مسلمان عورت

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 20, 2019۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,623
    موصول پسندیدگیاں:
    787
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مسلمان عورت​
    "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور خواتین کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔ انہیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ سب سے اوپر والا حصہ ہوتا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اسے توڑ دو گے اور اگر اس کے حال پر رہنے دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی خواتین کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو"(مسلم شریف)
    عورت کا جسمانی ضعف
    انیسویں صدی کے انسائیکلوپیڈیا کا مصنف لفظ عورت پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے
    " مرد و عورت میں اعضائے تناسل کی ترکیب و صورت کا اختلاف اگرچہ ایک بڑا اختلاف نظر آتا ہے، لیکن صرف یہی ایک اختلاف نہیں ہے - عورت کے اور تمام اعضاء سر سے پیر تک مرد کے اعضاء سے مختلف ہیں- یہاں تک کہ وہ اعضاء بھی جو بظاہر مرد سے بےحد مشابہ نظر آتے ہیں"۔
    پھر علم تشریح کی تحقیقات کے موافق عورتوں کے اعضاء پر نہایت دقیق پر بحث کی ہے اور تمام بحث کا آخر میں یہ نتیجہ نکلا ہے: "درحقیقت عورت کی جسمانی ترکیب قریب قریب بچے کی جسمانی ترکیب کے واقع ہوئی ہے۔ اس لیے تم دیکھتے ہو کہ بچے کی طرح عورت کا بھی حاسہ ہر قسم کے اثر سے بہت جلد اور بہت زیادہ متاثر ہو جاتا ہے۔ بچے کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی رنج اور افسوس کا واقعہ پیش آیا تو فورا‌ رونے لگتا ہے۔ اگر کوئی خوشی کی بات ہو تو بے اختیار ہوکر اچھلنے کودنے لگتا ہے۔ قریب قریب یہی حال عورت کا ہے کہ بنسبت مرد کے بہت زیادہ اس قسم کے جذبات سے متاثر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ موثرات اس کے تصور پر اس طرح اثر ڈالتے ہیں کہ عقل کو ان سے لگاؤ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں استقلال نہیں ہوتا اور اس لیے سخت اور خوفناک موقع پر عورت ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔
    عضلات کے حجم و قوت کے لحاظ سے بھی عورت مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ڈاکٹر" فارینی" انسائیکلوپیڈیا میں لکھتا ہے کہ:
    " مجموعی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو عورت کے جسم کے عضلات مرد کے عضلات سے اس درجہ مختلف ہیں اور حجم و قوت کے لحاظ سے عورت کے عضلات اس قدر ضعیف ہیں کہ اگر ان کی طبعی قوت کے تین حصے کیے جائیں تو دو حصے قوت مرد کے حصے میں آئے گی اور صرف ایک حصہ قوت عورت میں ثابت ہوگی۔ عضلات کی حرکت کی سرعت اور ضبط کا بھی یہی حال ہے۔ مرد کے عضلات کے جسمی میں عورت کی نسبت حرکت میں زیادتی اور اپنے فعل میں زیادہ قوی ہیں"
    عورت کا دماغی ضعف: مشھور نہلسٹ فلاسفر علامہ بروڈن اپنی کتاب "ابتکارا لنظام "میں لکھتا ہے کہ:
    " عورت کا وجدان بمقابلہ مرد کے وجدان کے اسی قدرضعف ہے جس قدر اس کی عقلی قوت مرد کی عقلی قوت کے مقابلہ میں ظعیف نظر آتی ہے۔ اس کی اخلاقی قوت بھی مرد کے اخلاق سے بالکل مختلف ہے اور دوسری قسم کی طبیعت رکھتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جس چیز کے حسن وقبح کے متعلق یہ رائے قائم کرتی ہے وہ مردوں کی رائے سے مطابقت نہیں ہوتی۔ بس مرد اور عورت میں عدم مساوات کوئی عارضی امر نہیں ہے بلکہ عورت کی طبعی خاصیت پر مبنی ہے"
    حواس خمسہ:
    جس پر انسان کی عقل اور دماغی نشوونما کا دارومدار ہے۔ اس میں بھی سخت اختلاف پایا جاتا ہے ۔علامہ نیکولس اور علامہ بیلی نے ثابت کردیا ہے کہ عورت کے حواس خمسہ مرد کے حواس سے ضعیف تر ہیں۔
    (1) ایک عورت کی قوت شامہ کی طاقت سے یہ امر باہر ہے کہ وہ خاص فاصلہ سے عطر، لیموں کی خوشبو محسوس کر سکے۔ برخلاف مرد کے کہ اس کی قوت شامہ اس قدر قوی ہے کہ وہ اس درجے کی خوشبو کو آسانی سے محسوس کرلیتا ہے جس مقدار کی خوشبو سے عورت کو احساس ہو سکتا ہے۔
    (ب)اس تجربے سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عورت کہ عورتہلکے براسک ایسڈ کی بو۲۰۰۰۰/ ۱ کی نسبت سے اور مرد ۱۰۰۰۰۰/ ۱ سے محسوس کر سکتا ہے جو ذوق کی بین دلیل ہے۔
    (ج) ذوق اور سمع کا حاسہ بھی عورت سے مرد کا بہت زیادہ قوی ہے۔ اس کے لیے تشریحی دلیل کی ضرورت نہیں ۔انسائیکلوپیڈیا نے تصدیق کردی ہے کہ: "اس ضعف کا نتیجہ ہے کہ طعام کی عمدگی اور بدمزگی پہچاننے والے، آواز کے پرکھنے والے اور پیانو کی راگوں کے نقاد کل کے مرد ہیں ۔ایک عورت نے بھی خود کو ان باتوں میں باکمال ثابت نہیں کیا"
    (د) قوت لامسہ کے متعلق علامہ نو بروزر اورسیر جی وغیرہ استادوں کی متفقہ تحقیق ہے کہ عورت میں یہ قوت مرد کی نسبت بہت ضعیف پائی جاتی ہے ۔ان کی محققانہ دلیل یہ ہے کہ جن آلام اور تکالیف کی متحمل عورت ہوتی ہےمرد اس قدر نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ ظاہری فرق بتلا رہا ہے کہ مرد کی نسبت عورت کی قوت احساس ضعیف بلکہ ضعیف تر ہے۔ علامہ نوبروز کے اصلی الفاظ یہ ہیں:
    " حمل اور وضع حمل کی شدید تکالیف پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ عورت دنیا میں کیسے کیسے آلام و مصائب کی متحمل ہو سکتی ہے ۔اگر مرد کی طرح اس کا احساس قوی ہوتا تو ان تمام سختیوں کی کیوں کر متحمل ہو سکتی۔ درحقیقت نوع انسان کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ قدرت نے اس کو قوی حصہ محروم رکھا ہے ورنہ بنی نو انسان کے نازک اور تکلیف دے فرائض کے انجام دہی ایک غیر ممکن بات ہو جاتی"
    عورت کی آزادی و فرائض کے متعلق علماء یورپ کا فیصلہ:
    علوم مادیہ کا افضل ترین عالم ،یورپ کا سر بر اوردہمصنف، ژول سیما اپنے ایک مضمون میں جو "ریویو آف ریویوز"میں شائع ہوا تھا۔ جس میں ایک فرانسیسی عالم نورو یا کی تصنیف پر ریویو کیا تھا لکھتا ہے: "عورت کو چاہیے کہ عورت رہے، ہاں بےشک عورت کو چاہیے کہ عورت رہے۔ اسی میں اس کی فلاح ہے یہی وہ صفت ہے جو اس کو سعادت کے منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے اور قدرت کی ہدایت ہے۔ اس لئے جس قدر عورت اس سے قریب تر ہو گئی اس کی قدرومنزلت بڑھے گی اور جس قدر دور ہوگی اس کے مصائب ترقی کریں گے، بعض فلاسفر انسان کی زندگی کو پاکیزگی سے خالی سمجھتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ انسان کی زندگی دلفریب پاک اور بے حد پاکیزہ ہے ہر مرد اور ہر عورت اپنے ان مدارج سے واقف ہو جائے جو قدرت نے اس کے لئے قرار دیے ہیں اور اپنے ان فرائض کو ادا کرے جو قدرت نے اس کے متعلق کر دیے ہیں" تم کو حیرت ہوگی کہ عظیم فلاسفر عورت کو عورت رہنے کی تعلیم کیوں دیتا ہے ؟حالانکہ کوئی عورت اپنے جنسی دائرے سے باہر قدم نہیں رہ سکتی ۔ عورت عورت ہے اور مرد مرد مگرحیرت رفع ہو جائے گی جب تم کو یہ معلوم ہو گا کہ قلعہ یورپ، یورپ کے عورتوں کو عورت تسلیم نہیں کرتے، کیوں کہ درحقیقت انہوں نے اپنے جنسی فرائض بھلا دیے ہیں اور اپنی طبعی دائرے سے باہر قدم نکالنا چاہتی ہیں۔ یہی عالم ایک اور موقع پر لکھتا ہے :
    "جو عورت اپنے گھر سے باہر کی دنیا کے مشاغل میں شریک ہوتی ہے اس میں شک نہیں کہ عالم بسیط کا فرائض انجام دیتی ہے مگر افسوس ہے کہ عورت نہیں رہتی"
    مشہور مصنف پروفیسر "جیوفریرو"نے ان عورتوں کی افسوسناک حالت کی تصویر کھینچی ہے جو یورپ میں موجودہ آزادی سے متاثر ہوکر مردوں کے مشاغل میں شریک ہوگئی ہیں۔ وہ لکھتا ہے :
    "ان عورتوں کو معاشرت کے اصول "زوجیت" سے سخت نفرت ہے ۔قدرت نے جس غرض سے ان کو مخلوق کیا ہے اور جس کام کے لیے ان کو جسمانی اور دماغی عطا کئے ہیں اس کو بالکل فراموش کر دیا ۔ان میں وہ طبعی خاصہ اور جنسی امتیاز بالکل نہیں پایا جاتا جو ان کی ہم عمر عورتوں میں فطرتا موجود ہے۔ ان کی حالت ایک ایسے درجے تک پہنچ گئی ہے جس کو مالیخولیا سے تعبیر کرنا چاہئے ۔درحقیقت نہ ان کو مرد کہا جاتا ہے اور نہ وہ عورت ہیں، بلکہ ایک تیسری جنس کا نمونہ بن گئی ہیں۔ اگر وہ مرد اس لئے نہیں ہیں کہ مردوں سے تبعا اور ترکیبا مختلف الجنس ہیں تو عورت بھی اس لئے نہیں ہیں کہ ان کا عمل اور وظیفہ فرائض نسوانی سے بالکل مختلف ہے۔علمائے یورپ اس عظیم الشان نقص مدنیت پر غور کر رہے ہیں جو قوانین قدرت کے منافی اور اسکو حدود کو توڑنے والا ہے۔ اگر عورتوں کی یہ افسوسناک حالت اسی طرح کچھ عرصے تک قائم رہی تو سمجھ لینا چاہئے کہ عنقریب سوسائٹی میں ایک عظیم الشان خلل پیدا ہونے والا ہے جو تمدن اور معاشرت کی بنیادوں کو متزلزل کر دے گا "۔
    سموئیل سمائلز انیسویں صدی کا مشہور عالم اور انگلستان کے جدید تمدنی دور کا مسلم موسس ہے اپنی گراں بہا تصنیف "الاخلاق" میں انگلستان کی آزاد عورتوں کی حالت پر بحث کرتے ہوئےلکھتاہے:
    "قدیم اہل رومہ کے نزدیک شریف اور"ربۃ العائلہ"عورت کی سب سے زیادہ قابل تعریف اور اعلی درجہ کی قابل مدح بات یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ گھرمیں بیٹھنے والی اور گھر سے باہر کی کشمکش سے محفوظ ہے ۔ہمارے زمانے میں بھی کہا جاتا ہے کہ عورت پر جغرافیہ کی تعلیم اس لئے واجب ہے کہ وہ اپنے گھر میں مناسب رخ اور صحیح سمت پر کھڑکیاں بنواسکےاور علم کیمسٹری کی تحصیل اس لئے فرض ہے کہ جوش کی حالت میں دیگچی کی حفاظت کر سکے۔ کیونکہ لارڈ بائرن باوجود اس میلان اور رغبت کے جو اس کو عورتوں کی طرف سے تھی، یہ راہ رکھتا ہے کہ عورتوں کے کتب خانہ میں "بائبل" اور "طباخی"کی کتاب کے سوا اور کوئی کتاب نہیں ہونا چاہیے، مگر یہ رائے عورتوں کے اخلاق اور تہذیب کے لحاظ سے غیر معقول اور ان کی ترقی میں ایک رکاوٹ سمجھی جاتی ہے"۔
    قدیم اہل روما اور لارڈ بائرن کی رائے لکھ کر جس کا درحقیقت وہ موید اور حامی ہے عورتوں کی آزادی اور تعلیم کے مطابق یورپ کے عام رائے نقل کرتا ہے اور اس کو ایک جنون اور مدینت کے لیے بے حد مضر قرار دیتا ہے ۔
    قوانین قدرت کا نکتہ شناس اور استاذ الاساتذہ علامہ "اگسٹ" کونت النظام السیاسی علی حسب الفسفسۃ الحسیہ میں لکھتا ہے:
    " ہم بغیر اس کے کہ عورتوں کی آزادی کے ناممکن الحصول خیالی ہنگاموں کو توڑنے کی تکلیف گوارا کریں ۔نظام حقیقی اور قانون قدرت کی قدر شناسی کے لیے ہم پر
    سب سے پہلے اس بات کا احساس کرنا فرض ہے کہ اگر کسی زمانہ میں عورتوں کو وہ دماغی مساوات حاصل ہو جائے جس کو اس کے خواہ مخواہ کے ہمدرد اور وکیل طلب کر رہے ہیں تو صرف عورتوں کی اخلاقی حالت ہی کو صدمہ نہیں پہنچے گا بلکہ سوسائٹی کے قیام و انتظام کے لیے عورت کی جو ذمہ داری قدرت نے مقرر کی ہے وہ بھی ٹوٹ جائے گی۔ کیونکہ ایسی حالت میں عورت کو روزانہ قومی مزاحمتوں کے پیش آجانے کی وجہ سے اکثر کاموں میں اپنی عاجزی سے تنگ آ جانا پڑے گا اور معاشرت اور تمدن کے نہایت ضروری اعمال انجام نہ پا سکیں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرت کی دلفریبی مصائب و آلام سے مبدل ہوجائے گی۔ منزلی زندگی کی شیرینی میں تلخی پیدا ہوجائے گی۔ مرد اور عورت کی باہمی اور مشترکہ محبت کا صاف سرچشمہ مقدر ہو جائے گا اور کشاکش کائنات میں یہ دونوں جنسیں آج جس طرح مل جل کر مسرت بخش زندگی بسر کررہی ہیں، یہ بالکل مفقود ہوجائے گی. "
    یہی فیلسوف اعظم ایک اور موقع پر لکھتا ہے:
    " مردوں کے مشاغل میں عورتوں کی شرکت سے جو خوفناک نتائج اور فساد پیدا ہو رہے ہیں ان کا علاج یہی ہے کہ دنیا میں جنس عامل )مرد)پر محب(عورت) کے جو مادی فرائض ہے ان کی حد بندی اور تعین کر دی جائے"۔
    " مرد پر واجب ہے کہ عورت کے تغذیہ کا انتظام کرے۔ یہی وہ قانون طبعی اور ناموس الہی ہے جو جنس محبت کی اصل زندگی کو منزلی دائرے میں محدود کرتا ہے۔ یہی وہ قاعدہ ہیں جو ہئیت اجتماعی کے خوفناک اور مہیب اشکال کو احسن اور اکمل کر دیتا ہے۔ یہی وہ قانون ہے جو عورت کو اپنے طبعی جذبات سے ترقی نوع انسانی جیسے شریف فرض کی بجا آوری پر آمادہ کرتا ہے۔ پس وہ تمام مادی ترقی اور علمی کمال جو عورت کی موجودہ حالت ہم سے طلب کر رہی ہے محال قطعی اور محض ناممکن ہے کیونکہ اس ناموس الہی اور قانون تبعی سے منطبق نہیں ہو سکتی اور چونکہ یہ خواہش ناموں الہی کے خلاف ہے اور اس کے حکم کو روکنا چاہتی ہے اس لئے طبعِی جرم کے اثر سے سوسائٹی کا کوئی علاقہ اور حصہ محفوظ نہیں رہ سکتا"
    ہم سے پہلے دنیا میں ایسی قومیں گزر چکی ہیں جن پر اسی قسم کے خیالات منجمد ہو گئے تھے۔ انہوں نے قوانین قدرت کی تعلیم سے روتا بی کی تھی اور خدا کے بتائے ہوئے حدود کو توڑنا چاہتا تھا۔ مگر ان اقوام کا یہ نتیجہ ہوا کہ سوسائٹی میں ایسے رنجیدہ اور بربادکن نتائج پیدا ہو گئے جنہوں نے ان کو رفتہ رفتہ برباد کردیا اور اس طرح بے نام و نشان کر دیا کہ آج ہم ان کے وجود سے بھی بے خبر ہیں ۔فلسفہ تاریخ نے اس قسم کے تاریخی شواہد اور گزشتہ امم کے حوادث کو ایک علمی استقرار قرار دیا ہے جس کے پیش نظر ہونے کے بعد ممکن نہیں کہ خیالی فلسفہ کی دلفریبی سے طبیعت متاثر ہو۔(مسلمان عورت)
    مخبر اعظم،سید الکونین ﷺ ِ
    " حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم لوگوں کی بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟
    حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ جب تم پہنوتو اس کو بھی پہناؤ اور چہرے پر مت مارو اور برا بھلا مت کہو۔
    " حکیم الامت حضرت تھانوی قدس اللہ سر اپنے مواعظ میں جابجا زور دیا ہے اور عام طور پر ان باتوں کی طرف سے غفلت پائی جاتی ہے ،پہلی بات جو ہوئی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی وہ یہ کہ نہ صرف یہ نہیں ہے کہ بس کھانے کا انتظام کردیا اور کپڑے کا انتظام کردیا بلکہ نفقہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ کھا نے اور کپڑے کے علاوہ بھی کچھ رقم بطور خرچ کے بیوی کو دی جائے۔ جس کو آزادی کے ساتھ اپنی خواہش کے مطابق صرف کر سکے۔ بعض لوگ کھانے کپڑے کا تو انتظام کر دیتے ہیں لیکن جیب خرچ کا اہتمام نہیں کرتے"(تحفہ دولھا)
    " اسلام نے عورتوں کی کمزوریوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے جو اسے مرد کے مقابلے میں قدرت کے خزانے سے عطا ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے باہمی زندگی کی صدارت اور عمارت مرد کے سر ڈالی گئی۔ اللہ تعالی نے مرد کی صدارت کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا "مرد عورتوں پر حاکم ہے اس سبب سے اللہ تعالی نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے" (القرآن )حضرت شاہ ولی اللہ حجۃ البالغہ میں تحریر فرماتے ہیں" فطرت کا تقاضا ہے کہ مرد عورت پر غالب ہوں اس لئے کہ مرد عقل میں کامل 'سیاست میں ماہر ،حمایت میں مضبوط ہیں اور اس لئے بھی کہ مرد عورت کے لئے گھر روٹی اور کپڑا مہیا کرتا ہے۔ جدید تحقیق بھی اس کی تائید کرتی ہیں (اسلام کا نظام عصمت وعفت )
    مولانانورالحسن انور نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,532
    موصول پسندیدگیاں:
    138
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    لگتا ہے آجکل حقوق نساء پہ قلم دوڑ رہا ہے
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,623
    موصول پسندیدگیاں:
    787
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India

اس صفحے کو مشتہر کریں