مسلکِ دہ در دہ

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏دسمبر 18, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مسلکِ دہ در دہ
    مفتی محمد نعیم صاحب الٰہ آبادی ،مظاہری
    معاف کیجئے گا، مسلکِ دہ دردہ کہہ کر میرا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہ کوئی ایسا محدود مسلک ہے، جس کے حدود اربع صرف دس بائی دس ہی ہوں، یہ توایک فقہی تعبیر ہے، جس سے یہ سمجھانا ہے کہ اس مسلک میں جوبھی گر پڑے یا کسی اور مسلک کا آدمی اس مسلک میں لڑھک آئے، تو گرنے والا بھی اور جو اس میں گرے وہ بھی، دونوں پاک ! اس لئے میں نے دہ دردہ کا جملہ استعمال کیا، خیر ! اگر یہ عنوان آپ پر گراں بار ہو تو آپ ایک سادہ سا نام اس کا ’’گلابی مسلک ‘‘ رکھ لیجئے، مجھے تو اس وقت صرف یہ عرض کرنا ہے یہ مسلک بڑا سدا بہار مسلک ہے، اس پر کبھی خزاں آتا ہی نہیں یا یوں کہئے کہ یہ موسمِ’’ خزاں ‘‘ میں جاتا ہی نہیں، اس مسلک کا باغ ہمیشہ سرسبز شاداب ہی رہتا ہے۔
    ایک روز اسی مسلک کے ایک صاحب ملے،باتوں باتوں میں گاؤں میں جمعہ کی بات نکل آئی انہوں نے راقم سے مسئلہ معلوم کیا راقم نے گاؤں میں جمعہ کے عدم جواز کا مسئلہ بتایا ،توکہنے لگے، واہ صاحب وا!اگر گاؤں میں جمعہ پڑھنا اتنا ہی ناجائز ہے، توامام شافعیؒ نے جنگل میں جمعہ پڑھنے کی اجازت کیوں دی؟ احقر نے عرض کیا وہ امام شافعیؒ کا مسلک ہے حنفیہ کے یہاں اجازت نہیں۔
    راقم کے فتوے کے بعد موصوف نے بڑے معقولانہ انداز میں ایک تقریر کی، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ
    ’’ گاؤں میں جمعہ پڑھنا مسلک حنفی کے خلاف ہو، تو ہو، مگر مذہب اسلام کے خلاف نہیں،اس لئے کہ اگر مذہب اسلام کے خلاف ہوتا تو امام شافعیؒ گاؤں میں جمعہ پڑھنے کی اجازت ہر گز ہرگز نہ دیتے اور آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی نگاہ بد مذہب اسلام کوسبو تاز کرنے پرلگی ہوئی ہے،اور آپ ہیں کہ مسلک حنفی کو لئے پھر رہے ہیں، اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ اس وقت گاؤں میں جمعہ پڑھا جائے‘‘
    ان باتوں کے علاوہ گاؤں میں جمعہ پڑھنے کے اور بہت سے منافع شمار کرائے،بظاہر ان کی تقریر دل پذیر نہایت معقولانا تھی میں نے کہا مولانا! بس کیجئے۔
    گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
    کار طفلاں تمام خواہد شد
    اگر آپ کی یہی دلیل ادلۂ اربعہ کے قائم مقام ہے تو پھر مسالک کا جھگڑا آج ہی سے ختم، اور صرف ایک جمعہ ہی کیا سارے مسائل مختلف فیہا میں اسی طرح کر لیا جائے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ کوئی حنفی، حنفی رہ جائے گا، اور نہ شافعی، شافعی اسی کواحقر مسلک دہ دردہ کہا کرتاہے۔
    بعض حضرات جو اپنے کو مسلکی اعتبار سے حنفی یا شافعیؒ ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ بھی مسلک دہ دردہ کے کسی نہ کسی طرح شکار ہیں، ان حضرات کی ایک معقولی دلیل یہ ہے کہ جو بات نصِ صریح سے ثابت ہو اس میں تو متصلب رہنا چاہئے، اور اس کے برعکس میں متساہل ہونا چاہئے، ایک دن اسی مسلک کے ایک مولانا صاحب کا بیان ایک صاحب نے سنایا، مسئلہ گستاخ رسول کی سزائے قتل کاتھا، انہوں نے نہایت معقولی انداز میں فرمایا کہ قتل جیسی عقوبت (سزا)کے لئے نص صریح کی ضرورت ہے، اس لئے کہ عقوبات میں نص صریح لازمی ہے، توعقوبت جتنی بڑی ہوگی دلیل بھی اتنی ہی قوی ہونی چاہیے، گستاخ رسول یا شاتم رسول کے لئے کہیں بھی قرآن مجید میں نہیں آیا ہے ’’ من شتم رسولکم فاقتلوہ‘‘ کہ جو شخص تمہارے رسول کو گالی دے تو تم اس کو قتل کردو، بات بظاہر بہت معقول تھی بعض پڑھے لکھے حضرات بھی اس سے متاثر ہوئے، میں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے اور ادلۂ اربعہ میں صرف قرآن ہی نص ہے ، تو ماتم ہے ایسی عقل پر اور افسوس ہے ایسے لوگوں پر جو یہ چاہتے ہیں کہ ع
    باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی
    ان کے علاوہ ایک گروہ ان لوگوں کابھی ہے جو یقیناًہر اعتبار سے اپنے مسلک میں متصلب ہوتے ہیں، مگر ہوتے ذرا ’’گلابی مسلک ‘‘کے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ جو چیز قرآن و حدیث، قیاس اور اجماع امت سے ثابت ہے ان میں تو کسی طرح کی لچک یا مداہنت جائز نہیں، اور جو غیر منصوص ہیں ان میں تسہیل رکھنی چاہئے، جیسے اجرت تراویح، شادی بیاہ میں جہیز وبارات، یا فوٹوگرافری وغیرہ وغیرہ۔
    اس ذہنیت کے لوگ اس چور دروازے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے میں ایسا گڈ مڈ ہوجاتے ہیں کہ جہاں پہونچ کر دیوبندیت ، بریلویت اور سنیت، شیعیت میں ضم ہوکر رہ جاتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کس مسلک کے ہیں، اس طرح کے لوگ ایسا چوں چوں کا مربہ بن جاتے ہیں کہ ان شناخت وتعین ہی مشکل ہوجاتی ہے، ان حضرات کا اصل نعرہ بزبان حالی یہ ہوتا ہے کہ ع
    چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
    یعنی اقبال کے نظریہ کے بالکل برعکس کہ ع
    زمانہ باتو نہ سازد تو با زمانہ ستیز
    صحیح بات تو یہ ہے کہ مسلک دہ دردہ میں مزا بھی ہے اور غذا بھی، جی تو چاہتا ہے کہ میں بھی اپنا نام اسی مسلک کے اسکول میں لکھوا لوں مگر ڈر لگتا ہے کہ کہیں آخرت میں یہ نہ کہہ دیا جاؤں کہ ’’ اذھبتم طیبٰتکم فی حیاتکم الدنیاواستمتعتم بھا، فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون‘‘ (الاحقاف /۲۰)
    یعنی تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے ہو، اور ان سے متمتع ہوچکے ہو،سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے، یہ اس کی سزا ہے کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے، اور اس کی حکم عدولی کیا کرتے تھے۔
    بہر حال! عرض یہ کررہا تھا کہ یہ مسلک(یعنی دس بائی دس والا) کہ جس کی وسعت پید ناکنار سمندر کی طرح ہے، بہت مزے دار مسلک ہے، اس میں لوگ دھڑا دھڑا داخل ہورہے ہیں، بعض حضرات جو روشن خیال ہیں اس دہ دردگی کو سیکولرزم کا خوشنما عنوان دیتے ہیں، اور وقت و حالات کوبہانہ بنا کر اس کو بہت ضروری گردانتے ہیں، مگر ہمارے کچھ شریعت پسند علماء نہ جانے کیوں اس سے گھِن کرتے ہیں اور بہت باوثوق ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت اکبر الٰہ آبادی بھی انہیں دقیا نوسی علماء کے ساتھ ہیں ع
    مگر وہ کب تک اور انکی رباعیاں کب تک
    مضمون نگاراحقرکاشاگردہے حوصلہ افزائی فرمائیں
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مضمون بڑا مزیدار ،مزاح سے بھر پور۔جگہ جگہ چٹکی لی گئی ہے وہ بھی اتنی لطیف بس کچھ نہ کہئے۔ذرا دیکھیں
    “سحیح بات تو یہ ہے کہ مسلک دہ دردہ میں مزا بھی ہے اور غذا بھی، جی تو چاہتا ہے کہ میں بھی اپنا نام اسی مسلک کے اسکول میں لکھوا لوں مگر ڈر لگتا ہے کہ کہیں آخرت میں یہ نہ کہہ دیا جاؤں کہ ’’ اذھبتم طیبٰتکم فی حیاتکم الدنیاواستمتعتم بھا، فالیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تستکبرون فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون‘‘ (الاحقاف /۲۰)“

    اللہ کرے زور قلم اور ہو زیادہ
  3. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    635
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب ۔۔۔۔!
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔۔۔۔!
  4. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ کرے زور قلم اور ہو زیادہ
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    واہ ۔بہت خوب ۔ مزہ آ گیا ۔ زبردست انداز ہے ۔ معلوماتی بھی اور شوخ و چنچل بھی

اس صفحے کو مشتہر کریں