مضامین برائے افکار قاسمی شمارہ جمادی الثانیۃ 1435ھ

'ماہنامہ برقی جریدہ افکارِ قاسمی' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مارچ 24, 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم
    تمام مضامین ٹیکسٹ یا امیج کی شکل میں یہاں رکھے جائیں گے۔
    یہاں صرف مضامین رکھے جائیں۔ مشاورت کے لیے یہاں تشریف لائیے۔
    جو مضامین تصویروں کی شکل میں رکھے جائیں گے۔ انہیں کمپوز کرنے کے لیے اسی پوسٹ کو ایڈیٹ کریں گے۔ پھر کمپوز کرکے اسی امیج کے ساتھ نیچے پوسٹ کردیں گے۔ تو تصحیح میں آسانی ہوگی۔
    آج جمادی الاولیٰ کی 22 تاریخ ہے۔ ہمارے پاس ابھی آٹھ دن ہیں۔
    5 دن مضامین وغیرہ جمع اور کمپوز کیے جائیں۔
    آخری 2-3 مجھے مل جائیں گے تو ایک جمادی الثانیة ک ان شاء اللہ شمارہ پبلش کردیا جائے گا۔ بعون اللہ تعالیٰ
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    علم کی آفت اور جو شخص علم پر عمل نہ کرے اسکی وعید کے بیان میں​

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:دین کی آفت تین شخصیتوں کے باعث ہے۔۔۔۔گناہگار ٖٖفٖقیہ ظالم حکمران اور جاہل مجتہد۔

    حضرت ابوالد ردا رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے فرمایا :مجھے اپنی امت کے بارے میں تین چیزوں کا خوف ہے ۔۔۔۔عالم کے پھسلنے کا، منافق کا قرآن کے متعلق جھگڑا کرنے اور تقدیر کو جھٹلانے کا۔ ( طبرانی )

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا: علماء اس وقت تک ( علوم ) رسالت کے امین ہیں جب تک وہ سلطان کا قرب حاصل کرنے کو شش نہ کریں اور دنیا میں نہ کھو جائیں ۔ پس جب وہ سلطان کا قریب ہو جائیں تو ان سے بچو اور جب وہ دنیا میں گِھر جائیں تو انہوں نے رسولوں کے ساتھ خیانت کی ، لہذا تم ان سے بچو۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فر مایا : وہ عالم جو لوگوں کی بھلائی کی تعلیم دے اور اپنا آپ بھولا رکھے ، اس کی مثال ( چراغ کی ) پتی کی سی ہے ، جس سے دوسرے لوگ روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن ( اس کا اپنا مقدر ) محض جلنا ہے ۔ ( طبرانی )

    حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ شدید عذاب اس عالم کو دیا جائے گا جسے اس کا علم نفع نہ دے سکے ( ابوداؤد طیالسی ،سنن سعید بن منصور ، ابن عدی ، بیہقی)

    انہی سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فر مایا: اللہ تعالیٰ ہر عالم دنیا اور جاہل آخرت سے نفرت کرتا ہے۔

    حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے اس کے علم کے متعلق بھی سوال کرے گا جیسے کہ اس کے مال کے متعلق پو چھے گا۔ ( طبرانی )

    حضرت انسؓ روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فر مایا: اہل جنت میں سے کچھ لوگ اہل جہنم پر مطلع ہوں گے اور ان سے پو چھیں گے کہ کیوں تم جہنم میں داخل ہوئے ، حالانکہ قسم بخدا! ہم تو تم ہی سے سیکھ کر جنت میں داخل ہو ئے ہیں ۔ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم کہا کرتے تھے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے ۔ ( طبرانی )

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اکرم ﷺ کا فر مان نقل کرتے ہیں : کوئی بھی شخص اس وقت تک عالم نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بڑے عالم سے حسد کرنے ، اپنے علاوہ دوسروں کو حقیر سمجھنے اور علم کے ذریعے اس کی قیمت وصول کر نے سے باز نہ رہے ۔ ( دارمی )


    حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں : دو قسم کے لوگ جب صحیح ہو جائیں تو تمام لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں اور اگر وہ خراب ہو جائیں تو تمام لوگ خراب ہو جاتے ہیں َ ۱۔ علماء ۔۲۔ امراءا ۔ ( حلیہ از ابو نعیم )

    حضرت معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا کہ جب کوئی بندہ پڑھے اور دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرے، پھر سلطان کے دروازے پر آئے اس کی چاپلوسی کرنے کیلئے اور انعام کے لالچ میں تو وہ اپنی خطا کے مطابق جہنم کی آگ میں ڈوبے گا۔( ابو شیخ)

    حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص عمل کے بجائے کسی اور مقصد کیلئے علم حاصل کرے تو گویا اپنے رب کے ساتھ مذاق کرنے والا ہے ۔

    حضرت ابن عمر ؓ فر ماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کیلئے علم حاصل کیا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ ( تر مذی)

    حضرت عمران بن حصین ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فر مایا اپنے بعدمجھے تمہارےبارے میں سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ ہر منافق شخص زبان ( حسن کلام ) کا ماہر ہو گا ( یعنی اس کا علم اس کے دل میں تاثیر پیدا نہیں کرے گا ) ( طبرانی ، شعب الایمان)

    حضرت ابو عثمان النہدی فر ماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو ممبر پر بیٹھ کر یہ فر ماتے ہوءے سنا: منافق علم سے بچو ۔ لوگوں نے عرض کہ ، کوئی منافق کیسے علم ہو سکتا ہے آپ نے فر مایا وہ بات حق بیان کرتا ہے لیکن عمل باطل سر انجام دیتا ہے ۔ ( شعب الایمان از بیہقی ابن نجار)

    حضرت ابو ہریرہ ؓ فر ماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فر مایا کہ عنقریب میری قوم کا ایک گروہ کتاب اور دودھ کے باعث ہلاک ہو جائیگا۔ لوگوں نے عرض کی، اہل کتاب کون ہوں گے ؟ آپ نے فر مایا وہ لوگ کتاب کا علم اس لئے حاصل کریں گے تاکہ اس کے ذریعہ اہل ایمان سے جھگڑا کر سکیں ۔ پو چھا گیا، اور دودھ والے کون ہوں گے ؟ جواب ملا : وہ لوگ جو شہوات کی پیروی کرتے ہیں اور نماز ضا ئع کر دیتے ہیں ۔( ابن عساکر ، شعب الایمان )

    حضرت ابن عبا سؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فر مان ہے ۔ لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ قرآن کا علم حاصل کریں گے ۔ اس کے حروف اکھٹے کریں گے لیکن اس کی حدود توڑ دیں گے ۔ بر بادی ہے ان کی جمع کر نے پر اور بر بادی ہے ان کے حدود پار کرنے پر ۔ جمع کر نے والے کہلانے کے سب سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہوں گے جن پر قرآن کا ہلکا سا اثر بھی دکھائ ی نہ دے ۔( ابو نعیم )

    حضرت عمر ؓ فر ماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فر مایا مجھے اپنی امت میں سب سے خوف اس بات کا ہے کہ لوگ قرآن کی غلط تاویل کیا کریں گے ۔

    حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ آپ ؓ فر ماتے ہیں اے حامل علم ! اپنے علم پر عمل کرو۔ماخوذ:تا ئید مذہب حنفی)
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ادب کی اہمیت
    محمدداؤدالرحمن علی
    انسانی زندگی کے دن رات کے اعمال مثال کے طور پر رہن سہن۔ ملنا جُلنا اور لین دین کے عمدہ اصول اور ضوابط کو آداب کہا جاتا ہے۔ ان آداب کی پابندی سے ہی انسان تہذیب یافتہ اور شائستہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔اگر معاشرے کا ہر فرد آداب زندگی کوملحوظ خاطر رکھے تو دوسرے لوگوں کو بہت زیادہ آرام پہنچ سکتا ہے۔اور لوگوں کی ناگواری کا باعث نہیں بنتا۔ یہ حقیقت ہے کہ غیر مسلم اقوام نے مزہب ایک جگہ سے اور آداب دوسری جگہ سے حاصل کیے۔ مثال کے طور پر نصاریٰ نے مزہب انجیل سے مگر آداب روم اور یونان سے حاصل کیے۔اسلام ایک ایسا مکمل دین ہےکہاس نے ایمان، عبادات،اخلاق اور آداب سیرت نبویﷺ کو سر چشمہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام بڑی سے بڑی قوموں کے پاس قرآن اور اپنے پیغمبرﷺ کا فرمان لیکر گیا اور اُن کو چند ہی دنوں میں مُہزب بنادیا۔
    دور حاضر کے مسلمانوں نے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، اور زندگی کے دوسرے اصولوں میں کفار و مشرکین کو اپنا امام و رہبر بنا رکھا ہے۔ اِن خدا فراموشوں کا جو بھی طریقہ آتا ہے، اسے جھٹ سے قبول کر لیتے ہیں۔ اور بڑے ہی فخر کے ساتھ اُن طریقوں پر عمل کرتے ہیںتعجب کی بات ہے ایمان تو لائیں نبی آخرالزمان ﷺ پر اور طور طریقے پسند کریں کافروں اور مشرکوں کے۔
    اپنے آقاﷺ کی اتباع کرنے میں کراہت محسوس کرنا،اور احساس کمتری یہ سراسر بیوقوفی ہے۔ ہم کو چاہیئے کہ اپنے آقاﷺ کی سنتوں پر مر مٹ جائیں!اہل دنیا کی نظروں میں باعزت اور با کردار ہونے کے خیال میں اپنی آخرت کی عظمت کو نہ بھولیں ۔ یاد رکھ آخرت کی ذلت اور رسوائی بہت بڑی ہے۔
    بعض لوگ آداب کو تو اچھا سمجھتے ہیں پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتے۔یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔
    "اد بنی ربی فاحسن تادیبی"
    "مجھے رب نے ادب سکھایا اور بہترین سکھایا۔"
    انسان کو چاہئیے کہ آداب زندگی سے اپنے اعمال صالحہ کو تقویت اور زینت بخشے ۔ یاد رکھیے آپ کو عمل آداب سے خالی ہوگا وہ درحقیقت حسن و جمال سے خالی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نا پسند یدہ ہوگا۔حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا۔
    "اللہ جمیل و یحب الجمال"
    اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
    اسی طرح قرآن مجید میں موت و حیات کی تخلیق کی غرض یوں بیان کی گئی ہے۔
    "خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوكم ایكم احسن عملا"
    موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ آزمایا جائےکہ تم میں سے کون اعمال کے لحاظ سے حسین ترہے۔
    اس سے معلوم ہوا اللہ رب العزت کو اعمال کثرت کی بہ نسبت اعمال کا حسن زیادہ پیارا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ ہر عمل میں آداب کی رعایت کو ملحوظ خاطر رکھے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
    "الدین كله ادب"
    دین سرا سر ادب ہے۔
    یہ پکی بات ہے کہ جس کو ادب کی توفیق نصیب ہوئی اسے سعادت ملی اور جو ادب سے محروم ہوگیاوہ سعادت سے محروم ہوگیا۔گویا با ادب بانصیب بے ادب بے نصیب ۔علمائے امت نے ادب کی اہمیت پر ایسی خوبصورت باتیں لکھی ہیں کہ ان میں سے تو بعض ضرب المثال کا درجہ پا چکی ہیں۔ مثال کے طور پر
    "الادب جنته للناس"
    ادب انسانوں كے لیے ڈھال ہے۔
    "لا میراث كالادب"
    ادب جیسے کوئی میراث نہیں

    ادب اکابرین کی نظر میں:۔
    ادب کی اہمیت کے متعلق امت کے اکابرین کے چند اقوال ذکر کرتا ہوں۔
    امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پہلے ادب سیکھو پھر علم سیکھو
    امیرالومنین خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ہر چیز کی کوئی قیمت ہوتی ہے، انسان کی قیمت اُسکا علم اور ادب ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ میرے پاس ایسے شخص کا ذکر آئے جسے اولین و آخرین دونوں کا علم ہو،مگر وہ آداب نفس سے خالی ہو تو مجھے اسکی ملاقات نہ ہونی پر کبھی بھی افسوس نہیں ہوگا۔ اور جب کبھی سننے میں آتاہےکہ فلاں آدمی آداب نفس کا حامل ہے ۔ تو اس سے ملاقات نہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے۔
    ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اسلام کے پانچ قلعے ہیں ۔ پہلا یقین، دوسرا اخلاص، تیسرا فرض کی ادائیگی،چوتھاتکمیل سنن، پانچواں آداب کی حفاظت۔ جب تک انسان آداب کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہتا ہے، تو شیطان اس سے مایوس ہوتا رہتا ہے۔ اور جب یہ آداب چھوڑنے لگتا ہے، تو شیطان سنتیں چھڑوانے کی فکر کرنے لگتا ہے۔ حتٰی کہ پھر فرائض ،اخلاص، اور یقین تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
    حضرت مخلد بن حسین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ہم کثرت حدیث کی بہ نسبت ادب کے زیادہ محتاج ہیں۔
    حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمتہ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں ۔ تارک ادب اخلاق محمدی(ﷺ) سے بہت دور ہوتا ہے۔
    حضرت ابو عبداللہ محمد بن علی الترمزی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے۔ جسے شریعت اور آداب بندگی کا علم نہ ہو وہ ہر گز علم حق سے بہرہ بند نہیں ہوتا۔
    حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے۔ بے ادب خالق و مخلوق دونوں کا معتوب ہےو مغضوب ہے۔
    حضرت رویم رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو عبداللہ بن خفیف رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا۔
    "یا بنی اجعل عملك ملحا وادبك دقیقا۔ ای استكثر من الادب حتی تكون نسبۃ فی الكثرۃ نسبۃ الدقیق الی الملح"
    اے بیٹے اپنے عمل کو نمک بنااور ادب کو آٹا بنا۔ یعنی ادب میں اضافہ کر حتیٰ کہ کثرت میں عمل و ادب کی سنبت نمک اور آٹے جیسی ہو جائے۔
    حضرت ابو عبداللہ بلخی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے۔ آداب نفس کا حاصل کرنا علم کے حصول سے زیادہ اہم ہے۔

    ادب شعراء کی نظر میں:۔
    ادب کی اہمیت کے عنوان پر دنیا میں مختلف زبانوں میں اشعار کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ یہاں پر نمونہ کے طور پر عربی،فارسی،اور اردو زبان کا ایک ایک شعر نقل کرتا ہوں۔
    "ادبوا النفس ایھا الاصحاب۔ طرق العشق کلھا آداب"
    اے دوستو! اپنے اپ کو ادب سکھاؤ۔ اس لئے کہ عشق کے سب طریقے ادب ہی ادب ہیں۔

    "از خدا خوابیم توفیق ادب ۔ بے ادب محروم مائد از لطف رب"
    ہم اللہ تعالیٰ سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں ۔ اس لیے کہ بے ادب اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے محروم رہتا ہے۔

    خموش اے دل بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
    ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

    اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ادب سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
    Last edited: ‏مارچ 27, 2014
    پیامبر نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے واقعات
    تحریر کردہ: داؤد علی

    حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ لوگوں میں کوئی چیز تقسیم فرما رہے تھے۔ ایسے میں بنو تمیم کا ایک شخص آیااور اس نے کہا۔
    ’’اے اللہ کے رسول!(ﷺ) انساف سے تقسیم فرمایے۔‘‘
    آپ ﷺ نے فرمایا:
    ’’تیرا ناس ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا،تو کون انصاف کرے گا۔اگر میں انصاف نہیں کروں گا تومیں ناکام رہااور برباد ہو جاؤں گا۔‘‘
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
    ’’اے اللہ کے رسول!(ﷺ)مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں۔‘‘
    نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ’’نہیں!اسے چھوڑ دواس کے ایسے ساتھی ہیں کہ ان کے نماز روزے کے مقابلے میں تم اپنے نماز روزے کو کم سمجھو گے(یعنی ظاہرمیں) ۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ان کی ہنسلی سے آگے نہیں جائے گا(یعنی ان کے دل کی طرف نہیں جائے گا) اور یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو لگ کر اس سے پار ہوجاتا ہے۔ تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی،پھر اس کی تانت کو دیکھا جائےجس سے تیر کے پھل کو لکڑی سے مضبوط کیا جاتا ہے۔ تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی ، پھر اس کے پَر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی ، حالانکہ یہ تیر اس شکار کی اوجھڑی اور خون میں سے گزر کر پار گیا ہے،لیکن پورے تیر پر اس او جھڑی اور خون کا نشان نظر نہیں آئے گا۔ان کی نشانی یہ ہےکہ ان میں سے ایک کالا آدمی ہوگا۔اس کے ایک بازو کا گوشت خوب ہلتا ہوگا۔یہ لوگ اس وقت ظاہر ہونگے جب لوگوں میں اختلاف و انتشار کا زور ہوگا۔‘‘
    یعنی آپ ﷺ نے ان لوگوں کی یہ نشانیاں بتائیں اور یہ جو تیر کا ذکر فرمایاتو اس کا مطلب یہ تھاکہ جس طرح تیر پر کچھ نہیں لگتا، اسی طرح ان لوگوں پر قرآن کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ’’میں گواہی دیتا ہوں میں نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہےاور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو لانے کا حکم دیا تھا۔ لوگ اسے ڈھونڈ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے تھے اور جو نبی کریمﷺ نے نشانیاں ارشاد فرمائی تھیں ،وہ میں نے اس شخص میں پوری دیکھی تھیں ،یعنی وہ کالا تھااس کے بازو کا گوشت خوب ہلتا تھا۔‘‘(البدایہ: 362/4 )

    ٭٭٭٭٭
    جب منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبَی مر گیاتو اس کے صاحبزادہ(جو مسلمان تھے) حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
    ’’آپ مجھے اپنی قمیض مبارک دے دیں۔میں اس میں اپنے باپ کو دفناؤں گااور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں اور اس کے لیے استغفار فرمائیں۔‘‘ آپﷺ نے انہیں اپنی قمیض دے دی اور فرمایا:
    ’’جب جنازہ تیار ہو جائے تو مجھے خبر کردینا۔ میں اس کی نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔‘‘
    جب آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
    ’’اے اللہ کے رسول!( ﷺ)کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقوں سی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا؟‘‘
    آپﷺ نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے استغفار کرنے اور نہ کرنے ، دونوں باتوں کا اختیار دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، آپ ان منافقوں کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں۔‘‘
    چنانچہ آپﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:
    اور ان میں کوئی مرجائےتو اس کے جنازے پر پر کبھی نماز نہ پڑھیں(سورہ توبہ:84
    ٭٭٭٭٭
    ایک یہودی نے آپﷺ پر جادو کیا۔ جس کی وجہ سے آپ ﷺ چند دن بیمار رہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:
    ’’اے اللہ کے رسول!(ﷺ)ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے۔ اس نے گِرہیں لگاکر فلاں کنویں میں پھینک دی ہیں۔ آپ کسی کو بھیج کر منگوالیں۔‘‘
    آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت علی اللہ عنہ نے اسے نکال کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔آپﷺ نے ان گِرہوں کو کھولاتو آپﷺ اس طرح ٹھیک ہوکر کھڑے ہوگئےجیسے کسی بَند ھن سے نکلے ہوں۔
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کی تفصیل یوں بیان کرتی ہیں۔
    حضور اکرم ﷺ پر جادو کیا گیا تھا۔اس کے اثرکی وجہ سے آپﷺ کو یوں محسوس ہوتا تھاکہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے ہوئے ہیں،لیکن حقیقت آپ ﷺ نہین گئے ہوتے تھےاور یہ اثر سب سے سخت جادو کا ہوتا ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ’’اے عائشہ!کیا آپ کو معلوم ہےکہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی۔وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی ہے۔میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا،اور دوسرا پاوں کے پاس۔سروالے نے پاؤں والے سے کہا:
    حضرت کو کیا ہوا؟
    اس نے جواب دیا:
    آپﷺ پر جادو کیاگیا ہے۔
    پہلے والے نے کہا:
    جادو کس نے کیا ہے۔
    دوسرے نے کہا:
    لبید بن اعصم نےجو قبیلہ بنو رزیق کا ہے۔ وہ یہودیوں کا ساتھی اور طرف دار ہےاور منافق ہے۔
    پہلے والے فرشتہ نے پوچھا:
    اس نے جادو کس چیز میں کیا ہے۔
    دوسرے نے کہا:
    کنگھی پر اور کنگھی سے گرے ہوئے بالوں پرکیا ہے۔
    پہلے والے نے پوچھا:
    یہ چیزیں کہاں ہیں۔؟
    دوسرے نے جواب دیا:
    نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں،زروان کنویں کے اندر جو پتھر رکھا ہوا ہے، اس کے نیچےرکھی ہوئی ہیں۔
    حضور اکرمﷺ اس کنویں پر تشریف لے گئےاور یہ چیزیں اس میں سے نکال لیں اور فرمایا:
    ’’یہ کنواں وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اس کنویں کا پانی سرخ تھا اور اس کنویں کے کھجوروں کے درخت ایسے وحشت ناک تھے جیسے شیطانوں کے سر ہوں۔‘‘
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
    ’’آپ نے یہ چیزیں لوگوں کو کیوں نہ دکھائیں،اور ان کو دفن کیوں کرایا۔‘‘
    آپﷺ نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے تو(جادو) سے شفا عطا فرمادی اور میں کسی کے خلاف فتنہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔‘‘(بخاری،مسلم)
    Last edited: ‏مارچ 27, 2014
  5. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    قیمتی جواہرات
    محمدالرحمن معاویہ۔ لاہور
    ٭ معاملات کو عقل کے بجائے غصہ سے حل کرنے والا نہ صرف اپنا نقصان کرتا ہے۔بلکہ دوسروں کو بھی اذیت دیتا ہے۔
    ٭ جھوٹی زبان سب سے بڑی مجرم ہے۔
    ٭ ہمت سے زندگی بنتی ہے،اور بے دلی سے موت۔
    ٭ جہدوجہد نہ کرنا محتاجی کا باعث بنتا ہے۔
    خومش نہین رہ سکتے تو ایسی بات کہو جو خاموشی سے بہتر ہو۔
    ٭راحت آمدنی میں کثرت سے نہیں ، بلکہ قناعت میں ہے۔
    ٭مصیبت میں آرام کی تلاش مصیبت میں اضافہ کرتی ہے۔
    ٭خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کرسکتا ہے،مگراخلاق کی کمی کو خوبصورتی پورا نہیں کرسکتی۔
    ٭بغیر کوشش کے کامیابی حاصل کرنے کی خواہش ایسی ہے جیسے بغیر پروں کے اُڑنے کی خواہش۔
    ٭صبر ایسی سواری ہےجو اپنے سوار کو نہ کسی کی نظروں میں گِرنے دیتے ہے،نہ کسی کے قدموں میں۔
  6. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بلوچستان کے تحفے آپﷺ کی خدمت میں
    محمدشعیب نواز۔ ملتان
    تاریخ کی کتابوں میں آپ کو بلوچستان کا نام نہیں ملے گا۔بلوچستان کا ایک شہر ہے جس کا نام قلات ہے،اور ایک خضدار ہے۔ یہاں ایک راجہ تھا، اس راجہ کو کسی نے خوشخبری دی کہ نبی آخرالزمان پیغمبر اسلامﷺ دنیا میں تشرف لاچکے ہیں۔ اس نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا:
    تم رسول اکرمﷺ کے پاس مدینہ جاؤاور میرا سلام کہواور دیکھو کہ وہ واقعی نبی آخرالزمانﷺ ہیں۔ اگر حضورﷺ آگئے ہیں تو میں بھی جاؤں گا۔ اور رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھوں گا۔جب وفد روانہ ہونے لگا تو راجہ نے اپنے وفد سے کہا: اگر نبی آخرالزمانﷺ تمہیں مل جائیں تو آپﷺ کو میری طرف سے دوچیزیں تحفہ میں دے دینا۔
    علامہ بلا ذری لکھتے ہیں کہ یہ تحفے ہندوستان کے تھےاور وہ دو چیزیں عرب ملکوں میں نہیں تھیں۔
    ایک تحفہ ساگوان کی لکڑی کا تھا۔ سب سے اچھی لکڑی ساگوان کی ہے۔اور ایک پھل تھا اسے عربی میں زنجبیل کہتے ہیں اور اردو میں ادرک کہتے ہیں۔ راجہ نے ایک گھڑا لیکر اس میں پانی بھر دیا اور اس میں ادرک ڈال دیا تاکہ تازہ رہے۔وفد یہ تحائف لیکر آپﷺ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔
    جب رسول اللہﷺ کے پاس یہ وفد پہنچا، اس وقت آپﷺ مسجد نبوی کے صحن میں تشریف فرما تھے۔ وفد نے آپﷺ کی خدمت میں ساگوان کی لکڑی اور پھل پیش کیا۔ آپﷺ نے اس پھل کو تناول فرمایااور کہا: یہ ادرک کا پھل ہے یہ بڑی بیماریوں کا علاج ہے۔ اس وقت جتنے بھی صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین وہاں موجود تھے ان سب میں ادرک کا پھل بانٹا گیا۔ اور جو لکڑی تھی اس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا:
    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ! جاؤ جہاں میرا بستر پڑا ہے ،وہاں ایک چٹائی ہے۔ اس کی جگہ اس ساگوان کی لکڑی کو لے جاؤ۔ ایک چارپائی بناؤ، اس لکڑی سے پائے بناؤ۔ رسول اللہﷺ کی جو چارپائی تھی وہ اسی ساگوان کی لکڑی سے بنائی گئی تھی ۔ اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چٹائی پچھائی گئی
    (بحوالہ:جواہرات فاروقی: جلدنمبر:3 صفحہ نمبر:342)
    Last edited: ‏مارچ 27, 2014
  7. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    وصیت
    ( از : ماہر قانون ایوب احمد خان )
    اسلامی شریعت کا یہ سنہری اصول ہے کہ ’’ لاضرر و لاضرار‘‘ نہ تو کوئی کسی کو نقصان پہنچائے اور نہ ہی اسے نقصان پہنچایا جائے۔ اپنے شرعی ورثاء یا ان میں سے بعض کو نقصان پہنچانا حرام ہے اور ایسا کرنے والے کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہ بد دعا سنائی گئی ہے۔
    ’’ من ضار اضر اﷲ بہ ومن شاق شق اﷲ علیہ‘‘
    ترجمہ: جس نے کسی کا نقصان کیا، اﷲ اس کا نقصان کرے اور جس نے کسی پر سختی اور مشقت کی اﷲ اس پر سختی اور مشقت کرے۔
    وصیت میں کسی کو نقصان پہنچانے کی متعدد صورتیں ہیں مثلاً کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا، یا کسی وارث کے لئے شریعت کے مقرر کردہ حق کے برخلاف وصیت کرنا، یا ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا وغیرہ۔
    اور ایسے ملکوں میں جہاں لوگ شرعی عدالتوں کے ماتحت زندگی نہیں گزارتے کسی حقدار کا اپنا شرعی حق حاصل کرلینا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہاں پر انسانوں کے ایجاد کردہ قوانین کے تحت چلنے والی غیر شرعی عدالتیں شریعت کے خلاف فیصلے کرتی ہیں اور رجسٹرار کے پاس درج کی ہوئی ظالمانہ وصیت کو نافذ کرنے کا آرڈر جاری کرتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی ایسی لکھائی اور ایسی کمائی پر ہلاکت، تباہی اور بربادی ہی ان کا مقدر بنے گی۔
    پہلی بات ہمارے معاشرے میں وصیت کی طرف دھیان دیا ہی نہیں جاتا، بہت سارے احباب بہت سی چیزوں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں جیسے زمین جائیداد، شیئرز، بانڈس، چٹھی، ین یس سی، انشورنس، بینکوں میں ڈپازٹس وغیرہ، لیکن افسوس یہ کہ اپنی مالیت کی تفصیلات کہیں درج نہیں کرتے حتی کہ اپنی ڈائری میں بھی نہیں، پھر طرفہ تماشا کہ پراپرٹی رجسٹرڈ نہیں کراتے بلکہ جی پی او میں رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ بعد میں وصیت نہ ہونے کی وجہ سے خاندان کے لوگ آپس میں لڑ جھگڑ کر جائیداد اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتے ہیں۔ اس لڑائی جھگڑے میں ایمان، شرافت، اخلاق سب داؤ پر لگ جاتے ہیں۔
    غیر مسلموں سے معاملات کرتے وقت دیکھا گیا کہ وہ مسلمانوں کی آبائی جائیداد کو اصل داموں میں بھی خریدنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں وہ شخص دو، تین بیویوں والا نہ ہو اور بعد میں اس کے ان گنت وارثین تکرار نہ کر بیٹھیں۔ اور اگر چند لوگ وصیت کرتے بھی ہیں تو شریعت کے خلاف جائیداد کی تقسیم کرتے ہیں، جس سے دین اور ایمان متاثر ہوتا ہے۔
    بہرحال اگر کوئی شخص اپنی ذاتی محنت سے کچھ جائیداد کماتا ہے تو شریعت کی رو سے اپنے اثاثہ کا ایک تہائی (1/3 ) حصہ اپنی مرضی سے اپنے پسند کے شخص کو دینے کی وصیت کر سکتا ہے، باقی جائیداد شریعت کی حدود میں تقسیم کرنا ہے۔
    اس لئے بہتر ہے کہ ہر شخص جس کا کچھ بھی اثاثہ، بینک بیلنس، پراپرٹی یا کہیں سے بھی کچھ روپیہ پیسہ آنے والا ہو، یا بزنس کا کچھ بھی حق بنتا ہو، پہلی فرصت میں وصیت کرے اور اس کو رجسٹر ڈ کرادے۔ وصیت کو رجسٹرڈ کرانے کے لئے زیادہ خرچ بھی نہیں آئے گا، کل خرچ ملا کر پانچ ہزار روپیوں سے کم میں کام ہو جائے گا، جس سے لاکھوں کی جائیداد کی حفاظت بھی ہوگی اور مستقبل کے لڑائی جھگڑے، کورٹ کچہری کا خرچ جو ہزاروں لاکھوں روپئے میں ہوتا ہے بچ سکتے ہیں۔

    پیان (PAN) کیا ہے؟


    پیان یعنی Permanent Account Number (پرماننٹ اکاؤنٹ نمبر ہے۔
    پیان ۔10 عددوں والا کوڈہے جو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ مہیا کرتا ہے ۔
    ہر شخص جس کی آمدنی سالانہ 50,000 روپے سے تجاوز کرتی ہو یا جس کی تجارت سالانہ 5 لاکھ سے تجاوز کرتی ہو یعنی (Sales/Turnover) اس کو انکم ٹیکس کے سکشن 139A اور رول 114B کے تحت فارم نمبر 49A اپلی کیشن دینا پڑتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک عدد اسٹامپ سائز کاکلر فوٹو، شناخت، تاریخِ پیدائش اور پتہ کا کوئی بھی پروف داخل کیا جائے۔ سو روپے سے کم خرچ میں PAN حاصل کرسکتے ہیں ۔درج ذیل چیزوں کی خریدوفروخت یا کاموں کیلئے PAN ضروری ہے ۔
    ۱) اگر بینک میں اکاؤنٹ کھولنا ہے ۔
    ۲) اگر پراپرٹی (زمین جائیداد) خریدوفروخت کرنا ہے جسکی مالیت 5 لاکھ اور اس سے اوپر ہے ۔
    ۳) اگر موٹر گاڑی (دوپہیوں والی چھوڑ کر) خریدنا ہو تو (۴) اگر فکسڈ ڈپازٹ (F.D) 50,000 سے بڑھ کر رکھوانا ہو تو یا D.D وغیرہ بنانا ہوتو۔
    ۵) ٹیلی فون ، یا سیل فون (موبائل) وغیرہ کا اپلی کیشن دینا ہوتو ۔ (۶) ہوٹل یا فارن ٹور میں 25,000 روپے کا بل ادا کرناہوتو
    ۷) اگر انکم ٹیکس رٹرن فائل کرنا ہو تو بھی یہ ضروری ہے ۔
    ۸) بینک سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے۔
    چند موقعوں پر Form نمبر 60 یا 61 سے کام چلایا جاسکتا ہے ۔مگر PAN استعمال کرنا ہمیشہ موزوں اور فائدہ مند ہے۔اس کے علاوہ PAN پہلے ہی حاصل کرنا ہمیشہ بہتر ہے کیونکہ جس طرح راشن کارڈ یا ووٹرلسٹ بہت سے موقعوں پر ضروری ہے اس طرح PAN بھی ضروری ہوگیاہے ۔
  8. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    تسھیل وتلخیص ملفوظات
    محی السنہ عارف با اللہ مولانا شاہ ابرار الحق حقیؒ
    جامع :مرشدی ومولائی عارف باللہ شاہ محمد اہل اللہ دامت بر کاتہم ۔
    قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا
    اصلاح ظاہرو باطن
    فاعُوْذُ باِ اللّٰہِ مِنَ الشَّےْطٰنِ الرَّجِےْمِ، بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِےْمِ
    اَلَّذِےْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَءِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْب (پ۱۳ ع،۱)
    ترجمہ: مراد اس سے و ہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے اور خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر(میں ایسی خاصیت ہے کہ اس ) سے د لوں کو اطمینان ہوجاتا ہے ۔ (بیان القرآن ص ۱۱۳ ج ۵)
    دنیامیں اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن نفع کے اعتبار سے ان کی دو قسمیں ہیں، ایک خاص، دوسرے عام، بہت سی چیزیں خاص ہیں نفع کے اعتبار سے جیسے ریل ،موٹر،ہوائی جہازوغیرہ کہ ان سے وہی لوگ نفع اٹھا سکیں گے جو روپیہ پیسہ خرچ کر کے سفر کریں، یا ہنر سیکھ کر، ڈرائیوری سیکھ کر اس کی ملازمت کریں بہت سے لوگوں کو نہ تو چلانا آتا ہے اور نہ ہی ان کو سفر کرنیکی ضرورت اور فرصت ہے، اس لئے ان خاص خاص چیزوں کے فائدے کو وہ لوگ حاصل نہیں کرسکتے اور بہت سی چیزیں عام ضرورت کی ہیں جیسے ہوا پانی وغیرہ کہ ان سے عام انسان فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
    ہر انسان سکون چاہتا ہے
    بعض چیزیں انسان کی ضروت کی ایسی ہیں کہ جن کے حاصل کر نے کی خواہش عام طور پر سب کو ہوتی ہے جیسے چین وراحت ہے سکون اطمینان ہے کہ ہر شخص کو خواہش ہوتی ہے کہ یہ حاصل ہوجائے خواہ وہ مرد ہو یا عورت،بوڑھا ہو یا جوان مسلم ہو یا غیر مسلم سب کو تمنا ہے راحت وسکون اور اطمینان حاصل ہو۔
    سکون کی تلاش اور اس کا انجام
    اسکے لئے ہر شخص کوشش کیا کرتا ہے ،مگر اس کے باوجود چین وسکون نصیب نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے حاصل کرنیکا صحیح راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لئے غلط راستہ اختیار کیا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ سوائے محرومی وناکامی کے اور کیا ہوسکتا ہے؟ بہت سے لوگوں نے سکو ن واطمینان اور راحت وچین کو اولاد کی کثرت، حصول حکومت یا باغات وتجارت وغیرہ سے حاصل کرنے کو سوچا ہے مگر حالات وواقعات اس کے خلاف دیکھے جاتے ہیں کہ حکومت اور مال و دولت کے حاصل ہونے کے باوجود سکون واطمینان اور چین نصیب نہیں ہوتا
    ایک وزیر صاحب کا حال سننے میں آیا کہ باوجود صاحب اولاد وصاحب مال واسباب ہونے کے ایک مقدمہ ان پر قائم ہے،جس سے ساری زندگی تلخ کڑوی ہوچکی ہے نہ مال میں سکون نہ اولاد میں چین، نہ حکومت وثروت میں راحت، ساری دولت کے باوجود زندگی پریشان، ایر کنڈیشن مکان میں آرام فرما ہیں، زیب وزینت وآرائش کے سارے سامان مہیا ہیں، پر تکلف کھانے پینے کی چیزیں موجود ہیں مگر اصل چیز جس کیلئے یہ سب ہے یعنی قلب کا اطمینان اور دل کا سکون وہ حاصل نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ عام طور پر لوگوں نے سکون حاصل کرنیکا جو طریقہ سمجھا ہے صحیح نہیں ہے۔
    سکون کا صحیح راستہ کیا ہے؟
    بلکہ اس کے حاصل کرنے کی دوسری تدبیر ہے، اب سوال یہ ہے کہ وہ تدبیر کیا ہے ، تو اسکے متعلق پہلے ایک مثال عرض کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات خوب ذہن نشین ہوجائے ، وہ یہ کہ انسان کے اعضاء دو قسم کے ہیں ایک ظاہر، دوسرے باطن، اعضائے ظاہرہ مثلاً آنکھ ہے اس میں ریزہ یا گردوغبار سفر کی حالت میں اڑکر پڑگیا تو اس سے بیقراری کی حالت پیدا ہوجاتی ہے اور آنکھ کا جو صحیح کام ہے لکھنا پڑھنا، پرفضامقامات اچھے عمدہ باغات وغیرہ کا دیکھنا اور فرحت حاصل کرنا یہ سارے فوائد ختم اور مفقود ہوگئے ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ گردو غباراور چھوٹے چھوٹے ذرات جو کہ آنکھ کے لئے اجنبی ہیں ان کے پڑنے کی وجہ سے ایک تو سکون ختم ہوگیا اور بے چینی پیدا ہوگئی دوسرے یہ کہ آنکھ کے جو منافع تھے وہ بھی ختم ہوگئے تو معلوم ہوا کہ اجنبی چیز کے دخل انداز ہونے سے خلل پڑجاتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے جو فوائد ہیں وہ بھی مفقود ہوجاتے ہیں۔
    اجنبی کے ہونے سے بے چینی ہوجاتی ہے
    دوسری مثال ایک شخص سو کر اٹھا اس کے ہاتھ میں ورم معلوم ہوا جس سے پریشان ہوکر ڈاکٹر کے یہاں جانے لگا تو راستہ میں کسی نے کہا کہ بھائی کہاں جارہے ہو، ڈاکٹر کے یہاں جانے کی کیا ضرورت ہے اب تو تمہارے ہاتھ کو ترقی ہورہی ہے اور تمہارا ہاتھ موٹا ہو رہا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ یہی جواب دیگا کہ بھائی ہم کو ایسی ترقی نہیں چاہئے کہ جس میں درد اور تکلیف ہو، بلکہ ہم کو ایسی ترقی پسند اور مطلوب ہے جس میں سکون اور اطمینان ہو ، غرض کہ وہ شخص ڈاکٹر صاحب کے یہاں گیا اور اپنا حال بتلاکر ہاتھ دکھایا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بھائی اس کے اندر پیپ اور مواد بھر گیا ہے جو اجنبی ہے خون کو خراب کرنیوالا اور تکلیف کو بڑھانیوالا ہے جب تک کہ یہ نکل نہ جائیگا سکون حاصل نہ ہوگا، اس کے نکلنے کے بعد ہی سکون حاصل ہوسکتا ہے اسی طرح مستورات پردہ میں بیٹھ کر سکون کے ساتھ دین کی باتیں سن رہی ہیں، اب اگر کوئی اجنبی شخص اچانک ان کے مجمع میں گھس جائے تو ان مستورات کا کیا حال ہوگا، سارا سکون واطمینان ختم ہوکر ان پر ایک پریشانی چھا جائے گی، کیونکہ ایک اجنبی اور غیر مانوس آگیا تو جب تک وہ غیر جنس باہر نہ چلا جائیگا ان کو سکون حاصل نہ ہوگا۔
    باطن کا معاملہ اعضاء ظاہرہ کی طرح ہے
    تو جب اعضائے ظاہرہ کے اندر ایک اجنبی چیز کے آجانے سے سکونِ ظاہر ختم ہوجاتا ہے ، اسی طرح قلبی سکون کے معاملہ کوخیال کرنا چاہئے کہ اس میں کوئی اجنبی چیز پہونچ گئی ہے جس سے دل میں سکون نہیں مل رہا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی بھی مقام میں کسی اجنبی کے موجود ہونے سے اس وقت تک سکون واطمینا ن حاصل نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ اجنبی نہ نکل جائے خواہ وہ ظاہراً ہو یا باطناً اس کا تعلق جسم سے ہو یاقلب سے ہو اجنبی اور غیر مانوس کو نکال کر اس مقام اور حال کے مناسب مانوس چیز کو داخل کرنے ہی سے راحت وسکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔
    قلب کا تزکیہ اور تحلیہ
    تو اس سے معلوم ہوا کہ دوطرح کی چیزیں ہیں، بعض چیزیں تو وہ ہیں جو دل کیلئے مانوس ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو دل کیلئے اجنبی ہیں، جب ان اجنبی چیزوں کو نکال کر مانوس چیزوں سے دل کو آراستہ کیا جائیگا تو سکون قلب حاصل ہوگا جس طریقہ سے کوئی مکان ہو اس سے راحت وآرام حاصل کرنے کیلئے دو کام کرنے پڑتے ہیں ، ایک تو اجنبی چیزیں جیسے سانپ، بچھو، مکڑی کا جالا کو ڑا کرکٹ وغیرہ کا نکالنا دوسرے مناسب چیزوں کا اس میں داخل کرنا مثلاً اس کی مرمت، پوتائی ، فرش فروش، روشنی وپنکھے اور دیگر ضروریات کا اہتمام کرنا، ان دونوں کاموں سے مکان خوبصورت بھی ہوجائیگااور صاحب مکان کیلئے باعث راحت مسرت بنے گا، ایسے مکان میں رہنے سے سکون بھی حاصل ہوگا اسی طرح قلب کو گندے اخلاق سے صاف کر کے اچھے اخلاق واعمال سے آراستہ کرنے کی ضروت ہے اگر گندے اور برے اخلاق میں سے ایک خلق وعادت بھی ہوگی تو سکون میسر نہ ہوگا مثلاً کسی کے قلب میں دنیا کی محبت ہو، تو دل ہر وقت پریشان رہے گا، چین وسکون نہ ملے گا، کیونکہ جب وہ کسی کے پاس مال دیکھے گا تو یہ چاہے گا کہ یہ مال مجھے ملے اور طرح طرح کی فکر میں گھرا رہے گا اس لئے اس کو سکون واطمینان حاصل نہیں ہوگا۔
  9. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت مولاناقاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی
    مدیرالتحریر کے قلم سے
    حجتہ السلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ شعبان یا رمضان ؁۱۲۴۸ ھ کو قصبہ نانوتہ ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ جو دیوبند سے بارہ میل دور مغرب کی جانب واقع ہے۔آپ کے والد کا نام شیخ اسد علی بن غلام شاہ ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
    آپ رحمتہ اللہ علیہ بچپن سے ہی ذہین ، محنتی، اور سعادت مند تھے۔تعلیم کے دوران آپ اپنے طالب علم ساتھیوں سے نمایاں رہا کرتےتھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بچپن ہی قرآن مجید پڑھ لیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے قصبہ دیوبند میں فارسی،عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اس کے بعد مولانا مملوک علی رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ ؁۱۲۶۰ھ میں دہلی پہنچے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالغنی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے علوم حدیث کی تکمیل حاصل کی۔ فراغت کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نےکتابت کا کام شروع کیا۔سب سے پہلے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مولانا احمد علی سہارنپوری رحمتہ اللہ علیہ کی بخاری شریف کی تصحیح کی اور کتابت فرمائی۔ اس کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ میرٹھ اور دہلی میں بھی کتابت کا کام کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔آپرحمتہ اللہ علیہ نے شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن دیوبندیرحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا احمد حسن امروہی رحمتہ اللہ علیہ،حضرت مولانا حکیم محمد صادق مرادآبادیرحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولانافیض الحسن گنگوہی رحمتہ اللہ علیہکو زمانہ کتابت میں حدیث پڑھائی۔ آپرحمتہ اللہ علیہ نے شیخ المشائخ حضرت امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔ سلوک اور تصوف کے منازل طے کرنے کے بعد آپرحمتہ اللہ علیہ خلافت سے نوازے گئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہنے اپنے آپ کو نیکی اور تقویٰ میں ڈھال رکھا تھا۔ آپ کے مرشد حضرت امداداللہ مہاجر مکیرحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔
    "ایسے لوگ کبھی پہلے زمانہ میں ہوا کرتے تھے،اب مدتوں سے نہیں ہوتے۔"
    آپرحمتہ اللہ علیہ خوش مزاج اور عمدہ اخلاق کے مالک تھے۔مسئلہ خود کبھی نہیں بتا تے تھے،بلکہ کسی کے حوالے سے بیان فرمایا کرتے تھے۔فتویٰ پر اپنا نام لکھنا اور مہر لگاناآپ رحمتہ اللہ علیہکو ناپسند تھے۔امامت کروانے سے گھبراتے تھے۔ ہمیشہ مقتدی بن کر نماز ادا کرتے تھے۔آپ رحمتہ اللہ علیہمناظر تھے۔ اور باطل فرقوں کے پادریوں سے کئی مناظرے کیے، اور کامیاب رہے۔
    جہاد حُریّت کےسلسلے میں تبادلہ خیال ہوا۔تو مولانا شیخ محمد محدث تھانویرحمتہ اللہ علیہ نےبے سروسمانی کا ذکر کرتے ہوئےجنگ آزادی میں بھر پور حصہ لینے سے گریز کی تجویز دی۔ حجتہ السلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے مخالفت کی۔ اور فرمایا : کیا ہم اصحاب بدر سے زیادہ بے سرو سامان ہیں؟ یہ فقرہ سُن کر حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ تڑپ اٹھے اور فرمایا:
    "الحمداللہ النشراح ہوگیا ہے۔"اور جہادی کی تیاری شروع فرمادی ۔ امیر حاجی امداداللہ مہاجر مکیرحمتہ اللہ علیہ ،سپہ سلار مولانا قاسم نانوتویرحمتہ اللہ علیہ ، اور قاضی حضرت گنگوہیرحمتہ اللہ علیہ مقرر ہوئے۔اور تھانہ بھون دارالسلام قرار پایا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حاجی امداداللہ مہاجر مکیرحمتہ اللہ علیہ کی اطاعت میں جہاد میں بھر پور حصہ لیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ؁۱۸۶۷ میں علوم اسلامیہ کی عظیم یونیورسٹی جامعہ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی ۔ جامعہ دارالعلوم دیوبند آپرحمتہ اللہ علیہ کا زندہ جاوید کارنامہ اور اور صدقہ جاریہ ہے۔ جو ان شاءاللہ قیامت تک جاری رہے گا۔جب جامعہ دارالعلوم دیوبند کے افتتاح کی خبر آپرحمتہ اللہ علیہ کے مرشد حضرت مولانا حاجی امداداللہ مہاجر مکیرحمتہ اللہ علیہ کے پاس مکہ مکرمہ پہنچی۔ تو حضرت حاجی امداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہنے فرمایا:
    "سبحان اللہ!آپ فرماتے ہیں ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے۔یہ خبر نہیں کہ کتنی پیشانیاں اوقات سحر سر بسجود ہوکر گِڑ گِڑا تی ہیں کہ خواوند کریم! ہندوستان میں اسلام کی بقاء اورعلم کےتحفظ کا کوئی ذریعہ پیدا کر۔ یہ مدرسہ اُنہیں سحر گاہی دعاؤں کا ثَمر ہے۔"
    دارالعلوم دیوبند نے جو خدمات اسلام تحفظ اسلام،قرآن و حدیث کے علوم کی نشرو اشاعت،اور مسلمانوں کی عملی تربیت کے سلسلہ میں انجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے باعث فخر ہیں۔ دارالعلوم دیوبند سے منسلک افراد اپنے اپنے دور کے مایہ ناز عالم، محقق، محدث، فقیہ ہیں ۔ اور اپنے اپنے دور میں ممتاز علماء مانے گئے۔جامعہ دارالعلوم کے سر پرستوں میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے بعد مولانا رشید احمد گنگوہیرحمتہ اللہ علیہ ، حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانویرحمتہ اللہ علیہ ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ سر فہرست ہیں۔ جامعہ دارالعلوم دیوبند کے فضلاء میں شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن دیوبندیرحمتہ اللہ علیہ ،حضرت مولانا انور شاہ کشمیریرحمتہ اللہ علیہ ،علامہ شبیر احمد عثمانیرحمتہ اللہ علیہ ،شیخ السلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ،حضرت مولانا عبیداللہ سندھیرحمتہ اللہ علیہ ، اور حضرت مولانا ادریس کاندھلویرحمتہ اللہ علیہ جیسے ہزاروں مشاہیر علماء شامل ہیں۔جن کے علم وعمل زہدوتقویٰ کی مثالیں اب نہیں ملتی۔
    بہر حال حضرت مولانا قاسم نانوتویرحمتہ اللہ علیہ اپنے دور کے عظیم محقق اور مدث تھے۔اور سچے عاشق رسولﷺ تھے۔ تواضع و انکساری کا یہ عالم تھا۔ اگر کوئی آپ کو مولوی صاحب کہ کر پکارتا تو آپ ناراض ہوتے تھے۔ اگر کوئی نام لیکر پکارتا تو آپ خوش ہوتےاور عزت و احترام سے بات کرتے۔
    حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویرحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے:
    حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کی شان عالمانہ تھی نہ درویشانہ تھی بلکہ عاشقانہ شان تھی، اور آپ رحمتہ اللہ علیہکی مجلس دوستانہ ہوتی تھی۔ آپرحمتہ اللہ علیہ گاڑھے کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ایک مرتبہ دیوبند سے نانوتہ تشریف لے جاتے ہوئے ایک جولاہے نے بوجہ سادگی کے اپنا ہم قوم سمجھتے ہوئے پوچھا: کہ سُوت کا آج کیا بھاؤہے؟تو مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے جواب دیا: بھائی آج بازار جانا نہیں ہوا(قصص الاکابر)
    جب آپ رحمتہ اللہ علیہ حج کے لیے تشریف لے جاتے تو حدود حرم میں جوتے نہیں اتارا کرتے تھےاور ننگے پاؤں چلا کرتے تھے۔اور فرماتے:
    ’’جس زمین اور گلی کوچوں میں پیغمبر آخرالزمانﷺ کے قدم مبارک لگے ہوں میں وہاں جوتے پہن کر چلوں۔
    اللہ اکبر!کیا محبت و عشق ہےاپنے آقائے نامدارﷺ سے۔‘‘
    بہر حال آپ رحمتہ اللہ علیہ روحانیت و علمیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔درس وتدریس ،تبلیغ اور ارشاد کے علاوہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نےمتعدد تصانیف لکھی ہیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے۔اگر ان کتابوں کا ترجمعہ عربی میں کردیا جائےاور آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نام نہ بتایا جائے تو یہی کہا جائے گا کہ یہ کتابیں امام رازی رحمتہ اللہ علیہ یا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہکی لکھی ہوئی ہیں
    آپ کی مشہور تصانیف:
    تقریردلپزیر،آپ حیات،انتصارالاسلام، مباحثہ شاہجہان پور،جمال قاسمی،اور توثیق الکلام وغیرہ ہیں اگر چہ مزکورہ کتابیں اردو زبان میں ہیں لیکن ان کا سمجھنا عوام تو عوام بعض علماءکے بس میں نہیں ہے۔الفاظ اور زبان نہیات ہی سہل ہیں مگر علوم نہایت عالمانہ اور مشکل مذکور ہیں۔
    حضرت مولانا قاسم نانوتویرحمتہ اللہ علیہ نے دوحج کیے۔ پہلا حج حضرت مولانا یعقوب نانوتویرحمتہ اللہ علیہ کی معیت میں ؁۱۲۷۷ ھ میں کیا ۔اور دوسرا ؁۱۲۹۴ھ میں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہاور دیگر ارکابرین اُمت کے ساتھ کیا۔
    اور بلاآخر علم و عمل کایہ آفتاب ۴ جمادی الاول ؁۱۲۹۷ھ بروز جمعرات کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔


    اللہ رب العزّت سے دعا ہے آپ رحمتہ اللہ علیہکروٹ کروٹ رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العلمین
    Last edited: ‏مارچ 27, 2014
  10. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ائمہ مساجد راہنمائی کیسے کریں۔

    انور غازی (معاصر کالم نگار، جو روزنامہ جنگ اور ضرب مؤمن میں کالم لکھتے ہیں، کے کالم سے اقتباس لیے گئے ہیں)۔
    20 مارچ 2014
    مسجد کا امام مستند حافظ، قاری اور جید عالم ہونا چاہیے۔امام کی ظاہری وضع قطع سنت کے عین مطابق ہو۔ اس کا اندر اور باطن بھی اوصاف حمیدہ سے مزین ہو۔ ہر امام کو صاحب نسبت ہونا چاہیے۔ آپ خود سوچیں جب خود امام، راہبر اور لیڈر کی اپنی اصلاح نہیں ہوگی تو پھر وہ دوسروں کی اصلاح کس طرح کرسکے گا؟ امامت وخطابت کے لیے پیشہ ور خطیبوں اور کم علم واعظوں کی بجائے مستند دینی اداروں سے سند یافتہ علماء کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔

    بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کی دینی تعلیم کے لیے مسجد میں باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔ یہ انتظام مساجد کی انتظامی کمیٹیوں اور ائمہ کے تعاون واشتراک سے قائم ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے صبح کے وقت مکتب ہو۔ نوجوانوں کے لیے نمازِ مغرب کے بعد ”تعلیمِ بالغاں“ ہو، اسی طرح عشاء کے بعد کوئی نشست رکھی جائے۔

    ہفتے میں دو دن خواتین کے لیے وعظ کی مجلس ہو۔ خواتین کے لیے مکمل باپردہ انتظام ہو۔ پیر، جمعرات، جمعہ اور اتوار میں سے کوئی دو دن مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ خواتین کو پابند کیا جائے کہ وہ ان درج ذیل باتوں کا اہتمام اور پابندی کریں۔

    · مجالس میں خواتین خوشبو لگا کر نہ آئیں۔

    · میک اپ کرکے نہ آئیں۔

    · چہرے پر نقاب لٹکاکر آیا کریں۔

    · لباس یا برقع بھڑکیلا نہ ہو بلکہ سادہ ہو۔

    · خواتین چھوٹے اور ناسمجھ بچوں کو کو ہمراہ نہ لائیں تاکہ یکسوئی سے بیان سنا جاسکے۔

    · موبائل فون بھی ہمراہ نہ لائیں۔ اگر کسی مجبوری سے موبائل فون لانا ہو تو بیان کے دوران اسے سائیلنٹ پر رکھا جائے۔

    · اسی طرح جب بیان اور وعظ سننے کے لیے آئیں تو اپنے شوہروں، والدین اور محارم کے ساتھ آئیں۔

    · وعظ کی جگہ اور مقام پر مردوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔

    · وعظ کی جگہ پر انتظام سنبھالنے کے لیے خواتین ہی ہوں۔

    چونکہ یہ فتنوں کا دور ہے اس لیے ان باتوں پر سختی سے عمل کرووائیں۔ اسی میں بہتری اور بھلائی ہے۔

    ائمہ مساجد کو چاہیے کہ وہ بیان اور وعظ کے لیے پوری تیاری کرکے آئیں۔ ہر ہفتے مختلف اور الگ موضوع پر بیان ہو۔ وعظ میں لسانیت اور تعصب سے نفرت، اتفاق واتحاد سے محبت، فکرِ آخرت، تقویٰ اختیار کرنے کی فضیلت، رزقِ حلال کی اہمیت، بچوں کی تربیت پر بات کریں۔

    اسی طرح عیدین، رمضان، ربیع الاول، محرم، اعتکاف، خاص دنوں ار موقعوں پر اسی موضوع کی مناسبت سے بات کریں۔

    اس طرح اپنی ایک ایک مقتدی پر محنت کریں۔ بہت سارے ائمہ کو دیکھا ہے کہ وہ غیر شرعی کاموں کے کرنے والوں سے انتہائی نفرت کرتے ہیں اور ان کی کوئی بات نہیں سنتے اور ہر وقت ان کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، آپ گناہ سے نفرت کریں لیکن گناہگار انسان سے نہیں۔

    اسی طرح جمعے کے خطبے اور بیان میں موجود مسائل اور حالات حاضرہ پر بھی دینی رہنمائی کریں۔ لوگ اور عوام پیاسے ہوتے ہیں، آپ ان کو علم کے تالاب سے سیراب کریں۔ ائمہ مساجد اور علماء دین کی جو بات بھی کہیں یا بتائیں وہ صحیح مدلل اور معاشرے کی ضروریات کے مطابق ہونی اہیے۔ کچی اور دوغلی باتیں ہرگز نہ کریں ائمہ مساجد اور علماء کو چاہیے کہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ مزید سیکھتے اور علم حاصل کرتے رہیں۔ اپنی علمی استعداد مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ خصوصاً اپنی زبان وبیان کا معیار بہتر سے بہتر کرنے پر توجہ دیں۔

    نماز سے 10 منٹ پہلے مسجد میں آئیں اور آخری مقتدی کے جانے تک مصلّیٰ پر بیٹھے ذکر واذکار کرتے رہیں۔

    علمِ نبوی کا جھنڈا بلند رکھیں اور دینی علم کا چراغ روشن۔ قوم کی درست سمت میں صحیح رہنمائی کریں۔ پریشان حال لوگوں کے لیے امید بنیں۔ ملک تعمیر اور قوم کی رہنمائی کا دینی فریضہ سر انجام دیں۔ بلا وجہ فرقہ وارانہ اختلافات میں الجھنے سے گریز کریں۔ قوم کو وحدت واتفاق کا درس دیں۔ اگر اسی طریقے پر ائمہ مساجد اور علمائے کرام نے چند سالوں تک کام کرلیا تو ان شاء اللہ معاشرہ مزید خرابی، بربادی، فحاشی، عریانی، بے حیائی اور دیگر بیسیوں قسم کے جرائم سے بچ جائے گا۔ ورنہ جو حالات چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر خوف آتا ہے کہ چند سالوں بعد نہ جانے کیا ہو؟ ہماری نئی نسل کے ایمان اور دین کا کیا بنے؟ اللہ ہمارے، ہماری نئی نسل اور تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ایمان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین!!!
  11. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    فرمودات مصلح الامت عارف بااللہ شاہ محمد وصی اللہ الہ آبادی ؒ
    قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱
    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
    متقی لوگوں کو دیدۂ بینا کبھی بھی میسر نہ ہوا:
    فرمایا:مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ ؂
    اشقیاء را دیدۂ بینا نہ بود 239 نیک وبددر دید شاں یکساں نمود
    یعنی اشقیاء کو چونکہ بصیرت کی آنکھ نہیں تھی اسلئے اچھااور برا سب ان کی نظروں میں یکساں ہی معلوم ہوتا تھانہایت عارفانہ کلام ہے نبی جو سراپا نور ہوتا ہے اسکے ساتھ ان کا یہ معاملہ تھا ، نبی کے چہرہ میں ایسا نور ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو غیر مسلم دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ کذاب کا چہرہ نہیں ہے۔ اس پر حضرت مولانا تھانویؒ کا ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ حضرت ؒ پنجاب سے گذررہے تھے کچھ مخالف لوگ ایک اسٹیشن پر آئے ہو ئے تھے انہوں نے جب حضرت ؒ کا چہرہ دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے ۔ اور حضرتؒ سے بار بار مصافحہ کر تے تھے لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی حالانکہ حضرتؒ کا کوئی کلام نہیں سنا تھا۔ بات یہ ہے کہ جو آدمی سلیم الفطرت ہو تا ہے وہ ایسے لوگوں کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتا ہے اور ایک آدمی ایسا ہو تا ہے کہ کلام بھی سنتا ہے مگر کچھ اثر نہیں ہوتا اسی کے متعلق مولانا رومؒ فر مارہے ہیں ؂
    (ترجمہ) یعنی اکثر لوگ اسیو جہ سے خراب ہو گئے ہیں کہ اولیا ء اللہ کے حالات سے کم واقف ہو تے ہیں متقی لوگوں کو دیدۂ بینا میسر نہ ہوا اسلئے اچھے اور برے ان کی نظر میں یکساں نظر آتے ہیں اسی وجہ سے حضرات انبیاء علیہم السلام سے ہمسری کا دعویٰ کیا۔ اولیاء کرام کو مثل اپنے سمجھا اور کہنے لگے کہ ہم بھی بشر ہیں یہ انبیاء بھی بشر ہیں اور یہ دونوں خواوخورش کے مقید ہیں چنانچہ قرآن مجید میں ان کے اقوال آئے ہیں قَالُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۔ یعنی انبیاء علیہم السلام سے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہماری ہی طرح بشر ہو اور مَالِھٰذَا الرَّسُوْلِ وَیَأ کُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (یعنی اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے )یہ ان کو کوری دل سے نظر نہ آیا کہ دونوں کے درمیان بے انتہا فرق ہے یعنی چونکہ یہ لوگ دل کے اندھے تھے اور جب دل اندھا ہو جاتا ہے تو آنکھ بھی غلط بیں ہو جاتی ہے ، اسی کومولانا ؒ فرماتے ہیں ’’ مطلب یہ کہ غضب وشہوت آدمی کو غلط بیں کر دیتے ہیں اور روح کو استقامت سے بدل دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں کی وجہ ے غرض نفسانی غالب ہو جاتی ہے اور غرض ایسی چیز ہے کہ جہاں درمیان آئی ہے ہنر اور امر اصلی پوشیدہ ہوا اور اول قلب پر اس سے حجاب واقع ہوتا ہے اور اس کا ادرایک غلط ہو جاتا ہے اور چونکہ حواس اکثر آثار میں قلب کے تابع ہو تے ہیں اسلئے قلب سے آنکھ کی طرف حجاب آجاتا ہے یعنی ادراک حسی میں بھی غلطی ہو نے لگتی ہے مثلاً قاضی اپنے دل میں قرار دے لے کہ اس مقدمہ میں رشوت لوں گا پھر ظالم ومظلوم کو ہر گز نہیں پہچان سکتا توضیح اسکی یہ ہے کہ غرض نفسانی دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک کسی منفعت کا حاصل کرنا اس کو شہوت کہتے ہیں ۔ دوسرے کسی مضرت کا دفع کرنا اس کو غضب کہتے ہیں یہی دونوں وجہیں ہوتی ہیں بے انصافی کی ۔ اور دوسرے نفع ونقصان کے رعایت نہ کرنے کی جب دوسرے کے نفع ونقصان کی رعایت کا عزم نہ ہوگا تو حقیقت حال اور امر واقعی کو کیوں تحقیق کرے گا بلکہ بلا تحقیق بھی جو کچھ معلوم ہو گا اس کو اوروں سے پوشیدہ بھی کرے گااور خود اپنے قلب سے نکالنے کی بھی کوشش کرے گا ایسی حالت میں قلب اور حواس اپنا پورا کام نہ دیں گے،یہ معنیٰ ہیں قلب اور چشم پرحجاب آنے کے۔
    (کلید مثنوی دفتر اول ص ۴۵)
    مولانا رومؒ نے جویہ فرمایا کہ ؂ نیک وبد دردی بد مثال یکساں نمود
    تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام جو معجزے دکھلاتے ہیں ان کو لوگ سحر کہتے تھے اور نبی کو ساحر کہتے تھے حالانکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہو تا ہے اور سحر ساحر کا دونوں میں بہت فرق ہے ، معجزہ خیر ہے اورسحر بری چیز ہے مگر ان لوگوں کی نظر میں دونوںیکساں معلوم ہوتے تھے دراصل بات وہی ہے جو ابھی کہی گئی کہ جب دل غلط ہو جاتا ہے تو صحیح چیز بھی اسکی آنکھ میں غلط معلوم ہوتی ہے ۔ اسکی ایک مثال بیان کرتا ہوں۔
    ایک عورت کے شوہرولی تھے لیکن وہ ان کی معتقدنہ تھی ، ایک دن وہ بزرگ ہوا میں اڑے اور مکان کی طرف سے گذرے سب لوگوں نے دیکھا اور بیوی نے بھی دیکھا کہ ایک بزرگ اڑے چلے جارہے ہیں جب گھر آئے تو بیوی نے کہا آپ تو ناحق بزرگی کا دم بھرتے ہیں ، ہم نے بزرگ آج دیکھا ہے ہوا میں اڑے چلے جارہے تھے تو ان بزرگ نے کہا اچھا کیا وہ ولی تھے ؟ بیوی نے کہا ان کی ولایت میں کیا شک ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کیا واقعی بزرگ تھے کہا ہاں صاحب ان کی بزرگی میں کلام ہے جب اس طرح اس کا اقرار کرا لیا تو کہا کہ وہ تو میں ہی تھا ۔ بیوی نے یہ سنکر کہا اچھا آپ ہی تھے جب ہی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے۔ دیکھا آپ نے اڑنا بھی دو قسم کاہوتا ہے ، ایک ہی اڑنا دوسروں کیلئے سیدھا ہوتا ہے تو بیوی کے لئے وہی ٹیڑھا ہو جاتا ہے ۔ سب لوگوں نے تو ان بزرگ کے اڑنے کو ان کی کرامت میں شمار کیا کیونکہ معتقد تھے اور بیوی چو نکہ غیر معتقد تھی اس لئے اس نے اسی میں عیب لگادیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب آدمی کسی کو نہیں مانتا تو کوئی نہ کوئی شوشہ نکال ہی دیتا ہے۔
    انسانی کمال اخلاق کی درستگی میں ہے۔
    فرمایاکہ آپ تو جانتے ہیں کہ اسلام کی بناء اخلاق پر ہے رسول اللہ ﷺ نے اخلاق ہی سکھلائے ۔ آپ فر ماتے ہیں بعثت لاتم مکارہ الاخلاق۔ یعنی میری بعثت ہی اسلئے ہوئی ہے تا کہ مکارم اخلاق کی تکمیل کروں آپ کے بزرگان دین نے اس میں کتنا حصہ پایا اور کتنا دوسروں کو بتایا ہے آپ کے سامنے ان کی تصانیف موجود ہیں اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو اخلاق سکھلائے ورنہ تو آپ کے تشریف لانے سے پہلے انسان حیوان سے بھی بد تر تھا کیونکہ حیوان میں تو باہم کچھ رحم اور محبت بھی ہوتی ہے لیکن انسان کے قلب سے رحم نکل چکا تھا اور اسکی جگہ ظلم نے لے لی تھی انتہا یہ ہے کہ اہلِ عرب لڑکیوں سے ابتد اً محبت کرتے تھے مگر جب ذرا بڑی ہو جاتی تھیں تو جنگل میں لے جاکر گڑھا کھودتے تھے اور اس بچی کو کپڑوں اور زیور سے آراستہ کرتے اور گڑھے میں اس کو ڈھکیل دیتے وہ اندر سے چلاتی کہ ابا یہ کیا کر رہے ہو مگر وہ ظالم اسے زندہ در گور کر کے چلاتا آتا ایسے بد اخلاق اور ایسے ظالم تھے دوسرا ظلم سنیے ’’ بیت اللہ کا طواف ننگے کرتے تھے ۔ شیطان نے انھیں یہ پٹی پڑھا دی تھی ان میں بڑے بڑے چو دھری لوگ تھے مگر عقل مسخ ہو گئی تھی ۔ پیغمبروں کو مانتے تھے چنا نچہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر کہتے تھے مگر ان کے دین کا یہ حشر کر رکھا تھا وہ تو ایسے نہیں تھے مگر بات یہ ہے کہ جب نبی کو آئے بہت دن گذرجاتے ہیں تو انکی تعلیمات ختم ہو جاتی ہیں اور جہالت کا دور دورہ ہو جاتا ہے رسو ل ا للہ ﷺ کا احسان ہے کہ آپ نے ان سے بد اخلاقیوں کو دور فرمایا ۔چنانچہ علماء نے ہر زمانہ لوگوں کو انکی
    بد اخلاقیوں کوسمجھایا ہے اور قلب میں اس سے نفرت دلا کر لوگوں کو ان سے نکالا ہے استقامت جو دینی طریق میں مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے احوال نیک ہوں اور ان پر وہ مداوم ہو،ایک چور سولی پر لٹکا ہوا تھا حضرت جنیدؒ کا ادھر سے گذرہوا اسے دیکھ کر اسکی طرف بڑھے اور اسکی پیشانی پر بوسہ دیا، لوگوں نے عرض کیا حضرت یہ تو چور تھا فرمایا کہ بھائی میں نے اسکی چوری کی تعریف تھوڑی ہی کہ ہے مجھے تو اسکی استقامت پسند آئی کہ دیکھو مر گیا مگر چوری نہیں چھوڑی اس سے یہ سبق ملا کہ جب ایک شخص برائی پر ایسی استقامت کر سکتا ہے تو ہمیں نیکی پر کیسی استقامت چاہئیے۔ مشائخ نے لکھا ہے کہ طریق اصول میں سے ایک اکل حلال ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں یَا اَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاًیعنی اے رسول حلال چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو اور دوسرا حسن خلق جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے بُعِثْتُ لِاُتِمَّ مَکَارِمَ الْاِخْلَاقِ تو جب علماء یہ فرمارہے ہیں تو یہ سمجھنا ہو گا کہ اخلاق کیا چیز ہے۔ منہج العمال میں ہے حُسْنُ الْخْلْقِ ھُوَ مُعَابَلَتُکَ مَعَ کُلِّ اَحَدٍ بِمَایَسُّرُہُ الَّا فِیْمَا یُخَالِفُ الشَّرْعُ ۔ یعنی حسن خلق اسے کہتے ہیں کہ تم ہر شخص کے ساتھ حدود شرع کے اندررہتے ہوئے ایسا معاملہ کرو کہ جس سے وہ خوش ہو جائے اور حضرت گنگوہیؒ نے خلق کے یہ معنیٰ بیان فرمائے کہمُعَامِلَۃُ الْمَخْلُوْقِ حَسْبَ رِضَاءِ الْخَالِقِ ۔ یعنی مخلوق کے ساتھ خالق کی رضا کے مطابق معاملہ کرنا)
    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ؒ حجۃ البالغہ میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے ضمن میں یہ بیان فرماتے ہیں چنانچہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ فرماتے تھے کہ لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے تھے۔ ایک کافر آپ ﷺ کا مہمان ہوا شب میں اس نے کھانا کچھ زیادہ کھا لیا جسکی وجہ سے بستر ہی پر پاخانہ کر دیا اور سویرے ہی اٹھ کر کہیں چلدیا تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو دیکھتا ہے کیا ہے کہ خود حضور ﷺ اس بستر کو دھو رہے ہیں صحابہ موجود تھے خدام موجود تھے کسی سے بھی آپ دھلوا سکتے تھے مگر کسی سے نہیں دھلوایا خود اس کام کو کیا ۔ یہ دیکھ کر اس پر ایسا اثر پڑا گیا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان
    ہو گیا۔ سبحا ن اللّٰہ یہ تھے آپ ﷺ کے اخلاق انھیں کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہو تے تھے۔ اور سنئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے کوئی شخص مصافحہ کرتا تو آپ ﷺ اسکے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہی کھینچنے میں ابتدا کرتا کتنی ہی دیر تک کوئی ہاتھ پکڑے رہتا آپ ﷺ بھی پکڑے رہتے اور آپ ﷺ چھوڑتے بھی کیسے آپ ﷺ ہی ہاتھ چھوڑدیں تو دوسرا کون پکڑنے والا ہے آپ ﷺ تو ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائیں گے اسلئے آپ ﷺ کسی کا ہاتھ پکڑ کر کیوں چھوڑتے ۔ آپ ﷺ کے انہیں اخلاق کو دیکھ کر صحابہ بچھ جاتے تھے اورفدا ہو جاتے تھے آپ ﷺ کی رعایت۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایک صحابی کو پچھے سے پکڑ لیا انہوں نے کنکھیوں سے دیکھ کر معلوم کرلیا کہ حضور ﷺ ہیں پس اپنی پیٹھ کو آپ ﷺ کے سینہ مبارک رگڑنے لگے اتنے دنوں میں آج ہی تو ایسا مو قع آیا ہے جتنی برکت لے سکوں لے لوں اسکے بعد حضور ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا کہ کون اس غلام کو خریدتا ہے وہ صحابی بولے کہ یہ غلام نا کارہ ہے اس کو کون لے گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، اللہ اور رسول کے نزدیک یہ بڑا قیمتی ہے۔ سبحان اللہ یہ تھے آپ ﷺ کے نبی کے اخلاق اور آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت نے حضرات صحابہ کو بھی کامل بنا دیا اور الوان گو مختلف رہے لیکن کامل سب ہی ہوئے ۔ایک عالم کہتے تھے کہ حضور ﷺ کا معجزہ تو لوگ بیان کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ہر ایک صحابی ایک مستقل معجزہ ہے یہ اسی لئے کہ جو جس رنگ میں تھا کمال کو پہونچا چنا نچہ حضرت صدیق اکبرؓ کے بارے میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اَرْحَمْ اُمَّتِیْ بِاُ مَّتِیْ اَبُوْ بَکْرٍ رضی اللّٰہ عنہ یعنی میری امت میں ان پر سب سے زیادہ رحم کر نیوالے ابو بکر صدیقؓ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ آپ ﷺ ہی کے اخلاق کا پر تو تھا اور آپ ﷺ ہی کی صحبت کی تاثیر تھی کہ خلق محمدی ﷺ کے مظہر اور رحمۃ اللعٰلمین کی صفت رحمت کے پر تو حضرت ابو بکر صدیق ہو ئے آپ ﷺ نے انہیں ایسا بنا دیا تھا کہ ان کے اخلاق ہی سے معلوم ہو تا تھا کہ یہاں یہ ہیں آپ ﷺ کے خلیفہ ایک مرتبہ رؤسا عرب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ ﷺ ان کو تعلیم فرمارہے تھے اتنے میں ایک نا بینا صحابی آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ نے جو آپ ﷺ کو سکھایا ہے ہمیں بھی سکھلا دیجئے ۔ چونکہ اثنائے کلام میں بول پڑے تھے اسلئے آپ ﷺ کو نا گوار گذرا ۔ اس وقت تو آپ ﷺ مکان چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نا زل فرمائیں عَبَسَ وَتَوَلّیٰ اَنْ جَاءَہُ الْاَعْمیٰ وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّیٰ اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْریٰ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنیٰ فَاَنْتَ لَہُ تَصَدّیٰ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّ کیٰ وَاَمَّا مَنْ جَاءَکَ یَسْعٰی وَھُوَ یَخْشٰی فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰیپیغمبر چیں بچیں ہو گئے اور متوجہ نہیں ہوئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیااور آپ ﷺ کو کیا خبرشاید وہ سنور جاتایا نصیحت قبول کرتا فائدہ پہو نچا تا تو جو شخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اسکی تو فکر میں پڑتے ہیں حالانکہ اسکے نہ سنورنے کاآپ پر کوئی الزام نہیں ہے اور جو شخص آپ کے پاس دین کے شوق میں دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ خدا سے بھی ڈرتا ہے تو آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔ ان آیات کے نازل ہو نے کے بعد آپ ان کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی چادر مبارک بچھائی اور پھر اسکے بعد سے ہمیشہ ان کے لئے چادر بچھایا کرتے تھے اور جب آپ نے فتح مکہ کے لئے سفر فرمایا تو مدینہ منورہ میں انہیں کو اپنا نائب بنادیا تھا۔ شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے ان کا عجیب واقعہ لکھا ہے وہ یہ کہ جنگ قادسیہ میں گھوڑے پر سوار ہوکر دشمنوں سے لڑتے تھے ۔ آگے بڑھتے تھے اور پیچھے ہٹتے تھے اور خود بھی حملہ کرتے تھے اور حملہ کو روکتے تھے حالانکہ دونوں آنکھیں نہیں تھیں ہاں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت سے دل کی آنکھیں روشن تھیں اسی سے دیکھتےہو نگے ۔
    ایک بڑا شخص تھا ذی علم بھی تھا اور رئیس بھی تھا کسی نے اس سے تعریضاً کہا آپ کے ایک ہی آنکھ ہے (اشارہ تھا اس طرف کی کہ دجال کے بھی ایک ہی آنکھ ہو گی) انہوں نے بر جستہ کہا کہ مومن کی ایک آنکھ اسکے قلب میں ہوتی ہے اگر ہم بھی حضور ﷺ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی تعلیمات نہ بیان کریں تو آپ کو کیسے معلوم ہو لوگوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ گھر دوزخ کا نمونہ ہے تو سن لو کہ جب حضور ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کے اخلاق کو ترک کر دوگے تو سب سے پہلی سزا جو اس دنیا میں ملے گی وہ یہ ہوگی کہ تمہارا گھر دوزخ کا نمونہ ہو جائے گا اور عیش دنیا کر کرا ہو جائے گا ۔ مسجد نبوی میں ایک دفعہ ایک اعرابی پیشاب کر نے لگا صحابہ نے اس کو روکنا چاہا اور اسے ڈانٹنے لگے کہ ہاں یہاں پیشاب نہ کرو مگر حضور ﷺ نے صحابہ کو روک دیا اس خیال سے کے مبادا کہیں اور زیادہ ملوث نہ ہو جائے آپ ﷺ کے خلق کا اس پر بہت اثر ہوا۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور نرمی سے فرمایا کہ دیکھو یہ مسجدیں نماز پڑھنے تلاوت کر نے اور خدا کا ذکر کر نے کیلئے بنائی جاتی ہیں ان میں یہ سب باتیں نہیں کر نی چاہئیے اس کے بعد وہ اعرابی اپنے مکان چلا گیا اور لوگوں سے اس واقعہ کو بیان کیا اور رسول اللہ ﷺ کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ وہ برگزیدہ نبی ہیں اور ان کے اخلاق نہایت ہی پاکیزہ ہیں مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہو گئی لیکن خدا کی قسم نہ تو مجھ پر خفا ہوئے اور نہ مجھے جھڑکا تمام شور کردیا اور ہمیشہ آپ ﷺ کی تعریف کرتا تھا ، یہ تھے آپ ﷺ کے اخلاق آپ ﷺ کے صحابہ نے ایسے اخلاق پیش کئے کہ انہیں دیکھ کر کئی کافر مسلمان ہو گئے مولانا رومؒ نے مثنوی میں حضرت علیؓ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جب آپ نے ایک کافر کو بچھاڑا اور اسکے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور اس نے آپ کے روئے مبارک پر تھوک دیا تو آپ نے تلوار پھینک دی اور اسکے سینے سے اتر آئے وہ حریف آپ کے اس عمل سے اور بے محل عفو فرمانے سے نہایت متحیر ہوا دریافت کیا کہ آپ نے کس وجہ سے مجھے چھوڑ دیا لڑائی کے وقت جب تو نے میرے منہ پر تھوک دیا تو میرے نفس کو غصہ سے جنبش ہوئی اور میرا حسن خلق بگڑنے لگا پس کچھ تو اللہ تعالیٰ کے واسطے رہ گیا اور کچھ ہوائے نفسانی ہو گیا اور حق تعالیٰ کی عبادت میں شر کت جائز نہیں ہے اور یہ فرمایا کہ تو دستِ حق کا بنایا ہوا ہے اور حق تعالیٰ کا مملوک ہے اور مصنوع حق کو امر حق سے توڑنا چاہئیے ۔ اس کافر نے جب سنا تو کہا کہ میں آپ کے پاس تخم جفا بو تا ہوں اور میں تو آپ کو کچھ اور ہی طرح سمجھتا تھا مگر آپ کچھ اور ہی نکلے ۔ پس مجھ پر کلمۂ شہادت پیش فرمائیے کہ میں آپ کو اس وقت تمام زمانہ سے افضل سمجھتا ہوں غرض اسکے اقارب اور برادری میں سے تقریباً پچاس آدمیوں نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ اسلام قبول کر لیا ۔ جب تک رسول اللہ ﷺ کے راستہ پر نہیں آؤگے خدا کا راستہ نہیں پاؤگے ۔ آپ ﷺ کا طریقہ حضرات صحابہؓ نے اختیار کیا اور بعد میں علماء اور مشائخ بھی اسی راستہ پر چلے اور خود بھی اپنے اخلاق اچھے کئے اور دوسروں کو اخلاق درست کرنے پر ابھارا یہ ہے سنت کی تعلیم اور نبوی اخلاق کہ اپنی اطاعت پر نظر نہیں ہوتی اور یہ حضرات ہر وقت اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ حضرت بایزیدبسطامیؒ کا واقعہ لکھا ہے کہ میں نے سنا کہ ایک دفعہ عید کی صبح کو حضرت با یزیدبسطامی ؒ حمام سے غسل کر ے اور کپڑے بدل کر باہر تشریف لائے(اور گلی میں سے گذر رہے تھے) کہ کسی نے مکان کے اوپر سے لوگوں نے بے خبری میں ایک طباق راکھ نیچے پھینکی جو حضرت کے سر پر پڑی اور آپ کے چہرہ اور عمامہ راکھ سے بھر گیا اس حال میں شکر انے کا ہاتھ اپنے چہرہ پر پھیرتے تھے (یعنی چہرہ سے راکھ جھاڑتے جاتے تھے ) اور یہ فرماتے تھے کہ اے نفس (اپنے اعمال کی وجہ سے تو) تو آگ کے لائق ہے پھر محض راکھ ہی کے پڑنے کی وجہ سے تو کیوں چیں بچیں ہو تا ہے اس واقعہ کو بیان کر کے شیخ سعدیؒ یہ تعلیم فرماتے ہیں ؂
    بزرگاں نہ کردند در خود نگاہ 239 خدا بینی از خویشتن بیں مخواہ
    یعنی بزرگوں نے کبھی اپنے اندر نظر نہیں کی یعنی ہمیشہ خود بینی سے بچے ہیں اسلئے کہ جو خود بیں ہوتا ہے وہ خدا بیں نہیں ہوسکتا بزرگوں کے واقعات آپ نے سنے کسقدر زہد، فروتنی، اور ترک عجب وکبر کرنا پڑتا ہے تب انسان کو راستہ ملتا ہے ورنہ تو کبھی ایسا ہو تا ہے کہ ابتدا ہی سے راہ نہیں ملتی یاراستہ ملا ہوتا ہے لیکن انسان سلامتی کے ساتھ اسے طے نہیں کرپاتا جس کو اس طریق میں جو کچھ ملا ہے وہ عاجزی، بیچارگی اور مسکنت ہی سے ملا ہے کبر وانانیت سے کسی نے یہ راہ طے نہیں کیا اور یہ اسلئے کہ کبر وانانیت اس دربار میں بہت ہے بلکہ انہیں کے ساتھ مخصوص ہے الکبریاء ردائی حدیث میں ہے البتہ وہاں بیچارگی نہیں ہے اور قاعدہ ہے کہ جو چیز جہاں نہیں ہوتی یا جہاں کے لئے نئی ہوتی ہے انسان اس کا ہدیہ پیش کرتا ہے اسلئے بیچارگی کا تحفہ وہاں مقبول ہے انسان اپنے آپ کو گنہگار سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے کرم پر اسکی نظر ہو اور طاعت کر نے کے بعد اپنے آپ کو ادائے حق خالق سے قاصر سمجھے اور اس تقصیر پر استغفار کرتا رہے تو اس کا یہ حال اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے
  12. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    فرمودات مصلح الامت عارف بااللہ شاہ محمد وصی اللہ الہ آبادی ؒ

    قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱

    بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

    متقی لوگوں کو دیدۂ بینا کبھی بھی میسر نہ ہوا:

    فرمایا:مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ ؂

    اشقیاء را دیدۂ بینا نہ بود 239 نیک وبددر دید شاں یکساں نمود

    یعنی اشقیاء کو چونکہ بصیرت کی آنکھ نہیں تھی اسلئے اچھااور برا سب ان کی نظروں میں یکساں ہی معلوم ہوتا تھانہایت عارفانہ کلام ہے نبی جو سراپا نور ہوتا ہے اسکے ساتھ ان کا یہ معاملہ تھا ، نبی کے چہرہ میں ایسا نور ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کو غیر مسلم دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ کذاب کا چہرہ نہیں ہے۔ اس پر حضرت مولانا تھانویؒ کا ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ حضرت ؒ پنجاب سے گذررہے تھے کچھ مخالف لوگ ایک اسٹیشن پر آئے ہو ئے تھے انہوں نے جب حضرت ؒ کا چہرہ دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے ۔ اور حضرتؒ سے بار بار مصافحہ کر تے تھے لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی حالانکہ حضرتؒ کا کوئی کلام نہیں سنا تھا۔ بات یہ ہے کہ جو آدمی سلیم الفطرت ہو تا ہے وہ ایسے لوگوں کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتا ہے اور ایک آدمی ایسا ہو تا ہے کہ کلام بھی سنتا ہے مگر کچھ اثر نہیں ہوتا اسی کے متعلق مولانا رومؒ فر مارہے ہیں ؂

    (ترجمہ) یعنی اکثر لوگ اسیو جہ سے خراب ہو گئے ہیں کہ اولیا ء اللہ کے حالات سے کم واقف ہو تے ہیں متقی لوگوں کو دیدۂ بینا میسر نہ ہوا اسلئے اچھے اور برے ان کی نظر میں یکساں نظر آتے ہیں اسی وجہ سے حضرات انبیاء علیہم السلام سے ہمسری کا دعویٰ کیا۔ اولیاء کرام کو مثل اپنے سمجھا اور کہنے لگے کہ ہم بھی بشر ہیں یہ انبیاء بھی بشر ہیں اور یہ دونوں خواوخورش کے مقید ہیں چنانچہ قرآن مجید میں ان کے اقوال آئے ہیں قَالُوْا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۔ یعنی انبیاء علیہم السلام سے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہماری ہی طرح بشر ہو اور مَالِھٰذَا الرَّسُوْلِ وَیَأ کُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ (یعنی اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے )یہ ان کو کوری دل سے نظر نہ آیا کہ دونوں کے درمیان بے انتہا فرق ہے یعنی چونکہ یہ لوگ دل کے اندھے تھے اور جب دل اندھا ہو جاتا ہے تو آنکھ بھی غلط بیں ہو جاتی ہے ، اسی کومولانا ؒ فرماتے ہیں ’’ مطلب یہ کہ غضب وشہوت آدمی کو غلط بیں کر دیتے ہیں اور روح کو استقامت سے بدل دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں کی وجہ ے غرض نفسانی غالب ہو جاتی ہے اور غرض ایسی چیز ہے کہ جہاں درمیان آئی ہے ہنر اور امر اصلی پوشیدہ ہوا اور اول قلب پر اس سے حجاب واقع ہوتا ہے اور اس کا ادرایک غلط ہو جاتا ہے اور چونکہ حواس اکثر آثار میں قلب کے تابع ہو تے ہیں اسلئے قلب سے آنکھ کی طرف حجاب آجاتا ہے یعنی ادراک حسی میں بھی غلطی ہو نے لگتی ہے مثلاً قاضی اپنے دل میں قرار دے لے کہ اس مقدمہ میں رشوت لوں گا پھر ظالم ومظلوم کو ہر گز نہیں پہچان سکتا توضیح اسکی یہ ہے کہ غرض نفسانی دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک کسی منفعت کا حاصل کرنا اس کو شہوت کہتے ہیں ۔ دوسرے کسی مضرت کا دفع کرنا اس کو غضب کہتے ہیں یہی دونوں وجہیں ہوتی ہیں بے انصافی کی ۔ اور دوسرے نفع ونقصان کے رعایت نہ کرنے کی جب دوسرے کے نفع ونقصان کی رعایت کا عزم نہ ہوگا تو حقیقت حال اور امر واقعی کو کیوں تحقیق کرے گا بلکہ بلا تحقیق بھی جو کچھ معلوم ہو گا اس کو اوروں سے پوشیدہ بھی کرے گااور خود اپنے قلب سے نکالنے کی بھی کوشش کرے گا ایسی حالت میں قلب اور حواس اپنا پورا کام نہ دیں گے،یہ معنیٰ ہیں قلب اور چشم پرحجاب آنے کے۔

    (کلید مثنوی دفتر اول ص ۴۵)

    مولانا رومؒ نے جویہ فرمایا کہ ؂ نیک وبد دردی بد مثال یکساں نمود

    تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام جو معجزے دکھلاتے ہیں ان کو لوگ سحر کہتے تھے اور نبی کو ساحر کہتے تھے حالانکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہو تا ہے اور سحر ساحر کا دونوں میں بہت فرق ہے ، معجزہ خیر ہے اورسحر بری چیز ہے مگر ان لوگوں کی نظر میں دونوںیکساں معلوم ہوتے تھے دراصل بات وہی ہے جو ابھی کہی گئی کہ جب دل غلط ہو جاتا ہے تو صحیح چیز بھی اسکی آنکھ میں غلط معلوم ہوتی ہے ۔ اسکی ایک مثال بیان کرتا ہوں۔

    ایک عورت کے شوہرولی تھے لیکن وہ ان کی معتقدنہ تھی ، ایک دن وہ بزرگ ہوا میں اڑے اور مکان کی طرف سے گذرے سب لوگوں نے دیکھا اور بیوی نے بھی دیکھا کہ ایک بزرگ اڑے چلے جارہے ہیں جب گھر آئے تو بیوی نے کہا آپ تو ناحق بزرگی کا دم بھرتے ہیں ، ہم نے بزرگ آج دیکھا ہے ہوا میں اڑے چلے جارہے تھے تو ان بزرگ نے کہا اچھا کیا وہ ولی تھے ؟ بیوی نے کہا ان کی ولایت میں کیا شک ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کیا واقعی بزرگ تھے کہا ہاں صاحب ان کی بزرگی میں کلام ہے جب اس طرح اس کا اقرار کرا لیا تو کہا کہ وہ تو میں ہی تھا ۔ بیوی نے یہ سنکر کہا اچھا آپ ہی تھے جب ہی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے۔ دیکھا آپ نے اڑنا بھی دو قسم کاہوتا ہے ، ایک ہی اڑنا دوسروں کیلئے سیدھا ہوتا ہے تو بیوی کے لئے وہی ٹیڑھا ہو جاتا ہے ۔ سب لوگوں نے تو ان بزرگ کے اڑنے کو ان کی کرامت میں شمار کیا کیونکہ معتقد تھے اور بیوی چو نکہ غیر معتقد تھی اس لئے اس نے اسی میں عیب لگادیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب آدمی کسی کو نہیں مانتا تو کوئی نہ کوئی شوشہ نکال ہی دیتا ہے۔

    انسانی کمال اخلاق کی درستگی میں ہے۔

    فرمایاکہ آپ تو جانتے ہیں کہ اسلام کی بناء اخلاق پر ہے رسول اللہ ﷺ نے اخلاق ہی سکھلائے ۔ آپ فر ماتے ہیں بعثت لاتم مکارہ الاخلاق۔ یعنی میری بعثت ہی اسلئے ہوئی ہے تا کہ مکارم اخلاق کی تکمیل کروں آپ کے بزرگان دین نے اس میں کتنا حصہ پایا اور کتنا دوسروں کو بتایا ہے آپ کے سامنے ان کی تصانیف موجود ہیں اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو اخلاق سکھلائے ورنہ تو آپ کے تشریف لانے سے پہلے انسان حیوان سے بھی بد تر تھا کیونکہ حیوان میں تو باہم کچھ رحم اور محبت بھی ہوتی ہے لیکن انسان کے قلب سے رحم نکل چکا تھا اور اسکی جگہ ظلم نے لے لی تھی انتہا یہ ہے کہ اہلِ عرب لڑکیوں سے ابتد اً محبت کرتے تھے مگر جب ذرا بڑی ہو جاتی تھیں تو جنگل میں لے جاکر گڑھا کھودتے تھے اور اس بچی کو کپڑوں اور زیور سے آراستہ کرتے اور گڑھے میں اس کو ڈھکیل دیتے وہ اندر سے چلاتی کہ ابا یہ کیا کر رہے ہو مگر وہ ظالم اسے زندہ در گور کر کے چلاتا آتا ایسے بد اخلاق اور ایسے ظالم تھے دوسرا ظلم سنیے ’’ بیت اللہ کا طواف ننگے کرتے تھے ۔ شیطان نے انھیں یہ پٹی پڑھا دی تھی ان میں بڑے بڑے چو دھری لوگ تھے مگر عقل مسخ ہو گئی تھی ۔ پیغمبروں کو مانتے تھے چنا نچہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم پر کہتے تھے مگر ان کے دین کا یہ حشر کر رکھا تھا وہ تو ایسے نہیں تھے مگر بات یہ ہے کہ جب نبی کو آئے بہت دن گذرجاتے ہیں تو انکی تعلیمات ختم ہو جاتی ہیں اور جہالت کا دور دورہ ہو جاتا ہے رسو ل ا للہ ﷺ کا احسان ہے کہ آپ نے ان سے بد اخلاقیوں کو دور فرمایا ۔چنانچہ علماء نے ہر زمانہ لوگوں کو انکی

    بد اخلاقیوں کوسمجھایا ہے اور قلب میں اس سے نفرت دلا کر لوگوں کو ان سے نکالا ہے استقامت جو دینی طریق میں مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے احوال نیک ہوں اور ان پر وہ مداوم ہو،ایک چور سولی پر لٹکا ہوا تھا حضرت جنیدؒ کا ادھر سے گذرہوا اسے دیکھ کر اسکی طرف بڑھے اور اسکی پیشانی پر بوسہ دیا، لوگوں نے عرض کیا حضرت یہ تو چور تھا فرمایا کہ بھائی میں نے اسکی چوری کی تعریف تھوڑی ہی کہ ہے مجھے تو اسکی استقامت پسند آئی کہ دیکھو مر گیا مگر چوری نہیں چھوڑی اس سے یہ سبق ملا کہ جب ایک شخص برائی پر ایسی استقامت کر سکتا ہے تو ہمیں نیکی پر کیسی استقامت چاہئیے۔ مشائخ نے لکھا ہے کہ طریق اصول میں سے ایک اکل حلال ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں یَا اَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحاًیعنی اے رسول حلال چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو اور دوسرا حسن خلق جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے بُعِثْتُ لِاُتِمَّ مَکَارِمَ الْاِخْلَاقِ تو جب علماء یہ فرمارہے ہیں تو یہ سمجھنا ہو گا کہ اخلاق کیا چیز ہے۔ منہج العمال میں ہے حُسْنُ الْخْلْقِ ھُوَ مُعَابَلَتُکَ مَعَ کُلِّ اَحَدٍ بِمَایَسُّرُہُ الَّا فِیْمَا یُخَالِفُ الشَّرْعُ ۔ یعنی حسن خلق اسے کہتے ہیں کہ تم ہر شخص کے ساتھ حدود شرع کے اندررہتے ہوئے ایسا معاملہ کرو کہ جس سے وہ خوش ہو جائے اور حضرت گنگوہیؒ نے خلق کے یہ معنیٰ بیان فرمائے کہمُعَامِلَۃُ الْمَخْلُوْقِ حَسْبَ رِضَاءِ الْخَالِقِ ۔ یعنی مخلوق کے ساتھ خالق کی رضا کے مطابق معاملہ کرنا)

    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی ؒ حجۃ البالغہ میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے ضمن میں یہ بیان فرماتے ہیں چنانچہ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ فرماتے تھے کہ لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے تھے۔ ایک کافر آپ ﷺ کا مہمان ہوا شب میں اس نے کھانا کچھ زیادہ کھا لیا جسکی وجہ سے بستر ہی پر پاخانہ کر دیا اور سویرے ہی اٹھ کر کہیں چلدیا تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو دیکھتا ہے کیا ہے کہ خود حضور ﷺ اس بستر کو دھو رہے ہیں صحابہ موجود تھے خدام موجود تھے کسی سے بھی آپ دھلوا سکتے تھے مگر کسی سے نہیں دھلوایا خود اس کام کو کیا ۔ یہ دیکھ کر اس پر ایسا اثر پڑا گیا کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان

    ہو گیا۔ سبحا ن اللّٰہ یہ تھے آپ ﷺ کے اخلاق انھیں کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہو تے تھے۔ اور سنئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے کوئی شخص مصافحہ کرتا تو آپ ﷺ اسکے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہی کھینچنے میں ابتدا کرتا کتنی ہی دیر تک کوئی ہاتھ پکڑے رہتا آپ ﷺ بھی پکڑے رہتے اور آپ ﷺ چھوڑتے بھی کیسے آپ ﷺ ہی ہاتھ چھوڑدیں تو دوسرا کون پکڑنے والا ہے آپ ﷺ تو ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائیں گے اسلئے آپ ﷺ کسی کا ہاتھ پکڑ کر کیوں چھوڑتے ۔ آپ ﷺ کے انہیں اخلاق کو دیکھ کر صحابہ بچھ جاتے تھے اورفدا ہو جاتے تھے آپ ﷺ کی رعایت۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایک صحابی کو پچھے سے پکڑ لیا انہوں نے کنکھیوں سے دیکھ کر معلوم کرلیا کہ حضور ﷺ ہیں پس اپنی پیٹھ کو آپ ﷺ کے سینہ مبارک رگڑنے لگے اتنے دنوں میں آج ہی تو ایسا مو قع آیا ہے جتنی برکت لے سکوں لے لوں اسکے بعد حضور ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا کہ کون اس غلام کو خریدتا ہے وہ صحابی بولے کہ یہ غلام نا کارہ ہے اس کو کون لے گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، اللہ اور رسول کے نزدیک یہ بڑا قیمتی ہے۔ سبحان اللہ یہ تھے آپ ﷺ کے نبی کے اخلاق اور آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت نے حضرات صحابہ کو بھی کامل بنا دیا اور الوان گو مختلف رہے لیکن کامل سب ہی ہوئے ۔ایک عالم کہتے تھے کہ حضور ﷺ کا معجزہ تو لوگ بیان کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ہر ایک صحابی ایک مستقل معجزہ ہے یہ اسی لئے کہ جو جس رنگ میں تھا کمال کو پہونچا چنا نچہ حضرت صدیق اکبرؓ کے بارے میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اَرْحَمْ اُمَّتِیْ بِاُ مَّتِیْ اَبُوْ بَکْرٍ رضی اللّٰہ عنہ یعنی میری امت میں ان پر سب سے زیادہ رحم کر نیوالے ابو بکر صدیقؓ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ آپ ﷺ ہی کے اخلاق کا پر تو تھا اور آپ ﷺ ہی کی صحبت کی تاثیر تھی کہ خلق محمدی ﷺ کے مظہر اور رحمۃ اللعٰلمین کی صفت رحمت کے پر تو حضرت ابو بکر صدیق ہو ئے آپ ﷺ نے انہیں ایسا بنا دیا تھا کہ ان کے اخلاق ہی سے معلوم ہو تا تھا کہ یہاں یہ ہیں آپ ﷺ کے خلیفہ ایک مرتبہ رؤسا عرب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ ﷺ ان کو تعلیم فرمارہے تھے اتنے میں ایک نا بینا صحابی آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ نے جو آپ ﷺ کو سکھایا ہے ہمیں بھی سکھلا دیجئے ۔ چونکہ اثنائے کلام میں بول پڑے تھے اسلئے آپ ﷺ کو نا گوار گذرا ۔ اس وقت تو آپ ﷺ مکان چلے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نا زل فرمائیں عَبَسَ وَتَوَلّیٰ اَنْ جَاءَہُ الْاَعْمیٰ وَمَایُدْرِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّیٰ اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْریٰ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنیٰ فَاَنْتَ لَہُ تَصَدّیٰ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّ کیٰ وَاَمَّا مَنْ جَاءَکَ یَسْعٰی وَھُوَ یَخْشٰی فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَھّٰیپیغمبر چیں بچیں ہو گئے اور متوجہ نہیں ہوئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیااور آپ ﷺ کو کیا خبرشاید وہ سنور جاتایا نصیحت قبول کرتا فائدہ پہو نچا تا تو جو شخص بے پرواہی کرتا ہے آپ اسکی تو فکر میں پڑتے ہیں حالانکہ اسکے نہ سنورنے کاآپ پر کوئی الزام نہیں ہے اور جو شخص آپ کے پاس دین کے شوق میں دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ خدا سے بھی ڈرتا ہے تو آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔ ان آیات کے نازل ہو نے کے بعد آپ ان کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی چادر مبارک بچھائی اور پھر اسکے بعد سے ہمیشہ ان کے لئے چادر بچھایا کرتے تھے اور جب آپ نے فتح مکہ کے لئے سفر فرمایا تو مدینہ منورہ میں انہیں کو اپنا نائب بنادیا تھا۔ شاہ عبد العزیز صاحبؒ نے ان کا عجیب واقعہ لکھا ہے وہ یہ کہ جنگ قادسیہ میں گھوڑے پر سوار ہوکر دشمنوں سے لڑتے تھے ۔ آگے بڑھتے تھے اور پیچھے ہٹتے تھے اور خود بھی حملہ کرتے تھے اور حملہ کو روکتے تھے حالانکہ دونوں آنکھیں نہیں تھیں ہاں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت سے دل کی آنکھیں روشن تھیں اسی سے دیکھتےہو نگے ۔

    ایک بڑا شخص تھا ذی علم بھی تھا اور رئیس بھی تھا کسی نے اس سے تعریضاً کہا آپ کے ایک ہی آنکھ ہے (اشارہ تھا اس طرف کی کہ دجال کے بھی ایک ہی آنکھ ہو گی) انہوں نے بر جستہ کہا کہ مومن کی ایک آنکھ اسکے قلب میں ہوتی ہے اگر ہم بھی حضور ﷺ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی تعلیمات نہ بیان کریں تو آپ کو کیسے معلوم ہو لوگوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ گھر دوزخ کا نمونہ ہے تو سن لو کہ جب حضور ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کے اخلاق کو ترک کر دوگے تو سب سے پہلی سزا جو اس دنیا میں ملے گی وہ یہ ہوگی کہ تمہارا گھر دوزخ کا نمونہ ہو جائے گا اور عیش دنیا کر کرا ہو جائے گا ۔ مسجد نبوی میں ایک دفعہ ایک اعرابی پیشاب کر نے لگا صحابہ نے اس کو روکنا چاہا اور اسے ڈانٹنے لگے کہ ہاں یہاں پیشاب نہ کرو مگر حضور ﷺ نے صحابہ کو روک دیا اس خیال سے کے مبادا کہیں اور زیادہ ملوث نہ ہو جائے آپ ﷺ کے خلق کا اس پر بہت اثر ہوا۔ آپ ﷺ نے اسے بلایا اور نرمی سے فرمایا کہ دیکھو یہ مسجدیں نماز پڑھنے تلاوت کر نے اور خدا کا ذکر کر نے کیلئے بنائی جاتی ہیں ان میں یہ سب باتیں نہیں کر نی چاہئیے اس کے بعد وہ اعرابی اپنے مکان چلا گیا اور لوگوں سے اس واقعہ کو بیان کیا اور رسول اللہ ﷺ کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ وہ برگزیدہ نبی ہیں اور ان کے اخلاق نہایت ہی پاکیزہ ہیں مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہو گئی لیکن خدا کی قسم نہ تو مجھ پر خفا ہوئے اور نہ مجھے جھڑکا تمام شور کردیا اور ہمیشہ آپ ﷺ کی تعریف کرتا تھا ، یہ تھے آپ ﷺ کے اخلاق آپ ﷺ کے صحابہ نے ایسے اخلاق پیش کئے کہ انہیں دیکھ کر کئی کافر مسلمان ہو گئے مولانا رومؒ نے مثنوی میں حضرت علیؓ کا واقعہ بیان کیا ہے کہ جب آپ نے ایک کافر کو بچھاڑا اور اسکے سینہ پر چڑھ بیٹھے اور اس نے آپ کے روئے مبارک پر تھوک دیا تو آپ نے تلوار پھینک دی اور اسکے سینے سے اتر آئے وہ حریف آپ کے اس عمل سے اور بے محل عفو فرمانے سے نہایت متحیر ہوا دریافت کیا کہ آپ نے کس وجہ سے مجھے چھوڑ دیا لڑائی کے وقت جب تو نے میرے منہ پر تھوک دیا تو میرے نفس کو غصہ سے جنبش ہوئی اور میرا حسن خلق بگڑنے لگا پس کچھ تو اللہ تعالیٰ کے واسطے رہ گیا اور کچھ ہوائے نفسانی ہو گیا اور حق تعالیٰ کی عبادت میں شر کت جائز نہیں ہے اور یہ فرمایا کہ تو دستِ حق کا بنایا ہوا ہے اور حق تعالیٰ کا مملوک ہے اور مصنوع حق کو امر حق سے توڑنا چاہئیے ۔ اس کافر نے جب سنا تو کہا کہ میں آپ کے پاس تخم جفا بو تا ہوں اور میں تو آپ کو کچھ اور ہی طرح سمجھتا تھا مگر آپ کچھ اور ہی نکلے ۔ پس مجھ پر کلمۂ شہادت پیش فرمائیے کہ میں آپ کو اس وقت تمام زمانہ سے افضل سمجھتا ہوں غرض اسکے اقارب اور برادری میں سے تقریباً پچاس آدمیوں نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ اسلام قبول کر لیا ۔ جب تک رسول اللہ ﷺ کے راستہ پر نہیں آؤگے خدا کا راستہ نہیں پاؤگے ۔ آپ ﷺ کا طریقہ حضرات صحابہؓ نے اختیار کیا اور بعد میں علماء اور مشائخ بھی اسی راستہ پر چلے اور خود بھی اپنے اخلاق اچھے کئے اور دوسروں کو اخلاق درست کرنے پر ابھارا یہ ہے سنت کی تعلیم اور نبوی اخلاق کہ اپنی اطاعت پر نظر نہیں ہوتی اور یہ حضرات ہر وقت اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ حضرت بایزیدبسطامیؒ کا واقعہ لکھا ہے کہ میں نے سنا کہ ایک دفعہ عید کی صبح کو حضرت با یزیدبسطامی ؒ حمام سے غسل کر ے اور کپڑے بدل کر باہر تشریف لائے(اور گلی میں سے گذر رہے تھے) کہ کسی نے مکان کے اوپر سے لوگوں نے بے خبری میں ایک طباق راکھ نیچے پھینکی جو حضرت کے سر پر پڑی اور آپ کے چہرہ اور عمامہ راکھ سے بھر گیا اس حال میں شکر انے کا ہاتھ اپنے چہرہ پر پھیرتے تھے (یعنی چہرہ سے راکھ جھاڑتے جاتے تھے ) اور یہ فرماتے تھے کہ اے نفس (اپنے اعمال کی وجہ سے تو) تو آگ کے لائق ہے پھر محض راکھ ہی کے پڑنے کی وجہ سے تو کیوں چیں بچیں ہو تا ہے اس واقعہ کو بیان کر کے شیخ سعدیؒ یہ تعلیم فرماتے ہیں ؂

    بزرگاں نہ کردند در خود نگاہ 239 خدا بینی از خویشتن بیں مخواہ

    یعنی بزرگوں نے کبھی اپنے اندر نظر نہیں کی یعنی ہمیشہ خود بینی سے بچے ہیں اسلئے کہ جو خود بیں ہوتا ہے وہ خدا بیں نہیں ہوسکتا بزرگوں کے واقعات آپ نے سنے کسقدر زہد، فروتنی، اور ترک عجب وکبر کرنا پڑتا ہے تب انسان کو راستہ ملتا ہے ورنہ تو کبھی ایسا ہو تا ہے کہ ابتدا ہی سے راہ نہیں ملتی یاراستہ ملا ہوتا ہے لیکن انسان سلامتی کے ساتھ اسے طے نہیں کرپاتا جس کو اس طریق میں جو کچھ ملا ہے وہ عاجزی، بیچارگی اور مسکنت ہی سے ملا ہے کبر وانانیت سے کسی نے یہ راہ طے نہیں کیا اور یہ اسلئے کہ کبر وانانیت اس دربار میں بہت ہے بلکہ انہیں کے ساتھ مخصوص ہے الکبریاء ردائی حدیث میں ہے البتہ وہاں بیچارگی نہیں ہے اور قاعدہ ہے کہ جو چیز جہاں نہیں ہوتی یا جہاں کے لئے نئی ہوتی ہے انسان اس کا ہدیہ پیش کرتا ہے اسلئے بیچارگی کا تحفہ وہاں مقبول ہے انسان اپنے آپ کو گنہگار سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے کرم پر اسکی نظر ہو اور طاعت کر نے کے بعد اپنے آپ کو ادائے حق خالق سے قاصر سمجھے اور اس تقصیر پر استغفار کرتا رہے تو اس کا یہ حال اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے
  13. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    رحمۃ اللہ علیہ لکھا جائے۔سنہ ہجری مولانا مملوک علی رحمہ اللہ کے ہمراہ ۱۲۶ ھ میں دہلی پہنچے کو درست کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ٹا ئپنگ غلطیاں دیکھ لی جائیں۔مضمو ن ماشاء اللہ عمدہ ہے
  14. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ادارہ


    دارالعلوم کا علمی اور تربیتی احاطہ”احاطہ مولسری“ تاریخ ، واقعات اور روحانیت


    از: عبید اللہ فاروق قاسمی بارہ بنکوی مدرسہ ضیاء الحرم جبری خورد، بارہ بنکی


    ایشیاء کی شہرئہ آفاق دینی تعلیم گاہ دارالعلوم دیوبند کا مشہور احاطہ ”احاطہٴ مولسری“ اپنی نظیر آپ ہے، یہ احاطہ دارالعلوم کے احاطوں میں علمی اور تربیتی خدمات کے اعتبار سے سب سے فائق ہے۔

    باہر سے آنے والے زائرین جب دارالعلوم کی زیارت کی غرض سے یہاں تشریف لاتے ہیں اور اس کے گوشے گوشے کو عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ذہنی اور قلبی، ایسا سکون ملتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے دنیا کو بھول جاتے ہیں؛ مگر جب اس احاطے میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے زیادہ متاثر اسی احاطے سے ہوتے ہیں اور رُوحانی سرور اور قلبی تسکین مکمل طور پر یہیں ملتی ہے۔ اسی طرح دارالعلوم سے فارغ ہوکر جانے والے طلبہ کو ان کی یادوں، خیالوں اور خوابوں میں ستانے، تڑپانے، اور بے قرار کرنے میں اس کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔

    سندِ فراغت پاکر یہاں سے رخصت ہونے والے طلبہ کو اس احاطہ کی عظمت واہمیت، ان کی اخیرسالوں کی تعلیمی سرگرمیاں، تقریر وتحریر میں حصہ لینے کے مواقع، رفیقوں کے ساتھ دل لگی،، نودرے میں ہونے والے تکرار ومطالعہ اور زمانہٴ امتحان میں شب بے داری کے واقعات ان کو دوبارہ مادرِ علمی کی زیارت پر مجبور کرتے ہیں۔

    اس کی ابتداء ”باب قاسم“ سے اور انتہاء ”دارالحدیث“ پر جاکر ہوتی ہے، ”باب قاسم“ قدیم طرز کا یہ شاہکار، بلند وبالا پُرشکوہ باب الداخلہ اپنے اندر تاریخ دارالعلوم اور اس کے خلوص وللہیت کی مثال رکھتا ہے۔ یہ چند کمروں پر مشتمل ہے، کچھ حجرے طلبہ کی رہائش کے لیے، تو کچھ انتظامی امور میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ تاریخی حیثیت سے کب وجود پذیر ہوا؛ اس کے بارے میں جستجو کے باوجود صحیح معلوم نہ ہوسکا؛ البتہ اس پر لگے ہوئے کتبے پر دارالعلوم کی تاسیس کی تاریخ رقم ہے، ایسا لگتا ہے کہ جب دارالعلوم کی اولین عمارتیں بننا شروع ہوئیں، انھیں میں اس کی تعمیرعمل میں آئی ہے، اس کی بالائی منزل میں دفتر محاسبی ہے، جس کے کارندے دارالعلوم کے حساب وکتاب کا کام بحسن وخوبی انجام دیتے ہیں۔ یہ شعبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے، اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ادنیٰ سے ادنیٰ حساب بھی بذریعہٴ رسید تکمیل پزیر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی شفافیت بالکل عیاں ہے۔ طلبہٴ دارالعلوم کے وظائف اور امدادی سامان یہیں سے وصول کیے جاتے ہیں، اسی دفتر میں ترکی حکومت کی جانب سے عطا کردہ قیمتی ہدیہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جُبّہٴ مبارکہ سے مس شدہ رُومال مبارک رکھا ہوا ہے، جو اس کے حسن وجمال کو دوبالا کرتا ہے، آنے والے زائرین عقیدت مندانہ جذبات سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ اس کی تاریخی حیثیت کے بارے میں رُوداد دارالعلوم ۱۳۳۲ھ میں لکھا ہوا ہے کہ ”دارالعلوم نے جنگ بلقان کے زمانے میں ترک مجروحین ومہاجرین کی انجمن ہلالِ احمر کے ذریعے ہندوستان میں قابل قدر امدادی خدمات انجام دی تھیں، اُن سے سلطان محمد پنجم بہت متاثر ہوئے؛ چنانچہ سلطان المعظم نے اپنے اس تاثر کا اظہار اس طرح فرمایا کہ دولتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا تبرک ہدیہ یعنی جُبّہٴ مبارکہ کا غلاف دارالعلوم کو عطا فرمایا، پھر آگے اس متبرک ہدیہ کے صفاتی احوال لکھے ہوئے ہیں کہ ”یہ غلاف رومال کی شکل میں ہے، کپڑا سفید، نہایت مہین اور خوش وضع ہے، وسط میں جلی قلم سے سیاہ حروف سے یہ شعر لکھا ہوا ہے۔

    نُورُ الہُدیٰ بہ تکرِیْماً صَلُّوا عَلیہ، وسَلِّمُوا تَسْلِیماً

    کناروں پر ترکی زبان میں ان کے شعر لکھے ہوئے ہیں۔ (رُوداد دارالعلوم دیوبند ۱۳۳۲ھ)

    گیٹ سے داخل ہوتے ہی اس کی بائیں جانب لٹکتا ہوا گھنٹہ نظر آتا ہے، جو طلباء، ارباب حل وعقد اور منتظمین کو قت کی پابندی پر اُبھارتا ہے، اس کے شمال میں دارالعلوم دیوبند کی قدیم طرز کی بنی ہوئی مسجد قدیم کے دو چھوٹے چھوٹے زینے ہیں جو مسجد میں جاکر کھلتے ہیں، انھیں زینوں کے ساتھ مسجد کا میذنہ بھی ہے، جو اذانِ بلالی کی یاد تازہ کرہے۔

    اس مسجد کا سنگ بنیاد ۴/ربیع ۱۳۲۷ھ کو رکھا گیا، اس مسجد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے موسسین اور معماران شیخ الہند، حکیم مسعود صاحب خلفِ صادق حضرت گنگوہی، مولانا خلیل احمد صاحب انبیٹھوی، حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب، حافظ احمد صاحب خلف الصدق حضرت نانوتوی اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اساطین علماء رَبّانی تھے، یہ حضرات طلباء کے ساتھ اینٹیں اور گارے اٹھانے میں شریک کار تھے، یہ روح پرور منظر تعمیرِ کعبہ کی سنتِ خلیل اللّٰہی کی ایک عقیدتی مثال ہے۔ اس کے اوصاف کے بارے میں تاریخ دارالعلوم میں لکھا ہوا ہے کہ ”مسجد کے مُسقف دو درجے ہیں، بیرونی دیواریں پتھر کی ہیں، جن پر نہایت نفیس نقش ونگار بنے ہوئے ہیں، اوپرسنگ مرمر کا کتبہ نصب ہے، جس پر شیخ الہند کے اشعار کندہ ہیں، جس کے آخری مصرع ”مقرون شدہ عبادت وعلم، درمدرسہ خانقاہ دیدہ ام“ میں (۱۳۲۸ھ) سن تعمیر مضمر ہے۔ (تاریخ دارالعلوم ، ج۱،ص:۲۲۰)

    پھر اس گیٹ کو پار کرنے کے بعد سامنے ایک بہت بڑا صحن ہے، جو ”احاطہٴ مولسری“ سے موسوم ہے، اس کی دائیں جانب کے بالکل کنارے پر شعبہٴ تکمیل افتاء کی درس گاہ ہے، جس کی عظمت و اہمیت سب پر ظاہر ہے۔ فقہ وفتویٰ کے حوالے سے دارالعلوم کا مسلکی مزاج، اعتدال پر مبنی ہے، اس سلسلے میں دارالعلوم ”کورانہ تقلید“ کی صرف مذمت ہی نہیں؛ بلکہ اس کا شدید مخالف ہے اور نہ آزادیٴ اجتہاد کا قائل ہے؛ بلکہ کسی نئے مسئلے کا حل قرآن وسنت اور سلف کے قائم کردہ اصولوں سے مستنبط کرتے ہیں ؛ چنانچہ اس سلسلے میں قاری محمد طیب صاحب نے بالتفصیل وضاحت فرمائی ہے، آپ لکھتے ہیں: ”غرض نہ تو وہ مجتہدین فی الدین کے بعد اجتہاد مطلق کے قائل ہیں؛ جب کہ عملاً اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا اور نہ جنسِ اجتہاد کی کلی نفی کرکے فتاویٰ کے حقائق وعلل کے استخراج اور ان کے موٴیدات کے استنباط یا متماثل جزئیات سے جزئیاتِ وقت کے استخراج سے گریزاں ہیں؛ بلکہ تقلید کے ساتھ تحقیق کا ملا جلا رنگ لیے ہوئے ہیں ۔

    (علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج ص۱۴۴)

    دارالعلوم بھی اس شعبہ کا بہت قدرداں ہے، خوش نصیب طلبہ ہی اس شعبہ کی تکمیل کرپاتے ہیں، ہر سال طلبہ کی ایک بڑی جماعت ایسی ہوتی ہے، جو افتاء کی تعلیم اور فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کیے بغیر حسرت ویاس کے عالم میں یہاں سے چلی جاتی ہے اور تاحیات اس کا شدید قلق رہتا ہے۔

    دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ کی اہمیت ہندوپاک، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے مدارس سے جاری کردہ فتووں سے بڑھ کر ہے، یہاں کے فتوے لوگوں کے دلوں میں سند کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کی رائے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتی ہے، اس حوالے سے دارالعلوم بالکل منفرد ہے، اس کی بے نظیر فقہی خدمات کا قدرے اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ۱۳۳۹ھ سے ۱۳۴۶ھ تک کے فتووں کی تعداد( ۳۷۵۶۱) ہے ؛ حالانکہ یہ تعداد صرف مفتی عزیز الرحمن عثمانی کے دورِ افتاء کی ہے اس سے پہلے دارالعلوم میں فتووں کے ریکارڈ کرنے کا انتظام نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ حضرت قاری محمد طیب صاحب کے تخمینے کے مطابق صرف مفتی عزیزالرحمن نے تقریباً تین لاکھ استفتاء کے جوابات دیے ہیں۔ جب فتووں کے دفتروں کی کثرت ہوتی چلی گئی تو دارالعلوم نے ان کو ازسرنو ترتیب و تدوین کے لیے مفتی محمد ظفیرالدین صاحب رحمة اللہ علیہ کو اس کی ذمے داری سونپی، ان کی محنت وکوشش کے نتیجے میں گیارہ ضخیم جلدیں مرتب ہوئیں، جو ”فتاویٰ دارالعلوم“ کے نام سے مشہور ہیں۔ ادھر کافی عرصے سے تدوین وترتیب کا کام زیرالتوا تھا؛ اس لیے اربابِ حل وعقدنے اس کی تکمیل کے لیے ایک مستقل شعبہ بعنوان ”شعبہٴ ترتیبِ فتاویٰ دارالعلوم“ قائم کیا ہے۔ الحمدللہ یہ کام بہت تیزی سے چل رہا ہے اب تک سولہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ نیز یہ شعبہ بھی احاطہٴ مولسری کے قریب ہے۔

    فتاویٰ دارالعلوم کی عظمت وعقیدت لوگوں کے دلوں میں اتنی رچی بسی ہے کہ دارالعلوم نے ۲۰۰۲ء میں جب امریکہ نے افغانستان سے جنگ کرنے کے لیے اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی ٹھان لی تو اس وقت اُس نے امریکہ اور یورپ کی مصنوعات خریدوفروخت کے خلاف فتویٰ دیا، اس فتویٰ کا اثر لوگوں پر ایسا ہوا کہ انھوں نے خریدوفروخت تو درکنار، اُن اشیاء کو توڑڈالا، مسلمان (خواہ ان کا کسی بھی مسلک سے تعلق ہو) خریدتے وقت اس قدر احتیاط کرتے اور یہ معلوم کرتے کہ یہ سامان امریکہ اور یوروپ کا تونہیں ہے، انھوں نے اس سوال کو بیع وشرا کا ایک جزولاینفک بنالیا تھا۔

    اس فتوے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ کا اقتصادی بجٹ خسارے میں چلاگیا، اُس نے مجبوراً لوگوں کو لبھانے کے لیے نصف قیمت پر سامان بیچنا شروع کردیا، پھر دارالعلوم کے فتوے کو بے وزن کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے حواریین نے طرح طرح سے اس کو ذلیل کیا، کبھی اس کے فتوے کو لے کر دارالعلوم کا مذاق اُڑایا، تو کبھی مسلک کو لے کر جگ ہنسائی کی، پرنٹ اورالکٹرونک میڈیا نے اس سازش کا بھرپور ساتھ دیا اور اب بھی دے رہے ہیں، چند سال قبل پیش آنے والے ”عمرانہ کیس، عورتوں کی ملازمت کرنا اور کریڈٹ کارڈ جیسے ظاہر الثبوت مسائل میں دارالعلوم کی عظمت کی پامالی، اسی ناپاک سازش کی بدنما مثالیں ہیں؛ لیکن ذاتِ الٰہی نے اس بار بھی دارالعلوم کو صہیونی پالیسیوں سے محفوظ رکھا اور اس کی عظمت میں کمی نہ آنے دی؛ البتہ اس پروپیگنڈے سے دارالعلوم کے فتووں کی افادیت پوری دنیا میں پھیل گئی، بیرونِ ممالک کے لوگوں نے بھی استفتاء کرنا شروع کیا تو دارالعلوم نے اسی احاطہ کے مشرقی جانب ”شعبہٴ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ“ قائم فرمایا، انٹرنیٹ سے روزانہ دسیوں استفتاء آتے ہیں اور ان کا جواب بذریعہٴ انٹرنیٹ دیا جاتا ہے۔ والحمد علی ذلک۔

    اسی احاطے کے مشرقی جانب میں ”مولسری کا کنواں“ ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کا پانی کھینچنے والا ہینڈپائپ بھی ہے، یہ کنواں بھی ایک خوابی بشارت سے مشرف ہے، اس کی بابت تاریخ دارالعلوم دیوبندکے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”ایک مرتبہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ دارالعلوم کا یہ کنواں دودھ سے بھرا ہوا ہے اوپر مَن تک دودھ آیا ہوا ہے کہ ہاتھ سے دودھ لے سکتے ہیں، اس کی مَن پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، سیکڑوں کی تعداد میں لوگ دُودھ لے کر جارہے ہیں، کوئی مشک بھر کرلیے جارہا ہے، کوئی بالٹی بھرکر، کوئی لوٹا بھر کر، کوئی پیالہ بھرکر، جس کے ہاتھ میں برتن نہیں وہ چلوبھرکر لیے جارہا ہے۔

    خواب دیکھ کر میں اس کا مطلب اور تعبیر سمجھنے کے لیے منکشف ہوا تو پتہ چلا کہ یہ ”کنواں“ تو مدرسہ کی صورتِ مثالی ہے، دودھ ”علم“ کی صورت ہے، ذاتِ اقدس نبوی قاسم العلوم (علم کی تقسیم کنندہ) ہے اور دودھ لینے والے مدرسہ کے طلبہ ہیں (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم دیوبند،ص:۵۰)

    یقینا انبیاء علیہم الصلاة والسلام کے منامِ مبارک کے علاوہ کسی بشر کا خواب یقینی دلیل نہیں بن سکتا، تاہم رویائے صالحہ کشف والہام اور القاء قلبی ہونے کی وجہ سے یہ خواب مُبشِّرات میں سے ہے، پھر حدیث نبوی ”مَنْ رَآني في المَنَامِ فقد رآني فِيْ الیقظة“ (شمائل ترمذی) کی وجہ سے اس کی قوت مزید بڑھ گئی۔

    آپ اس کی حقیقت سے متعارف ہوچکے تو اب اس کے پانی کی تاثیر بھی مولانا مناظر احسن گیلانی کی زبانی سنتے چلیے:

    فرماتے ہیں کہ ”اتنا لذیذ، اتنا خوش گوار، اتنا شیریں، صاف وسبک اور خنک پانی، میں نے اس سے پہلے نہیں پیا۔“ (احاطہٴ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن، ص۲۴)

    اب اس کے سامنے دیکھیے تو دونوں جانب مولسری کے درخت نظر آئیں گے، ان سایہ فگن درختوں نے دارالعلوم کی تاریخ اور قبل دارالعلوم کے حالات کو دیکھا ہے، نہ جانے یہ کتنی مرتبہ امت کی زبوں پرروئے ہوں گے اور بناء دارالعلوم کے وقت امت کی بازیافتگی پر مسکرائے ہوں گے۔

    ان درختوں کے سائے تلے کتنے سہ روزہ، ہفتہ واری، پندرہ روزہ اور ماہ نامہ عربی، اردو، بنگلہ، آسامی اور تمل زبان میں نکلنے والے پرچے اپنا وجود برقرار رکھے ہیں، ان پرچوں کے ذریعہ طلبہ صحافت اور تصنیف کی مشق وتمرین کرتے ہیں، ان سے طلبہ کو زبان وادب کا کافی شعور بیدار ہوجاتاہے۔ کچھ شعر وشاعری میں امتیازی شان کے حامل ہیں تو بعض پرچوں کی خصوصیت جامعہ کی اخباری نشریہ کی ہے اس سے صحافتی ذوق پروان چڑھتا ہے --- دیواری پرچوں کا یہ سلسلہ ”بابِ قاسم “سے شروع ہوتا ہے اور ان درختوں کے اردگرد اور قرب وجوار کی دیواروں میں آویزاں پرچوں کی بہتات ہے، ان پرچوں کے ذریعے طلبہ اپنی تحریری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں، گویا یہ میدانِ صحافت کے سنگِ میل کو عبور کرنے کا پہلا قدم ہے، دیواری پرچوں کی افادیت اور دارالعلوم دیوبند کے طرز پر دیگر مدارسِ عربیہ کی نقل ومحاکات کے بارے میں مولانا نورعالم خلیل امینی (استاذ ادب عربی ورئیس تحریر مجلہ الداعی، دارالعلوم دیوبند) اپنا تاثر لکھتے ہیں کہ ”دیواری اخبارات ورسائل کی اب دارالعلوم میں بہار آئی ہوئی ہے۔ دارالعلوم میں فکر وعمل کا جو ساز چھڑتا ہے خدائے حکیم کی توفیق سے ہرمدرسے میں ناگزیر طور پر اس کی محاکات شروع ہوجاتی ہے․․․․ بقدرِ توفیق بہت سے مرکزی مدرسوں میں دیواری رسالوں کا نظام رائج ہوا اور ہورہا ہے۔ دیواری رسالوں کے ذریعے بطورِ خاص سیکڑوں؛ بلکہ ہزاروں طلبہ کی تحریر میں حسن وجمال کی قلم لگی، کتنے خوش نصیب عربی کے باکمال خطاط بن گئے، نہ صرف عربی خط؛ بلکہ مطلقاً خوش خطی کا ذدوق پروان چڑھا اور نسل نو میں عربی زبان کو ہمہ گیر پیمانے پر سیکھنے کا ولولہ بیدار ہوا۔

    (مقدمہ خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں، ص:۸)

    اب بالکل سامنے دیکھیے دو منزلوں پر مشتمل لال رنگ کی قدیمی طرز کی تاریخی عمارت نظر آئے گی، یہ عمارت نودروں پر محیط ہے، جس کو ”نودرہ“ کے نام سے ساری دنیا جانتی ہے۔ یہ دارالعلوم کی سب سے پہلی عمارت ہے، جس کی سن تعمیر۱۳۹۲ھ ہے۔ اس تاریخی منزل کے تذکرے کے بغیر تاریخ دارالعلوم ادھوری ہے، یہی وہ جگہ ہے جو کسی زمانے میں دیوبند نامی بستی کی کوڑی تھی؛ لیکن اپنے اندر دنیا کی علمی، عملی، تہذیبِ اسلامی اوراحیائے قرآن وسنت کی نشاةِ ثانیہ کا راز چھپائے ہوئے تھی، یہی وہ جگہ ہے جو مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خواب ”کہ میں بیت اللہ کی چھت پر کھڑا ہوا ہوں اور میرے ہاتھ، پاؤں کی انگلیوں سے نہریں جاری ہیں جو اطرافِ عالم میں پھیل رہی ہیں جس کی اس دور کے بزرگوں نے یہ تعبیر دی تھی کہ آپ سے علومِ نبوت کا فیضان تمام دنیا میں جاری ہوگا تھی، یہی وہ جگہ ہے جو سیداحمد شہید کی پیشین گوئی کہ ”مجھے یہاں سے علم کی خوشبو آرہی ہے“ کی حقیقت ہے۔ (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم)

    یہی وہ جگہ ہے کہ جس کے محلِ وقوع کی تعیین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس نے خواب میں فرمائی ہے، جس کو حضرت مولانا ریاست علی ظفربجنوری دامت برکاتہم نے ترانہٴ دارالعلوم میں اس طرح تعبیر فرمایا ہے

    ع خود ساقیِ کوثر نے رکھی میخانے کی بنیاد یہاں

    اس کی تاریخی استناد اور اس کی تعمیری جائے وقوع کی تعیین کی کارگذاری بڑی دلچسپ اور ایمان افروز ہے، جس کے بارے میں قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم لکھتے ہیں کہ ”جب (نودرے کی) تعمیر کا مسئلہ سامنے آیا․․․․․ (تو) شب میں حضرت مولانا رفیع الدین صاحب مہتمم ثانی دارالعلوم نے خواب میں دیکھا کہ اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف ارزانی فرمائی، دستِ مبارک میں عصا ہے، آپ نے فرمایا کہ جو یہ بنیاد کھودی گئی ہے، اس سے صحن مدرسہ چھوٹا اور تنگ رہے گا، یہ فرماکر آپ نے جانبِ شمال دس بیس گز آگے بڑھ کر عصائے مبارک سے نشان لگایا اور ایک لانبی لکیر کھینچ دی کہ اس جگہ بنیاد کھودی جائے۔ بیدار ہوتے ہی مولانا ممدوح اس جگہ پر گئے تو لکیر کا نشان اسی طرح موجود پایا، جس طرح حضور … نے عصائے مبارک سے لگایا تھا۔ مولانا نے پھر نہ ممبران سے پوچھا نہ کسی سے مشورہ کیا؛ بلکہ نئی بنیاد اسی جگہ کھودوائی۔ (مقدمہٴ تاریخ دارالعلوم دیوبند، ص۴۷)

    جب اس کی بنیاد ساقیِ کوثر نے رکھی ہے تو سنگ بنیاد عاشقانِ نبوت، وفادارانِ آبروائے اسلام نے رکھا ہے۔ ارواحِ ثلاثہ میں ہے کہ سنگ بنیاد مولانا احمد علی محدث سہارن پوری کے دستِ مبارک سے رکھوایا گیا، پھر ایک ایک اینٹ حضرت نانوتوی، حضرت گنگوہی، حضرت مولانا مظہرنانوتوی، حضرت میاں جی منے شاہ اور حضرت حاجی عابدرحمہم اللہ نے رکھی۔ (ارواحِ ثلاثہ حکایت ۲۵۲)

    جب بنیاد رکھی جاچکی تو سب لوگوں نے مل کر اس کی بقا وترقی کے لیے نہایت خشوع وخضوع سے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی، پھر اس کے بعد حضرت نانوتوی نے فرمایا: کہ ”عالمِ مثال میں اس کی اس مدرسے کی شکل ایک معلق ہانڈی کے مانند ہے جب تک اس کا مدار توکل اوراعتماد علی اللہ پر رہے گا، یہ مدرسہ ترقی کرتا رہے گا۔

    بفضلہ تعالیٰ آج بھی دارالعلوم ترقی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے، اس کے خلاف جب بھی غیروں نے سازشیں رچی ہیں، تو خدائے قدوس نے ان کی سازشوں کو ناکام کردیا ہے، اسی لیے آج ساری باطل دنیا کی نگاہیں، اس کی ترقی وشہرت کو متزلزل کرنے میں لگی ہیں، مگر قاضیِ تقدیر ہمیشہ اس کی ترقی کا فتویٰ دیتا ہے اور دے رہا ہے اوران شاء اللہ دیتا رہے گا۔ (والحمد علی ذلک)

    ”نودرے“ کی بالائی منزل ”دارالحدیث فوقانی) کی تعمیر ۱۳۵۳ھ میں شروع ہوگئی؛ جب کہ اس سے پہلے دارالحدیث بنی ہے؛ لیکن جب دارالعلوم کی ترقی روز افزوں اور طلبہ کی کثرت ہوتی چلی گئی، اس کی ضرورت کا احساس شدید ہوتا چلا گیا، جس کے باعث فوقانی دارلحدیث کا قیام عمل میں آیا اور چند سالوں میں ایک عظیم الشان ”ہال“ تعمیر ہوا۔

    احاطہٴ مولسری کی دوجانبوں میں قرأت اور تجوید کی درس گاہیں ہیں، جن سے اٹھنے والی روح پرور قرآن پاک کی شیریں تلاوت ”قال اللہ وقال الرسول“ کا حسین امتزاج پیدا کرتی ہے۔ اس شعبہ کی ابتدا، ۱۳۲۱ھ میں ہوئی اور فراغت کے لیے اس کا التزام ۱۳۵۱ھ میں ہوا ہے، اس کے اغاز کے وقت خدا کا کرشمہ دیکھیے کہ جس طرح دارالعلوم کا آغاز ایک استاذ اور ایک شاگرد سے ہوا تھا، اسی طرح یہ شعبہ بھی ایک استاذ اورایک شاگرد سے شروع ہوا ہے، استاذ تھے جناب قاری عبدالوحید خاں الٰہ آبادی اور شاگرد تھے حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب۔

    دارالعلوم نے جس طرح لاکھوں ماہرین پختہ کار علماء پیدا کیے ہیں، جو اپنے میدانِ علم وعمل کے فردِ فرید ہیں، اسی طرح دارالعلوم نے ماہرین قراء، بہترین مُجودین کو پیدا کیا ہے،جو اپنی مثال قائم کیے ہوے ہیں۔

    چونکہ دارالعلوم ۱۳۵۱ھ سے فضلاء کے لیے قرأت وتجوید کا پڑھنا لازم قرار دیا ہے؛ اس لیے کوئی بھی فاضل اپنی علمی تکمیل اس کے بغیر نہیں کرسکتا، یہ سچ ہے کہ دارالعلوم نے اپنے فارغین کو ”قال اللہ وقال الرسول“ کی عملی تفسیر بناتا ہے۔ مزید اس کی بہترائی کے لیے کوشاں اور نیک مفید مشوروں کا خواہاں بھی ہے، اسی لیے دنیا اس کے فضلاء کو آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔

    اس کے علاوہ چند ذیلی شعبہ ہیں، جیسے شعبہٴ تبلیغ، شعبہٴ اوقاف، شعبہٴ برقیات، وغیرہ، جو تندہی سے اپنے کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔

    دارالعلوم کے ذکرِ خیر کے وقت دارالتفسیر، دارالحدیث، دارالافتاء، دارجدید، جامع رشید، باب الظاہر، مدنی گیٹ وغیرہ کا تذکرہ ضروری ہے؛ مگر چوں کہ اس مضمون کو احاطہٴ مولسری اوراس کے شعبہ جات سے متعارف کرانا تھا، اس لیے ان کے تذکروں کو ان شاء اللہ ایک مستقل مضمون میں بیان کیاجائے گا۔بشکریہ:ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 1 ، جلد: 96 ‏، صفر المظفر 1433 ہجری مطابق جنوری 2012ء
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حمد باری تعالیٰ

    نشتر ۔بارہ بنکوئی

    پھول خوشبو ، مسکراہٹ چاندنی دیتا ہے کون

    اے خدا تیرے سوا اتنی خوشی دیتا ہے کون

    مشکلوں میں جذبہ زندہ دلی دیتا ہے کون

    موت کی آغوش میں بھی زندگی دیتا ہے کون

    علم وحکمت کے خزانوں کی کلیدیں سونپ کر

    خاک کے پتلے کو تاجِ خسروی دیتا ہے کون

    یوں تو کہئے آپکی چشمِ عنایت ہو گئی

    ورنہ میرے خشک ہونٹوں کوہنسی دیتا ہے کون

    آندھیوں کو شاید ابتک یہ نہیں معلوم ہے

    میری شمع آرزو کو روشنی دیتا ہے کون

    طائرانِ خوشنوا کی بولیاں سنتا ہوں میں

    سوچتا ہوں اُن کو ایسی نغمگی دیتا ہے کون

    اے خرد والے نہ سوچا تو نے اس جانب کبھی

    سنگ کو سختی ، گلوں کو تازگی دیتا ہے کون

    جو خدائے پاک کے منکر ہیں نشترؔ اُن سے پو چھ

    ہر بشر کو سیرت وصورت نئی دیتا ہے کون

    پیامبر نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اداریہ

    افکار قاسمی ای جریدہ ہم تواتر سے ماہ بماہ نکالنا چاہتے تھے درمیان میں کچھ ایسی دشواریاں پیش آتی رہیں جس سے یہ سلسلہ ختم تو نہیں ہوا البتہ رک رک کر چلا۔۔ ۔افکار قاسمی مجدد نمبر نکالنے کے بعد ہمت تو بالکل پست ہو چکی تھی ۔نوبت بایں جا رسید الغزالی فورم بند کرنے کا ارادہ بن گیا تھا ۔اللہ سلامت رکھے ۔محمد داؤد سلمہ اور مولانا عطا رفیع صاحب جناب ارمغان ارمان صاحب کو ۔ان مخلص کرم فرما نے ہمت دلائی ۔دوبارہ الغزالی فورم اور افکار قاسمی ایک بار پھر منظر عام پر آگیا ۔ دوستو ۔بقول شخصے:یہ حقیقت ہے کہ ایک خوش با ش انسان وہ ہوتا ہے جو دوسروں کیلئے زندہ رہتا ہے سب سے محبت کرتا ہے ،ہر ایک کی عزت کرتا ہے ،اسکی دلچسبیاں وسیع ہوتی ہیں اور اس کے ذریعہ وہ اپنی خوشیاں حاصل کرتا ہے اور نتیجے کے طور پر دوسرے لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنی محبتیں عطا کرتے ہیں ۔وہ لوگ جو بے لوث محبت کرتے ہیں وہ کبھی خسارہ میں نہیں رہتے محبتیں بانٹنے والے کے جواب میں لازمی طور پر محبتیں ملتی ہیں ۔ یقیناً آپ حضرات سے محبتیں بھی ملیں اور خوشیاں بھی ۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عزم وہمت عطا فر مائے ۔افکار قاسمی والغزالی فورم کو دوام بخشے۔


    نوٹ: اگر پسند آئے ضروری ترمیم و اضافہ کر کے شامل کر لیں۔







    ؛
    Last edited: ‏مارچ 30, 2014
    پیامبر نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں