیاۃ (روح ج 3 ص 21) اماتت کے معنی ہیں روح کا نکال لینا اور زندگی کا سلب کرلینا۔ اور پھر موت کی یہ کیفیت مذکورہ بالا مفہوم کے ساتھ سب کے لیے یکساں ہے اور تمام بنی آدم انبیاء علیہم السلام ہوں یا شہداء اور عامۃ المسلمین پر موت اخراج روح از بدن اور ابانت روح از جسد ہی کے طریق پر وارد ہوتی ہے البتہ اعزاز واکرام اور تحقیر وتذلیل کا فرق ضرور ہوتا ہے انبیاء علیہم السلام، شہداء اور دیگر مومنین سے قبض روح کا معاملہ علی حسب المراتب اعزاز واکرام سے کیا جاتا ہے اور کفار ومشرکین سے تذلیل واہانت کے ساتھ شہداء کے بارے میں تو پہلے گذر چکا ہے کہ ان کی روحیں ان کے ابدان عنصریہ سے نکال کر پرندوں کے مثالی قالبوں میں داخل کردی جاتی ہیں اسی طرح انبیاء علیہم السلام کی ارواح طیبہ بھی ان کے ابدان طاہرہ سے نکال کر جدا کرلی جاتی ہیں۔ چنانچہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات بھی اللہ تعالیٰ عادت مستمرہ اور دستور متعارف کے مطابق اسی طرح واقع ہوئی کہ آپ کی روح طیبہ وطاہرہ آپ کے بدن مبارک سے نکالی گئی جیسا کہ خود آپ کا ارشاد ہے۔ ان جمیع الانبیاء قبض ارواحم ملک الموت وھو الذی سیقبض روحی۔ (قرطبی ج 4 ص 276) یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کی روحیں ملک الموت نے قبض کیں اور وہی میری روح کو بھی قبض کرے گا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ فقبضہ اللہ وان راسہ لبین سحری وتحری (صحیح بخاری ج 1) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرمائی اس وقت آپ سر مبارک میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اس حدیث کے تحت حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ فی روایۃ ھمام عن ھشام بھذا الاسناد عند احمد نحوہ وزاد فلما خرتب نفسہ لم اجد ریحا قط اطیب منھا (فتح الباری ج 8 ص 102) اس روایت کو امام احمد نے بھی اس اسناد کے ساتھ ہشام سے بواسطہ ہمام روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ جب آپ کی روح مبارک (بدن سے) نکلی تو ایسی خوشبو آئی کہ میں نے اس سے عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ یہ خوشبو آپ کی روح طیبہ کی تھی۔ اور حضرت ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں۔ اخرجت الینا عائشۃ کساء وازارا غلیظاً فقالت قبض روح النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی ھذین (صحیح بخاری ج 2 ص 865) حضرت عائشہ نے ہمیں ایک چادر اور ایک موٹا تہبند دکھایا اور کہا کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح طیبیہ ان دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔ باقی رہی یہ بات کہ انبیاء علیہم السلام کی ارواح ان کے ابدان سے نکلنے کے بعد کہاں رہتی ہیں اور ان کا مستقر کہاں ہے تو اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ عالم برزخ میں ان کی ارواح کو ان کے عنصری بدنوں کے ہم شکل اور مماثل مشک وکافور کے مثالی اجسام عطا کیے جاتے ہیں اور ان کا مقام ومستقر جنت کا اعلی ترین اور سب سے اونچادرجہ اعلیٰ علیین ہے ویسے جنت میں وہ جہاں چاہیں آتے جاتے اور جنت کے میوے تناول فرماتے ہیں۔ چنانچہ علامہ سیوطی اور علامہ سید محمود آلوسی امام نسفی سے ناقل ہیں۔ ارواح الانبیاء تخرج من جسدھا وتصیر مثل جسدھا مثل المسک والکافور وتکون فی الجنۃ تاکل وتشرب وتتنعم الخ (شرح الصدور ص 105، بشری الکئیب ص 134، روح المعانی ج 15 ص 162 تفسیر مظہری ج 10 ص 224 یعنی انبیاء علیہم السلام کی ارواح ان کے بدنوں سے نکل کر ان کے مماثل مشک وکافور کے جسموں میں متشکل ہوجاتی ہیں اور جنت میں کھاتی پیتی ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن القیم اور حافظ ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں الانبیاء علیہم السلام فلا شک ان ارواحھم عند اللہ فی اعلیٰ علیین وقد ثبت فی الصحیح ان اخر کلمۃ تکلف بھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عند موتہ انہ قال اللھم الرفیق الاعلی (روح ج 1 ص 161، شرح الصدور ص 104) ان روایتوں اور عبارتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ شہداء اور دیگر اموت کی طرح انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا مستقر اعلی علیین ہے نہ کہ ان کے ابدان کیونکہ ان کے ابدان مبارکہ تو قبور ارضی میں مدفون ہوتے ہیں لیکن دیگر اموت کے برعکس ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت اور شرف عطا فرمایا ہے کہ ان کے ابدان قبروں میں بالکل اسی طرح صحیح سالم رہیں گے جس طرح رکھے گئے تھے اور مٹی ان کو نہیں کھائے گی ان کے ابدان کو محفوظ رکھنے کی اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔ لیکن غیر انبیاء علیہم السلام خواہ شہداء ہوں یا عامۃ المسلمین ان کے لیے ایسی کوئی ضمانت نہیں اور اگر کسی صدیق وشہید کا یا کسی اور برگزیدہ خدا کا بدن قبر میں محفوظ رہے اور مٹی اسے نہ کھائے تو یہ بھی کوئی بعید نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے۔ باقی رہا ارواح کا تعلق ابدان کے ساتھ تو اس کے متعلق بتحقیق یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ سے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اور نہ ہی صحابہ کرام، تابعین اتباع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے ارشادات واقوال میں تعلق روح بجسم عنصری کا کوئی نفیاً واثباتاً ذکر اذکار ہے۔ برزخ میں حیات انبیاء علیہم السلام اور حیات شہداء کرام کی جو کیفیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی ہے وہ اوپر مذکور ہوچکی ہے۔ قرون ثلثہ میں یہ اسی طرح منقول ہو کر نیچے تک چلی آئی ہے لیکن تعلق کا قصہ کسی نے نہیں چیڑھا۔ البتہ چوتھی صدی کے بعد سے شارحین حدیث نے بعض حدیثوں میں تطبیق کے سلسلے میں تعلق روح بجسد عنصری کا مختلف عنوانات سے ذکر کیا ہے کسی نے اتصال معنوی سے کسی نے اشراق سے کسی نے اشراف سے اور کسی نے مثل تعلق صاحب خانہ بخانہ وعاشق بمعشوق وغیرہ الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ البتہ اس پر سب متفق ہیں کہ یہ تعلق ایسا نہیں جیسا کہ حیاتِ دنیا میں تھا بلکہ یہ تعلق بے کیف ہے اور اس کی حقیقت وکیفیت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اس لیے عالم برزخ میں تعلق ارواح بابدان عنصریہ کے بارے میں سکوت سب سے احوط مسلک ہے کیونکہ قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر میں تعلق کا کوئی ذکر اذکار نہیں لیکن اگر کوئی شخص غیر معلوم الکیفیت تعلق کا اثبات کرتا ہے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں کیوں متقدمین میں ایک کثیر تعداد مختلف عنوانات کے ساتھ اس کی قائل ہے لیکن اس تعلق کے باوجود ان کے مدفون فی القبور ابدان میں کسی قسم کی حرکت یا جنبش پیدا نہیں ہوتی اور نہ قیامت سے پہلے ان کے یہ ابدان قبروں سے باہر نکلیں گے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل اور تسلیم شدہ ہے۔ خلاصۃ الکلام یہ کہ برزخ میں انبیاء علیہم السلام کو جو حیات حاصل ہے وہ ہمارے ادراک وحواس سے بالا ہے۔ لیکن حیات شہداء سے بہت بلند اور اعلیٰ ہے اور پھر حضرت سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات تمام انبیاء علیہم السلام کی نسبت ارفع واعلیٰ اور اتم واکمل ہے۔ والمراد بتلک الحیاۃ نوع من الحیاۃ غیر معقول لنا وھی فوق حیاۃ شھداء بکثیر وحیاۃ نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکمل واتم من حیاۃ سائرھم علیھم السلام (روح ج 22 ص 38)
    ایک اشکال
    یہاں ایک اشکال ہے جس نے بڑے بڑوں کو متحیر وسرگردان کر رکھا ہے اور جسے حل کرنے کے لیے بڑے بڑے شہسواران قلم دوڑا چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا مقام ومستقر اعلیٰ علیین ہے اور وہ نہ ان کے عنصری ابدان میں موجود ہیں اور نہ قبروں کے قرب وجوار میں اور ان کے ابدان قبروں میں مدفون ومحفوظ ہیں اور ارواح کا ابدان میں اعادہ نفخہ ثانیہ پر ہوگا اور اس وقت وہ قبروں سے نکلیں گے اس سے پہلے نہیں۔ لیکن صحیح حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج میں مختلف آسمانوں پر کئی انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کی اور بیت المقدس میں انبیاء علیہم کی امامت بھی فرمائی۔ نیز حدیث میں ہے آپ نے فرمایا کہ میں نے کثیب احمر کے قریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا نیز آپ نے فرمایا میں نے یونس (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ اونٹنی پر سوار تلبیہ پڑ رہے ہیں اور وادی میں اتر رہے ہیں اور بعض کاملین نے حالت بیداری میں حضور (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کو دیکھا۔ بعینہ یہی اشکال غیر انبیاء کے بارے میں ہے۔ کیونکہ بعض کاملین کو بھی بیداری کی حالت میں دیکھا گیا ہے تو ان مشاہدات اور منصوصات سے بظاہر یہ قاعدہ ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور دیگر اموات کے ابدان عنصریہ میں نہ قبروں میں جنبش ہوتی ہے اور نہ ہی قیامت سے پہلے وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔
    اشکال کا حل : اس اشکال کے کئی حل پیش کیے گئے ہیں لیکن بیشتر توجیہات دل کو مطمئن نہیں کرسکتیں بلکہ ان سے مزید پیچ در پیچ اشکالات پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صرف ایک حل ایسا ہے جس سے یہ اشکال نہایت عمدہ طریقہ سے حل ہوجاتا ہے اور کوئی الجھن باقی نہیں رہتی۔ محققین علماء اور صوفیا نے بھی اسے ترجیح دی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح حیات دنیا میں ارواح ابدان عنصریہ کے ذریعے متحرک ہوتی اور تمام اعمال وتصرفات بجا لاتی ہیں۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام اور بعض کاملین کی ارواح وفات کے بعد عالم برزخ میں مثالی اور برزخی اجسام کے ذریعے حرکت کرتی اور نماز تلاوت قرآن اور کئی دوسرے اعمال بجالاتی ہیں اگر کسی کامل بزرگ کو حالت بیداری میں کسی پیغمبر یا کسی فوت شدہ ولی کی زیارت بشکل انسانی نصیب ہوجائے تو یہ شکل اس کی مثالی شکل ہے اور اس کی روح مثالی جسم میں متشکل ہو کر اس کے سامنے آئی ہے اور اس کا عنصری جسم قبر میں بلا حرکت وجنبش موجود ہوگا۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں وعندی ان الحیاۃ فی البرزخ ثابۃ لکل من یموت من شہید وغیرہ وان الارواح وان کانت جواھر قائمۃ بانفسہا مغایرۃ لما یحس بہ من البدن لکن لا مانع من تعلقھا ببدن برزخی مغایر لھذا البدن الکثیف (روح ج 2 ص 21) یعنی میرے نزدیک برزخ میں ہر میت کو حیات حاصل ہے اور ارواح اگرچہ جواہر ہیں اور قائم بانفسہا ہیں اور ابدان محسوسہ کے مغایر ہیں لیکن اس میں کوئی ممانعت نہیں کہ ارواح کا تعلق برزخی جسم سے ہوجائے جو اس عنصری بدن کے مغایر ہو اور دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ الارواح المقدسۃ قد تظھر متشکلۃ ویجتمع بھا الکاملون من العباد وقد صح انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رای مرسی (علیہ السلام) قائما یصلی فی قبرہ وراہ فی السماء وراہ یطوف بالبیت (روح ج 15 ص 327) پاکیزہ روحیں کبھی متشکل ہو کر ظاہر ہوتی ہیں اور کامل بندے ان سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کھڑے ہو کر قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔ اور شب معراج میں۔ ان کو آسمان پر بھی دیکھا اور انہیں خانہ کعبہ کا طواف کرتے بھی دیکھا اور بیت المقدس میں انبیاء علیہم السلام کی امامت کے بارے میں آپ کا اپنا ارشاد ہے جس کی امام ابو یعلی نے مسند میں امام طبرانی نے کبیر میں تخریج کی ہے۔ قال مثل لی النبیون فصیلت بھم (بیضاوی ج 3 ص 112 ومظہری ج 5 ص 399) حضور (علیہ السلام) نے فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام میرے لیے مثالی اجسام میں حاضر کیے گئے اور میں نے انہیں نماز پڑھائی علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں۔ لکن تمام ھذا التوجیہ ان یقال ان المنظور الیہ ھی ارواحم فلعلھا مثلت لہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی الدنیا کما مثلت لہ لیلۃ الاسراء واما اجسادھم فھی فی القبور قال ابن المنیر وغیرہ یجعل اللہ لروحہ مثالا فیری فی الیقظۃ کما یری فی النوم (فتح الملہم ج 1 ص 330) یعنی حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر میں نماز پڑھتے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو حج کرتے دیکھنے کی پوری توجیہ یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے دیکھا وہ ان کی ارواح تھیں تو شاید دنیا میں آپ کے لیے ان کو مثالی شکلیں دی گئی ہوں جیسا کہ شب معراج میں انبیاء علیہم السلام کو آپ نے مثالی اجسام میں دیکھا لیکن ان کے ابدان عنصریہ قبروں میں موجود تھے اور وہ قبروں سے نہیں نکلے، ابن منیر وغیرہ نے کہا ہے کہ اللہ میت کی روح کو مثالی جسم عطا فرماتا ہے اور وہ جس طرح خواب میں دکھائی دیتا ہے اسی طرح بیداری میں بھی نظر آتا ہے۔ اور علامیہ سیوطی لکھتے ہیں وکذالک رویۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الانبیاء الانبیاء فی لیلۃ الاسراء فی السموات الصحیح انہ رای فیھا الارواح فی مثل الجسام (شرح الصدور ص 100) اور اسی طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شب معراج میں انبیاء علیہم السلام کو آسمانوں میں دیکھنا تو اس کے متعلق صحیح بات یہ ہے کہ وہاں آپ نے ان کی ارواح کو دیکھا تھا۔ جو مثالی اجسام میں متمثل تھیں۔ اسی طرح اگر کسی خوش بخت انسان کو بیداری میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے تو اکثر صوفیہ یہ فرماتے ہیں کہ اس نے آپ کے جسم مثالی کی زیارت کی ہے نہ جسم عنصری کی چنانچہ امام غزالی فرماتے ہیں لیس المراد انہ یری جسمہ وبدنہ بل مثالا لہ صار ذالک المثال الۃ یتاوی بھا المعنی الذی فی نفسہ (روح المعانی ج 22 ص 37) اور شیخ علاء الدین قونوی فرماتے ہیں۔ وسادہ صوفیہ قدس اللہ اسرارہم عالمی متوسط در عالم اجساد وارواح اثبات کردہ اند کہ آنرا عالم مثال گویندا لطف از عالم اجساد واکثف از عالم ارواح وظہور ارواح در صور مختلفہ متبنی بر ان ساختہ وظہور جبریل (علیہ السلام) بصورت وحیہ کلبی وتمثل اور مریم را بصورت بشر سوی الخلق ازان عالم میدارند وبناء علیہ جائز بود کہ موسیٰ (علیہ السلام) باوجود استقرار در آسمان ششم بشج وکر مثالی در قبر متمثل باشد وآنحضرت اوراد ہر دو مکان مشاہدہ فرمودہ وبعد از اثبات عالم مثال جواب از مسائل کثیرہ بیرون آید واشکالات بسیار مثل بیان سعت جنت ورویت اوو در عرض حائط مثلا منحل گردانتی کلام الشیخ (جذب القلوب ص 209) صوفیائے کرام عالم اجساد اور عالم ارواح کے درمیان ایک اور عالم تسلیم کرتے ہیں جسے وہ عالم مثال کہتے ہیں جو عالم اجساد سے زیادہ لطیف ہے لیکن عالم ارواح کے مقابلہ میں کثیف ہے اور ارواح کا مختلف شکلوں میں ظاہر ہونا ان کے نزدیک اسی عالم مثال کے وجود پر مبنی ہے اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کا حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں اور حضرت مریم علیہا السلام کے سامنے بشر کی صورت میں متمثل ہونا اسی قبیل سے ہے اور اس بنا پر یہ جائز ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چھٹے آسمان پر موجود ہونے کے ساتھ ساتھ پیکر مثالی کے ساتھ قبر میں بھی متمثل (ہوکر نماز پڑھ رہے) ہوں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (شب معراج میں) ان کو دونوں جگہ دیکھا ہو اور عالم مثال کا وجود تسلیم کرلینے سے بہت سے مسائل کا جواب نکل آتا ہے اور بہت سے اشکالات حل ہوجاتے ہیں مثلاً جنت کی وسعت کا بیان اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز میں جنت کو دیوار کی عرض میں دیکھنا وغیرہ (یہ سب عالم مثال کی چیزیں ہیں)۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی مسئلہ حیات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں طویل بحث وتمحیص کے بعد اصل حقیقت کی اس طرح ترجمانی فرماتے ہیں“ وحقیقت آنست کہ تحقیق مسئلہ حیات انبیاء علیہم السلام وغیر ایشان موقوف بمعرفت این عالم است وتحقیق دیدن آنحضرت موسیٰ ویونس را علیہ وعلیہما السلام بمعرفت زمان ومکان روحانیات وتمییز وفرق آنہا از زمان ومکان جسمانیات چنانچہ محققین صوفیہ کردہ انددست دہد الخ ” (جذب القلوب ص 209) اور حقیقت یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور غیر انبیاء کی عالم برزخ میں حیات کا مسئلہ اس عالم (عالم مثال) کی پہچان پر منحصر ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضرت موسیٰ اور یونس علیہما السلام کو دیکھنے کی تحقیق روحانیات کے زمان ومکان کی معرفت اور محققین صوفیہ کے بیان کے مطابق جسمانیات کے زمان ومکان سے ان کے امتیاز ہی سے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اسی طرح حضرت خضر (علیہ السلام) کو کئی بزرگوں نے عالم بیداری میں دیکھا ہے تو چونکہ قول محقق اور مسلک صحیح کے مطابق ان کی وفات ہوچکی ہے اس لیے صوفیائے کرام میں سے بھی بعض کاملین نے فرمایا ہے کہ خضر (علیہ السلام) کی رویت مثالی اور عالم مثال کی چیز ہے جسد عنصری کے ساتھ نہیں جیسا کہ حضرت شیخ صدر الدین اسحاق قونوی اپنی کتاب تبصرۃ المبتدی وتذکرۃ المنتہی میں فرماتے ہیں۔ ان وجود الخضر (علیہ السلام) فی عالم المثال (روح ج 15 ص 326)۔
    (نوٹ) س میں کتابت کی غلطیاں ہو سکتی ہیں ۔ معاف فرمائے گا

اس صفحے کو مشتہر کریں