مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ : 1 :

'دیگر ادیان، مذاہب و مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از نورالاسلام, ‏مارچ 4, 2012۔

  1. نورالاسلام

    نورالاسلام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    154
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تمام معزز ممبران ومنتظمین صاحبان امید ہے مزاج بخیر ہونگے ۔ دوستو میں ایک دھاگہ شروع کر رہا ہوں جس میں ۔ ۔ ۔ اعلی حضرت مولانا احمد رضاخانصاحب اور اپکی جماعت : بریلویہ : کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ کچھ عرصہ قبل فرقہ بریلویہ کی طرف سے ایک کتاب : دیوبندی مذہب کا علمی محاسبہ تالیف ہوئی جس کے مصنف : مولانا مہر علی چشتیاں کے رہنے والے : نے علمائے اہل سنت علمائے دیوبند کو جو گالیاں دی ہیں اور جو زبان استعمال کی ہے اور انہیں کافر تک کہا ہے یہ مولانا مہر علی صاحب کا ہی خاصہ ہے کوئی شریف آدمی ایسی گفتگو نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ اس کے جواب میں متکلم اسلام مولانا الیاس گھمن حفظہ اللہ تعالی نے ایک کتاب لکھی ہے : فرقہ بریلویت پاک وہند کا تحقیقی جائزہ : ان شاء اللہ اسی کتاب : فرقہ بریلویت پاک وہند کا تحقیقی جائزہ : سے اقتباسات اصل کتب کے حوالہ جات کے ساتھ نقل کیئے جائیں گے ۔ ۔ ۔ اور ہر منصف مزاج صاحب علم انسان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے حقائق کا جائزہ لے اور بتائے کہ ایسا بندہ اس قابل ہے کہ اسے مجدد دین اور رضی اللہ عنہ کے القاب سے یاد کیا جائے ۔
    اہم بات
    جو دوست مسلک رضا خان کے دفاع یا ترجمان کے طور پہ تشریف لانا چاہیں میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مگر اس بات کا خیال رکھیں کہ دلیل کے مقابلہ میں دلیل لائیں نا کہ ہٹ دھرمی ۔ اگر میں نا مانوں کی رٹ لگانی ہے تو یہ صرف وقت کا ضیاع ہو گا ۔ ۔ ۔ عبارات مولانا احمد رضا خان صاحب کی اپنی یا آپ کے پیرو کاروں کی ہونگی اس لئے جو بھی تشریح کریں وہ اعلٰی حضرت کی سیرت اور کردار کو سامنے رکھ کر کریں ۔ ۔ ۔ میرا اس دھاگہ کے لگانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سادہ لوح لوگ جان جائیں کہ ھقیقت کیا اور سمجھ جائیں کہ گھوڑے کا سوار کون ہے اور گدھے کا سوار کون ہے ۔ اگر کسی کی دل ازاری ہو تو میں پیشگی معزرت چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ اخر میں دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے اور حق و باطل میں تمیز کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العٰلمین
  2. نورالاسلام

    نورالاسلام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    154
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    بانی فرقہ بریلویہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا تعارف
    مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی ہندوستان کے صوبہ یو۔ پی کے شہر الٹے بانس بریلی میں 10 شوال 1272ھ بروز شنبہ وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء کو پیدا ہوئے ۔
    : ملفوظات اعلی حضرت ج1ص12 :
    آپ کے خاندان کا تعارف
    آپ کا خاندان ہندوستان کے باشندگان میں سے نہ تھا ۔ بلکہ غیر ملکی ہے ۔ چناچہ آپ کے خلیفہ مولانا ظفرالدین صاحب بہاری آپ کا سلسلہ نسب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
    عبدالمصطفٰی احمد رضاخان بن حضرت مولانا نقی علی خان بن حضرت مولانا رضا علی خان بن حضرت مولانا حافظ کاظم علی خان بن حضرت مولانا شاہ محمد اعظم خان بن حضرت محمد سعادت یار خان بن حضرت محمد سعیداللہ خان حضور کے اباؤاجداد قندھارکے موقر قبیلہ بڑھیچ کے پٹھان تھے : دیکھیے حیات اعلی حضرت ج1ص2 :
    نادر شاہ ایرانی افشاری { المتوفی 1160ھ} نے جو ایران کا ایک رافضی شیعہ حکمران تھا ۔ اس نے سلاطین اسلام کی حکومتوں کا تختہ الٹنے اور بیخ کنی کی پوری سعی و کوشش کی ۔ چانچہ پہلے پہل سنی افغان بادشاہ اشرف کی حکومت کا ایران نے استیصال کیا ۔ اشرف چار سال سے فارس کا بادشاہ چلا آرہا تھا ۔ چونکہ وہ اہل سنت سے تھا اس لئے نادر نے 1142ء \1719ء کو اس کی بادشاہی کا خاتمہ کر کے اس کی جگی طہماسپ صفوی شیعی کو بادشاہ بنادیا ۔ اس کے تعصب کا یہی خاتمہ نہیں ہو گیا بلکہ وہ آگے بڑھا اور غیر شیعہ اقوام کو نکال کر اس نے قب اور قندھار بھی فتح کر لیا ۔ ہمارے شہر لاہور بھی آیا اور یلغار کرتا ہوا دہلی جا پہنچا ۔ جہاں 1150ھ میں اس نے قتل عام کیا ۔ اور تیس کروڑ مالیت کا مالِ غنیمت لے کر ایران واپس چلا ۔
    { دیکھیے مناظرہ مابین سنی و شیعہ ص3 }
    جس وقت نادر شاہ ایرانی نے ہندوستان کی سنی حکومت کو تباہ کرنے اور سنی مسلمانوں کو شہید کرنے کا پروگروم بنایا تھا ۔ اس وقت ہندوستان میں مغلیہ خاندان کے ایک سنی حکمران روشن اختر ملقب بہ محمد شاہ کی حکومت تھی ۔ نادر شاہ کی یہ ایرانہ شیعہ فوج دو لاکھ سواروں اور پیادہ سپاہیوں اور پانچ ہزار توپوں پر مشتمل تھی ۔
    { دیکھیئے اسلامی تاریخ پاکستان و ہند ج2ص206 ہدات اللہ چوہدری }
    مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا خاندان بھی اس شیعہ رافضی ایرانی فوج میں شامل تھا۔ ۔ ۔ اس کا ثبوت ماحظہ ہو ۔
    ثبوت نمبر 1
    ابوالمنصورحافظ محمد صاحب قادری ایم اے لکھتے ہیں : آپ کے جد اعلی حضرت محمد سعید خان کا تعلق قندھار کے باوقار قبیلے بڑہیچ کے پٹھانوں سے تھا ۔ نادر شاہ نے جس وقت مگلیہ خاندان کے حکمران محمد شاہ رنگیلا پر حملہ کیا ۔ تو 17 39 ء میں یہ بھی ہمراہ آئے ۔ شروع میں ان کا قیام لاہور میں رہا ۔ لاہور کا شیش محل ان کی جاگیر تھی ۔ بعد میں دہلی چلے آئے ۔
    { دیکیئے اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان ص12}
    ثبوت نمبر 2 :
    مولانا ظفرالدین صاحب لکھت ہیں : عالی جاہ شجاعت جنگ بہادر جناب مستغنی عن القاب شاہ سعید اللہ خان صاحب قندھاری بزمانہ سلطان محمد شاہ ، نادر شاہ کے ہمراہ دہلی آئے ۔ اور منصب شش ہزاری پر فائز ہوئے ، ان کو سلطان والا شان کے یہاں سے بہت م سےمواضعات جو زرین ریاست رامپور میں معانی علی دوام پر ملے تھے ۔ یہ موضعات ان کی اولاد کے پاس اب موجود نہیں ۔ ان کا ایک شیش محل لاہور میں ہے جس کا ابھی کچھ اثر باقی ہے ۔
    { حیات اعلی حضرت ج1ص13}
    اس معتبر ثبوت سے معلوم ہوا کہ مولانا احمد رضا خان صاحب ک اخاندان نادر شاہ ایرانی کی شیعہ فوج میں شامل تھا اور لڑائے کے لئے آیا تھا ۔ چناچہ لاہور کے شیش محل میں قبضہ بھی جما لیا تھا ۔ مگر نادر نادر شاہ نے اپنی رافضی ایرانی فوج کو حکم دیا کہ لاہور چھوڑ کر دہلی پر حملہ کریں ۔تو ایرانی فوج نے اپنے مذہبی حکمران کا حکم تسلیم کرتے ہوئے لاہور سے دہلی پہنچے ۔ چناچہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اعلی حضرت کے جد اعلی بھی نادر شاہ کے ہمراہ دہلی پہنچے ۔ اور علماء ہند کا شاندار ماضی ج2ص34 میں ہے کہ نادر شاہ نے قتل عام کا حکم ذیقعدہ 1151ھ کو دیا ۔ سو چند گھنٹوں میں صبح سے دوپہر تک شہر دہلی مردہ لاشوں سے پٹ گیا ۔ مقتولین کی تعداد آٹھ ہشار سے ڈیڑھ لاکھ بیان کی گئی ہے ۔
    پھر نادر شاہ معاہدے کے بعد ایک بڑی رقم لے کر واپس چلا گیا مگر اعلی حضرت کے جد اعلی سعیداللہ خانقندھاری واپس اپنے ملک نہ گئے بلکہ یہاں ہندوستان میں اقمت پزیر ہوگئے ۔
    بلکہ حاکم محمد شاہ کے معتمد خاص ہو گئے ۔ اور منصب شش ہزاری پہ فائز ہوئے ۔ پھر سعد اللہ خان کے لڑکے سعادت یار خان تو محمد شاہ کے وزیر بن گئے اور بہت سی زمین ضلع بدایوں میں انہیں ہمیشہ کے لئے عطا کر دی گئی ۔ جس سے ان کی نسل در نسل مستفید ہوتی رہی ۔ { اسلامی تاریخ پاکستان و ہند ج2ص207}
    اب قابل غور بات یہ ہے کہ قندھار کے مسافر محمد شاہ کے منظور نظر کیسے ہو گئے ۔ دو باتیں سمجھ آتی ہیں ان میں سے ایک ضرور ہو گی ۔
    : 1 : نادر شاہ کے ہمراہ آئے تھے اس نے جاتے ہوئے محمد شاہ کو کہا ہوگا کہ یہ میرے معتمد خاص ہیں ان کو برے عہدے دے کر اپنے پاس رکھو تا کہ میرے اور تمہارے درمیان ایجنٹی کا کام کرتے رہیں ۔
    : 2 : یا یہ کہ اپنی قابلیت کی بنا پر محمد شاہ کے منظور نظر ہو گئے ہوں ۔ اور محمد شاہ کا منظور نظر و انعامات کا مستحق وہ شخص ہوتا تھا جو کہ اس کی رنگ رلیوں کے لئے سامان تعیش مہیا کرتا تھا ۔
    ہدایت اللہ خان چودہری لکھتے ہیں : وہ رنگ رلیوں ہی میں مستغرق رہتا تھا اسی واسطے اسے محمد شاہ رنگیلا کہا جاتا ہے ۔
    { اسلامی تاریخ پاکستان و ہند ج2ص187}

    { جاری ہے }
  3. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,318
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    جزاک اللہ فی الدارین
  4. نورالاسلام

    نورالاسلام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    154
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    سعادت یارخان کی اولاد کا ذکر

    مولانا ظفرالدین بہاری لکھتے ہیں : ان کی اولاد برینہ تین تھے ۔ بڑے شاہزادے والاتبار محمد اعظم خان صاحب ہیں اور یہی اعلی حضرت امام اہل سنت کے مورث اعلٰی ہیں یہ اپنی وزارت کے عہدہ سے علیحدہ ہو کر زہد و ریاضت میں مشغول ہو گئے ۔
    { حیات اعلی حضرت ج1ص13_14}


    اعظم خان کی اولاد کا ذکر

    مولانا ظفرالدین صاحب لکھتے ہیں : اعظم خان صاحب نے دو عقد کیے پہلی زوجہ حافظ کاظم علی خان صاحب ۔ اور دوسری بیوی سے چار صاحب زادیاں ہوئیں ۔ حافظ کاظم علی خان صاحب آصف الدولہ کے یہاں وزیر تھے ۔
    { حیات اعلی حضرت ج1ص14}


    برادرانِ اسلام

    حافظ کاظم علی خان صاحب ، اعلٰی حضرت بریلوی کے پڑدادا ہیں ۔ کاظم علی خان کے بیٹے مولانا رضا علی خان تھے ۔ ان کے بیٹے مولانا نقی علی خان تھے ۔ ان کے بیٹے مولانا احمد رضاخان صاحب تھے ۔ جو بلا شرکت غیرے امام اہل سنت بن گئے ۔ کاظم علی خان آصف الدولہ کے وزیر بن گئے ۔

    یہ آصف الدولہ کون ہے ؟؟؟

    نواب آصف الدولہ غالی قسم کا رافضی شیعہ تھا ۔ نوابان اودھ میں سے تھا ۔ اس ریاست پر قبضہ کرنے والا اور اس کی بادشاہت کا بانی برہان الملک سعادت خان نیشاپوری شیعہ رافضی تھا ، اور اسی شخص نے مغلیہ خاندان کی سنّی حکومت کے برباد کرنے اور زیادہ تاوان وصول کرنے کے لئے نادر شاہ ایرانی کو ابھارا تھا ۔{ دیکھئے اسلامی تاریخ پاکستان و ہند ج 2 }

    قارئین کرام


    آپ غور کریں تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کریں کہ ان کٹر غالی رافضی شیعہ نوابان ۔ اودھ کے ساتھ اعلٰی حضرت بریلوی کے خاندان کے تعلقات ہمدردانہ تھے ۔ یہاں تک کہ اعلٰی حضرت بریلوی کے پڑدادا جناب کاظم علی خان آصف الدولہ رافضی کے وزیر بن گئے
    ۔
    {جاری ہے }
  5. نورالاسلام

    نورالاسلام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    154
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    مولانا احمد رضا خان بریلوی کے نام

    مولانا محمد صابر بستوی لکھتے ہیں :
    حضور کا پیدائشی اسم گرامی محمد ہے ۔ والدہ ماجدہ محبت و شفقت میں امّن میاں ، والد صاحب اور دیگر اعزہ احمد میاں کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے ۔
    جد امجد نے آپ کا اسم شریف احمد رضا رکھا اور تاریخی نام المختار 1372ھ ہے ۔ اور آپ نے خود اپنے نام کے اوّل میں عبدالمصطفٰی لکھنے کا التزام فرمالیا تھا اور اسلامی دنیا میں آپ کو اعلٰی حضرت اور فاضل بریلوی کے بصد ادب و احترام یاد کیا ہے ۔
    { اعلی حضرت بریلوی ص25-26 }


    قارئین کرام

    آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی کو کوئی نام پسند نہ آیا اور خود انہوں نے اپنا نام عبدالمصطفٰی رکھ لیا تھا اور ایسا تو کوئی اعلی حضرت صاحب ہی کر سکتے ہیں ورنہ عام حضرت تو ایک آدھے نام کے ساتھ زندگی گزار دیتے ہیں ۔

    مولانا احمد رضا خان بریلوی کا حلیہ مبارک

    آپ کے رنگ کی آب و تاب ختم ہو چکی تھی ۔

    مولانا نسیم بستوی لکھتے ہیں ۔

    ابتدائی عمر میں آپ کا رنگ چمک دار گندمی تھا ۔ ابتدا سے وقت وصال تک مسلسل محنت شاقہ نے رنگ کی آب و تاب ختم کر دی تھی ۔
    { اعلی حضرت بریلوی ص20 }


    مولانا احمد رضا خان بریلوی کے اساتزہ کرام

    مولانا احمد رضا خان بریلوی کسی باقاعدہ عربی مدرسہ یا دارالعلوم کے تعلیم یافتہ نہ تھے ۔ آپ کی اکثر دینی تعلیم گھر پر ہی ہوئی تھی ۔ آپ کے پہلے استاد مرزاغلام احمد قادیانی کے بڑے بھائی مرزاغلام قادر تھے ۔ ان کے بعد آپ اپنے والد مولانا نقی علی خان سے پڑھتے رہے ۔ مولانا نقی علی خان بھی کسی معروف مدرسہ یا دارالعلوم کے فارغ التحصیل نہ تھے ۔ وہ بھی گھر میں پڑھتے رہے ۔ نہ آپ نے کسی مدرسہ میں پڑھایا تھا اس کے باوجود آپ نے مولانا احمد رضا خان بریلوی کو تیرہ سال کی عمرمیں فارغ التحصیل کردیا اور آپ کو اس قابل کردیا کہ بریلویوں نے آپ کو اسی عمر “ علوم فنونہ کا ہمالہ “ سمجھ لیا ۔
    {المیزان امام احمد رضا نمبر کے ایک مضمون کی سرخی 337}

    علم جفر کی تعلیم :

    دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے علم ہیئت اور نجوم مولانا عبدالعلی صاحب رام پوری سے اور علم جفر اور تکسیر اپنے مرشد مولانا ابوالحسنین نوری سے سیکھا ۔ ان دنوں گدی نشینوں کو علم جفر اور نجوم میں بہت مہارت تھی اور جتنی ان علوم میں دسترس ہو ان کا حلقہ عقیدت اتنا ہی وسیع ہو جاتا ہے ۔ مارہرہ کے گدی نشین علم میں جفر میں ماہر تھے ۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی نے علم جفر ان ہی سے سیکھا تھا ۔
    {المیزان امام احمد رضانمبرکے ایک مضمون کی سرخی 332}
    اور یہی کشش انہیں آستانہ مرشد پر لے آئی تھی ۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی علم جفر میں اتنے کھوئے تھے ہوئے تھے کہ مدینہ منورہ میں جہاں ہر طالب عشق ِ رسول میں ڈوب کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضری کی تمنا لئے حاضر ہوتا ہے ۔ مگر مولانا احمد رضا خان بریلوی مدینہ منورہ بھی اس لئے گئے کہ شاید وہاں کوئی علم جفر کا ماہر مل جائے اور اس کے ذریعہ آپ کا کام چل نکلے ۔ ۔ ۔ آپ کے ملفوظات میں ہے ۔
    خیال کیا کہ یہ شہرکریم تمام جہاں کا مرجع و ملجا ہے اہل مغرب بھی یہاں آتے ہیں ممکن ہے کوئی جفر دان مل جائیں کہ ان سے اس فن کی تکمیل کی جائے ۔
    {ملفوظات مکمل ص 28}
    مولانا احمد رضا خان بریلوی نے جس دن مارہرہ شریف میں بیعت کی مرشد نے اسی دن آپ کو خلافت دے دی ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں تک سلوک و طریقت اور مجاہدہ و ریاضت کا تعلق ہے آپ ان کے تجربات سے نہیں گزرے اور آپ کا علم مسائل طریقت میں بھی علم شریعت کی طرح نا پختہ ہی رہا ۔
    المیزان کے امام احمد رضا نمبر میں ہے کہ آپ کے مرشد گرامی نے آپ کو یونہی خلافت دے دی تھی ۔ آپ نے بغیر مشقت و مجاہدہ کے امام احمد رضا کو خلافت دے دی ۔
    { المیزان امام احمد رضا نمبر ص367}
    مارہرہ شریف سے تعلق جب زیادہ تر علم جفر اور تکسیر کی بنا پر تھا تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں سلوک و طریقت کی منزلیں طے کروانے کی کیا ضرورت تھی ۔؟ پیرو مرید فضول اسی میں کھوئے ہوئے تھے جس کے بارے میں وہ خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے جواب لے چکے تھے کہ یہ علم فضول ہے مولانا احمد رضا خان بریلوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ اوسلم نے مجھے ایک تھان دکھایا جس پر ا۔۔۔۔۔ھ۔۔۔۔۔ذ کے حروف لکھے ہوئے تھے اس کی تعبیر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے خود یہ بیان کی ا،ھ،ذ کے معنی فضول بک ۔
    {ملفوضات حصہ اوّل ص105}



    {جاری ہے }
    بقیہ یہاں سے پڑھیں http://www.algazali.org/gazali/showthread.php?tid=4273
  6. نعیم

    نعیم وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    79
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    میں سوچ رہا ہون ایک دھاگہ شروع کیا جائے۔‘‘تعاقب رضا خانی‘‘
    ویسے نبیل بھائی سلسلہ بہت ‘‘فنے خاں ہے۔( زبردست)
  7. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    بہت خوب جناب
  8. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,568
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    حضرت گھمن صاحب کی کتاب واقعی قابل مطالعہ ہے ،،، جس میں اعلی حضرت کے سیرت وکردار پر خوب روشنی ڈالی ہے کہ حضرت نے اپنی زندگی کس طرح افتراق امت میں گزاری بھائی نورالاسلام صاحب کا شکریہ
  9. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    RE: مطالعہ بریلویت ۔ ۔ ۔ ایک تحقیقی جائزہ

    جزاک اللہ خیرا ۔ ۔ ۔ بہت ہی بہترین ہے ۔ ۔ ۔ یہ حقائق سامنے آنے چاہیئں
  10. ایم ایس صدیقی

    ایم ایس صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزید تفصیل کہا ملے گا محترم نور الاسلام بہائ

اس صفحے کو مشتہر کریں