مضامین برائے افکار قاسمی شمارہ رجب1435ھ

'ماہنامہ برقی جریدہ افکارِ قاسمی' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏اپریل 20, 2014۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم
    تمام مضامین ٹیکسٹ میں یہاں رکھے جائیں گے۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے حالات زندگی
    قسط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲
    مدیرالتحریر کے قلم سے
    حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ ۶ذی قعدہ ۱۲۴۴ھ کو گنگوہ ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے۔آپؒ کے والد محترم کانام حضرت مولانا ہدایت احمد بن قاضی پیر بخش ہے۔ آپؒ کا سلسلہ نصب حضرت ابو ایوب انصای رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔
    آپؒ نے ابتدائی تعلیم گنگوہ میں حاصل کی۔ عربی اور فارسی کی تعلیم حضرت مولاناعنایت صاحب ؒاور حضرت مولانامحمد تقیؒ سے حاصل کی بعد ازاں آپؒ نے ۱۲۶۱ھ میں مزید علم حاصل کرنے دہلی کا سفرکیا۔ قاضی احمدالدین ؒ سے پنجابی کی چند کتابیں پڑھیں۔اور اُسی سال ہی مولانا مملوک علیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور علوم دینیہ کو دلجمعی کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ آپؒ سے قبل حجتہ السلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ حضرت مولانا مملوک علی صاحبؒ کے ہاں پہنچ چکے تھے۔کچھ دنوں بعد یہ دونوں شمس و قمر ایک ساتھ ہوگئےاور تا حیات ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانارشید احمد گنگوہیؒ کافی عرصہ تک حضرت مولانا مملوک علیؒ صاحب سے علوم دینیہ حاصل کرتے رہے۔ذہانت کے لحاظ سے یہ دونوں شخصیات دہلی میں مشہور تھیں، تمام اساتذہ اکرام خاص کر مولانا مملوک علیؒ صاحب ان حضرات سے خاص محبت فرماتے تھے۔اگر طبیعت ناساز ہوتی تو حضرت مولانا مملوک علیؒ ان حضرات کی عیادت فرماتے اور قیام گاہ پرجاکر سبق پڑھایا کرتے تھے۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ نے علوم دینیہ کی تکمیل حضرت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی ؒ کے پاس کی۔ اس کے بعد آپ گنگوہ واپس تشریف لے گئے۔آپؒ کا نکاح آپؒ کے بڑے ماموں اور استاد حضرت مولانا محمدتقیؒ کی صاحبزادی سے ہوا۔آپؒ نے حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔آٹھویں دن حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ نے فرمایا:
    میاں رشید احمدجو نعمت حق تعالیٰ نے مجھے عطا کی تھی وہ آپ کو عطا کردی ہے۔آئندہ اس کو بڑھانا آپ کا کام ہے۔
    جب بیالیس دن حضرت حاجی امداللہ مہاجر مکیؒ کی خدمت میں مکمل ہوئے تو آپؒ نے گنگوہ واپس جانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے گنگوہ جانے کی اجازت دے دی۔آپؒ کو گنگوہ رخصت کرتے ہوئے آپؒ کے مرشد حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ نےخلافت اور اجازت بیعت درج ذیل الفاظ میں فرمائی:

    اگر تم سے کوئی بیعت کی درخواست کرے تو کرلینا
    اس نعمت کو پاکر حضرت گنگوہیؒ واپس گنگوہ تشریف لائے۔شاہ عبدالقدوس گنگوہیؒ کی خانقاہ کو آباد کیا جو کافی عرصہ سے ویران پڑی تھی۔ حاجی امداداللہ مہاجر مکی ؒ فرمایا کرتے تھے:
    جو آدمی ا س فقیر امداداللہ سے محبت و عقیدت رکھتا ہے وہ مولوی محمد قاسم سلمہ اور مولوی رشید احمد سلمہ کو جوتمام کمالات علوم ظاہر اور باطنی کےجامع ہیں۔بجائے میرے بلکہ مجھ سے بڑھ کر شمار کرے۔اِن کی صحبت غنیمت جاننی چاہیئےاِس زمانہ میں اسے لوگ نایاب ہیں۔(ضیاءالقلوب)
    ایک اور جگہ حضرت حاجی امداللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں:
    اگر حق تعالیٰ مجھ سے دریافت کرے گاکہ امداداللہ کیا لیکر آیا ہےتو میں "مولوی قاسم اور مولوی رشید" کو پیش کر کے کہوں گا یہ لیکر حاضر ہوا ہوں۔(تذکرۃالرشید)
    ۱۸۵۷ء کی جنگ کے بعد حکومت برطانیہ نے حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ،حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے نام گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا۔ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ مکہ مکرمہ ہجرت فرما گئے۔ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ رپوش ہو گئے۔ ایک مخبر کی وجہ سے آپؒ کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب آپؒ کے خلاف حکومت وقت کو کوئی ثبوت نہ ملا تو بالاخر آپ کو رہا کردیا گیا۔اللہ رب ا لعزت نے آپؒ سےمزید دین کا کام لینا تھا حکومت وقت آپؒ کا بال تک بیگا نہ کر سکی۔
    آپؒ نے تین حج ادا کیے،اور تمام عمر دین کی خدمت میں مصروف رہے۔فتاویٰ رشیدیہ آپ ؒ کا علمی شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ آپؒ نے مختلف کتابیں تصنیف فرمائیں۔ ہزاروں علماء اور مشائخ نے آپؒ سے علم کا فیض حاصل کیا۔
    آخر کار علم و عمل کا یہ آفتاب ۹جمادی الثانیہ۱۳۲۳ھ بمطابق ۱۱ اگست ۱۹۰۵کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
    Last edited: ‏مئی 18, 2014
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بانی درس نظامی ملا نظام الدین ؒ کے والد ماجد ملا قطب الدین سہالویؒ ​
    ................کلیم احمد قاسمی

    قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اول ۔

    بہت کم علما وٖطلباکے علم میں یہ بات ہوگی کہ ایشیا کے زیادہ تر مدارس اسلامیہ میں رائج نصاب "درس نظامی" کے بانی ملا نظام الدین سہالوی ابن ملاقطب الدین سہالوی ہندوستان کےصوبہ اتر پردیش ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبہ سہال سےتعلق رکھتے تھے۔ایک مدت سے خاندان شہید قطب کے حالات وواقعات کی جستجو تھی ۔اللہ کے فضل ہے کتاب" بانی درس نظامی "جو کمیاب ہے دستیاب ہوئی ہے ۔کتاب ہذا سے پہلی قسط ہدیہ ناظرین ہے ۔احمد قاسمی


    "لٹا ہوا کنبہ جن کا مورث اور سر پرست ،اشقیا کی اچانک یلغار میں اپنے گھر کے اندر گھر والوں کی نگاہوں کے سامنے شہید ہو چکا تھا جب دارالبوار سے مسکن عافیت کی طرف جارہا تھا تو اس میں ایک چودہ سالہ یتیم بھی تھا جو اپنے بڑے بھائی ،والدہ اور چھوٹے بھائی اور بھتیجوں کے ساتھ ایسی سمت گامزن تھا جن کی منزل مقصود خواہ طے پا چکی ہو ،لیکن اس ہجرت اور ترکِ وطن کا مستقبل دھندلے میں تھا ۔

    اس یتیم کی، اس آوارہ وطن قافلہ میں اس سے زیادہ کیا اہمیت ہو سکتی تھی کہ ایک مضلوم خاندان کا ایک بچہ جس کا مستقبل پورے خاندان کے مستقبل کی طرح غیر واضح اور غیر یقینی ہے ۔ یہ لٹا ہوا کنبہ ملا قطب الدین شہید سہالوی کاتھا۔



    ملا قطب الدینؒ کی شہادت ۱۹رجب ۱۱۰۳؁ھ(مطابق ۲۷ مارچ ۱۶۹۲ ؁ء کو قصبہ سہالی ضلع بارہ بنکی میں اُس وقت ہوئی جب وہ طلوعِ آفتاب کے بعد اپنی محلسرا کے دیوان خانہ میں جو مدرسہ کہلاتا تھا، درس وتدریس کے لئے بیٹھے تھے ،اور طلباء کی محدود تعداد اُس وقت تک حاضر ہو پائی تھی۔"روزآنہ کے معمول کے مطابق ملاقطب الدینؒ فجر کی نماز اور وظائف سے فارغ ہو کر اپنے مدرسہ میں آئے اور حاضرِ خدمت فاضلین کو درس دینے میں مشغول ہوگئے ، جب دو گھڑی دن گزر چکا تھا اچانک اسداللہ جو آس پاس کے زمیندار ہیں ،آئے اور ملا صاحب کےمکان کا محاصرہ کر لیا ،چاروں طرف سے دیواروں میں نقب لگا کر گھر کے اندر گھس آئے ،ملا صاحب کو "تبر" کا ایک زخم ، گولی کا ایک زخم اور چہرے پر تلوار کے سات زخم پہنچائےاور ان کو شہید کر ڈالا ، زبدۃ الاولیاء بندگی شیخ نظام الدین ساکن امیٹھی کی اولاد میں شیخ غلام محمد اور سندیلہ کے شیخ عزت اللہ بھی جو فاتحۃ الفراغ پڑھنے کے لئے حاضر خدمت تھے ، مذکورہ ظالموں کے ہاتھ شہید ہوئے ، پرگنہ سہالی کے چو دھری محمد آصف جو ملا صاحب کی مدد کیلئے ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے اپنے ہمرائیوں سمیت شہید ہوئے ، فدوی محمد سعید (فرزند دوم ، ملا قطب الدین شہید ) اور کچھ طلباء نیز پر گنہ سہالی کے قاضی عبد اللہ کے بھائی اور نائب فضل اللہ بھی اس ہنگامہ میں زخمی ہوئے"

    ملا قطب الدین ؒ کی شہادت کی یہ سب سے قدیم اور مستند روئیداد ہےاور یہ اس کا مختصر اقتباس ہےجو ملا قطب الدینؒ شہید کے فر زندوں نے تیار کیا تھا ،اور جوار کے معززین نیز عمال شاہی کے تصدیقی دستخط اس پر لے کر اورنگ زہب عالمگیر کے سامنے پیش کیا تھا ،اس محضر سے جوہنود موجود ہے (اور مولانا جمال میاں صاحب فر نگی محلی فرزند مولانا قیام الدین محمد عبد الباری فر نگی محلی کے مِلک میں ہے )اس حادثے کے دیگر تفصیلات پر بھی پوری روشنی پڑتی ہے ،اس چشم دید بیان کے پیش نظر اُن قیاس آرائیوں یا روایتوں کے حاجت نہیں رہتی جن کے لئے تذکرہ نویسوں نے بار بار زحمت اٹھائی ہے ۔

    قصبہ سہالی کے خانزادوں اور شیوخ عثمانی اور انصاریوں کے درمیان زمیندارانہ نزاع کو ملا صاحبؒ سے عداوت کا سبب قرار دینا کوئی دور رس تحقیق نہیں مانی ،اس لئے کہ ایسی نزاع اور رقابت قصبہ کی زندگی میں عامۃ الورد رہی ہے، قصبہ سہالی میں بھی نزاع ہو سکتی تھی اور تھی لیکن ملا قطب شہید کا اس میں مؤثر فریق کی حیثیت رکھنا قوی تاریخی ثبوت کا محتاج ہے،اسی محضر کے ذریعہ ملاقطب کے معمولات زندگی پر جو روشنی پڑتی ہے ،اس سے زمیندار انہ نزاعوں میں ان کی عملی شرکت کا عدم ِ امکان بھی واضح ہو جاتا ہے ۔"بر اصاغر وکابر ایں دیار روشن ومبرہن است کہ مولوی مذکور کہ موصوف بکمالات انسانیہ وفضائل علمیہ وعملیہ وحافظ قرآم مجید بودند وغیر اشتعال تدریس وتکرار ۔۔۔علوم دینیہ وعبادت وطاعت کارے نداشتند ودر اوقات فر اغ از درس وعبادت بہ تصنیف در علم تفسیر وحدیث وفقہ اُصول می پر داختند۔۔۔"( اس جوار کے تمام جھوٹے بڑے بخوبی جانتے ہیں کہ ملا قطب الدین شہیدؒ جو کمالات انسانیہ اور علمی اور عملی فضائل سے متصف اور حافظ قرآن مجید تھے ، علوم دینیہ کے طلبہ کے درس وتدریس اور عبادت خداوندی کے علاوہ ان کا کوئی اور کام نہ تھا درس وعبادت سے فرصت کے اوقات میں تفسیر ، حدیث ، فقہ اور اُصول فقہ کے ایسے علوم میں تصنیف وتالیف میں مصروف رہتے تھے۔

    "غیر اشتعال تدریس وتکرار وعبادات وطاعت کائے نداشتند" کے الفاظ بڑی وضاحت کے ساتھ ملا قطب الدینؒ کے معمولات ِ روز وشب کو پیش کر دئیے ہیں،ان علمی مصروفیتوں اور روحانی مشغولیتوں میں جائداد کے جھگڑوں اور زمیندارانہ نزاع کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی ، یہ قیاس کسی حد تک درست معلوم ہوتا ہے کہ شورہ پشتوں کے ظلم وجور کے ارمانوں کے پورا ہونے میں ملا صاحب کی وجاہت اور اصاغر واکابر میں ان کی مقبولیت سدراہ رہی ہو گی ،اس لئے کہ اورنگ زیب عالمگیرؒ تک ملا صاحب ؒ کے علم وفضل ،زہد واتقا اور قناعت وگوشہ نشینی کی خصوصیتوں سے کما حقہ واقف تھا، اس نے بار بار م؛اقطبؒ سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی مگر قطب نے اپنی جگہ سے ہلنے سے انکار کیا ۔

    فرحۃ الناظرین ( مخطوطہ آزاد لائبریری مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ) کے الفاظ میں " ملا قطب الدین سہالوی علوم عقلیہ ونقلیہ میں اپنے ہم عصر علماء پر فوقیت رکھتے تھے ،اور گو شہ نشینی کے دامن میں پائے قناعت کو لپیٹے رہتے ،امیروں اور دو لتمندوں کے پاس وہ نہیں جاتے تھے اور برابر طلبائے علم کو پڑھانے نیز علومِ معرفت کے کسب میں مصروف ،قصبہ سہالی میں جو لکھنؤ کے مضافات میں ہے ، زندگی گزارتے رہے بادشاہ عالمگیر نے بارہا ملا صاحب کو ملاقات کی زحمت دی مگر ملا صاحب نے اسکی خواہش کو قبول کر نے سے انکار کر دیا ، انہوں نے بہت سے لو گوں کو شاگردی کے نچلے درجے سے اٹھاکر استادی کے اعلیٰ مرتبے تک پہونچایا ۔۔۔۔۔۔۔ ملا قطب شہید کے تمام اوصاف بیان کر نا تقریر وتحریر کے امکان سے خارج ہے ، بالآخر کچھ شر پسندوں کی سازش نے عالمگیری جلوس کے۴۷ویں سال قطب مذکور کوقصبہ سہالی میں ملا قطب الدین شہید ہو گئے ۔

    فرحۃ الناظرین کا مصنف محمداسلم بن حفیظ اللہ انصاری بارھویں صدی ہجری کا آخر کا ہے جس نے اپنی کتاب ۱۱۸۷؁ھ میں فیض آباد میں مکمل کی ،اسی صدی کے آغاز میں واقعہ شہادت پیش آیاتھا ،تیرھوی صدی ہجری کے آغاز کی،ایک تصنیف میں جس کے مصنف ملا محمد ولی اللہ انصاری فرنگی محلی (وفات ۱۲۷۰؁ھ )ہیں جو چار واسطوں سے ملا قطب شہید کے ساتھ عالمگیر کی عقیدت مندی کاحال اس طرح ملتا ہے " جب ملا قطب الدین کے علم وفضل کا شہرہ اطراف ودیار میں خوب ہو چکا بلکہ تمام ہندوستان میں پھیل گیااور ملا صاحب کی ذہانت اور فضیلت نیز ان کی خدمت میں پڑھنے والوں کے از جلد فارغ التحصیل ہو نے کی خبر نیک خصال اورنگ زیب بادشاہ غازی کو پہونچی تو اس نے سلسلہ مراسلت ملا صاحب سے برابر جاری رکھا اور انتہائی عقیدت اسے ملا صاحب سے ہو گئی ۔یہی وجہ ہے کہ اورنگ زیب اپنے اُمراء اور حکام کو ملا قطب الدین شہید کی خدمت میں بھیجا کرتا تھا "

    اور عالمگیر کی عقیدت مندی ہی ملا قطب الدین کی شہادت کی وجہ بھی ہوئی۔جیسا کہ ملا ولی اللہ فرنگی محلی اس کے آگے لکھتے ہیں "عالمگیر کی اتنی عقیدت مندی اور امراء شاہی کی ملا صاحب کی خدمت میں برابر آمدورفت اشقیاء کیلئے سبب خوف بن گئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان شورہ پشتوں کی بد معا شیاں بادشاہ کے علم میں آجائیں اور ان پر قہر شاہی نازل ہو جائے ان اشقیا نے باہم صلاح وسازش کی کہ ملا قطب الدین کو درمیان سے ہٹا دینا چاہئے تاکہ یہ اندیشہ رفع ہو جائے اور پوری طرح سکون مل جائے"

    ان شورہ پشتوں کو محض شک ہوا یا واقعہ بھی یو نہی پیش آیا کہ قصبہ سہالی میں ان لوگوں نے جو فساد عرصہ سے بر پا کر رکھا تھا اُس کی اطلاع ملا صاحب کی ذریعہ بادشاہ کے کانوں تک پہنچ گئی اور قبل اس کے کہ یہ اشقیاء قہر سلطانی میں گرفتار ہوں وہ ملا صاحب سے بدلہ لینے کیلئے ملا محمد ولی اللہ فرنگی محلی کے الفاظ میں " بطریق ڈاکہ" گھر پر چڑھ آئے ۔

    واقعہ سے متعلق چشم دید بیان یعنی بادشاہ کو پیش کئے جانے والے محضر کے یہ جملے بھی اس سلسلے میں بیحد اہم ہیں " ملا قطب الدین کی لاش کو ایک جگہ دفن کرتے پھر نکالتے پھر دوسری جگہ دفن کرتے پھر نکالتے رہے بالآخر نودن کے بعد ملا صاحب کی لاش کے دونوں ہاتھ کاٹ کر رکھ لئے اور لاش قصبہ سہالی بھیجوادی"

    لاش کے دونوں ہاتھ کاٹ لینے کو محض " مثلہ" کی شقاوت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا ، یہ وحشیانہ حرکت ضمنا اُسی پر دلالت کرتی ہے کہ اشقیا کے غیض وغضب کا جو سبب تھا اس میں ملا صاحب کے ہاتھوں کا دخل اِن اشقیا کی نظر میں کم از کم ضرور تھا ۔

    سند اور قیاس سے یہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ملا صاحب کی کسی تحریر سے یا اُن اُمرائے شاہی کی زبانی جو ملا صاحب کی خدمت میں بادشاہ کے بھیجے ہو ئے آیا کرتے تھے ،قصبہ سہالی کے ان شورہ پشتوں کا حاسل بادشاہ کے علم میں آچکا تھا اسی لئے " جب شاہی خبر رسانوں نے ملا قطب کے واقعہ شہادت کی اطلاع بادشاہ عالمگیر کو اس زمانہ میں دکن میں تھا لکھ بھیجی تو فی الفور شاہی احکام صوبداران علاقہ کو موصول ہوئے کہ ملا قطب الدین کے قاتلوں کو جلد ازجلد سزا دی جائے ،ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جائےاور قاتلوں میں سے جو بھی ہاتھ آئے اس کو قتل کر دیا جائے "ملا ولی اللہ فرنگی محلی جن کی کتاب عمدۃ الوسائل ( قلمی) کے یہ اقتباسات دئیے گئے ہیں اُسی صدی کے آخر میں پڑھ لکھ کر فارغ ہو چکے تھے جس صدی کے آغاز میں حادثہ شہادت پیش آیا تھا ، محضر اور ملا ولی اللہ فرنگی محلی کی تصریحات ، زیر بحث مسئلہ میں اس لئے بھی قابل تر جیح ہیں کہ ایک چشم دید بیان ہے اور دوسرا مورخ اور تراجم ورجال کا ماہر عالم اور مصنف ہے کس ثقاہت غیر نزاعی ہے ،رسالہ قطبیہ ( قلمی) کے مصنف بھی ملا قطب الدین شہید کے اخفاء میں ہیں اور ملا ولی اللہ سے ایک پشت اوپر ہیں لیکن رسالہ قطبیہ کی تصنیف اور ملا ولی کی اس تصنیف کے درمیان صرف نو سال کا فرق ہو، یہ رسالہ قطبیہ ۱۲۰۰؁ھ میں تمام ہوا اور ملا ولی اللہ کی کتاب ۱۲۸؁ھ میں مکمل ہوئی اور بحیثیت مصنف ومؤرخ ملا ولی اللہ ثقہ اور اثبت ہیں۔جاری ہے
    Last edited: ‏اپریل 22, 2014
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کلامِ اہل اللہ

    محب الامت عارف باللہ حضرت اقدس شاہ محمد اہل اللہ دامت فیوضہم


    کلام اہل اللہ۔پیش کش احمد قاسمی

    الحمد ﷲ محبی ومربی ومخدومی عالی قدر شیخ من حضرت اقدس شاہ محمد اہل اللہ صاحب دامت برکاتہم خلیفہ ومجاز حضرت اقدس شاہ مولانا محمد مسیح اللہ خان جلال آبادی ؒکے تحریر کردہ سنہری اشعار جسے کلام اہل اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس میں ایسی روشنی ہے کہ سننے والے کیلئے معرفتِ الٰہیہ کی راہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے اور جومحظوظ ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی غلامی کی ز نجیروں کو توڑ کر اپنے رب سے بندگی اختیار کرنیکی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
    حافظ زین العابدین میسوریؒ


    ساقی تو میکدہ میں بڑا ظلم کردیا

    ساقی تو میکدہ میں بڑا ظلم کردیا
    وحدت کا جام پلا کے بڑا مست کردیا
    وحدت میں کثرت کے جلوے
    کثرت میں وحدت کے جلوے
    کوئی کہہ رہا ہے خدا میرے دل میں
    نظر آرہا ہے خدا ہر نظر میں
    خدا ہے شجر میں خدا ہے حجر میں
    خدا ہے سفر میں خدا ہے حضر میں
    وہ ہے سب میں سب میں
    وہ ہے سب میںسب میں
    اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ
    اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ

    یہ تمنا
    یہ تمناکہ کسی طرح دیکھوں تجھے
    نقابِ دوعا لم اٹھاکے دیکھوں تجھے
    ہر شجر میں ہر پھول میں ہر رنگ میں
    نظریں بدل بدل کے دیکھوں تجھے
    یہ تمناکہ کسی طرح دیکھوں تجھے
    نقابِ دوعالم اٹھاکے دیکھوں تجھے
    کہاں کہاں نہیں ہیں جلوے تیرے
    ہر سحر ہر شام ہر سو دیکھوں تجھے
    یہ تمنا کہ کسی طرح دیکھوں تجھے
    نقابِ دوعالم اٹھاکے دیکھوں تجھے
    چاند سورج میں جمال وجلال کا عکس تیرا
    ستاروں کی چمک میں دیکھوں تجھے
    یہ تمناکہ کسی طرح دیکھوں تجھے
    نقابِ دوعالم اٹھاکے دیکھوں تجھے
    اپنی ہستی پہ یہ ناز کیوں وسیمؔ
    خودی کو اپنی مٹاکے دیکھوں تجھے
    یہ تمناکہ کسی طرح دیکھوں تجھے
    نقابِ دوعالم اٹھاکے دیکھوں تجھے

    تیری شان جمالی
    تیری شان جمالی ہے تیری شان جلالی ہے
    ہر روز نئی ایک شام تیری توصیف کمالی ہے
    ہر شئے پہ قادر ہے تو قدرت تیری نرالی ہے
    تیرے محبوب کے ہیں شیدائی کملی جنکی کالی ہے
    تیری شان جمالی ہے تیری شان جلالی ہے
    ہر روز نئی ایک شام تیری توصیف کمالی ہے
    بھٹک رہے ہیں در بدر ہر سو ذلت ورسوائی
    آخر کیوں تجھ سے ہوئے دور یہ ہماری پریشانی ہے
    تیری شان جمالی ہے تیری شان جلالی ہے
    ہر روز نئی ایک شام تیری توصیف کمالی ہے
    شب وروز گناہوں کے دلدل میں پڑے ہیں
    دھلے کب یہ میل جو بھری گناہوں سے گھٹری ہے
    تیری شان جمالی ہے تیری شان جلالی ہے
    ہر روز نئی ایک شام تیری توصیف کمالی ہے
    اب در پہ تیرے وسیمؔ آس لگائے کھڑا ہے
    سوالی کو اپنے کرم سے لوٹانا جھولی اپنی خالی ہے
    تیری شان جمالی ہے تیری شان جلالی ہے
    ہر روز نئی ایک شام تیری توصیف کمالی ہے

    پڑھو مومنوصل علیٰ صل علیٰ

    پڑھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    لکھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    کیا شان ہے کیا مدحت ہے آپؐ کی
    عرش تا فرش ایک شور وغلغلہ ہے صل علیٰ صلی علیٰ
    بنایا ہے رب نے اپنے نور سے
    نورٌعلیٰ نور ہیں آپ صل علیٰ
    پڑھو مومنوصل علیٰ صل علیٰ
    لکھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    حشر میں شفیع بن کربخشوائیں گے
    گنہگاروں کے نگہبان ہیں صل علیٰ
    پڑھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    لکھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    محشر میں کھڑا ہوگا وسیمؔ گنہگاروں میں
    نظر آپ پر ہوگی اور زباں پر صل علیٰ
    پڑھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ
    لکھو مومنو صل علیٰ صل علیٰ

    کسی کی یاد میں آنسوں بہارہا ہوں میں

    کسی کی یاد میں آنسوں بہارہا ہوں میں
    خموشی کی زباں سے داستاں سنارہا ہوں میں
    ہائے یہ خموشیاں اورہر سو اداسیاں
    اپنی قسمت کا ہے گلہ جو کہہ رہا ہوں میں
    کسی کی یاد میں آنسوںبہارہا ہوں میں
    خموشی کی زباں سے داستاں سنارہا ہوں میں
    کوئی سنے دل اپنا زخموں سے چور ہے
    چارہ گر سے مرحم کی بات کر رہا ہوںمیں
    کسی کی یاد میں آنسوں بہارہا ہوں میں
    خموشی کی زباں سے داستاں سنارہا ہوں میں
    ذہن کیلئے عذاب ہے یادِ ماضی
    وہی پرانی بات دہر ا رہا ہوں میں
    کسی کی یاد میں آنسوں بہارہا ہوں میں
    خموشی کی زباں سے داستاں سنارہا ہوں میں
    اب وسیمؔ کسی بات پر بھی ہنسی آتی نہیں
    اپنی یہ حالت جو سنارہا ہوں میں
    کسی کی یاد میں آنسوں بہارہا ہوں میں
    خموشی کی زباں سے داستاں سنارہا ہوں میں




    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم

    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم
    شہر شہر تیری تصویر لئے پھرتے ہیں ہم
    نہ مئے نوشی کی عادت ہے نہ زمزمہ کی
    پھر بھی تیرے میخانے کو آتے ہیں ہم
    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم
    شہر شہر تیری تصویر لئے پھرتے ہیں ہم
    اپنوں سے گلہ ہے نہ کوئی شکوہ
    کیا کریں ان کو بہت یاد آتے ہیں ہم
    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم
    شہر شہر تیری تصویر لئے پھرتے ہیں ہم
    ترکِ تعلق تو کرلیا ہے ان سے مگر
    چین سے رات بھر نہیں سوتے ہیں ہم
    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم
    شہر شہر تیری تصویر لئے پھرتے ہیں ہم
    اب نہ رہی نہ وہ چاہت وسیمؔ تم سے
    مگر اس بے وفا کے کوچے سے آتے ہیں ہم
    کیسے عجب تیرے دیوانے ہیں ہم
    شہر شہر تیری تصویر لئے پھرتے ہیں ہم





    دل کو اپنے قرار آئے کیسے

    دل کو اپنے قرار آئے کیسے
    آخر تلک کوئی ہم کو سنبھالے کیسے
    ان کی باتیں سچ تھیں یا جھوٹ
    اب آخر اس دل کو سمجھائیں کیسے
    دل کو اپنے قرار آئے کیسے
    آخر تلک کوئی ہم کو سنبھالے کیسے
    وہ کلی جو شاخ پہ کھلنے سے رہی
    جوانی پہ اسکی جوبن آئے کیسے
    دل کو اپنے قرار آئے کیسے
    آخر تلک کوئی ہم کو سنبھالے کیسے
    سستا سودا گرانی سے بکے
    تو بازار میںخریدار آئے کیسے
    دل کو اپنے قرار آئے کیسے
    آخر تلک کوئی ہم کو سنبھالے کیسے
    من کے اپنے ہم پرانے پاپی ہیں
    نماز میں وسیم ؔ لطف آئے کیسے
    دل کو اپنے قرار آئے کیسے
    آخر تلک کوئی ہم کو سنبھالے کیسے




    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلادینا

    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلادینا
    میں نہ رہوں ہوش میں بے ہوش بنا دینا
    کوئی ایسے مسیحا سے میرے درد کا درماں ہوجائے
    جو ضامن ہو صحت کی دوا ایسی پلا دینا
    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلادینا
    میں نہ رہوں ہوش میں مجھے بے ہوش بنا دینا
    ہر لمحہ دل میں پاؤں عجب سرور کی لذت کو
    ایسے انوار سے سینے کو تومیرے بھرا دینا
    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلادینا
    میں نہ رہوں ہوش میں بے ہوش بنا دینا
    دیکھوں جو تجھے میں ہر طرف شام وسحر
    میری آنکھوں میں ایسا کوئی سرمہ لگادینا
    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلادینا
    میں نہ رہوں ہوش میں مجھے بے ہوش بنا دینا
    اب التجا ہے وسیمؔ پر مولیٰ تیرا کرم ہو
    سینے میں لگی آگ ہے اسے اور ہوا دینا
    اے ساقی ٔ میخانہ جام ایسا پلا دینا
    میں نہ رہوں ہوش میں مجھے بے ہوش بنا دینا





    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا

    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا
    نہیں ہے تیرے مثل شئے کوئی تیرے سوا
    اونچائی اور گہرائی میں تو ہے
    رگ وجاں سے بھی قریب نہیں کوئی تیرے سوا
    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا
    نہیں ہے تیرے مثل شئے کوئی تیرے سوا
    عجب تڑپ ہے میری جبینِ نیاز میں
    کسے میں سجدے کروں نہیں کوئی تیرے سوا
    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا
    نہیں ہے تیرے مثل شئے کوئی تیرے سوا
    ا ک تو ہی ہے ہم سب کا مشکل کشا
    میں فریاد کس سے کروں نہیں کوئی تیرے سوا
    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا
    نہیں ہے تیرے مثل شئے کوئی تیرے سوا
    مالک تو ہی لکھدے وسیمؔ کا اپنا حال
    ہے مختارِ دوات وقلم نہیں کوئی تیرے سوا
    مجھے اور کیا چاہیے تیرے سوا
    نہیں ہے تیرے مثل شئے کوئی تیرے سوا




    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں

    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں
    رب نام پہ میں تیرے نثار ہوتا رہوں
    فرشتوں کو بھی نہ ہو علم جن کا سرا سر
    وہ راز ونیاز کی باتوں سے سرشار ہوتا رہوں
    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں
    رب نام پہ میں تیرے نثار ہوتا رہوں
    رہے زباں یہ ہردم کلمہ کی تکرار
    تو سنتا رہے میں بیقرار سناتا رہوں
    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں
    رب نام پہ میں تیرے نثار ہوتا رہوں
    مجھے تو جگاتا رہے اور میں جاگتا رہوں
    ہو نیند میر ی آنکھوں سے کوسوں دور
    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں
    رب نام پہ میں تیرے نثار ہوتا رہوں
    رحمتِ خاص کی نگاہ ہو تیری وسیمؔ پر
    میں اپنی عاقبت کوہر دم سنوارتارہوں
    صبح وشام تجھے میں پکارتا رہوں
    رب نام پہ میں تیرے نثار ہوتا رہوں






    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں

    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں
    بصدشوق سوئے مدینہ چلے جارہے ہبں
    وہ عبادتوںکاگھر ہے عبادت ہی مقصود ہو
    یعنی خدا ہی محبوب ومقصود ہو
    ذکر ودرود کی کثرت زباں پر ہو
    ماسوا سے خالی ہو دل ربِّ کعبہ ہی مقصود ہو
    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں
    بصدشوق سوئے مدینہ چلے جارہے ہبں
    وہ کعبہ ہر وقت جسکی تجلیوں کا کیا کہنا
    بنایاہے رب نے اس کو اپنا مرکز کیا کہنا
    یاد آجائیں احباب توزہے نصیب
    گڑ گڑا کر ان کے حق میں دعا کرنا
    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں
    بصدشوق سوئے مدینہ چلے جارہے ہبں
    مبارک مبارک صد مبارک ہو آپ کو

    یہ سفرِ حجاز مبارک ہو آپ کو

    وہ گنبدِ خضرا کے انوارکا دیکھنا نصیب آپ کو
    یہ کیاکچھ کم ہے کہ اپنا بنایانصیب آپ کو
    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں
    بصدشوق سوئے مدینہ چلے جارہے ہبں
    پکڑ کر روضہ کی جالیوں کو احباب کا سلام عرض کرنا
    بیقرار دلوں کا یہ پیام عرض کرنا
    اپنی حالتوں سے تمام شرمندہ ہیں حضورؐ
    آپ شفیع المذنبین ہیں سب کا سلام قبول کرنا یہ عرض کرنا
    بساکر تمنا دل میں کعبہ چلے جارہے ہیں
    بصدشوق سوئے مدینہ چلے جارہے ہبں




    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں

    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں
    آنکھوںمیں انوار کے جلوے بسالائے ہیں
    اپنی قسمت کے ستارے کو آپ چمکائے ہوئے آئے ہیں
    مرحبا مرحبا خوش آمدید خوش نصیب آئے ہیں
    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں
    آنکھوںمیں انوار کے جلوے بسالائے ہیں
    احباب کے د ل خوشی سے کھل رہے ہیں
    اداکر فریضہ ٔحج آپ چلے آئے ہیں چلے آئے ہیں
    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں
    آنکھوںمیں انوار کے جلوے بسالائے ہیں
    پکڑ کر آپ غلافِ کعبہ دعا کرکے آئے ہیں
    سن کر وہ احباب کو تسلی وہ مژدۂ جانفزا لائے ہیں
    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں
    آنکھوںمیں انوار کے جلوے بسالائے ہیں
    رو ضیٔ نبی ؐ پر وسیم ؔ آپ سب کا سناکرسلام آئے ہیں
    عجب سرور وانبساط کا حبیب یہ پیغام لائے ہیں
    دیارِ حرم کے سفر سے آپ چلے آئے ہیں
    آنکھوںمیں انوار کے جلوے بسالائے ہیں




    خانقاہِ اہل اللہ
    اثرخامہ حضرت سہیل راشد صاحب
    چراغِ راہ گذر خانقاہِ اہل اللہ
    پناہ گاہِ بشر خانقاہِ اہل اللہ
    علاجِ زخم جگر، رہنمائے منزلِ شوق
    درِ مسیح و خضر خانقاہِ اہل اللہ
    حضورِ حق میں پشیمان اور لرزیدہ
    سرشکِ دیدہ تر خانقاہِ اہل اللہ
    حکیم الامتِ عالی گہر کے گلشن کا
    شگفتہ ایک ثمر خانقاہِ اہل اللہ
    چمکتے چاند کی رنگت، گلاب کی خوشبو
    لٹائے شام و سحر خانقاہِ اہل اللہ
    میّسر آتی ہے دل کو متاعِ حق بینی
    تجلیات کا گھر خانقاہِ اہل اللہ
    یہیں سے دولتِ علم و یقین ملتی ہے
    سکونِ قلب و نظر خانقاہِ اہل اللہ
    دلوں میں آتشِ محبوبیت کو بھڑکادے
    ہے ایک ایسا شرر خانقاہِ اہل اللہ
    ہر ایک تارِنفس گونج ہے اذانوں کی
    سجودِ عشق کا گھر خانقاہِ اہل اللہ
    چمکتا جائے ہر اک خاطرِ غبار آلود
    اگر ہو پیشِ نظر خانقاہِ اہل اللہ
    شہود میں نظر آتے ہیں غیب کے جلوے
    سکوت شانِ خبر خانقاہِ اہل اللہ
    غموں کی کوئی حقیقت نہیں بساط نہیں
    ہے غم شناسِ بشر خانقاہِ اہل اللہ
    دل و نظر ہیں یہاں وحدت الوجود میں گُم
    مقامِ آئینہ گر خانقاہِ اہل اللہ
    فقط قلوب کی اصلاح کا یہ مرکز ہے
    اذان ہوکہ گجر خانقاہِ اہل اللہ
    چراغِ فکر، متاعِ نظر، دلِ بیدار
    ملے، ملے جو اگر خانقاہِ اہل اللہ
    سیاہ کار جہاں کی سیاہ راتوں میں
    اُبھرتی ایک سحر خانقاہِ اہل اللہ
    سہیل بھٹکے کوئی لاکھ جادئہ حق سے
    بلاتی ہوگی مگر خانقاہِ اہل اللہ
    Last edited: ‏اپریل 25, 2014
  5. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماہ رجب المرجب کی فضیلت
    محمدداؤدالرحمن علی
    اسلامی مہینوں میں ساتواں مہینہ رجب المرجب کا ہے۔لفظ رجب اسم مشتق ہے۔اس کا اشتقاق تَر جِیبُ سے ہے عربی میں ترجیب کا معنیٰ تعظیم کا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’’ اِنّہ لَیُرَجَّبُ فِیہِ خَیرُ کَثِیرُ لِشَعبَانَ‘‘
    ماہ رجب میں شعبان کے لیے خیر کثیر کی تیاری کی جاتی ہے۔
    بعض حضرات کا قول ہے۔کہ ترجیب کا معنیٰ ہےاللہ رب العزت کے ذکر کی تکرار،اور اللہ ر ب العزت کی عظمت کا اظہار۔ ماہ رجب میں فرشتے تسبیح،اور تقدیس کی کثرت کرتے ہیں ماہ رجب کو ’’ شہر رَجم‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔یعنی شیاطین کو سنگسار کردینے کا مہینہ تاکہ مومنین کو دُکھ نہ دے سکیں۔
    مروی ہے کہ جب ماہ رجب المرجب کا چاند نظر آیا تو جمعہ کے دن امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ممبر پر چڑھ کر خطبہ ارشاد فرمایا :
    اے لوگو سنو!یہ اللہ کا مہینہ ہے۔یہی زکوٰۃ دینے کا مہینہ ہے۔جس پر قرض ہو وہ قرض ادا کرکے باقی بچی ہوئی رقم سے اُسے زکوۃ ادا کرنی چاہیئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خطبہ میں ’’اصم‘‘ کا لفظ ارشاد فرمایا اس کی وجہ لکھتے ہوئے ابن انباریؒ نے فرمایا عرب آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے۔جب ماہ رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو عرب ہتھیار رکھ دیتے تھے۔نہ ہتھیاروں کی کھٹ کھٹ سنائی دیتی تھی اور نہ ہی نیزوں کی جھنکار۔ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کو تلاش کرنے نکلتا اگر وہ ماہ رجب المرجب میں مِل جاتا۔ تو اُسے کچھ نہ کہتاتھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھاکہ اِس نے اُس قاتل کو دیکھا ہی نہ ہواور نہ ہی اُس کی خبر پائی ہو۔ بعض لوگوں نے ’’اصم‘‘ کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کی کسی قوم پر اِس مہینہ میں اللہ کا غضب نازل ہونے کی کوئی خبر نہیں سُنی گئی۔ گزشتہ اقوام پر باقی تمام مہینوں میں اللہ کا عذاب آیا ہے۔مگر ماہ رجب المرجب میں اللہ پاک نے کسی قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا۔(غنیتہ الطالبین)
    ماہ رجب المرجب میں ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیاکشتی حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو لیکر چھ ماہ تک تیرتی رہی ۔ حضرت ابراہیم ؒ نحغی کا قول ہے۔ماہ رجب المرجب میں اللہ رب العزت نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا تھا۔ اللہ رب العزت نے آپ علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو طوفان سے محفوظ رکھا،اور زمین کو شرک و ظلم سے پاک کیا۔حضرت ابو حازم از سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’’ ماہ رجب المرجب حرمت کے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں روزے رکھے تھے،اور ساتھیوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم دیا تھا۔اللہ رب العزت نے اُن کو بچالیا۔اور ڈوبنے سے محفوظ رکھااور طوفان کے ذریعہ سے زمین کو کفر و معصیت سے پاک کیا۔‘‘(غنیہ الطالبین)
    امام ہتبہ رحمہ اللہ نے اسناد کے براویت یونس از حسن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:
    ’’ جس نے رجب کا ایک روزہ رکھااُس کے ایک روزہ کو تیس سال کے روزوں کے مساوی قرار دیا جائیگا۔‘‘(غنیتہ الطالبین ۲۶۱ )
    حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ ماہ رجب اللہ کا مہینہ ہے۔جو شخص کسی مومن کی سختی دور کرے گااللہ رب العزت اس کو جنت الفردوس میں ایک محل عطا کرے گا۔(غنیتہ الطالبین ۲۶۳ )
    حضرت عکرمہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’’ رجب اللہ کا مہینہ ہے،شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے۔‘‘
    موسیٰ بن عمرانؒ کہتے ہیں کہ میں نے خود سُنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’’ جنت میں ایک دریا ہے جس کو ’’ رجب ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ جو رجب کا ایک روزہ رکھے گا ‘
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جنت میں ایک محل ہے ۔ جس میں ماہ رجب المرجب کے روزہ داروں کے علاوہ کوئی نہیں جائے گا۔
    کہاجاتا ہے۔ ماہ رجب المرجب مغفرت کے لیے مخصوص ہے،اور شعبان شفاعت کے لیے،رمضان نیکیاں ڈبل کرنے کے لیے اور شب قدر رحمت نازل کرنے کے لیے اور عرفہ کا دن دین کو کامل بنانے کے لیے ہے۔
    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خود رسول اللہ صلہ اللہ وسلم سے سُنا۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے۔ جس نے ماہ رجب المرجب کا ایک روزہ رکھا اُس نے گویا ہزار برس روزے رکھے اور ہزار غلام آزاد کیے۔ اور جس نے ماہ رجب میں کچھ خیرات کی گویا اُس نے ہزار دینار خیرات کئے۔ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے بدن کے ہر بال کے مقابلہ میں ہزار نیکیاں لکھے گا،اور ہزار درجے بلند کرے گا۔اور ہزار گناہ معاف فرمائے گا۔اور ہر روز کے روزے اور ہرروز کی خیرات کے مقابلہ میں ہزار حج اور ہزار عمرہ لکھے گا۔اور اسکے لیے جنت میں ہزار محل اور ہزار کمرے ہونگے۔ ہر کمرہ میں ہزار خیمے اور ہر خیمہ میں سورج سے ہزار مرتبہ بڑھ کر ہزار حوریں ہونگی۔(غنیتہ الطالبین ۲۶۵ )
    اللہ رب العزت ہمیں ماہ رجب المرجب کی قدر کی توفیق عطا فرمائے۔اور نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العلمین
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 22, 2014
  6. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    علماء اہلحدیث رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا احسان وسلوک
    الغزالی رکن محمد عقیل قریشی صاحب


    حضرت مولانا سید نذیر حسین دہلویؒ اور احسان وسلوک:۔حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ ہندوستان کے صوبہ بہار میں واقع ایک گاؤں موضع’’بلتھوا‘‘ میں ؁ ۱۸۰۵ میں پیدا ہوئے۔آپکا تعلق سادات خاندان سے تھا۔برصغیر پاک وہند میں آئمہ اربعہ ؒ سے امتیازی فقہ کا وجود قائم کرنے میں آپکا اہم اور بنیادی کردار ہے۔آپکے مسلک ومشرب سے منسوب لوگوں کی پہچان ’’ مسلک اہلحدیث ،وہابی یا غیرمقلدین‘‘کے نام سے کی جاتی ہے۔آپکے مسلک کے پیروکا ور اس عہد میں اپناا متیاز ’’ سلفی ‘‘ نام سے بھی قائم کرتے ہیں۔
    آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سید جواد علی سے حاصل کی ۔قرآن مجید اور کتب حدیث میں مشکوٰۃ شریف آپ ؒ نے صوبہ بہار کے دارلحکومت پٹنہ(عظیم آباد)کے محلہ تموہیاں میں شاہ محمد حسین صاحب ؒ کے مدرسہ سے حاصل کی ، پٹنہ میں ہی آپکو امام الصوفیاء ومجاھدین سید شاہ محمد اسماعیل شہدؒ کا واعظ سننے کی سعادت حاصل ہوئی ا س واعظ کے متعلق آپ خود فرماتے ہیں:۔
    ’’ہم اس واعظ میں شریک تھے،سارا ’’لین ‘‘کا میدان آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔پہلی ملاقات سید صاحبؒ اور مولانا شہیدؒ سے یہی پٹنہ میں ہوئی تھی‘‘۔(الحیات بعد الممات ص ۲۶)
    مولانا محمد اسحاق بھٹی فرماتے ہیں:۔
    ’’ معلوم ہوتا ہے سید صاحب ؒ اور مولانا شہیدؒ کی اس محبت اور واعظ کی برکت سے میاں صاحبؒ کے دل میں دہلی جانے اور وہاں سے تعلیم حاصل کرنے کا خیال پیدا ہوا ۔میں صاحب کا عازم دہلی ہونے کااصل مقصد حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کے حضور زانوئے شاگردی تہ کرنا تھا۔‘‘ (تفصیل دیکھے تذکرہ مولانا غلام رسول قلعویؒ ص)
    یہ واقعہ۸۱۲؁۱ء کا ہے اس وقت شاہ عبدالعزیز ؒ مسند شاہ ولی اللہؒ پر متمکن تھے۔شاہ عبدالعزیزؒ مفسرو محدث اور اپنے وقت کے صوفیاء کاملین میں سے تھے،آپکے ہاں تصوف و سلوک کی تربیت کاوہ سلسلہ جاری وساری تھا،جو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور انکے پیش رو سے چلا آ رہا تھا۔
    حضرت سید نذیر حسین ؒ اپنے زمانے کے عظیم صوفی و مجاہدشاہ اسماعیل شہیدؒ کے واعظ سے متاثر ہوکر تحصیل علم کیلئے؁ ۱۸۲۲ء کو دہلی روانہ ہوئے۔غازی پور مولانا محمد علی چڑیا کوٹی کے درس سے مستفید ہوئے۔آپؒ نے پٹنہ سے دہلی کا سفر چھ ماہ میں طے کیا۔اور مختلف جگہوں سے تحصیل علم کرتے ہوئے؁ ۱۸۲۸ء کو دہلی پہنچے۔آپکی آمد سے تقریباً چار برس قبل ۵جنوری؁ ۱۸۲۴ء کو حضرت شاہ عبد العزیز ؒ وفات پا چکے تھے ۔حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ نے پنجابی کٹڑہ کی مسجد میں سے تھے،آپکے ہاں تصوف و سلوک کی تربیت کاوہ سلسلہ جاری وساری تھا،جو شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور انکے پیش رو سے چلا آ رہا تھا۔
    حضرت سید نذیر حسین ؒ اپنے زمانے کے عظیم صوفی و مجاہدشاہ اسماعیل شہیدؒ کے واعظ سے متاثر ہوکر تحصیل علم کیلئے؁ ۱۸۲۲ء کو دہلی روانہ ہوئے۔غازی پور مولانا محمد علی چڑیا کوٹی کے درس سے مستفید ہوئے۔آپؒ نے پٹنہ سے دہلی کا سفر چھ ماہ میں طے کیا۔اور مختلف جگہوں سے تحصیل علم کرتے ہوئے؁ ۱۸۲۸ء کو دہلی پہنچے۔آپکی آمد سے تقریباً چار برس قبل ۵جنوری؁ ۱۸۲۴ء کو حضرت شاہ عبد العزیز ؒ وفات پا چکے تھے ۔حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ نے پنجابی کٹڑہ کی مسجد اورنگ آباد میں تحصیل علم کا آغاز کیا ،اور مختلف حضرات سے مختلف علوم و فنون کی درسی کتب پڑھیں۔حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلویؒ کی وفات کے بعد انکی مند پر انکے لائق ترین نواسے حضرت شاہ اسحاقؒ متمکن تھے ۔حضرت سید نذیرحسین ؒ نے ان سے صحاح ستہ کی تکمیل کی ،اور ان سے سند واجازت حاصل کی۔آپکو صیح بحاری اور صیح مسلم پڑھنے کا شرف مولانا عبد الخالق صاحب سے بھی حاصل ہوا۔

    ۱۸۳۳ءمیں آپکی شادی آپکے رفیق ترین استاد مولانا عبد الخالق صاحب ؒ کی صاحبزادی سے ہوئی۔یہ انکے دہلی تشریف لانے کے چار سال بعد؁ ۱۸۳۲ءکا واقعہ ہے۔اس شادی کے کفیل خود شاہ اسحاقؒ اوربرادر صغیر شاہ یعقوبؒ تھے۔
    فارغ التحصیل ہونے کے بعد حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ نے مسند درس کو زینت بخشی۔آپکا علم حدیث پڑھانے کا اسلوب کچھ ایسا تھا،کہ آپکی شہرت ہندوستان سے نکل کر اقطار عالم میں پھیل گئی۔ہندوستان کے علاوہ کئی ممالک کے طلبہء نے آپ سے کتب حدیث پڑھی۔۱۸۶۳ءمیں آپکو برٹش گورنمنٹ نے مقدمہ بغاوت میں گرفتار کرلیا۔بعد ازاں ایک سال کے بعد آپکی بے گناہی ثابت ہونے پر آپکو رہائی ملی۔۱۳۰۰ھکو آپ حج کے لئے تشریف لے گئے اور وہاں بھی آپکو مخالفین کی جانب سے کافی تکالیف کا سامنا رہا؁۔۱۸۹۸میں برٹش گورنمنٹ نے آپکو شمس العلماء کا خطاب دیا ۔
    حضرت سید نذیر حسین دہلوی ؒ کم وپیش ستر برس درسِ حدیث دیااور ۱۳ اکتوبر ؁ ۱۹۰۲ءکو وفات پائی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    آپؒ کی زندگی پر سب سے مستند کتاب ’’الحیات بعد الممات ‘‘آپکے شاگرد مولانا فضل الدین بہاریؒ نے؁ ۱۹۰۸ءمیں تالیف فرمائی۔آپکے تلامذہ آپکو شیخ الکلؒ ،الکلؒ اور فی الکل ؒ جیسے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
    تعلق احسان وسلوک:۔صاحب شمس العلماء لکھتے ہیں:۔
    ’’جن حضرات نے میاں سید نذیر حسین دہلویؒ کے علمی فضل وکمال کی تصویریں دیکھی ہیں وہ شاید یہ جان کر حیران ہوں کہ میاں صاحبؒ نہایت بلند مقام رکھنے والے صوفی بھی تھے‘‘۔(شمس العلماء )
    مولانا فضل الدین بہاریؒ حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ کے کمالات کا احاطہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
    ’’کہ حضرت لکھتے ہیں :۔
    ’’کہ حضرت کو جس نے دیکھا،وہ ایک خدا رسیدہ عاشق مزاج صوفی اور سچا درویش یا پیر طریقت خیال کرنے پرمجبور ہے‘‘۔
    ’’صیح بخاری وغیرہ کتب صحاح میں آپ جس وقت کتاب الرقاق اور نکات تصوف فرماتے تو خود کہتے،صاحبوہم تو احیاء العلوم کو یہاں دیکھتے ہیں‘‘۔(الحیات بعد الممات ص۱۲۳)مولانا بہاریؒ مسمیریزم اورتصوف میں فرق کرتے ہوئے آپ ؒ کے حالات میں لکھتے ہیں:۔
    ’’میاں صاحب ؒ کو اس مسمیریزم کی خبر بھی نہ ہوگئی،مگر تصوف نبویﷺنے آپکو دلایا تھاکہ سب امور لاشئے ہیں،اسلام کو اس سے کسی طرح کا تعلق نہیں۔(ص۱۴۲)ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:۔
    ’’میاں صاحب کا علم شریعت وطریقت تو مسلمات قطعیہ یقینیہ سے تھا،نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیائے اسلام جس پر شاہد ہے۔‘‘
    (ص۱۲۳)اظہار وعبودیت اور حسان وسلوک:۔تصوف کا حصول کثرت ذکر ہے اورا سکا حاصل درجہ احسان ہے ۔مولانا بہاری ؒ فرماتے ہیں:۔
    ’’طہارت کے بعد ہی عبادت ہے،اور طہارت ہے بھی عبادت کیلئے۔جس نے آپکی اقتداء کی ہے،یاساتھ نماز پڑھی ہے،یا پڑھتے ہوئے دیکھا ہے،اگر اسکے سینہ میں دل ہے،اورد ل میں کچھ مذاق تصوف ہے،تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ ایسی عبادت تطلع الی لجبروت کے نئے بلند مینار کا کام دے سکتی ہے۔قرات میں خشیعت،مرعوبیت،گریہ تعدیل اور قرۃ العین یہ سب باتیں ایسی تھیں جس سے نعبد اللہ کا انک تراہ کے معنی اچھی طرح سمجھ میں آ جاتے تھے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی مثال ٹھیک روح اور جسد کی مثال ہے۔اسکے ظاہری صورت بمنزلہ جسد کے ہے،اور کفیت قلبی بمنزلہ جسد کے ہے ،اور کفیت روحانی عبادت (جسکو ہم بالفظ دیگر مراقبہ کہتے ہیں)کا پتہ بھی ہیت ظاہری سے اچھی طرح لگ جاتا ہے،جس کا نام اصطلاح میں خشوع وخصوع ہے‘‘۔(ایضاً۱۲۵)آپکے ذوق عبادت ،گریہ تعدیل ارکان جس کو مولانا بہاریؒ نے تطلع الجبروت کا نام دیا ہے،آپ نے یہ درجہ احسان مسلک اہلحدیث کے مشہور صوفی حضرت سید عبد اللہ غزنویؒ سے حاصل کیا تھا۔اور حضرت سید عبداللہ غزنویؒ علم حدیث میں آپکے شاگرد بھی ہیں۔اور یہ ممکن ہے کہ آپ ؒ نے سید عبداللہ ؒ سے باقاعدہ تصوف وسلوک کی تربیت بھی حاصل کی ہو کیونکہ آپ خود فرماتے ہیں:۔
    ’’عبداللہ نے مجھ سے حدیث پڑھی اور میں نے عبداللہ سے نماز سیکھی‘‘مولانا محی الدین احمد قصوری ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بزرگوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے جن کو خود میاں صاحبؒ سے شرف تلمذ حاصل تھاکہ میاں صاحبؒ فرمایا کرتے تھے:۔
    ’’مولوی عبد اللہ نے حدیث ہم سے پڑھ گیا اور نماز پڑھنی ہمیں سیکھا گیا‘‘(حضرت مولانا داؤد غزنویؒ ص۱۴)قارہین !ایک شیخ الحد یث کا یہ اعتراف حقیقت میں اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ علم تصوف وسلوک کے بغیرحقیقی معنوں میں نماز بھی نصیب نہیں ہو سکتی۔اللہ اکبر۔
    شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی ؒ کا طریق السلوک:۔’’ الحیات بعد الممات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحبؒ کا طریق السلوک نقشبندیہ ہی تھا۔مولانا فضل ا لدین بہاریؒ لکھتے ہیں:۔
    ’’ باوجودے کہ اپنے زمانے زمانہ کے طبقہ صوفیاء اکرام میں آپکو وہی درجہ حاصل تھا۔جو معنیر علماء عظام میں تھا،مگر آپکو سوائے اتباع کے دور دراز باتوں کی طرف کبھی خیال نہ کرتے تھے،اور یہی طریقہ نقشبندیہ ہے۔
    دوسری تعلیم صوفیاء کی مواظبت علی الطہارت ہے،جو زینہ ہے آئندہ کی ترقیات گونا گوں کی۔ایک بجے رات کو آپ بیدار ہوجاتے ،اور وضو کے بعد تہجد میں ساڑھے تین بجے شب تک مشضول رہتے،پھر اسکے بعد مسجد میں آکر اور مسجد کے صحن میں بیٹھ کر مراقبہ اور ذکر میں مصروف رہتے۔اور مقامات کی نسبت اشعار نہایت ہی درد نال لہجہ میں پڑھتے۔‘‘
    قارہین اکرام!اہل متصوفین اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ،کہ مراقبہ واذکار کیا ہیں،اور مقامات کی مناسبت اشعار کیا معنی رکھتے ہیں عقید ت و احترام صوفیاء عظامؒ :۔ حضرت سید نذیر حسین دہلوی ؒ صوفیاء عظام سے بے حد عقیدت ومحبت اور احترام کیا کرتے تھے
    خاص الخاص شیخ اکبرعلامہ ابن عربیؒ سے تو بہت زیادہ عقیدت تھی۔مولانا بہاریؒ لکھتے ہیں:۔
    ابن عربیؒ سے عقیدت و احترام:۔’’طبقہ علماء اکرام میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی بڑی تعظیم کرتے ،اور خاتم الولایہ المحمدیہ فرماتے۔اور بات بھی یہی ہے کہ علم ظاہر وباطن کی ایسی جامعیت ندرت سے خالی نہیں ہے۔مولانا قاضی بشیر الدین قنوج علیہ الرحمۃ جو شیخ اکبر کے سخت مخالف تھے۔ایک مرتبہ دہلی سے اس غرض تشریف لائے کہ انکے بارے میں میاں صاحبؒ سے مناظرہ کریں ،اور دو مہنے دہلی میں رہے،اور روزانہ مجلس مناظرہ گرم رہی،مگر میاں صاحب اپنی عقیدت سابقہ سے جو شیخ اکبر ؒ کی نسبت رکھتے تھے،ایک تل کے برابربھی پیچھے نہ ہٹے،آخرممدوح جن کو میاں صاحب ؒ سے کمال عقیدت تھی،دومہنے کے بعد واپس تشریف لے گئے ۔
    مولانا مغفور اکثر طلباء کو کتب درسیہ پڑھا کر حدیث پڑھنے کے لئے دہلی بھیج دیتے ،چنانچہ پیشتر شاگرد مولانا مغفور کے میاں صاحبؒ کے بھی شاگرد ہیں۔مگر چونکہ ان لوگوں کے خیالات شیخ اکبر کی طرف سے مولانا مغفور کے سنیچے ہوئے تھے،ان میں بہت کم ایسے تھے جو شیخ اکبر کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوں۔
    مولانا ابوالطیب محمد شمس الحق (جو مولانا مغفور کے تلمیذ خاص اور میاں صاحب ؒ کے شاگرد رشید ہیں)نے بھی میاں صاحب ؒ سے کئی دن متواتر شیخ اکبر کی نسبت بحث کی ،اور فصوص الحکم شیخ اکبر پر اعتراض جمائے۔میاں صاحب نے پہلے سمجھایا ،مگر جب دیکھا کہ ابھی لا تسلم ہی کے کو چہ میں یہ ہیں تو فرمایاکہ:۔
    ’’ فتوحات مکیہ‘‘ آخری تصنیف شیخ اکبر کی ہے ،اور اسی لیے اپنی سب تصانیف ما سبق کی یہ ناسخ ہے‘‘

    اس جملہ پر یہ بھی سمجھ گئے(الحیات بعد الممات ص ۱۲۳،۱۲۴)
    مرزا مظہر جانجاناں ؒ سے عقیدت:۔مرزامظہر جانجاناںؒ ؒ صوفیاء نقشبدیہ میں سے بلند ترین مراتب صوفی گزرے ہیں،قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ مصنف تفسیر مظہری آپ ہی کے شاگرد تھے۔قاضی صاحبؒ نے اپنی شیخ کی عقیدت میں اپنی مایہ ناز تفسیر’’ تفسیر مظہری‘‘ رکھا۔
    ’’حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ کھانے کی تمیز کے خصوص میں حضرت مرزا جانجا ناںؒ علیہ الرحمۃ کی بہت تعریف کرتے،ایک حکایت بیان کی ہے کہ ’’ عبدالاحد خان وزٰر نے ایک روز لوزیں نہایت اہتمام سے تیار کر کے میرزا مظہر جان جاناں قدس سرہ کی خدمت میں بھیجی،میرزا صاحب نے ایک لوزیں ذراسا توڑ کرچبا کر تھوک دیا اور فرمایا ’’ کیا بیلوں کی سانی بھیجی ہے‘‘۔( الحیات بعد لمات۱۵۱)
    خاندان شاہ ولی اللہؒ سے عقیدت ونسبت:۔مولانا بہاریؒ فرماتے کہ :۔
    ’’ میاں صاحبؒ اپنے اساتذہ جناب مولانا شاہ ولی اللہؒ جناب مولانا شاہ عبد العزیزؒ ،مولانا شاہ محمد اسحاق قدس سر ہم اور انکے خاندان کا بہت ادب کرتے تھے ،اکثر قرآن وحدیث کے ترجمعے کے موقعہ پر فرماتے:۔
    ’’مجھ سے اسکا مقراضی ترجمعہ سنو جو ہمارے بزرگوں سے سینہ بسینہ چلا آتا ہے‘‘
    اور بیان مسائل میں بھی انہیں بزرگوں کے اقوال سے سند لاتے اور فرماتے’’ ہمارے حضرت یوں فرماتے ہیں‘‘
    اس پر کوئی آزاد طبع طالب علم اگر کہہ دیتا حضرت کا کہنا سند نہیں ہو سکتا ،جب تک قرآن وحدیث سے سند نہ دی جائے تو بہت خفا ہو کر فرماتے:۔
    ’’ مردود کیا یہ حضرت گھس کٹے تھے،ایسی ہی اڑان گھائی اڑاتے تھے‘‘۔
    مولانا بہاریؒ مزید لکھتے ہیں:۔
    ’’ یوں تو خاندان والی اللّہی کے ساتھ نہایت ہی شغف تھا ،اور نسبت بھی نہایت زبر دست رکھتے تھے ،مگر شاہ ولی اللہؒ اور مولانا اسماعیل شہیدؒ کی نسبت اکثر فرمایا کرتے تھے کہ:۔
    میں ان دادا پوتوں کا قائل ہوں جو صرف قرآن و حدیث سے استنباط مسائل کرتے ،اور اپنی رائے پر اعتماد رکھتے تھے۔زید و عمر کسی مصنف سے یا عالم کی پیروی نہیں کرتے۔انکی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ فیضان الٰہی جوش مار رہا ہے‘‘۔
    جناب شاہ عبد لعزیز صاحبؒ کے بارے میں فرماتے :۔
    ’’ افسوس ہے کہ زمانہ شباب ہی میں آپکی بصارت جاتی رہی،ورنہ ذہانت تو اس بلا کی تھی کہ اس حالت میں بھی زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے تھے‘‘۔(ایضاص ۱۶۶ تا ۱۶۸)
    مولانا شاہ رفیع الدین قدس اللہ سرہٗ کے ایک صاحبزادے تھےء ،جو خورجہ میں رہتے تھے ہر چند علم کی درسگاہ ان میں بہت کم تھی،مگر دہلی اکثر آتے ،اور میاں صاحب سے ملاقات کرتے ۔مولانا بہاریؒ فرماتے ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے تو میاں صاحب انکے استقبال کیلئے کھڑے ہو جاتے( ایضاص ۱۶۳)
    سید عبد اللہ غزنویؒ او ر د یگر صوفیاء اہلحدیث ؒ سے تعلق و تکریم:۔ عبد اللہ غزنوی ؒ اور مولانا غلام رسول قلعویؒ اور حافظ محمد لکھویؒ مسلک اہلحدیث کے اوّلیں حضرات میں شمار کیے جاتے ہیں،یہ حضرات اس پائے کے لوگ تھے ،کہ جن جگہوں سے گزرے یا قیام کیا تو بستیوں کی بستیاں شرک وبدعت سے پاک کی۔اوربے شمار مخلوق خدا کیلئے ہدایت کا موجب بنے۔ اسکی وجہ بھی یہی تھی کہ یہ حضرات علم ظاہر وباطن میں کامل واکمل تھے ۔زبر دست روحانی توجہ کے مالک تھے۔ علم حدیث کی سند ان صوفیاء ثلاثہ نے حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ سے حاصل کی ۔حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ سے علم حدیث حاصل کرنے کا فیصلہ بھی سید عبد اللہ غزنویؒ کے ایک الہام پر کیا گیا تھا ۔اس واقعہ کی تٖصیل کچھ یوں ہے کہ اللہ کہ ولیوں کا رنگ بھی عجیب ہوتا ہے ،بعض اولیاء اللہ قوت باطنی اور کشف و مشاھدہ کی بدولت اپنے ہم مزاج کو فوری پہچان لیتے ہیں ،بلکہ حلال و حرام حتی کہ موضوع اور صیح حدیث کی پرکھ بھی حدیث مبارکہ کے انوارات کی وجہ سے کر لیتے ہیں ،واقعہ سیر
    سوانح کی کتب کچھ اسطرح ملتا ہے کہ:۔
    ’’ جب مولانا سید عبداللہ غزنویؒ اور مولانا غلام رسول قلعویؒ ’ ’ کوٹھہ‘‘ سے واپسی پرگجرات کے قریب پہنچے تو حضرت سید عبد اللہ غزنویؒ نے فرمایا’’ مجھے یہاں ایک مجذوب کی خو شبو آتی ہے جو ملنے کے قابل ہے‘‘
    سید عبد اللہ غزنوی ؒ بہت تیز کشف ومشاھدات کے مالک تھے ،اکثر فیصلے کشف والہام کی بنیاد پر کیا کرتے تھے اور وہ عموماً درست ثابت ہوتے تھے ۔
    ’’ رستے میں ہی دونوں حضرات ؒ نے ارادہ حدیث پڑھنے کا بھی کر لیا تھا،اور یہ بھی قصد کیا تھا کہ دہلی جا کر حدیث پڑھی جائے۔سو اسی خیال کو دل میں لئے ہوئے مجذوب کی طرف روانہ ہوئے،تا کہ اس سے دریافت کر لیں کہ حدیث کا علم کہاں سے پرھیں،اس مجذوب بزرگ کا نام جگنو شاہ تھا۔جب آپ اس کی طرف روانہ ہوئے،تو وہ اپنے حاشیہ نشینوں سے کہنے لگا،دیکھو دو شخص محمدیﷺ نمونہ صحابہ اکرام چلے آ رہے ہیں،مجھے کوئی کپڑا پہنا دو،اور ان دونوں کے لئے فرش کرو،جب آپ اس بزرگ کے قریب پہنچے،تو سائیں جگنو شاہ نے اٹھ کر استقبال کیااور بٹھا لیا،دہلی کی طرف اشارہ کر کے کہا،جنت اس طرف ہے۔یہ سن کر اس کے پاس کے لوگ بھی حیران تھے،کہ یہ کبھی کسی مخاطب نہیں ہوا ہے،آج ہوش و ہواس کی باتیں کر تا ہے،جب حضرت سیدعبداللہ صاحبؒ اور مولانا غلام رسول واپس آنے لگے ،تو کہنے لگے کہ لباس دیکھ کر بھول نہ جانا ،وہ شخص مسکین صورت ہے،اور اسکا نام سید نذیر حسین دہلویؒ ہے اس سے پڑھنا۔یہ سن کر ان کو تسلی ہو گئی۔پھر وہاں سے چل کر قلعہ میاں سنگھ پہنچے اور آتے ہی مولوی صاحب عبد اللہ صاحبؒ نے فرمایاکہ مجھ کو اللہ کی طرف سے معلوم ہو ا ہے کہ چند ماہ ٹھہر کر پڑھنے کو جاؤں‘‘۔(سوانح حیات مولانا غلام رسول قلعویؒ ص۵۲)
    اسطرح کے مجذوب لوگوں کے متعلق معاشرے میں طرح طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں ۔بعض ان کو بڑا کامل و اکمل سمجھتے ہیں،اور بعض انکی ہین وتنقیص کرتے ہیں،لیکن ضروری ہے کہ مجذوب کی پہچان کے لئے ان لوگوں سے رائے لی جائے ،جو علم ظاہر و باطن میں کامل اکمل ہیں۔صاحب دلائل السلوک فرماتے ہیں
    ’’ مجذوب سالک ظاہراً متبع شریعت نہیں ہوتا،اسکے قوی باطنی جل چکے ہوتے ہیں،اسکی مثال ایسی ہے جیسے کسی نابینا کو یابینا کو اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ کر موٹر میں بٹھا کر پشاور سے لاہور لے جائیں،پھر اس سے راستے کی تفصیلات یا نشان راہ پوچھے جائیں تو وہ کچھ نہ بتاسکے گا۔اس لئے مجذوب سالک سے کسی کو فیض نہیں مل سکتا،کیونکہ وہ راستہ سے واقف نہیں ہوتا،مگر سالک المجذوب منازل منازل طے کر کے جاتا ہے،اسے رستے کی تفصیل معلوم ہوتی ہیں ،یہ منازل بہت اونچے ہیں ،مگر عوام جہلا تو ہر مجنون اور پاگل کو مجذوب ہی خیال کرتے ہیں،اور کامل واکمل سمجھتے ہیں ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے بعد عجیب باتیں صادر ہوتی ہیں۔حلانکہ ایسی باتیں مجنون سے صادر ہو سکتی ہیں،کیونکہ اسے یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ایسے آدمی کے متعلق احتیاط لازم ہے،نہ تو اسے برا کہا جائے نہ ولی سمجھ لیا جائے۔قرآن کریم نے اصول بتایا ہے ۔ولاتقف ما لیس لک بہ علم۔اس لئے ہر مجذوب نما آدمی کے بارے میں توقف مطابق قرآن ہو گا۔اگر عارفین میں سے کوئی صاحب نظر بتا دے کہ وہ بد کار ہے ،تو مردود سمجھا جائے گا۔کامل اکمل سمجھ تصور کر کے شریعت کی تو ہین نہ کی جائے۔(ص۸۰)
    کنز الطّالبین میں ہے:۔
    ’’(مجذوب ہونا) کمزوری کی دلیل ہے،کوئی نبی مجذوب نہیں ہوا۔اگر یہ کمال ہوتا،تو انبیاء کو ملتا۔ ہاں جو سالک جس قدر طاقتور ہوگا۔اسکی زندگی حال دل کیساتھ اسی قدر عام انسانوں کی زندگی ہو گی۔یہ مشکل کام ہے،اوریہ طاقت انبیاء کو عطا ہوتی ہے،جبھی تو ہرآدمی انکی اطاعت کا مکلف ہے ۔کہ انکی زندگی کا طریقہ بہت ہی عام سا ہوتا ہے ،مشکل زندگی نہیں ہوتی‘‘۔ (ص ۲۲) مجذوب کے متعلق مسلک اہلحدیث کے مشہور ولی اللہ مولانا غلام رسول قلعویؒ فرماتے ہیں:۔
    ’’مجذوب بھی مقبول ہوتا ہے،مگر سالک کادرجہ نہیں رکھتا،کیونکہ سالک شرع کا مکلف ہوتا ہے،اور ہر وقت طالب رضا ہے۔مجذوب کو بجز استغراق اور جذب کچھ حاصل نہیں ہوتا،سالک کل درجات طے کر کے اعلیٰ درجہ حاصل کرتا ہے۔لیکن مجذوب جزئیات سے واقف نہیں ہوتا
    ( سوانحیات مولانا غلام رسول قلعویؒ ص۱۵۵)
    دہلی جانے سے پیشتر سید عبد اللہ غزنوی ؒ خواب بھی دیکھا تھا، جس میں حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ سے علم حدیث حاصل کرنے کی طرف اشارہ تھا۔اللہ کی شان دیکھے کہ وہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا ،اور کیسے کیسے رہنمائی فرماتا ہے۔کیو نکہ اسکا وعدہ ہے ۔یھدی الیہ مینیب ۔ تبرکاً وہ خواب بھی یہاں نقل کر دیتا ہوں ۔فرماتے ہیں:۔
    ’’ یعنی میں نے دیکھا کہ میں ایک سیڑھیوں والے مکان کے نیچے اترا ہوں اسکے صحن میں پہنچا ہوں تو ایک چراغ جل رہا تھا ۔اس وقتی بغل میں کتاب صیح بخاری تھی ۔چراغ کے سامنے بیٹھ کرمیں نے یہ کتاب کھولی تو دیکھتا ہوں کہ کتاب شروع سے آخر تک سیاہ ہو گئی
    ،اور اس پرقدر دھوئیں کی تہہ جمی ہوئی ہے کہ حرف نظر نہیں آتے ۔بالآخر میں نے رومال پکڑ ا اور صفحہ اوّل سے کتا ب صا ف کرنا شروع کی ،اور ایک ایک صفحہ صاف کرتا ہوا ،آخرکتاب کے قریب پہنچ گیا ۔کچھ اوراق ابھی باقی تھے ،بہت خراب تھے،ٹھنڈی آہ بھر کر میں نے کہاں ،اللہ اکبر۔ میں نے کتنی تکالیف برداشت کی ہے ۔ اس خواب میں مجھے اپنا چہرہ نظر آ رہا تھا،اور میں دیکھ رہا تھا کہ کتاب کی گرد میرے دانتوں پر نمودار ہو ئی ہے۔
    اس خواب کی تعبیر کے لئے میں حیران تھاکہ اچانک دہلی کا سفر پیش آیا،اور یہ وہ شہر تھا جو ہمارے شہروں کی نسبت بہت نشیب میں ہے۔وہاں خاتم المحد ثین شیخ سیّد نذیر حسین دہلویؒ کی خدمت میں حاضر ہوا،اور ان سے کتاب صیح بخاری پڑھنی شروع کی ،اسی اثناء میں دہلی ۱۸۵۷ ؁ء کا ہنگامہ شروع ہو گیا ،شدید ہنگامے کے دوران میں،جب کے ہر شخص کو اپنی جان کا خطرہ تھا،میں صیح بخاری پرھنے میں مشغول تھا۔
    پھر صورتحال یہ پیدا ہو گئی کہ اس ملک پر انگریز غالب آ گئے،اور باشند گان دہلی ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ان دنوں کتاب صیح بخاری ختم ہونے کے قریب تھی،مگر اہل شہر کے انتشار اور پراگندگی کی وجہ سے میرے اور سید نذیر حسین دہلویؒ کے درمیان بھی جدائی ہو گئی،اور کتاب پوری پڑھی نہ جا سکی۔میرے اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ ’’زیر خانہ‘‘ سے مراد شہر دہلی تھا۔’’چراغ روشن‘‘ سید نذیر حسین دہلویؒ تھے‘‘۔
    ان صوفیاء ثلاثہ ؒ نے دہلی کا سفر کیسے کیا ،اور سیدنذیر حسین دہلویؒ کی نظر میں ان حضرات کا کیا مقام اور رتبہ تھا،اسکا کچھ اندازہ اس واقعہ سے ہو تا ہے۔ان اصحاب ثلاثہ ؒ کا دہلی کا سفر مولانا محی الدین احمد قصوری ؒ اس طرح بیان فرماتے ہیں:۔
    ’’ شیخ عبد اللہ غزنوی ؒ کے روابط مولانا غلام رسولؒ قلعہ والوں اور حافظ محمد صاحب لکھوکی والوں کیساتھ بہت بڑھ گئے تھے،اور تینوں بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ حدیث کی سند حضرت میاں نذیر حسین دہلویؒ سے لی جائے،چنانچہ تینوں نے لکھ کر حضرت میاں صاحب سے اجازت مانگی۔اور اجازت ملنے پر فوراًروانہ ہو گئے۔اس وقت تک ابھی ریل جاری نہیں ہوئی تھی،لوگ گاڑیوں کے اڈہ پر پڑاؤ ہوتے ہوئے دہلی پہنچتے تھے۔جس وقت تینوں بزرگ دہلی گا ڑیوں کے اڈہ پر پہنچے،تو ایک بزرگ آدمی کو موجودپایا،جس نے ان سے پوچھ کر کہ کہاں کا مقصد ہے،انکا سباب اٹھا لیااور کہا میں آپ لوگوں کو وہاں پہنچا دوں گا۔وہ بزرگ ان تینوں بزرگوں کا سامان اٹھا کر میاں سید نذیر حسین دہلویؒ کی مسجد میں لے گیا،انکا اسباب وہاں رکھا،اور خود غائب ہو گیا۔یہ حیران کے اس مزدور نے پیسے بھی نہیں لئے،اور کہاں چلا گیا۔ جب کافی وقت گزر گیا،تو انہوں نے کسی صاحب سے دریافت کیا کہ میاں صاحب کہاں ہیں ،اور کب آئے گے،تو اسنے جواب دیا کہ یہ میاں صاحب ہی تھے،جو آپکا ساما ن لا ئے ہیں۔اب وہ غالباً گھر تمھارے کھانے کا کہنے گئے ہونگے۔یہ تینوں بزرگ دل ہی دل میں بڑے نادم ہوئے،چنانچہ جب حضرت میاں صاحبؒ واپس تشریف لائے،اور کھانا بھی لے آئے،تو انہوں نے بہت معذرت شروع کی،تو میاں صاحب نے فرمایا،آپ تحصیل حدیث کے لئے تشریف لائے ہیں،تو حدیث بجز اسکے کیا ہے کہ خدمت خلق۔پہلی حدیث کا پہلا سبق ہے‘‘۔
    حضرت سید عبد اللہ غزنویؒ نے نہ صرف خود بلکہ ٓپکی نسبی اولاد نے بھی میاں صاحب ؒ سے علم احادیث میں سند وا جازت حاصل کی ،خودسید عبد اللہ غزنویؒ کو اپنی زندگی میں اس بات کی بشارت مل گئی تھی،فرماتے ہیں:۔
    ’’میں نے خواب دیکھا ہمارے شیخ محترم سید نذیر حسین دہلویؒ کے دہن مبارک سے شریں شربت کا چشمہ جاری ہے،اور وہ شربت میرے دونوں ہاتھوں پر گر رہا ہے،اور میں اسے پی رہا ہوں ،جسکا مطلب یہ ہے کہ اس شربت کا چشمہ ہمارے شیخ کا دہن مبارک ہے۔میرے دونوں ہاتھ اسکے جاری ہونے کی جگہ اور اسکا مدخل میرا منہ ہے،میں اس خواب کی تعبیر میں حیران تھا۔کہ اتفاق سے میرا بیٹا عبد الجبار شیخ مذکورہ کی خدمت میں پہنچا،اور ان سے اس نے علم حدیث کی تحصیل کی۔تو گویا وہ چشمہ شریں علم حدیث ہے ،جو ان احباب سے جاری ہوااور میرے فرزندکا ان سے علم حدیث حاصل کرنا ،میرا اس چشمہ شریں سے شربت پینا ہے اسلئے میرا مذکورہ فرزند میرا ہی ایک حصہ ہے۔
    اور میری باقیات صالح سے ہو گا‘‘۔؂۱
    سید عبد اللہ غزنوی ؒ اور میاں سید نذیر حسینؒ کے درمیان تا حیات گہرے روابط رہے۔جب سید عبد اللہ غزنویؒ نے دارفانی سے کوچ فرمایا تو میاں صاحب کے تعزیتی خط کا تذکرہ الحیات بعد الممات میں یو ں ملتا ہے:۔
    ’’مولانا عبد اللہ قدس سرہ چونکہ متشرع صوفی تھی انکی تعزیت میں خط انکے بیٹوں کو لکھا وہ یہ ہے :۔
    از عاجز محمدسید نذیر حسین بامطالعہ گرامی مولوی عبد اللہ ،مولوی احمد ،مولوی عبد الجبار سلمہم ا للہ تعالیٰ با لخیر۔بعد ازا سلام علیکم و رحمۃ اللہ برکا تہ واضح باد کہ از خبر انتقال جامع خیر و برکات موجب تاسف و الم کمال روداد انا للہ وا نا الیہ راجعون۔اللھم اغفر لہ وا رحم وادخلہ جنت الفردوس دا عبد اللہ فنا فی اللٰہ شد از جناب باریش تسلیم باد
    چشمہ فی کرامت شان او رونق افزا چشمہ تکریم باد
    الرحم الراحمین آں صاحبان را بر جادہٗ شریعت بمیراث پدری فائز کناد وا یں عاجز و بدعا عافیت
    دارین شما بدر گاہ کبریا مستد عی می باشد قبول فرما یند زیادہ سلام خیر الختام‘‘؂۲
    مکتوب میں دئے گئے اشعار کے متعلق مولانا بہاری فرماتے ہیں:۔
    ’’یقینی طور پر یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ آپ شعر بھی کہتے تھے،مگر حضرت عبد اللہ غزنوی ؒ کی تعزیت پرجو خط انکے صاحبزادوں کے نام بھیجا تھا،اس میں غالباً یہ قلم برداشتہ تھا۔ ‘ ‘ ؂۳

    ؂۳سید عبد اللہ غزنوی ؒ اور سید نذیر حسین دہلوی ؒ کے درمیان بہت محبت وعقیدت تھی،اس لیے میں صاحب فرمایا کرتے تھے :۔

    ’’ہزاروں شا گردوں میں بس دو عبد اللہ ملے جو اپنی نظیر آپ تھے،ایک عبد اللہ غزنوی اور دوسرے عبد اللہ غازی پوری‘‘۔ ؂۴۱؂۔ (الحیات بعد الممات ص ۵۳۰ مزیدفقہائے ہند جلد دوم ص ۱۸۰)

    ۲؂۔ الحیات بعد لممات ص ۱۷۶۳؂۔الحیات بعد الممات ص۱۹۱) ؂۴؂۔

    قارہین !صوفیاء عظام پر ؒ اللہ کی کس قدر خصوصی رحمت ہوتی ہے۔ حضرت میاں صاحبؒ حافظ محمد لکھویؒ کی ذہانت اور قابلیت کے بے حد مداح تھے۔فرمایا کرتے تھے:۔
    میرے حلقہ درس میں ایک طالب علم حافط محمد پنجابی ہے،جو میرے منہ سے بات نکلنے سے پہلے ہی سمجھ جاتا ہے۔قوت حافظہ کا یہ عالم تھاکہ ایک مرتبہ جو کتاب دیکھ لیتے،اسکے حوالہ جات اور صفحوں کے صفحے عبارتیں زبانی یاد ہوجاتی۔اس بناء پر حضرت میاں صاحب ؒ ازراہ تفنن طبع آپکو مہتمہم کتب خانہ کے لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے۔‘‘ ۱۳۱۹ھ ؁میں مولانا حافظ عبد المنان محد ث وزیر ٓبادی ؒ حضرت مولانا شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلویؒ سے ملاقات کیلئے دہلی تشریف لے گئے۔حا فط عبد المنان صاحبؒ میاں صاحبؒ کے پاس السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے،اور میاں صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے پہچانا ہے،میاں صاحب ؒ نے فرمایا،ہاں پہچان لیا ہے،،تم عبد المنان وزیرآبادی ہو،اسکے بعد میاں صاحب نے حافظ عبد المنان ؒ سے فرمایا:۔
    ’’ عبد الجبار غزنویؒ ،حافط محمد لکھویؒ اورتم پنجاب میں توحید و سنت کی اشاعت کر کے میرے دل کو ٹھنڈک پہنچائی ہے،اور مجھے اللہ کی جانب سے امید ہو گئی ہے کہ وہ مجھے نجات دے گا‘‘’(ص)
    قارہین!سید نذیر حسین دہلویؒ جسی عظیم اقامت لوگوں کا ان صوفیاء کے کاموں سے خوش ہونا،اور اپنے لئے توشہ آخرت قرار دینا کوئی معمولی بات معمولی بات نہیں۔
    شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ اور بیعت و ارشاد:۔مولانا غلام رسول ؒ قلعوی اور سید عبد اللہؒ غزنوی علم حدیث میں شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ سے فیض یافتہ تھے۔حضرت سیدنذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی مبارک سوانح سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ آپ سے اقتباسِ علم کے بعد سید عبداللہ غزنویؒ سے بیعت ہوا کرتے تھے اس ضمن میں ایک واقعہ بھی ملتا ہے کہ :۔’’مولوی شاہ ممتاز الحق صاحب مرحوم صاحب جب حضرت مولانا عبداللہ صاحب غزنوی کے حضور میں بغرضِ بیعت و ارشاد حاضر ہوئے تو عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ تم دہلی جاکر وہاں رہو اور شرفِ صحبت شیخ سے مستفید ہوکر ان سے اجازت لیکر یہاں آؤ،چانچہ ایسا ہی ہوا،وہ دہلی آئے اور یہاں بہت دنوں تک رہئے،پھر جب میاں صاحب کے حظ کے ساتھ امر تسر پہنچے،تب عبداللہ صاحب نے ان سے بیعت لی اور مسترشدین میں اپنے داخل کیا‘‘( الحیات بعد الممات ص۱۳)مولانا فضل الدین بہاری ؒ جو کے شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی ؒ کے شاگر د رشید تھے ،اور ٓپ کے ساتھ سفر وحضر میں رہے ،آپ نے شیخ الکلؒ کی سوانح حیات ’’ الحیات بعد الممات ‘‘ میں بیعت اور اقسام بیعت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ، جو کہ کئی صفحات پر مشتمل ہے ،پھر بیعتِ تصوف سلوک کو مشروع ثابت کرکے حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی ؒ کے متعلق لکھتے ہیں’’ حضرات ناطرین جب آپ شریعت وطریقت کی حقیقت پڑھ چکے ہیں ،تو اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ ہمارے میاںصاحب کیسے بیعت لیتے تھے،سوائے بیعت خلافت ا وربیعت جہاد ،بیعت ثبات فی القتال ،بیعت ہجرت کے آپ باقی جملہ اقسام بیعت میں سے مناسب حال بیعت مریدوں سے لیتے تھے،مولوی ابومحمد حفاظت اللہ امرتسری آپکے سفر بنگالہ تشریف فرماہوئے تو ہم اورآپکے پوتے حافظ عبداللہ السلام اور حاجی محمد حسین صاحب ساکن میرٹھ آپکے ہمراہ تھے ۔جس راز آپ بمقام دیپ کنڈ رونق افراز تھےآپکی شہرت سن کر اس قدر لوگ جھک پڑے ،جنکی گنتی ناممکن تھی،سب کے سب نے ٓآپ سے شرف بیعت حاصل کیا۔ایک صاحب اپنی بیعت کی کفیت لکھتے ہیں کہ رحیم آباد میں بعد المغرب ہم میاں صاحب ؒ کے حضور بیعت کیلئے حاضر ہوئےاس وقت تین چار آدمی قریب بیٹھے ہوئے تھے،لیٹے،لیٹے اپنے دائیں ہاتھ سے میرے دائیں ہاتھ کو پکڑا ،سورہ احزاب کے پانچویں رکوع کو ان المسلمین والمسلمات سے اجراً عظیما۔تک تلاوت فرما کر انکے معنی اور مطالب بووضاحت تمام سمجھاتے رہے،اسکے بعد فرمایا اگر تم ان سب اعمال کے ہمیشہ عامل رہو گے تو میں تمھاری گواہی دوں گا ،ورنہ میں کہاں اور تم کہاں۔‘‘(الحیات بعدلممات س۴۶)سفر پنجاب میں لوگوں نے آپکے دست مبارک پر بیعت کی ،مداہنت سے آپکو سخت نفرت تھی،مریدوں اور طلبہ کو اکثر اسکی نصحیت کرتے ،کوئی شاگرد اگر اپنا ارادہ بیعت کا ظاہر کرتا تو فرماتے کہ ’’تم شاگرد ہی کافی ہو ‘‘اسکے بعد اگر اصرار کرتا تو ٓپ بیعت لے لیتے ،جس مجمع میںآپ کسی سے بیعت لیتے تقریباً جملہ حاضرین شریک بیعت ہو جاتے ( الحیات ص ۱۴۸)

    سیدنذیر حسین دہلویؒ کے استاتذہ ؒ کا تعلق تصوف:

    ۔سید نذیر حسین دہلویؒ نہ صرف خود صوفی تھے،بلکہ آپ کی تعلیم و تربیت بھی اپنے وقت کے عظیم صوفیاء کے ہاتھوں ہوئی۔حیات الشیخ السید میاں نذیر حسین دہلویؒ میں ملتا ہے کہ:۔آپ کے اولیں استادشاہ محمد حسینؒ بن شاہ محمدصغر ۱۲۰۳ ؁ ۹۸ ،۱۸۸۸ ؁ میں پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا شاہ کریم ؒ سے حاصل کی،اور ان سے بیعت بھی کی،بعد میں اپنے مرشد کی اجازت سید احمد ؒ کے ہاتھ پر بیعت کی،انکی شادی دیورہ(ضلع گیا) کے غلام مجتبی کی دختر د سے ہوئی،اس شادی کے ذریعہ وہ بھاگلپور کے مشہور و معروف بزرگ ملا شہباز کے خاندان سے بھی مربوط ہوگئے،وہ سید احمد کے اولین خلفا میں سے تھے۔دوسری آپکی مشہور درسگاہ شاہ محمد اسحاقؒ سے زانو تلمذ کرنا تھا۔حیات شاہ محمد اسحاق میں ہے کہ:۔شاہ محمد اسحاقؒ شاہ عبد العزیزؒ کے نواسے تھے،شاہ اسحاق نواسوں میں سب سے بڑے تھے،اسلئے وہ انہیں بہت چاہتے تھیاور بیٹے کی طرح سمجھتے تھے،اور انکی پروش اپنے گھر میں ہی کر رہے تھے اسلئے علوم ظاہری سے آراستہ کرنے کیساتھ ساتھ انکی تربیت باطن کا خصوصی اہتمام فرماتے ہونگے۔شاہ محمد اسحاق ؒ فطرتاًو حلفاً سعید وصالح تھے،ستھرا و مصفی دینی و اخلاقی ماحول ملا۔شاہ عبد لقادر ؒ اور شاہ عبد لعزیز ؒ جیسے یگانہ روزگارمربی ومزکی ملے،سوچا جا سکتا ہے کہ دینے والوں میں کیا کمی ہو گیاور لینے والے نے لینے میں کیا کوتاہی کی ہو گئی،دینے والوں کی دریا دلی بہت کچھ بلکہ سب کچھ دے کر بھی مطمئن نہیں ہوئی ہو گی،اور لینے والے کی جوع وطلب ہر جرعہ پر دوچند ہو جاتی ہو گی۔(حیات شاہ محمد اسحاق ص۲۴)ارواح ثلاثہ میں ہےشاہ نجم االدین کا بیان ہے ،کہ ایک بار میں قاضی صاحب کے ساتھ لاہور جا رہا تھا۔لاہوری گیٹ کے قریب ایک قبر آئی،جس پر آپ ٹھہر گئے اور کہا ،دیکھو شاہ جی! اس مرد صالح کی قبر سے کوشبو آرہی ہے۔شاہ جی کا بیان ہے کہ میں جو آگے بڑھا سچ مچ مجھے بھی نہایت خوشگوار خوشبو آئی ،اسکے بعد بارہا اکیلا وہاں سے گزرا مگر پھر کبھی ویسی خوشبو نہ آئی (یہ محض انکی صحبت اور روحانیت کا اثر تھا) شاہ جی کہتے ہیں کہ میں نے مرد صالح کا نام پوچھا،تو آپ نے فرمایا اس کانام زرداد خان پٹھان بتایا گیا ہے،جو عرصہ دراز سے یہاں مدفون ہے۔حضرت قاضی صاحب ؒ جب کبھی لاہور تشریف لاتے،تو مال روڈ پر حیات برادرز کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے،میاں فضل کریم بن حاجی حیات محمد مالک فرم کا بیان ہے کہ جس مکان پر آپ ٹھہرا کرتے تھے ،اسکے قریب ہی ایک خانقاہ تھی،جو اضڑی ہوئی تھی ،ایک دن آپ نے مجھ سے پوچھا،کہ یہاں کوئی قبر ہے ،میں نے عرض کیا جی ہاں ۔آپ نے فرمایا آج رات (خواب میں ) ہمیں بزرگ ملے۔قاضی صاحب نے فرمایا،وہ بہت نیک صالح آدمی تھے،فلاں جگہ کے رہنے والے تھے،ادھر سے گذر رہے تھے کہ انتقال ہو گیا،میاں فضل کریم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد جب تحقیق کی گئی تو وہ باتیں ویسی ثابت ہوئیں،جو قاضی صاحب نے بیان فرمائی تھیں ،یہاں تک کہ ان کا نام اور پتہ قاضی صاحب نے بتایا تھا۔(کرامات اہلحدیث ص۸۵)سیدنذیر حسین دہلویؒ کے استاتذہ ؒ کا تعلق تصوف:۔سید نذیر حسین دہلویؒ نہ صرف خود صوفی تھے،بلکہ آپ کی تعلیم و تربیت بھی اپنے وقت کے عظیم صوفیاء کے ہاتھوں ہوئی۔حیات الشیخ السید میاں نذیر حسین دہلویؒ میں ملتا ہے کہ:۔آپ کے اولیں استادشاہ محمد حسینؒ بن شاہ محمدصغر ۱۲۰۳ ؁ ۹۸ ،۱۸۸۸میں پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا شاہ کریم ؒ سے حاصل کی،اور ان سے بیعت بھی کی،بعد میں اپنے مرشد کی اجازت سید احمد ؒ کے ہاتھ پر بیعت کی،انکی شادی دیورہ(ضلع گیا) کے غلام مجتبی کی دختر د سے ہوئی،اس شادی کے ذریعہ وہ بھاگلپور کے مشہور و معروف بزرگ ملا شہباز کے خاندان سے بھی مربوط ہوگئے،وہ سید احمد کے اولین خلفا میں سے تھے۔دوسری آپکی مشہور درسگاہ شاہ محمد اسحاقؒ سے زانو تلمذ کرنا تھا۔حیات شاہ محمد اسحاق میں ہے کہ:۔شاہ محمد اسحاقؒ شاہ عبد العزیزؒ کے نواسے تھے،شاہ اسحاق نواسوں میں سب سے بڑے تھے،اسلئے وہ انہیں بہت چاہتے تھیاور بیٹے کی طرح سمجھتے تھے،اور انکی پروش اپنے گھر میں ہی کر رہے تھے اسلئے علوم ظاہری سے آراستہ کرنے کیساتھ ساتھ انکی تربیت باطن کا خصوصی اہتمام فرماتے ہونگے۔شاہ محمد اسحاق ؒ فطرتاًو حلفاً سعید وصالح تھے،ستھرا و مصفی دینی و اخلاقی ماحول ملا۔شاہ عبد لقادر ؒ اور شاہ عبد لعزیز ؒ جیسے یگانہ روزگارمربی ومزکی ملے،سوچا جا سکتا ہے کہ دینے والوں میں کیا کمی ہو گیاور لینے والے نے لینے میں کیا کوتاہی کی ہو گئی،دینے والوں کی دریا دلی بہت کچھ بلکہ سب کچھ دے کر بھی مطمئن نہیں ہوئی ہو گی،اور لینے والے کی جوع وطلب ہر جرعہ پر دوچند ہو جاتی ہو گی۔(حیات شاہ محمد اسحاق ص۲۴)ارواح ثلاثہ میں ہےشاہ عبد لعزیزؒ نے شاہ عبد لقادرؒ سے فرمایا کہ میاں عبد لقادرؒ ! اسحاق کی طرف توجہ کرنا،اسکا جواب شاہ عبد لقادر ؒ نے یہ دیا کہ حضرت !اسحاق کو ضرورت نہیں ،وہ بلا ذکر و شغل بوجہ اپنی ریاضت ہی کے ان لوگوں سے بڑا ہو اہے جو باقاعدہ سلوک طے کرتے ہیں ،غرض شاہ صاحبؒ نے چند مرتبہ فرمایا،مگر شای عبد لقادرؒ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا۔مقالات طریقت میں عبد الرحیم ضیاء کا بیان ہے کہ شاہ محمد اسحاق ؒ شاہ عبد لعزیزؒ سے طریقہ قادریہ میں بعیت تھے۔قارہین !ان مختصر سے اقتباسات سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سید نذیر حسین دہلوی ؒ کی تعلیم و تربیت میں تصوف و احسان سے کیا تعلق ہو گا۔


    ********************************************************************
  7. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    علامات محبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
    محمدضیاءالرحمن ۔شاہدرہ لاہور
    دعویٰ محبت کا ہونا تو ایک عمومی بات ہے۔لیکن یاد رہے علامات محبت کا پایا جانابھی از حد ضروری ہے۔اس لئے ان علامات کو ذکر گیا گیا ہےان کو دیکہ کر اپنے آپ کو بھی محبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی اور حقیقی صورت میں ڈھال لیجئے۔یہ ایک آئینہ ہے اس میں دیکہ کر اپنی شخصیت کو سنوار لیجئے۔یا یوں کہ لیجئے ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علامت اور نشانی ہوتی ہے،جس سے وہ پہچانی جاتی ہے۔محبت نبویﷺ کی بھی کچھ علامات ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہےکہ فلاں محبت میں دعویٰ کرنے والے میں واقعی محبت ہے یا نہیں؟تو آیئے ہم ان علامات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں ،اور اِنہیں اپنی ذات میں جذب کرنے کا عہد بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے۔
    پہلی علامت:۔محبت کی پہلی علامت یہ ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائےبلکہ خدا کی محبت کی علامت یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    قُل اِن کُنتُم تُحِبُونَ اللہ فَاتَبِعُونِی یُحبِبکُمُ اللہُ(آل عمران)
    ’’کہ دیجئے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت استوار کرنا چاہتے ہومیری(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع کرو تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
    مکمل دین تم ہو گیا اے رہبر کامل
    قیامت تک تیری سنت پر چلنا عین ایمان ہے۔
    دوسری علامت:۔محبت کی دوسری علامت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کثرت سے کیا جائے۔کیونکہ اصولی طور پر کہ دیا گیا ہے۔ ’’ مَن اَحَبَّ شَیئاً اَکثَرَ ذِکرَ ہُ ‘‘ جو کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے اسکا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔ زندگی کے ہر مسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کا بار بار دہراجائے۔
    اس دورِ سکوں سوز میں تسکیں نہ ملے گی
    کیفِ دل و جاں ذکرِ پیغمبر سے ملے گا۔
    محبت کی تیسری علامت: ۔محبت کی تیسری علامت یہ ہے کہ آپﷺ کے لائے ہوئے دین کے ساتھ اتنی محبت ہو کہ اس کے لئے سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہے قرآن و سُنت کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ہر تکلیف خوشی خوشی برداشت کرے۔ جیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ہر تکیلف کو خوشی خوشی قبول کیا۔
    نبی خاتم پہ جو سوجان سے قربان ہوتے ہیں
    خدا شاھد ہے وہی کامل ایماں ہوتے ہیں
    محبت کی چوتھی علامت:۔ محبت کی چھوتھی علامت یہ ہے کہ آپﷺ کی عظمت و حرمت کا ہر حال میں احساس رہے۔ آپﷺ کا ذکر آئے تو درود شریف پڑھے۔ آپﷺ کا نام لے تو تعظیم سے لے۔
    کب اس دل بے تاب سے ہے استنی توقع
    لے نام کوئی تیرا تو یہ آنکھ نہ چھلکے۔
    ؐبحت کی پانچویں علامت:۔ محبت کی پانچویں علامت یہ ہے کہ آپﷺ کی اور آپﷺ کے روضہ مبارک کی زیارت کا بے حد شوق ہو۔ ظاہر ہے کہ ایک محبت کی سب سے بڑی آرزو یہی ہوتی ہے کہ مجھے محبوب کا وصال اور ملاقات نصیب ہو۔
    ہمیں اس لئے ہے تمنائے جنت
    کہ جنت میں اُن کا نظارہ کرینگے۔

    سوہنیاں نالو سوہنا چہرہ حضور(ﷺ) دا
    مولا وکھا وے سانوں روضہ حضور(ﷺ) دا

    محبت کی چھٹی علامت:۔محبت کی چھٹی علامت یہ ہے کہ ہر اُس چیز سے محبت ہو جس کا تعلق اور جسکی مناسبت حضورﷺ کی طرف ہو ۔آپﷺ کے خاندان سے محبت ہو۔ ازواج مطہرات سے (بحثیت امہات المؤمنین) محبت ہو ۔ آپﷺ کے صحابہ سے محبت ہو۔ آپ ﷺ کے شہر اور اُس کے گلی کوچوں سے محبت ہو۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ’’ عرب سے دین وجوہ سے محبت رکھو۔ ایک تو اس لیے کہ میں عربی ہوں ۔دوسرا یہ کہ قرآن عربی میں ہے۔ تیسرا اس لیئے کہ جنت کی زبان عربی ہوگی۔ ‘‘
    ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    ’’ جس نے اہل عرب کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا۔اور اُس کو میری محبت اور دوستی حاصل نہیں ہوگی۔ ‘‘
    تیرے کوچے میں آنے والوں سے
    روز و شب رسم وراہ کرتا ہوں!
    محبت کی ساتویں علامت:۔محبت کی ساتویں علامت یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے وارث علماء سے محبت ہو۔ اور اولیاء ، اتقیاء ، اصغیاء سے محبت ہو۔
    محبت کی آٹھویں علامت:۔ محبت کی آٹھویں علامت یہ ہے کہ آپﷺ کے دیدار اور زیارت کا شیدائی ہو ۔اس لیے کہ ہر حبیب اپنی محبوب کی زیارت اور ملاقات کا شیدائی ہوتا ہے۔ اور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتو آپﷺ کی تعظیم اور توقیر میں سر جھکا دیا جائے۔اورآپﷺ کا نام مبارک سنتے ہی انکساری کے آثار نمایاں ہو جائیں۔اور آپ ﷺ کے جلال و عظمت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ اسحاق تحبیبی سے نقل کرتے ہیں کہ اصحاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،آپﷺ کی وفات کے بعد جب کبھی آپﷺ کا ذکر کرتے تھے تو اُن پر عاجزی و انکساری طاری ہوجاتی تھی ۔اور اُن کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔اور آپﷺ کی جدائی میں رونے لگتے تھے۔ اور یہی حالت اکثر تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ کی بھی تھی۔واللہ اعلم بالصواب(ندائے منبرومحراب جلد اول از حضرت مولانا اسلم شیخوپوری ؒ)
    محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے جو مولانا قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے عمل کر کے بتلائی ۔
    جب علماء اکرام کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو آپؒ کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے ۔خُدام اور متوسلین کے بہت زیادہ اصرار پر آپؒ ایک مکان میں روپوش ہوگئے ۔اور تین دن کے بعد عام لوگوں کی طرح گھومنے پھرنے لگے۔ لوگوں نے روپوشی کے لیے اصرار کیا تو آپؒ نے انکار کریا اور فرمایا:
    ’’ تین دن سے زیادہ روپوش ہونا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ ‘‘
    اور ساتھ ہی ساتھ عشق حبیب اور اتباع رسول اللہﷺ کی بات کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ اور فرمایا:
    ’’ جناب نبی کریم ﷺ ہجرت کے وقت غارِ ثُور میں تین دن روپوش رہے تھے۔ ‘‘ ( سوانح قاسمی جلد۲صفحہ نمبر: ۱۷۳)
    اللہ اکبر! اُلفت و اتباع کا کیا لازوال نمونہ پیش کیا عزت بچانے اور جان بچانے کے لیے سنت کا یاد آجانا اور بات ہے۔عزت قربان کردینے اور جان لُٹانے کے لیے سُنت کا اپنانا دل والوں کا کام ہے،ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔
    اپنے خدا سے مانگو محمد(ﷺ) سے انتساب
    ان کے حضور عشق کے دیپک جلائے جا
    ناموسِ مصطفیٰ(ﷺ) کا تقاضا یہی ہے ان دنوں
    مہر وفا کے نام گردنیں کٹائے جا۔
    آئیے ہم ایک لمحہ کے لئے غور کریں کہ ہمارے اندر یہ علامات پائی جاتی ہیں یا نہیں
    Last edited: ‏مئی 18, 2014
  8. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    انمول موتی
    محمدالرحمن معاویہ۔ لاہور
    ٭دوسروں کے چراغ سے روشنی حاصل کرنے والے خود ہمیشہ اندھیرے میں رہتے ہیں۔
    ٭بد صورت چہرہ بہتر ہے بد صورت دل اور بدصورت دماغ سے۔
    ٭اعتماد ایک شیشہ جو ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں بنتا۔
    ٭اخلاق وہ چیز ہے جس سے بدی کا اندھیرا غائب ہوتا ہے۔
    ٭دلوں میں اُتر نے کے لیے سیڑھیوں کی ضرورت نہیں، بلکہ اچھے اخلاق کی ضررورت ہوتی ہے۔
    ٭جو کام خود کرسکتے ہو اسے دوسروں پر مت چھوڑو۔
    ٭اچھے خیالات کسی دولت سے کم نہیں ہوتے۔
    ٭سُست آدمی کو کبھی فرصت نہیں ملتی۔
    ٭دعوت قبول کرنے میں امیر غریب کا فرق مت کرو۔
    ٭غلط بات پر اڑے رہنا کم ظرفی ہے۔
    ٭بُرا کہنا بُرا ہے،مگر بُرا چاہنا اس سے بھی بُرا ہے۔
    ٭خاموش آدمی پہاڑ کی چوٹی کی طرح بارعب ہوتا ہے۔
    ٭غصہ ہمیشہ بیوقوفی سے شروع ہوتا ہے،اور شرمندگی پر ختم ہوتا ہے۔
    ٭وہ علم بے کار ہے جو انسان کو کام کرنا تو سکھادےلیکن دنیا میں زندگی گزارنا نہ سکھائے۔
    ٭اتنا نرم نہ بن کہ نچوڑ لیا جائے،اور اتنا خشک نہ بن کہ توڑ لیا جائے۔
    ٭ہر اچھا کام پہلے نا ممکن ہوتا ہے۔
    ٭طنز و بحث سے رشتے کم زور ہو جاتے ہیں۔
    ٭نیکی کا ارادہ بدی کی خواہش کو ڈُباتا ہے۔
    ٭کبھی بھی ایسی لڑائی نہ کرناکہ لڑائی تو جیت جاؤ،مگر اپنوں کو ہار جاؤ۔
    ٭جو شخص انتقام کے طریقوں پر غور کرتا رہتا ہے،اس کے زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں۔
    ٭کسی نسبت سے برا خیال دل میں مت لاؤ،یاد رکھو اس کا عکس دل میں ضرور پڑے گا۔
    ٭دن کی روشنی میں رزق تلاش کرو،اور رات کو اُسے تلاش کرو جو رزق دیتا ہے۔
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 24, 2014
  9. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    حرف وحکایات
    محمد یو شع شیرازی

    بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کی حفاظت
    رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی دوسرا گنجا تیسرا اندھا، اللہ نےان کو آزمانا چاہا اور ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، فرشتہ پہلے کوڑھی کے آیااور پوچھا تجھے کیا چیز پیاری ہے اس نے کہا اچھی رنگت اور خوبصورت
    کھال مل جائے اور یہ مصیبت جاتی رہے جس سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں،اس فرشتہ نے اپناہاتھ کوڑھی کے بدن پر پھیر دیا اسی وقت وہ بھلا چنگا ہو گیا اور کھال اور خوبصورت رنگت نکل آئی، پھر فرشتہ نے پوچھا تجھکو کونسا سامان زیادہ پسند ہے اس نے کہا اونٹ، پس ایک گابھن اوٹنی بھی اسکو دیدی اور کہا اللہ تعالیٰ اسمیں برکت دے۔
    پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا تجھ کو کونسی چیز پیاری ہے گنجے نے کہا میرے بال اچھے نکل آئیں اور یہ بلا مجھ سے دور ہو جائے جس سے لوگ گھن کرتے ہیں فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا تو فوراً اچھے بال نکل آئے فرشتہ نے پوچھا تجکو کونسا مال پسند ہے اس نے کہا گائے،پس اسکو ایک گابھن گائے دیدی اور کہااللہ اسمیں برکت دے۔
    پھر فرشتہ اندھے کے پاس پیا اور پوچھا تجھکو کیا چیز محبوب ہے اندھے نے کہااللہ تعالیٰ مجھکو بینائی دیدے جس سے میں سب آدمیوں کو دیکھوں ، فرشتے نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اندھے کو بینائی عطا کردی، پھر فرشتےنے پوچھا تجھکو کونسامال پیارا ہے اندھے نے کہا بکری فرشتہ نے اسکو ایک گابھن بکری دیدی تینوں کے جانوروں نے بچے دیئے ، چند ہی دنوں میں اونٹوں گایوں اور بکریوں سے جنگل بھر گیا۔
    پھر وہ فرشتہ خدا کے حکم سے اسی پہلی صورت میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا میں ایک مسکین آدمی ہوں میرےسفر کا سب سامان ختم ہو گیا آج میرے پہونچنے کا سوائے خدا اور آپ کے کوئی وسیلہ نہیں ہے، میں اس اللہ کے نام پر جس نے تجھے اچھی رنگت اور
    عمدہ کھال عنایت فرمائی تجھ سے ایک اونٹ مانگتا ہوں کہ اس پر سوار ہوکر اپنے گھر پہونچ جاؤں اس نے کہاں یہاں سے دور ہوجا مجھے اور بہت حقوق ادا کرنے ہیں( تجھکو دینے کی گنجایش نہیں ہے)

    فرشتہ نے کہا شاید تجھکو تو میں پہچانتا ہوں کیا تو کوڑھی نہیں تھا کہ لوگ تجھ سے گھن کرتے تھے اور کیا تو مفلس نہ تھا پھر تجھکو خدا نے اس قدر مال عنایت فرمایا، کوڑھی نے کہا واہ کیا خوب یہ مال تو میری کئی پشتوں سے باپ دادا کے وقت سے چلا آیا ہے، فرشتہ نے کہا ، کہا اگر تو جھوٹاہے تو خدا تجھکو ویسا ہی کردے جیساپہلے تھا ۔پھر فرشتہ گنجے کے پاس اسی پہلی صورت میں آیا اور اسی طرح سے بھی سوال کیا اور اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا فرشتہ نے کہا اگر توچھوٹا ہو تو خدا تجھ کو ویسا ہی کردے جیسا پہلے تھا۔
    پھر فرشتہ اندھے کے پاس اسی پہلی صورت میں آیا اور کہا میں مسافر ہوں بے سروسامان ہوں آج بجز خدا اور آپکے میرے لئے کوئی وسیلہ نہیں ہے اسکے نام پر جس نے تجھکو بینائی بخشی تجھ سے ایک بکری مانگتا ہو جس سے اپنے سفر کی ضرورت پوری کروں،اس نے کہا بے شک میں اندھا تھا خدا وند تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے مجھ کو بینائی عطا فرمائی، جتنا تیرا جی چاہے لے جا اور جتنا چاہے چھوڑ جا، قسم بخدا ! آج میں تجھکو کسی چیز سے منع نہیں کرتا فرشتہ نے کہا تو اپنا مال اپنے پاس رکھ لے مجھکو کچھ نہیں چاہیئے، صرف تم تینوں کی آزمایش مقصور تھی وہ ہو چکی خدا تجھ سے راضی ہوا اور ان دونوں سے ناراض ہوا۔

    (ماخوذ از مشکوٰۃ شریف ص۱۶۶)
    فائدہ یہ واقعہ نا شکرے انسان کیلئے عبرت کا تازیانہ ہے ہ آدمی ہمیشہ اپنی پچھلی زندگی یاد رکھ کر خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہےجیسا کہ اندھا شخص خدا کا شکر گذاربنا جسکی وجہ سے
    اسکی نعمت بھی بحال رہی اور خدا کی خوشنودی بھی اسکو حاصل ہوئی، بر خلاف کوڑھی اور گنجے کے ان کو اپنی نا شکری کی وجہ سے اپنی پہلی ہی حالت پر لوٹنا پڑا اور نعمتیں چھن گئیں اور خدا تعالیٰ کی نا راضگی کے مستحق ہوئے۔

    پانچ چیزوں کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں:
    جلیل القدر امام حضرت امام مالک ؒکو مدینہ منورہ سےانتہائی محبت تھی یہ درحقیقت محبت نبویؐ تھی مدینہ کا ایک ایک ذرہ ان کو عزیز تھا اور چاہتے یہ تھے کہ کسی طرح سے میں مدینہ کی زمین میں وفن ہو جاؤں اس مبارک شوق کی وجہ سے حج بھی نہیں کرتے تھے کہ کہیں مدینہ کے باہر میراانتقال نہ ہوجائےایک دن خواب میں دیکھا کہ جناب نبی کریم ﷺ کا دربار ہے اور امام مالک درباراقدس میں حاضر ہیں تو بڑے ہی درد سے عرض کیا یا رسول اللہ میرا جی چاہتا تھا کہ مدینہ کی زمین مجھے قبول کرلے۔ اسی لئے میں ڈر کے مارے نفلی حج بھی نہیں ادا کرتا کہ مدینہ سے باہر جاکر کہیں انتقال نہ ہو جائے اور وہیں دفن کردیا جاؤں تو مجھے بتلایا جائے کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟
    تو رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اٹھاکر پانچ انگلیوں کا اشارہ کیا اور امام مالک کی آنکھ کھل
    گئی تو پریشان ہو گئے کہ پانچ انگلیوں سے کیا مراد ہے پانچ مہینے یا پانچ برس یا پانچ ہفتے مراد ہیں یا پانچ دن ؟ اسلئے ایک آدمی کو امام مالک نے تعبیر بتانے والے) علامہ ابن سیرینؒ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ اس خواب کی تعبیر معلوم کرکے آنا مگر میرا نام نہ لینا یوں کہنا کہ ایک مسلمان نے یہ خواب دیکھا ہے ، یہ خادم ابن سرینؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ایک نیک مسلمان نے یہ خواب دیکھا ہے کہ حضور ؐ سے اس نے پوچھا کہ میری عمرکتنی باقی رہ گئی ہے ؟ تو آپؐ نے پانچ انگلیاں سامنے کر دیں چنانچہ اس خواب دیکھنے والے نے تعبیر پوچھی ہے ۔
    امام سیرینؒ نے فرمایا یہ خواب بڑا عالم ہی دیکھ سکتا ہے جاہل تو جاہل معمولی علم کا آدمی نہیں دیکھ سکتا یہ خواب کسی بڑے عالم کا خواب ہے اور مدینہ میں امام مالکؒ سے بڑا کوئی عالم نہیں تو امام مالک نے تو یہ خواب نہیں دیکھا ؟ اب یہ خادم چپ ہوگیا ، ابن سیرین نے فرمایا کہ جاؤ ان سے اجازت لے کر آؤ نام بتلاؤگے تو تعبیر بتلاؤگا خادم واپس آگیا امام مالک کے پاس اور عرض کیا کہ حضرت وہ تو پہچان گئے کہ خواب دیکھنے والے آپ ہیں اس واسطے نام ظاہر کرنیکی اجازت دیدیجئے امام مالک نے فرمایا اچھا میرا نام ذکر کردو خادم ابن سیریںؒ کے پاس آیا اور کہا یہ خواب امام مالکؒ نے دیکھا ہے تو علامہ ابن سیرین نے فرمایا جاکے امام مالک کو تعبیر بتلادو کہ تم نے اپنی عمر پوچھی تھی تو حضور ﷺ نے پانچ انگلیاں دکھلادیں ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اس سے پانچ برس مراد ہیں نہ پانچ مہینے نہ پانچ ہفتے ، بلکہ اشارہ ہے ایک حدیث کی طرف ہے(پانچ چیزوں کا علم اللہ کے سوا کس کو نہیں)
    تمہارا اپنی موت کے سلسلے میں سوال کرنا ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہے، اور اس آیت کی طرف اشارہ ہے علم الساعۃؔ وینزل الغیث ؔ ویعلم ما فی الارحام ؔ ی وما تدری ماذا تکسب غداؔ وما تدری نفس بای ارض تموتؔ
    ترجمہ اللہ ہی کے پاسہے قیامت کا علم کہ کب آئیگی اور بارش کب برسے گی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ماں کے پیٹ میں لڑکا ہےیا لڑکی ۔ انسان کل کیا کمائے گا اللہ ہی جانتا ہے ۔ کسی شخص کو پتہ نہیں ہے کہ کل کس زمین میں وہ دفن کیا جائیگا۔
    ( ماخوذ از خطبات حکیم الاسلام ج۱ ص ۸۸)
    فائدہ:رسول اللہ ﷺ نے حضرت امام مالکؒ کو اشارہ فرمایا کہ تم مدینہ منورہ میں دفن ہو نیکی خواہش میں اپنی موت کے بارے میں پوچھ رہے ہو ، درحقیقت یہ وہ چیز ہے جس کا علم سوائے خدا کے اور کسی کو نہیں ۔
    Last edited: ‏اپریل 24, 2014
  10. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,656
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    براہ کرم ا فکار پبلش کرنے سے پہلے نظر ثانی کیلئےارسال فرمائیں۔
  11. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جی ان شاء اللہ۔
  12. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    باپ
    ۱۔باپ کا احترام کرو۔ تاکہ تُمہاری اولاد تُمہارا احترام کرے۔
    ۲۔باپ کی عزت کرو۔ تاکہ اُس سے فیضیاب ہو سکو۔
    ۳۔باپ کا حکم مانو۔ تاکہ خوشحال رہ سکو۔
    ۴۔باپ کی سختی برداشت کرو۔ تاکہ باکمال ہوسکو۔
    ۵۔باپ کی باتیں غُور سے سُنو۔ تاکہ کسی اور کی نہ سُننا پڑے۔
    ۶۔باپ کی سامنے اُونچا مت بولو۔ورنہ خدا تم کو نیچا کردے گا۔
    ۷۔باپ ایک ذمہ دار ڈرائیور ہے۔ جو گھر کی گاڑی اپنے خون پسینے سے چلاتا ہے۔
    ۸۔باپ ایک مقدس محافظ ہے۔ جو ساری زندگی اپنے خاندان کی نگرانی کرتا ہے۔
    ۹۔باپ کے آنسو تُمہاری وجہ سے نہ گِرے۔ورنہ اللہ رب العزت تم کو جنت سے گِرادے گا۔
    ۱۰۔باپ کو راضی رکھو۔ تاکہ رب العلمین تم سے راضی ہو۔
    ۱۱۔باپ کی ناراضگی سے بچو۔ورنہ اللہ تُم سے ناراض ہو جائے گا۔
    ۱۲۔والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھو۔ خداتُمہیں مقبول حج و عمرہ کا ثواب عطا کردے گا۔
  13. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اسلامی تہذیب :کل اورآج
    مفتی ناصرالدین مظاہری
    روئے زمین پر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں ملکی اورقومی وطنیت ،ذات اوربرادری کی عصبیت ، رنگ ونسل کے فرق وامتیازکویہ کہہ کرختم فرمادیاکہ کسی عربی کو عجمی پر ،عجمی کو عربی پر گورے کو کالے پر اورکالے کوگورے پرکوئی فضیلت نہیں ہے ۔
    اسلام کے اس نظریہ کی تاثیروقوت ،زوداثرودیرپاعظمت کے باعث دنیا کی کایا پلٹ ہوگئی وہ مذاہب جہاںچھوت چھات ،ذات پات ،رنگ ونسل، برادرانہ امتیازات کی متعصبانہ خلیج حائل تھی انہوں نے جب اسلام کی اس وسعت نظری کو دیکھا تو متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے اوراسلام اپنی مکمل تاثیر وتوقیر کے ساتھ دیگرادیان ومذاہب اوران کی تہذیب ومعاشرت میں داخل ہوتا چلاگیا۔
    یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اگر مسلمان اپنے آپ کواسلامی قالب میںڈھال لے ،پکا سچا مسلمان ہوجائے ، اسلامی احکامات کی تعمیل کرنے لگے تو اس کودیکھ کرباطل فکروعقیدہ رکھنے والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔
    اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات کی کبھی کمی نہیں رہی،جہاں اسلام کی خوبیوںاورخصوصیتوںکو دیکھ کر اوران سے متاثرہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں اورتہذیب ومعاشرت پرنازکرنے والایورپ بھی آج ہمارے سامنے ہے جہاں اسلام کے خلاف ہر طرح کے منصوبے وضع ہوتے ہیں لیکن قبول اسلام کے سب سے زیادہ واقعات بھی الحمد للہ وہیں رونماہورہے ہیں ۔
    ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوںکے پاس غیر مسلم لوگ اپنے اپنے معاملات لے کرآتے تھے ،مسلمانوںسے فیصلہ کراتے تھے ،مسلمان کا قول فیصل سمجھاجاتا تھا ،اس کی قدر ومنزلت کی جاتی تھی جس علاقے اورجس گلی سے مسلمان کا گزرہوتا تھا توغیرمسلم احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے لیکن ……آج ہماری وہ حیثیت کیوں ختم ہوگئی ہماری افرادی واجتماعی قوت کو زنگ کیوں لگ گیا ،ہماری زبان ،ہماری معاشرت ،ہمارافکر وعمل اب دوسروں کو کیوں متاثرنہیں کر پاتا ہے ، ظاہر ہے اب ہمارا کوئی فکرنہیں ہے ،اجتماعی پلیٹ فارم نہیں ہے ،اپنا مضبوط یونیفارم ہمارے ہی ہاتھوںٹوٹ چکا ہے ،پرامن قیادت اورسیادت کا رشتہ ہم سے ٹوٹ چکا ہے ،نتیجہ ظاہر ہے ہم سمندری جھاگ کے مانند بے حیثیت ہوگئے ۔
    ماضی میں جس قدرہماری عزت اورقدر ومنزلت تھی ،حال میں اس سے کہیںزیادہ ہماری اہانت اور بے عزتی ہو اورمستقبل میں بھی اسلامی تہذیب ومعاشرت کے احیاء اورارتقاء کی راہیںمسدودنظر آتی ہیں ۔
    اس وقت حکومت وسلطنت سے لیکر مزدوری اورقلی گیری تک ہر پیشہ پر ہندوانہ راج ہے کیونکہ ان کے سروں پرغیرمسلم تاج ہے ،نوکری کے حصول میںغیر مسلم کو فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کے رہنمااورملکی سرپرست غیرمسلم ہیں،لیکن مسلمان پھربھی حالات سے سمجھوتہ کئے ہوئے ہے ،ہواؤں کے دوش پر اڑا چلا جارہا ہے ،تنکے کی طرح موجوںکے رحم وکرم پر ہے ،سمندری جھاگ کے مانندتیررہا ہے یعنی مخالف حالات سے ٹکرانے اورہواؤںکے رخ کو پھیرنے کی طاقت ’’مسلم ‘‘اپنے اندر نہیں پاتا ۔
    اسلام کی تعلیمات ،صفات وخصوصیات جو ہمارا شعار تھیں جن کی خوبیوںسے اغیارقومیںمرعوب ومتاثر ہوتی تھیں لیکن آج رفتہ رفتہ اسلام کی بہترین تعلیمات اوراخلاق وعادات ہم سے دور ہوگئیں،غیروں نے ان کو اختیارکرکے ہمارا منہ چڑایا۔
    ہماری مشکلات اوربد تر زندگی کی ذمہ دار حکومت نہیں،وزراء ورؤساء نہیں ،ساہوکاراوربنیا نہیں بلکہ ہم خودخاطی اورقصوروار ہیں۔
    مولانااحمد سعید دہلوی ؒ نے ایک موقع پر فرمایاتھا کہ
    ’’کفرنے خوان اسلام کی خوشہ چینی کی اورہم سے بعض دوائرمیں آگے نکل گیا،ہم نے حضورﷺ کا دین چھوڑااورعجمی خرافات میں کھوگئے پھرہم پہ کیا بیتی کہ ہم اسی ساڑھ ستی کا شکار ہوگئے جوایک قینچی کی طرح ہمارے بال وپرکاٹ چکی ہے ،کبھی ہماری پروازکے لئے بہت سے افق تھے ،اب ہم اپنے ہی افق میں پروازکرنے سے قاصرہیں‘‘۔
    بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کیاجائے کہ غیرمسلموںنے ہماری معاشرت کی خوبیوںکو کیوںاپنالیا؟اس پہلو پر بھی سوچاجائے کہ ہم نے اپنی قدیم تہذیب ومعاشرت سے کنارہ کشی کیوںاختیارکرلی؟
    غیرمسلم حضرات گرمیوںمیں عام گزرگاہوں،چوراہوںاورپبلک مقامات پرشربت ،پانی اورمشروبات کا مفت انتظام کرتے ہیں جب کہ یہ کام خود مسلمانوں کو کرنا چاہیے تھا،غیرمسلم سردیوںمیںجگہ جگہ ہاتھ سینکنے کیلئے الاؤ لگاتے ہیںاورہماری غیرت یہاں تک مردہ ہوگئی کہ اپنے پاس پڑوس والوںکوبھی اپنے الاؤپر نہیں آنے دیتے ، غیر مسلم جب بھی دوکان کھولتا ہے تو سب سے پہلے ہندوانہ عبادت کرتا ہے ،پوجا پاٹ کرتا ہے ، مورتیوںکے سامنے ہاتھ جوڑکران سے فریاد کرتا ہے ۔مذہبی گیت اورکیرتن سے اپنے دیوتاؤںکو خوش کرتا ہے اور ہم مسلمان ہوکربھی دوکان کھولتے وقت صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھنا عار محسوس کرتے ہیں،نماز اورتلاوت کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے ،دل ہی دل میںاللہ تعالیٰ سے دعامانگنے کی بھی ہمیں فرصت نہیں ہے جب کہ غیرمسلم صبح سویرے اٹھ کر غسل کرتاہے ،مکان کی صفائی پر دھیان دیتا ہے ،صبح خیزی اورہواخوری کیلئے چہل قدمی اورورزش کرتا ہے ، پارکوں اور کھلے میدانوںمیں دوڑلگاتاہے ،رات کوجلدی سوجاتاہے اورصبح جلدی بیدا ر ہوجاتا ہے ،مسلمان رات بارہ اورایک بجے تک سونے کا تصورنہیں کرتا ہے پھر سوتا ہے تو کہاںکی نماز، کہاں کی تلاوت ،کہاںصبح خیزی اورکہاں جلدی اٹھنا ، دس بارہ بجے دن تک اٹھنا اورعموماًبغیر غسل کے دوکانوںاورکارخانوںکا رخ،غیرمسلم اپنی دوکان او راپنے دروازے سے کسی فقیرکو نہیں جھڑکتا،خالی ہاتھ نہیں لوٹاتاکچھ نہ کچھ ضرور دیتا ہے ، مسلمان کچھ دینے کے بجائے رعونت ، غروروتکبراوربد اخلاقی کا مظاہرہ کرتاہے، غیرمسلم جانوروںسے بھی پیارکرتا ہے ،صبح سویرے کتوںکوروٹیاںکھلاتا ہے ،آوارہ پھرنے والی گایوںکو بھی کھلاتا ہے ،میدانوںمیںدانے اورخشک انا ج ڈالتا ہے تاکہ بھوکے پرندے اپنی بھوک مٹاسکیںلیکن ہمارا یہ حال ہے کہ کتوںکے سامنے کچھ ڈالنے کے بجائے پتھرپھینک دیتے ہیں ،چڑیوںکو اڑاکرمزہ حاصل کرتے ہیں ،کوئی کتا یا بلی اگر بندش میں پڑجائے تو اس کو اذیت پہنچانے سے نہیں ہچکچاتے ،غیرماکول اللحم پرندوںکوبھی اپنی غلیل کا نشانہ بنادیتے ہیں حالانکہ ان حرکتوںسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے ۔
    آج ہر غیرمسلمخوش اخلاقی ،تواضع ،امانت داری ،سچائی ،لگن محنت ،دلجمعی ،پاکی وصفائی وعدہ کا ایفاء ،اپنی زبان ، تہذیب ،ماحول اورخاندانی روایات پر فخر کرتا ہے ،مذہبی مقامات کی عظمت اورپنڈتوںاورسادھوؤںسے محبت کرتا ہے اورہما را یہ حال ہے کہ خوش اخلاقی کو جڑسے اکھاڑپھینکا،تواضع ،امانت داری اورپاکی وصفائی سے کنارہ کشی اختیار کی ، جھوٹ ،دھوکہ ،فریب ،ریاکاری ،امانت میںخیانت ،وعدہ خلافی اورطعن وتشنیع ،لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ ہمارا شعار بن گیا ، جس محلے میں خوب گندگی ہو،خراب سڑکیںہوں،بدبوہو،گلی گلی میںچھوٹے بچے کرکٹ اورگلی ڈنڈے کے کھیلوںمیںمست ہوں،فوراًیہ تصورہوتا ہے کہ یہ مسلم محلہ ہے اس کے برخلاف صاف ستھرے محلے ،گندگی سے پاک سڑکیں،آلودگی سے محفوظ گلیاں،پارک اورڈسپلن نظر آئے تو فوراًدماغ میں یہ تصورجاتاہے کہ یہ غیرمسلممحلہ ہے ۔
    غیرمسلم اپنے مکان کے سامنے روزانہ پانی کاچھڑکاؤکرتاہے ،دوکان کے آگے سڑکوںکوپانی سے تر کرتا ہے تاکہ گرد وغبارسے محفوظ رہا جاسکے لیکن مسلمان گرد وغبارمیں اٹے ہونے کے باوجودیہ کام نہیں کرسکتا۔
    دورحاضرمیں جتنے مکروہ کھیل ہیںسب میںمسلمان پیش پیش ہیں حتی کہ مرغ بازی ،بٹیربازی ،پتنگ بازی اورجوئے بازی تک میں’’خیرامت ‘‘کا ایک بڑا طبقہ ملوث نظر آتا ہے ۔
    مراد آباد شہر میں ایک میدان میں بڑے زوروشورسے پتنگ بازی ہورہی تھی ،بوڑھے ،جوان ،باپ ،بیٹے سب پتنگ بازی میں مصروف تھے ،سڑک شہزادہ پر ایک لالہ کاگزرہوااس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ،بچہ نے اپنے باپ لالہ سے پتنگ کی خریداری کے لئے دو پیسے مانگے تو لالہ نے برجستہ کہا کہ
    ’’پتنگ بازی ،مرغ بازی ،تیتربازی ،بٹیربازی ،کبوتربازی ،جوئے بازی ،کافربازی وغیرہ سب مسلمانوں کے کام ہیں یہ ان کے ذمہ کردئے گئے ہیں ،
    انہیں یہ کام کرنے دو،تم ان کاموںکو اپنے ذمہ مت لو،ہم لوگ لکھ پتی بننے ،قرض دینے ،راج کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں ،پیسہ کماؤتو سیٹھ بنو،لکھ پڑھ جاؤ تو بابو بنو ،منصف بنو ،جج بنو،کلکٹربنو،وزیر بنو،آئندہ پتنگ کے لئے پیسے مت مانگنا،نہیں تو مسلمان ہوجائے گا،برباد ہوجائے گا ،ہم اب کبھی اس راستہ سے نہیں گزریں گے کیونکہ اس راستہ پر پتنگ باز رہتے ہیں‘‘۔
    افسوس کی بات ہے کہ کھیل کی ساری خرافات ہمارے اندرموجود ہیں ،کھیل کے معاملہ میں مسلمان نوجوانوںکی چہارسو واہ واہ ہوتی ہے ،مسلمان بے دریغ ان فضولیات میں اپناپیسہ ضائع کرتا ہے ، تقریبات اوررسم ورواج کے موقع پربڑی فضول خرچیاںکرتا ہے ،طرح طرح کی بے جا خرافات نے مسلمانوںکو ترقی کے معاملے میں سینکڑوںسال پیچھے ڈھکیل دیا ہے ۔
    چندسال پہلے اخبارات میں یہ خبر آئی تھی کہ ہندوستان کی ایک فلمی ہیروئن کے ساتھ چائے پینے کیلئے پاکستان کے ایک مسلمان نے اٹھارہ لاکھ روپئے کی بولی لگاکربازی جیت لی ہے ۔
    اسی طرح افریقہ کے ایک مسلمان نے اپنی پالتوبلی کی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے مناکرہزاروںڈالرپانی کی طرح ضائع کردئے ۔
    جی ہاں!ایک طرف بھوک اورپیاس سے سسکتے بچے ہیں ،جنہیںپیٹ بھرکھانانصیب نہیں،غریب گھرانوںکی ہزاروں کنواریا ں ہیںجن کو جہیزکی وجہ سے شوہرنصیب نہیں،مجبوروتنگدست افرادہیںجن کو سرچھپانے کیلئے پھونس کے جھونپڑے بھی میسرنہیں،خود کشی کرنے والے مردوخواتین ہیں جو زمانے کے بے رحم حالات سے مجبورہوکر موت کے چنگل میں پہنچ گئے اورایک طرف ہم ہیںکہ ہم اب بھی تعصب ،غرور،کینہ ،حسد،ریا ،گھمنڈاورنخوت کے پیکر بنے ہوئے ہیں۔
    غیرمسلم اپنی تجارت کو فروغ اوردوکان کو ترقی دینے کیلئے آنے والے ہر گر اہک سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہے ،موسم کے حساب سے چائے اورپانی بھی پیش کرتا ہے ،مسلمان گراہک ہو تو مزید تواضع کا مظاہرہ کرکے دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے ،ادھارکی نوبت آئی تو اس میں نہیں ہچکچاتاہے ،حیلے اوربہانے نہیں تراشتا ہے جب کہ ایک مسلمان دوکاندارکے پاس پہنچ کردیکھئے ،سامان اورسود ے کی بات کیجئے ،کتنی ہی بڑی رقم کا سودا کیجئے لیکن مسلمان حق ضیافت ادانہیں کریگا،چائے چھوڑئے پانی تک کو پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
    غورکیجئے ہم کس مقام پر پہنچ چکے ہیں ،خریدارسے جس رعونت ،سردمہری اورکبرونخوت کے ساتھ ہم پیش
    آتے ہیںپھر اس کے بعد کبھی بھی بھول کرگراہک ہماری دوکان کی طرف منھ نہیں کرتا کیونکہ ہم نے اخلاق سے دل جیتنے کے بجائے بد اخلاقی سے دورکردیاہے ۔
    کسی نے کہا تھا اورسچ کہا تھا کہ اخلاق اوراخلاص دو بھائی تھے ،جن کا انتقال ہوچکا ہے ،جی ہاں!ہمارے اخلاق ،ہمارے اوصاف اورہماری اچھائیاںبرادران وطن نے اپناکر ترقیات حاصل کرلیںاورہم ان خامیوں کو اپناکرپستی میںگرگئے ۔حضرت تھانویؒ سے ایک غیر مسلم نے بھرپوراخلاق کامظاہرہ کیا ،تواضع سے پیش آیا اور اس کے اخلاق سے حضرت تھانویؒ بھی بہت متاثرہوئے اورسوچنے لگے کہ اس کے اخلاق وتواضع کی کس اندا ز میں تعریف اوراس کاشکریہ ادا کیا جائے بالآخرآپ نے ا س سے فرمایاکہ’’ آپ کے اخلاق بالکل مسلمانو ں جیسے ہیں‘‘۔
    غیرمسلمکو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ سامان مسجد ،مدرسہ،گرجاگھر،گرودوارہ،صومعہ یا مندروغیرہ کے لئے خریدا جارہا ہے توخوب خوب رعایت کرکے سامان دیتا ہے اورہم بحیثیت مسلمان کوئی کمی اوررعایت نہیں کرتے ، غیرمسلم اپنی عبادت گاہوںاورمندروںسے بہت زیاد ہ عقیدت رکھتا ہے اورہمارا یہ حال ہے کہ مسجد کے سامنے سے آتش بازی کرتے ہوئے گذرتے ہیں،ڈھول ،تماشے اورگانے بجانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ، نماز ہورہی ہے اورباہرمسلمان بھائی ناچ گانے میں مگن ہے ،مسجد کی تلاش ہورہی ہے کس لئے ؟پیشاب کیلئے! اوراگر مسجد میںپیشاب خانہ نہ ہو توکہتے ہیں کہ کیایہ شیعوں کی مسجد ہے ؟
    چاندگرہن اورسورج گرہن کے موقع پرغیرمسلم غریبوںمیں اناج اورغلہ تقسیم کرتا ہے اورہم ہیںکہ صلوۃ کسوف اورصلوۃ خسوف تو کیا اللہ تعالیٰ سے گڑگڑانا ،دعااورتوبہ کرنابھی عار محسوس کرتے ہیں ۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر آگ لینے کیلئے پہنچے تو پیمبری مل گئی،سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کر نے کیلئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلوار سونت کرنکلے لیکن مسلمان ہو کر لوٹے،حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ جب تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اس وقت تک ان کی اسلام دشمنی مشہور ومعروف تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے دولت ایمان سے نوازا تو اسلام کے احیا اور احقاق حق اور ابطال باطل کے سلسلے میں انہوں نے مثال قائم فرمادی۔
    اسلام کی جن خصوصیات کا ذکر ہمارے بزرگوں نے اپنی کتابوں ،تقریروں اور مجلسوں میں فرمایاہے ان کو پڑھ کر روشن دل اور روشن فکر رکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں،اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کے اصول وقوانین فطرت کے عین تقاضوں کی تکمیل کرتے ہیں ،اس کے اصول دلوں کو اپیل کرتے ہیں،ممکن ہے انسانی طبائع پر اسلامی قوانین وقتی طور پر گرانبار ہوں ،لیکن لوٹ پھر کر انسان اسلامی اصولوں کو ماننے اور تسلیم کر نے پر مجبور نظر آتا ہے۔
    یہ سچ ہے کہ دنیا کا آخری مذہب اسلام ہوگا،لیکن فی الوقت ملت اسلامیہ جس راستے پر دوڑرہی ہے ،جن خرافات اور رسومات کی خوگر بن چکی ہے،جن تعیشات اور خرافات میں اپنی دولت کو ضائع کررہی ہے اور جس رنگین اور سنگین ماحول میں پنپ رہی ہے اسے دیکھ کر شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال مرحوم جیسا سنجیدہ شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا:
    ہاتھ بے جور ہیں ،الحاد سے دل خوگر ہیں
    امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں
    بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
    تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں
    ہماری تہذیب اپنا رنگ بدل رہی ہے ،بول چال میں یہود وہنود کی زبان بڑی آہستگی کے ساتھ داخل ہو رہی ہے،ہمارے رہن سہن میں یورپی تمدن جھلک رہا ہے ،عبادت وریاضت کو بوجھ سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی ہے،اپنی تہذیب سے ہاتھ دھوکر اور اغیار کی تہذیب کو گلے لگا کر ہم خوش ہیں کہ ہم نے بہت بڑی ترقی کر لی ہے ،یہود وہنود کے راستوں پر چل کر ہم نے اپنے نفس کو فریب دے دیا کہ ہمارا مزاج سیکولر اور جمہوریت پسند ہو گیا ہے ،اغیار کی مجلسوں میں شریک ہوکر ہم سمجھنے لگے کہ ہم سماجی سدھار لارہے ہیںلیکن اس پہلو پر غور نہیں کیا گیا کہ رفتہ رفتہ،آہستہ آہستہ ہم غافل ہوکر اپنے راستہ سے بھٹک گئے ہیں ۔
    اپنی تہذیب ومعاشرت سے بغاوت اور کنارہ کشی اختیار کرنے والوں میں پڑھا لکھا طبقہ بھی ہے اور ’’اونچی سوسائٹی‘‘بھی،وہ لوگ بھی ہیں جن کو اپنے بزرگوں کی ہڈیوں کو بیچ کھانے سے مطلب ہے ان کے طریقوں پر چلنا مقصود نہیں، شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال مرحوم نے کس درد کے ساتھ فرمایا تھا ۔
    یوں تو سید بھی ہو ،مرزا بھی ہو،افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو
    ہماری تہذیب میں جن من گھڑت دیومالائی قصے اور کہانیوں نے جگہ بنالی ہے وہاں حقیقت پسندی کا دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے ،قرآن وحدیث،آثار صحابہ،بزرگوں کے ارشادات،صالحین کے واقعات،برگزیدہ ہستیوں کے قصص وحکایات اور دینی تعلیمات سے دوری نے ہمیں کس حال میں پہنچادیا ؟بزرگوں کی روشن تعلیمات سے رو گردانی اورغیر مسلم تہذیب وتمدن سے لولگانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کروڑوں اور اربوں میں ہونے کے باوجود تنکوں کے مانند بے سہارا اور پانی کے بلبلوں کے مانند بے حیثیت ہوگئے،دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی اقلیت یہودیوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جن کی تعداد پوری دنیا میں صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے لیکن یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ وہ پوری دنیا کے چھ ارب لوگوں کو اپنا فکری غلام بنائے ہوئے ہیں اور گلوبلائزیشن کے نام پر دنیا کی اقتصادی اور دماغی طاقت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔
    آج پوری دنیا پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہودیوں کو اپنے قومی نشان ’’صلیب‘‘پر ناز ہے،بودھ دھرم کواپنے لباس پر ،غیرمسلموں کو اپنی تہذیب پر سکھوں کو اپنی ’’پگڑی‘‘پر فخرہے ۔چنانچہ حکومت نے دو پہیہ والی گاڑی کے ڈرائیوروں کے لئے جب ہیلمٹ ضروری قرار دیا تو سکھوں کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا کیونکہ اس سے ان کی پگڑی کا تقدس مجروح ہوتا تھا۔اور ایک ہم ہیں ہمارا کوئی قومی لباس اور شعار نہیں رہا، لباس انگریزی،بال انگریزی،بول چال انگریزی،نشست وبرخاست انگریزی اور کمال تو یہ ہے داڑھی جوہمارا قومی اور مذہبی شعار تھا اس سے بھی کنارہ کشی اختیار کی ،اس کا مذاق اڑایا،ترقی کی راہ میں حارج قرار دیا حالانکہ سکھوں کی مثال ہمارے سامنے ہے پوری دنیا میں سکھ اپنی پگڑی اور داڑھی سے پہچانا جاتا ہے ،لیکن ہمارا چونکہ کوئی شعار نہیں رہا،کوئی قومی لباس نہیں رہا اس لئے ہم بے حیثیت ہوگئے ،نتیجہ ظاہر ہے کہ دنیا کی دوسری طاقت ہونے کے باوجود ہماری کوئی شناخت نہیں بن سکی ۔
    یہ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ وہ قوم جس نے اپنے کردار کی بلندی اور اقوال وافعال کی پاکیزگی سے دنیا کو مرعوب ومتاثر کیا تھا آج خود دوسروں سے مرعوب ومتاثر ہو رہی ہے ،حالانکہ کل تک کفر نے خوانِ اسلام کی خوشہ چینی کی تھی اور آج ہم کفر سے استفادہ کر نے پر مجبور ہوگئے ،ہمیں یہ معلوم ہے کہ کافروں کی تہذیب ومعاشرت کو اپنانا اور ان کے طریقوں سے محبت کرنا ہماری ایمانی کمزوری ہے لیکن اس کے باوجود نتائج سے بے پرواہ ہوکر ،آنکھیں بند کر کے ہم کفر کی راہوں پر دوڑرہے ہیںاور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے ،مسلمانوں کی شناخت ختم کی جارہی ہے؟حضرت مولانا سید عبد الوہاب شاہ بخاری مدظلہ کا مقولہ ہے کہ
    ’’(ہم)کا فروں سے نفرت کرتے ہیںان کی تہذیب سے محبت کرتے ہیں،مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں ان کی تہذیب سے نفرت کرتے ہیں،پہلے زمانے میں کافرمسلمانوں سے ڈرتے تھے،اب مسلمان کا فروں سے ڈرتے ہیں،پہلے کافرچاہتے تھے کہ ہم مسلمان ہو جائیں اب مسلمان چاہتے ہیں کہ ہم کافروں جیسے ہو جائیں‘‘
    ہمارا معاشرہ فرسودہ خیالات،توہمات،باطل افکار ونظریات،موہوم تخیلات اورمضحکہ خیز رسوم وبدعات کے درمیان پھنس کر رہ گیاہے ،جاہلیت اور جہالت،پرانی اقدار سے انحراف وبغاوت،خاندانی رسومات پر عمل،انانیت اور خود فریبی کے باعث اسلام اپنی مکمل شان وشوکت کیساتھ جلوہ فگن نہیں ہوپا رہا ہے ،ہمارے تمدن میں شیعیت کی بھر مارہے تو ہندوانی رسم ورواج کی کثرت،جہالت آمیز واہیات وخرافات ہیں تو بدعت وضلالت کے نت نئے چہرے، ان وجوہ کے باعث اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد روز بروز گھٹتی جارہی ہے ۔
    ہم مسلمان ہو نے کا دعویٰ بھی کر تے ہیں اور باطل نظریات پر یقین بھی رکھتے ہیں،یہ تضاد ہماری زندگیوں میں کیونکر داخل ہوا؟ہمارا حال یہ ہے کہ اگر بلی راستہ سے گزرجائے تو اس سے برا فال لیتے ہیں،صبح سویرے ادھار دینے کو معیوب تصور کر تے ہیں،تعزیہ کو مختار کل سمجھ کر اس کے آگے سر کو خم کرتے اور ہاتھ جوڑتے ہیں،بدھ کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں،مُردوں کو خوش کر نے کیلئے کھانا پکاکر غربا میں تقسیم کر تے ہیں،شب برات میں اپنے گھروں کو سجاتے اور لیپتے ہیں، برتنوں کا تبادلہ کر تے ہیں،قبروں پر چڑھا واچڑھاتے اورمزارات پر نذرونیاز کر تے ہیںان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیںزچگی کی حالت میں مرنے والی عورت کو بھوتنی اور چڑیل سمجھتے ہیں حالانکہ ایسی عورت کو اسلام میں شہید بتایا گیا ہے ،بیوہ کے نکاح کو معیوب سمجھنا اور شوہر کے انتقال پر بیوی کا اپنی چوڑیاں توڑ ڈالنا اور اس قسم کی مختلف خرافات نے ہمارے معاشرے میں جگہ بنالی ہے۔
    اس کے علاوہ دسویں محرم الحرام کو بعض مدارس میں چھٹی کردی جاتی ہے جو اہل تشیع سے تشبہ کے باعث ممنوع قراردیا گیا ،شیعہ لوگ تو اس دن اپنے رسم ورواج کو پوری سختی کے ساتھ عمل میں لاتے ہیںاور ہم اپنے مدارس میں تعطیل کرکے یا تو بیکار بیٹھے رہتے ہیں یاتماش بین بنکر ایسی جگہوں پر جاکران کے جلوس کی رونق بڑھاتے ہیں حالانکہ حدیث شریف میں واردہوا ہے کہ من کثر سواد قوم فہو منہم جس نے کسی قوم کی رونق کو بڑھایا وہ انھیں میں سے ہے اس لئے کہ جس طرح عبادت کو دیکھنا عباد ت ہوتا ہے اسی طرح گناہوںکو دیکھنا بھی گناہ ہے اور جس مقام پر غضب الہی ناز ل ہو وہاں پر جانا مزید گناہ کا موجب ہے۔
    حدیث شریف میں ہے من تشبہ بقوم فہو منہم جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ انھیں میں سے ہے اس لئے کسی کے لحاظ میں دوستی میں،سیاسی اور سماجی تناظر میں بھی ایسی مبغوض جگہوں پر جانا ممنوع قراردیا گیا ہے۔
    حضرت تھانویؒنے مسلمانوں کے اندر رائج بدعات ورسومات پر دو مستقل کتابیں’’اغلاط العوام‘‘اور ’’اصلاح الرسوم‘‘ تصنیف فرمائی ہیں جن کا مطالعہ ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے ۔
    حضرت تھانویؒنے لکھا ہے کہ ہولی کے دن ایک نیک شخص کہیں جارہا تھا اس نے راستہ میں ایک گدھے پر یہ کہہ کر پان کی پیک تھوک دی کہ تجھے کسی نے نہیں رنگا؟میں رنگے دیتا ہوں!مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی بات پر گرفت فرمالی کہ تو نے ہمارے دشمنوں کے ساتھ مشابہت اختیار کی تھی لہذا جہاں وہ ہیں وہیں تم بھی جاؤ ، چنانچہ اس ادنیٰ مشابہت کے باعث عذاب ِجہنم میں گرفتار ہوا۔
    حضرت مولانا مفتی مہربان علی رحمۃ اللہ علیہ(خلیفہ حضرت فقیہ الاسلام مولانا مفتی مظفر حسین نور اللہ مرقدہ)نے لکھا ہے کہ
    ’’ہمارے ہند وپاک میں کچھ اس قسم کے مسائل ذہنوں میں سمائے ہو ئے ہیں،جن کا شریعت مطہرہ سے کوئی سروکار نہیں ہے…………بعض دفعہ ایمان کی ٹھوس اور مستحکم عقیدے کے ساتھ خود اسی کی جڑوں میں غلط عقائد نشو ونما پاتے رہتے ہیںاس کا سبب کہیں لا علمی اور کہیں کم فہمی اور کہیں غلط رہبری ہے‘‘
    ضرورت اس بات کی ہے ہر مسلمان اپنی ذاتی زندگی سے لے کر خانگی اور معاشرتی زندگی تک اپنے آپ کو شریعت اسلامیہ کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق ڈھالے اور شرعی قوانین کے مطابق اپنی زندگیوں کو سنوارے اور سدھارے کہ ؎
    کافر کی یہ پہچان ہے کہ آفاق میں گم ہے
    مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
    ٭٭٭

اس صفحے کو مشتہر کریں