مسئلہ دریافت کرنا ہے

'متفرق مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏دسمبر 7, 2012۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,351
    موصول پسندیدگیاں:
    1,734
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    آج کچھ دیر پہلے ہماری اردو پر گیا وہاں پر ایک موضوع دیکھا امہات المؤمنین کے بارے میں اس میں “ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن“ کا لفظ دیکھا میں نے اکثر علماء سے اور کتب میں یہ پڑھا ہے “ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہُما “ یا امہات المؤمنین رضی اللہ عنہُما سنا اور پڑھا ہے اور اس موضوع میں عنہَا یا عنہُما کی جگہ عنہن لکھا ہے اور اگر ہم کسی صاحبیہ کا نام لکھتے ہیں تو آخر میں عنہَا یا عنہُما لکھتے اور کہتے ہیں

    میں نے علماء سے یہ بھی سنا عربی کا ایک لفظ تبدیل کرنے سے معنٰی بھی تبدیل ہوجاتا ہے جیسے قُل ھواللہ احد کا معنٰی ہے کہو اللہ ایک ہے اگر ہم قاف کی جگہ کاف لگادیں تو معنٰی ہو گا کھاؤ اللہ ایک ہے تو معنٰی میں فرق آگیا اس لیے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں رضی اللہ عنہُما یاعنہَا کی جگہ عنہن کہنا کیسا ہے رہنمائی فرمائیں

  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عنہن جمع کےلئے لکھاجاتاہے،عنہماتثنیہ یعنی دوکےلئے اورعنہاواحدیعنی اکیلے کے لئے بولاجاتاہے۔
    اسی طرح مردوں کے لئے یہ ترتیب اس طرح ہے۔واحدکےلئے عنہ۔دوکے لئے عنہمااورتین یاتین سے زائدکےلئے عنہم بولاجاتاہے۔

    الجواب الصحیح
    رضوان یونس
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,351
    موصول پسندیدگیاں:
    1,734
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بھت بھت شکریہ مفتیان اکرام کا کہ آپ لوگوں نے میری رہنمائی فرمائی

    جزاک اللہ خیراً

اس صفحے کو مشتہر کریں