مسلکی آگ سے بچئے!

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏جنوری 10, 2013۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,291
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan


    دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم حکیم الامت حضرت مولانا قاری طیب قاسمی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کو دیکھا احمدرضاخان صاحب مرحوم سے اختلاف کے باوجود جب مجلس میں ذکر آتا تو فرماتے: مولانا احمد رضاخان صاحب-
    ایک مرتبہ ایک مجلس میں کسی نے صرف احمد رضا کہ دیا : حضرت تھانوی رحمہ اللہ خفاہوگئے ڈانٹا اور فرمایا: وہ عالم ہیں منصب کی بے احترامی کرتے ہو، رائے کا اختلاف اور بات ہے، مگر ان کی توہین اور بے احترامی کا کیا مطلب؟

    دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حجتہ السلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ دہلی میں مقیم تھے، حضرت کے مخصوص تلامذہ حضرت شیخ الہند،مولانا احمد حسن امروہی اور دوسرے شاگردان نے اپنے ہمجولیوں میں بیٹھ کرفرمایا: کہ لال قلعہ کے امام کی قرات بھت اچھی ہے ،کل صبح وہیں نماز اداکریں گے- حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے غصہ کے اندر آکر فرمایا: شرم نہیں آتی، وہ ہمارے حضرت کی تکفیرکرتا ہے، اور ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں! یہ بات حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے کان میں پہنچ گئی- اگلے دن صبح تمام شاگردوں کو لیکر حضرت نانوتوی رحمہ اللہ اسی مسجد میں نماز پڑھنے کی خاطر پہنچ گئے، نماز پڑھی ، سلام پھیرا، نمازیوں نے پوچھا: کون ہیں ؟ معلوم ہوا یہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ ہیں - امام صاحب نے سنا تو بڑھ کر مصافحہ کیا اور کہا: حضرت! آصج میں شرمندہ ہوں، میں ہمیشہ آپ کی تکفیر کرتا تھا، اور آپ نےمیرے پیچھے نماز پڑھی ، حضرت نانوتوی رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی بات نہیں! میرے دل میں آپ کے جزبے کی قدر ہے، بلکہ اس سے میرے دل میں آپ کی قدر اور بڑھ گئی ہے، امام صاحب کہنے لگے، کیوں؟ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے فرمایا: چونکہ آپ کے پاس جو روایت پہنچی ہے کہ میں توہین رسالت کا مرتکب ہوں اور جو بھی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتکب ہوگا ، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، تو یہ آپ کی غیرت ایمانی کا تقاضہ تھا کہ آپ مجھ پر کفر کا فتوی لگاتے، لیکن شکایت یہ ہے کہ اس روایت کی تحقیق کر لینی چاہئے تھی- آج میں یہ عرض کرنے آیا ہوں یہ خبر غلط ہے اور میں اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں جو ادنٰی درجہ بھی توہین کرے گا، اگر آپ کو یقین نہ آئے تو میں آپ کے ہاتہ پر میں اسلام قبول کرتا ہوں ، اور پڑھتا ہوں :“ اشھدان الا الٰہ الا اللہ و اشھدا ان محمدرسول اللہ_“

    مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اس میں شرکت فرماتے تھے- ایک سال جلسہ میں تشرف لائے دیکھا تو مغموم بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا: حضرت مزاج کیسا ہے؟ حضرت نے فرمایا: مزاج کیا پوچھتے ہو، میں نے عمر ضائع کردی - میں نے کہا: حضرت! آپ کی پوری زندگی تو علم دین کی خدمت و اشاعت میں گزری ہے،ہزاروں لاکھوں آپ کے شاگرد ہیں، فرمانے لگے، ہماری کدوکاوش کا خالاصہ صرف یہ تھا کہ دوسرے مسلک کے مقابلہ میں حنفیت کو ترجیع دے دوں ، جب کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہماری ترجیح کے محتاج نہیں ہیں ، پھر فرمانے لگے: ارے میاں! اجتہادی مسائل کا فیصلہ دنیا میں تو ہو نہیں سکتا، قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پوچھے گا رفع یدین حق تھا یا ترک رفع، آمین حق بالجبر تھا یا آمین بالسر اور نہ یہ پوچھا جائے گا فلاں امام نے کیا کہا: پھر فرمانے لگے: اور جو صحح بات اسلام کی دعوت تھی تھی، جس پر سب کا اتفاق تھا، جس کی دعوت عام کرنے کا ہمیں حکم دیاگیا تھا، وہ منکرات جن کے مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، اس کی دعوت ہی نہیں دی گئی، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے، شروبدعت کا دور دورہ ہے، حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے، اور ہم فروعی بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں - حضرت انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرمانے لگے: اس لیے غمگین بیٹھا ہوں ، لگتا ہے میں نے عمر ضائع کردی-

    شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن رحمہ اللہ جب مالٹا کے قید خانے سے واپس آئے تو فرمانے لگے، میں مالٹا کی قید سے دو سبق سیکھ کر آیا ہوں، فرمایا: جیل کی تنہائیوں میں جب میں نے غورکیا کہ پوری دنیا میں مسلمان ہر اعتبار سے تباہ کیوں ہو رہے ہیں؟ تو دو سبب معلوم ہوئے- ایک قرآن کریم سے دوری اور دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی- اس لیے میں جیل کی کوٹھری سے یہ عزم لیکر آیا ہوں کہ بقیہ زندگی انہیں ہی دو کاموں میں صرف کروں گا- مکاتب کے ذریعے قرآن پاک کو عام کروں گا، درس قرآن کا اہتمام کروں گا، اور مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کروں گا



    (نوٹ) یہ مضمون میں نے کہیں پڑھا تھا تقریبًا حرف بہ حرف یہاں لکھ دیا اور غالبًا یہ مضمون جناب خالد انور پورنوری المظاہری صاحب کا ہے جو ہفت روزہ ختم نبوت 8 جنوری والے شمارے میں شائع ہوا)
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت اچھا لگا پڑھ کر۔ جزاک اللہ۔ میں اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا تاکہ سبق تازہ رہے ذہن میں۔ جزاکم اللہ خیرا
  3. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  4. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  5. صدیق اکبر امیر

    صدیق اکبر امیر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Saudi Arabia
  6. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں