مطالعہ تقلید 10: (صرف الفاظ مراد نہیں ہوتے، مجتہد کون ہوتا ہے، مجتہد سے اختلاف)

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از دیوان, ‏مارچ 26, 2016۔

  1. دیوان

    دیوان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    43
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    صنف:
    Male
    صرف الفاظ ہی مراد نہیں ہوتے
    صحیح مسلم، کتاب الحدود میں ابو عبدالرحمان السلمی کی روایت کا مفہوم ہے حضرت علی ؓنے خطبے میں یہ ذکر کیا کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے ایک بدکار لونڈی کو درے مارنے کا حکم فرمایا تھا۔ جب وہ اس حکم کو پورا کرنے کے لیے اس لونڈی کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریب ہی اس کے یہاں ولادت ہوئی ہے جس پر حضرت علیؓ نے اس اندیشے کی بنیاد پر کہ اس کو درے مارنے پر وہ جان ہی سے نہ چلی جائے اس کو درے نہ لگائے اور جاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس بات کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا:
    احسنت بہت اچھا کیا۔
    فائدہ:
    · آپ ﷺ کے حکم میں صحت یا عدم صحت کی کوئی قید نہ تھی لیکن حضرت علیؓ نے اپنی اجتہادی صلاحیت کی بنا پر اس حکم کو قدرت تحمل سے مقید سمجھا اور اس پر عمل کیا جس کی رسول اللہ ﷺ نے تعریف فرمائی۔
    · صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے حکموں پر غور و فکر کرتے اور ان کی مراد سمجھ کر عمل کرتے تھے۔
    · مجتہد بھی کسی حدیث کو کسی شرط سے مقید سمجھ کر اس پر عمل کو موقوف (ترک) کرسکتا ہے۔
    حدیث
    عن معاذ بن جبل ، قال كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم ، على حمار ، يقال له عفير، فقال : يا معاذ هل تدري ما حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحقهم على الله ان لا يعذب من لا يشرك به قال : فقلت يا رسول الله افلا ابشر الناس قال : لا تبشرهم ، فيتكلوا۔ (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير)
    حضرت معاذؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔
    فائدہ:
    · اس روایت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذؓ کو اطلاع نہ دینے کی ہدایت فرمائی تھی لیکن حضرت معاذؓ نے اپنی اجتہادی صلاحیت سے یہ سمجھاکہ یہ ہدایت اطلاع دینے کو مانع نہیں یعنی یہ ہدایت روایت بیان کرنے سے نہیں روکتی۔ ورنہ صحابی پر مخالفت رسول ﷺ کا الزام آئے گا۔
    · مجتہد صحابہ کرامؓ احکام کی علتوں اور دین کی دیگر نصوص پر غور کرکے اجتہاد کے ذریعے سے مراد رسول ﷺ کو پانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں حضرت معاذؓ نے کتمان علم (علم چھپانے کی وعید)کی حدیث کو سامنے رکھا اور اس بات کی اطلاع دے دی۔
    · اگر مجتہد کسی علت کی وجہ سے حدیث پر نہ عمل کرنے کا حکم لگائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ اس کو ترک حدیث نہیں کہا جائے گا۔
    حدیث
    عن ابي هريرة ان سعد بن عبادة الانصاري قال يا رسول الله ارايت الرجل يجد مع امراته رجلا ايقتله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا قال سعد بلى والذي اكرمك بالحق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعوا الى ما يقول سيدكم۔(صحیح مسلم، کتاب اللعان)
    حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے سعد بن عبادہ نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ ﷺ اگر کوئی شخص پنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تو کیا وہ اس کو قتل کردے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ سعدؓ بولے:’’کیوں نہ قتل کرے قسم اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو دین حق کے ساتھ مشرف فرمایا میں تو تلوار سے فورا اس کا کام تمام کردوں گا۔’’ رسول اللہ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا: ‘‘سنو! تمہارا سردار کیا کہتا ہے۔‘‘
    فائدہ:
    · بظاہر حضرت سعدؓ نے حدیث کا انکار کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قتل نہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں لیکن حضرت سعدؓ اس پر اصرار کررہے ہیں۔ انؓ کے انکار کے باوجود رسول اللہ ﷺ ’سردار‘ کہہ کر ان کی تعریف فرما رہے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ حضرت سعدؓ رسول ﷺ کے ارشاد کا مطلب کچھ اور سمجھے اور آپ ﷺ کا ان کو سردار کہہ تعریف فرمانا اس کی تائید تھی۔
    · مجتہد اگر اپنی اجتہادی قوت سے حدیث کے کسی دقیق (گہرے) مفہوم کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرے اور ظاہری مفہوم کو اختیار نہ کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔
    · یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی مجتہد کا اجتہاد ظاہر حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ اس حدیث کے بیک وقت کئی معانی نکلتے ہوں اور اس نے ان مختلف معانی میں سے کسی ایک کو اختیار کرلیا ہے۔ اس کی مثال بنوقریظہ والی حدیث ہے (‏حدیث 23، ص 27)۔ یا وہ کسی اور حدیث کو اس حدیث کے مقابلے میں راجح (زیادہ صحیح سمجھنا) سمجھتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس حدیث کو ترک کردیا ہے۔
    مجتہد
    مجتہد اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن و سنت سے مسائل کو اخذ کرسکے یعنی مسائل کا حل ڈھونڈ سکے۔ مجتہد کی مثال ماہر قانون کی سی ہے جو قانون بنانے والا نہیں ہوتا بلکہ قانون کا شارح یعنی شرح کرنے والا ہوتا ہے۔ عام آدمی کو جب ضرورت پڑتی ہے تو اس سے پوچھ کر عمل کرتا ہے۔ مجتہد وہ عالم ہوتا ہے جس کو پانچ طرح کے علوم پر عبور ہوتا ہے۔ اول کتاب اللہ، یعنی قرآن مجید کا علم، دوم سنت رسول ﷺ کا علم، سوم علمائے سلف کے اقوال کا علم کہ ان کا اتفاق کس قول پر ہے اور اختلاف کس قول میں ہے۔ چہارم لغت عربی کا علم، پنجم قیاس کا علم۔ قیاس جو قرآن و حدیث سے حکم نکالنے کا طریقہ ہے۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جس کو پانچ لاکھ حدیثیں یاد ہوں ( سند و متن سے پوری طرح آگاہ ہو) اور صحابہ اور تابعین کے فتاوی میں بصیرت تامہ، (ان کے تمام احوال سے مکمل واقفیت ہو) تب وہ اجتہاد کرسکتا ہے، یعنی مکمل علم، رکھتا ہو تو اس کو فتوی دینے کا حق ہے یعنی وہ اجتہاد کرسکتا ہے۔ یہ ہے وہ معیار جس کا حامل شخص ہی مجتہدین فقہا کی رائے پر کوئی بات کرسکتا ہے جو اس درجہ علمیت کا حامل نہ ہو تو ایسے کسی شخص کا کسی مجتہد کے اجتہاد کومخالف حدیث کہہ دینا بڑی جرات کی بات ہے۔ آج کل پانچ لاکھ حدیثیں یاد ہونا تو بڑی بات ہے، ایسا عالم جس کو صحیح بخاری سند و متن کے ساتھ یاد ہو ڈھونڈے نہیں ملتا جب کہ صحیح بخاری میں صرف 7275 احادیث ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ صرف فن کے ماہر کی تحقیق ہی مانی جائے گی۔ چنانچہ حدیث کے لیے علم حدیث کے ماہر اور فقہ کے لیے فقہ کے ماہر۔ اور جو ایسا نہ کرے وہ دین و دنیا دونوں میں نقصان اٹھائے گا۔رسول اللہ ﷺ جب بیعت لیتے تو اس میں ایک عہد یہ بھی لیتے تھے کہ ان لا ننازع الامر اھلہ یعنی اہل امر (حکام و علما) سے منازعت (حجت بازی) نہیں کریں گے۔
    یہاں اتنا اور جان لیجیے کہ کسی مجتہد کا قول کسی حدیث کے مخالف ثابت کرنے کے لیے تین باتیں ضروری ہیں:
    1)اس مسئلہ کی صحیح مراد معلوم ہو یعنی ہمیں معلوم ہو کہ مجتہد کے اس قول سے اس کی کیا مراد ہے۔ دوسرے لفظوں میں فقہ کے مسئلے کو پورا اور صحیح سمجھنا۔
    2) اس کی دلیل پر اطلاع ہو۔ یعنی ہمیں معلوم ہو کہ مجتہد نے کس آیت یا حدیث کی بنیاد پر اس قول کو اختیار کیا ہے۔
    3) اس کا طریقہ استدلال معلوم ہو۔ یعنی وہ اس نتیجے پر کس طور پہنچا ہے۔ اس لیے کہ بعض اوقات وہ مختلف آیات و احادیث کو سامنے رکھ کر ایک نتیجے پر پہنچتا ہے۔ جس طرح ایک ماہر ڈاکٹر کسی مرض کی تشخیص کرتا ہے تو مختلف علامتوں پر غور کرتا ہوا ایک نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اب اگر کوئی نااہل اس سے دریافت کرے کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس چیز کو سمجھنا کسی ڈاکٹر کا کام ہے۔ اسی طرح مجتہد کسی نتیجے پر کیسے پہنچا یہ سمجھنا اہل علم کا کام ہے۔ اور غیراہل علم کو سمجھانا ناممکن سی بات ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی مجتہد کی رائے پر اعتراض کرنا ایسے شخص کا کام ہے جو خود بہت بڑا عالم ہو، روایات اور درایت (فہم حدیث) کا ماہر ہو۔
    (جاری ہے)​
    Last edited: ‏مارچ 26, 2016
    اشماریہ اور ابن عثمان .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    جزاک اللہ۔ بہت عمدہ مضمون ہے۔ دو چیزوں کی وضاحت اگر فرما دیں۔۔۔۔
    حضرت سعد کیا سمجھے تھے؟

    یہ غالبا امام احمد کا قول ہے۔ کیوں کہ امام مالک کے زمانے میں تو پانچ لاکھ احادیث موجود ہی نہیں تھیں (بعد میں یہ تعداد اسناد کی تعداد کے اعتبار سے بنی)۔ اسے دوبارہ دیکھ کر بتا دیجیے۔
    جزاک اللہ خیرا
    abusufiyan نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    یہ مقولہ مجھے بھی یہی یاد پڑتا ہے کہ امام احمدؒ کا ہے ۔ امام مالک ؒ کا بھی ہو سکتا ہے ۔۔کیونکہ
    امام مالک ؒ کے معاصر امام ابوحنیفہؒ کے کلام میں ۵ لاکھ کا ذکر ہے ۔
    ان کی جو وصیت ان کے بیٹے حمادؒ کے نام ہے اس میں ہے کہ ۵ احادیث کا انتخاب انہوں نے ۵لاکھ احادیث سے کیا ۔
    اس میں کئی باتیں ہو سکتی ہیں ۔
    یہ تعدد اسانید کی وجہ سے ہے ۔
    اور اس میں صحابہ ؓ و تابعینؒ کے آثار شامل ہیں ۔
    اور یہ غیر صحیح احادیث بلکہ موضوع کو بھی شامل ہے ۔
    جیسا کہ امام ابو یوسف ؒ سے منقول ہے کہ انہیں بہت ساری منسوخ حدیثیں بھی یاد تھیں ۔
    امام یحیی بن معینؒ کو امام احمدؒ نے دیکھا کہ ایک موضوع احادیث کا صحیفہ یاد کر رہے ہیں ۔(تاکہ کوئی دھوکا دے تو وہ پکڑ لیں )
    یا امام بخاریؒ کے کلام میں ہے کہ انہیں کئی لاکھ غیر صحیح احادیث بھی یاد تھیں ۔
    یا جیسے امام ابو حنیفہؒ کے کلام میں ہے کہ میرے پاس احادیث کے صندوق بھرے ہیں ۔ میں نے تھوڑی نکالی ہیں جن سے نفع ہو ۔
    Last edited: ‏مارچ 29, 2016
  4. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    اس کی سند دیکھیے۔ یا اگر ممکن ہے تو یہ روایت یہاں تحریر فرما دیجیے۔
  5. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    اس کا جواب اتنا تھوڑا تو ہو نہیں سکتا ۔

    مختصراََ یہ کہ ۔امام ابوحنیفہؒ نے اپنے تلامذہ کو وصیتیں فرمائی ہیں ۔ کل ۵ ہیں شاید ۔۱۔ تمام تلامذہ کو،۲۔یوسف سمتیؒ کو ۳۔ نوح الجامعؒ کو ۴۔ حمادؒ کو۔پانچویں شاید ابو یوسفؒ کو تھی۔

    ساری مشہور ہیں ۔ان میں دو تو زیادہ مشہور ہیں ۔ان میں بھی تمام تلامذہ والی سب سے مشہور ہے ۔ جس کی بےنظیر شرح اکمل بابرتیؒ نے کی۔

    مولانا عاشق الٰہیؒ نے مجموعہ وصیہ اردو میں شائع کی ہیں ۔ مفتی عزیز الرحمٰن والی مناقب ابی حنیفہ اردو کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ اس میں حمادؒ والی وصیت ہے

    مفتی رشید علوی نے بھی مجموعہ وصایا کو اپنی تشریحات کے ساتھ شائع کیا تھا ۔ وہ بھی نیٹ پہ کہیں ہے ۔اس میں بھی یہ ہے ۔

    پھر مولانا زکریاؒ نے اوجز.ج١٦-٦٦ میں وصیت حماد کا ذکر کیا ہے ۔اور ان کے شاگرد مولانا عاقل سہارنپوریؒ نے شرح ابو داؤد مقدمہ میں۔

    اور کبھی اعتراض سنا بھی نہیں کہ کسی نے اس کی نسبت پر اعتراض کیا ہو۔

    مولانا خالد محمود صاحب کی روایت شاید ان کی آثار حدیث میں ہے ۔ ’’جب نئی نئی وصیت حماد شائع ہوئی تو مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ (واقعتاََ معتدل اہلحدیث) اس کو لے کر سب کو دکھاتے کہ دیکھو امام صاحبؒ کی نظر ۵ لاکھ احادیث پر تھی ۔

    پھر فہارس کتب میں وصیت حماد کے کئی مخطوطات کا ذکر ہے ۔

    معجم تاریخ التراث الاسلامی فی مکتبات العالم ۔المخطوطات و المطبوعات۔۔صفحہ ۳۸۴۶

    سے اس کے کچھ مخطوطات کی فہرس نقل کر رہا ہوں ۔

    وصیۃ الامام الاعظم ابی حنیفہ الی ابنہ حماد۔

    فاتح رقم۷۔۵۳۹۲۔۔۔ورقہ ۱۲۵۔۱۳۶ ، ۱۱۴۲ھ

    الازھر آداب و فضائل ۱۱۴۰ ورقہ ۷۔۹ ،

    بایزید عمومی ۴۔۳۰۸۰ ۔۔ورقہ ۷۔۱۰۔۔۱۱۷۸ھ

    Ramazanoglu رقم ۱۷۔۱۴۰ ، ،،۶۔۸۸۰

    جامعہ استانبول – 2/1516..ورقہ 9-10…رقم 2/6461 ورقہ 6-9

    ازمیر ملی ۔۔رقم6/788,4/594,3/373

    Karaman رقم4/1040ورقہ47-49

    عاشر افندی2/450ورقہ76-81,3/437ورقہ7-8

    Amasyaرقم4/972ورقہ واحدۃ

    بلدیۃ الاسکندریہ فنون ۷۔۱۵۶

    الظاہریہ عام ۲۴۰ ورقہ۱۳۸۔۱۳۹

    محمود ثانی ۳۔۲۹۰۔۔۔ورقہ۱۰۳۔۱۰۵۔۔۔۱۰۵۳ھ

    المکتبہ القادریہ۱۴۲۶ورقہ۴

    Petresburg 1137

    Munchen 6/648ورقہ74-75

    مجامع ۸۔۱۷۶

    TDK/A/360/8ورقہ24-25

    اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔

    اس کا ایک مخطوطہ میرے پاس بھی ہے ۔یاد نہیں کہاں سے ڈاؤنلوڈ کیا تھا۔

    ان مخطوطات پہ جدید خطوط پہ تحقیق تو ہونی چاہیے ۔ لیکن کون کرے عرب والے تو توسل استوا سے ہی فارغ نہیں ہوتے ۔ اِدھراکابر کے ملفوظات ، خطبات ، درسی تقارير ۔کی طرف رجحان زیادہ ہے ۔ کون کرے تحقیق۔؟
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male
    جزاک اللہ خیرا۔
    مسئلہ صرف یہ ہے کہ اگر امام مالک و ابو حنیفہ رحمہما اللہ کے زمانے میں ہم 5 لاکھ احادیث کو تسلیم کرتے ہیں (چاہے سندا ہی کیوں نہ ہو)۔ پھر زمانہ ہے امام شافعی و احمد کا اور پھر امام بخاری کا۔ اگر ہر زمانے میں ایک روایت کے لیے صرف چار رواۃ ہی مان لیں (ظاہر ہے بعض روایات کے لیے زیادہ اور بعض کے لیے کم ہوتے ہیں) تو امام بخاری کے زمانے میں اسی لاکھ یا ایک کروڑ کے قریب روایات ہو جاتی ہیں۔ سوال صرف اتنا سا ہے کہ وہ روایات اور وہ اسناد کہاں گئیں؟ حالانکہ ہم بخوبی واقف ہیں کہ تعدد اسناد کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ کیا اس امت کے جلیل القدر محدثین نے اتنی کوتاہی برتی کہ ضعیف اور موضوع روایات روایت کرتے رہے اور ان اسانید کو چھوڑ دیا جن کی بنیاد پر ضعیف حدیث بھی قابل استدلال ہو جاتی ہے؟

    اس لیے عرض کیا ہے کہ اس روایت حماد کی سند کو ایک بار دیکھ لیجیے۔
    abusufiyan نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male

    جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس وصیت کے مخطوطات بصورت کتاب یا تصنیف کے الگ سے موجود ہے ۔ یہ امام ابو حنیفہؒ کی تصنیفات کے ضمن میں بیان ہوتی ہے ۔اب ظاہر ہے آپ حمادؒ سے نیچے کی سند پوچھ رہے ہیں ۔ اب یہ مستقل حدیث کی کتاب تو ہے نہیں کہ اس پہ سماعات و ملاحظات ہوں ۔ کتب احادیث کے علاوہ اکثر کتب کی اسناد کوئی نہیں ہوتیں ان کے مخطوطات پر۔بلکہ کئی کتب احادیث کی بھی نہیں ہوتیں ۔ ہوں بھی تو اس پر بنیاد نہیں ہوتی ۔

    نہ ہی اس کی کچھ ضرورت سمجھی جاتی ہے ۔ بس مصنف کی طرف نسبت کافی ہوتی ہے ۔

    اور امام ابو حنیفہؒ کی طرف تصانیف کے ضمن میں وصیتوں کے انتساب کا کسی نے بھی شک کا اظہار نہیں کیا ۔

    اگرچہ فقہ اکبر جیسی مشہور کتاب پر تو اعتراض ہوتا ہے ۔جس کی اور وجوہات ہیں ۔ آپ کے تو علم میں ہی ہوگا۔

    البتہ ۲ کتابوں کا امام صاحب ؒ سے انتساب ہو گیا ہے اس پر صحیح شک کیا جاتا ہے ۔ وہ ان کی نہیں ہیں ۔

    ایک مقصود فی الصرف، دوسری قصیدہ فی مدح رسولﷺ

    وصیت حمادؒ کے مخطوطات پہ ہوسکتا ہے کچھ ہو بھی ۔ پوری دنیا میں اس کے مخطوطات پھیلے ہوئے ہیں ۔ اور سارے مخطوطوں پر نظر کر کے ہی کچھ پتہ چل سکتا ہے ۔ کچھ مل بھی گیا تو زیادہ سے زیادہ اس کی حیثیت تبرکاََ کی ہی ہو گی ۔ جیسے کتب اثبات میں تفاسیر تصوف وغیرہ کی اسانید موجود ہوتی ہیں ۔
    اس وصیت کا متن مفتی رشید علوی کی تشریح کے ساتھ یہاں سے دیکھیں
    http://www.archive.org/stream/Imam-...aynByShaykhRasheedAhmadAlvi#page/n62/mode/1up

    لیکن اس مسئلہ میں صرف اس وصیت کا ہی جملہ بنیادی جملہ نہیں ہے ۔ اس کے نظائر اور بھی ہوسکتے ہیں ۔


    یہ اعتراض پہلے بھی ہو چکا ہے۔۔کچھ لاکھ کم بھی کر لیں یا امام ابو حنیفہؒ یا امام مالکؒ کے دور کو چھوڑ بھی دیں اور صرف امام احمدؒ ، یحییؒ ، بخاریؒ کے اقوال کو جو مشہور ہیں دیکھیں تو اعتراض تو پھر بھی باقی رہتا ہے ۔ ۔ جیسے اصول حدیث کی کتب میں امام احمد سے ساڑھے سات لاکھ اور دس لاکھ کا قول

    اور امام یحیی بن معین ؒ کا ۱۰ لاکھ کا قول تو مشہور ہے ۔ اسی طرح امام بخاریؒ کا ۳ لاکھ غیر صحیح والاقول۔

    ان اقوال کو دیکھ کر ہی انہی الفاظ میں اعتراض ہو چکا ہے جیسے آپ کر رہے ہیں ۔اب اس کا تفصیل جواب تو فرصت کا کام ہے

    یہ ایک حوالہ ہے اس کو دیکھ لیں ۔

    التراتيب الإدارية۔۔ج۲ص۱۴۳

    عبد الحي الكتاني1382هـ

    وقد قال الحافظ الأسيوطي أول تدريب الراوي له ص 8: ومما روي في قدر حفظ الحفاظ قال أحمد بن حنبل: انتقيت المسند من سبعمائة ألف وخمسين ألف حديث. وقال أبو زرعة الرازي: كان أحمد يحفظ ألف ألف حديث قيل له وما يدريك؟ قال: ذاكرته، فأخذت عليه الأبواب وقال يحيى بن معين: كتبت بيدي ألف ألف حديث. وقال البخاري:

    أحفظ مائة ألف حديث صحيح، ومائتي ألف حديث غير صحيح. وقال مسلم: صنفت هذا المسند الصحيح من ثلاثمائة ألف حديث، انتخبت منها ما ضمنته كتاب السنن. وقال الحاكم في المدخل: كان الواحد من الحفاظ يحفظ خمسمائة ألف حديث. سمعت أبا جعفر الرازي يقول: سمعت أبا عبد الله بن وارة يقول: كنت عند إسحاق بن إبراهيم بنيسابور، فقال رجل من أهل العراق: سمعت أحمد بن حنبل يقول: صح من الحديث سبعمائة ألف. وهذا الفتى يعني أبا زرعة قد حفظ سبعمائة. قال البيهقي: أراد ما صح من الأحاديث وأقاويل الصحابة والتابعين اهـ.
    قلت: رحم الله الحافظ البيهقي فقد أزال عن القلب غمة، ورفع عن الدين أكبر وصمة بهذه الإفادة التي شرح فيها هذه المقالة، فإن كثيرا من المتفقهين الآن يقولون: مع تكفل الله بالدين، أين هذا المقدار من السنة الآن؟ فهل لم يدون؟ فبيّن البيهقي أن مرادهم بهذه الأعداد العظيمة ما يشمل السنة وآثار الصحابة والتابعين، أو أنهم كانوا يريدون طرق الحديث المتنوعة، فيجعلون كل طريق حديثا، وكل حديث له طرق وروايات، فمرادهم بهذا العدد العديد طرق الحديث الواحد العديدة، ورواياته المتنوعة، وقد يكون الحديث واحدا ولكن باعتبار طرقه، واختلاف الفاظه وتعدد من رواه؛ يعدّ الحديث الواحد بالمائة؛ لأنهم كانوا يقولون: لو لم نكتب الحديث من عشرين وجها ما عرفناه.

    وفي صدي الخواطر للحافظ ابن الجوزي في فصل 175: جرى بيني وبين أصحاب الحديث كلام في قول الإمام أحمد: صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعمائة ألف حديث، فقلت له: إنما يعني به الطرق. فقال: لا المتون. فقلت: هذا بعيد التصور، ثم رأيت لأبي عبد الله الحاكم في كتاب المدخل إلى كتاب الإكليل كلاما فعجبت كيف خفي هذا على الحاكم، وهو يعلم أن أجمع المسانيد الظاهرة مسند أحمد وقد طاف الدنيا مرتين حتى حصله، وهو أربعون ألف حديث منها: عشرة آلالف مكررة قال أحمد: جمعته من أكثر من سبعمائة ألف وخمسين ألف حديث. أفترى يخفى على متيقظ أنه أراد غير الطرق؟ فإن السبعمائة ألف إن كانت كلام النبي صلى الله عليه وسلم فكيف ضاعت ولم أهملت؟ وقد وصلت كلها إلى زمن أحمد، فانتقى منها ورمى الباقي، وأصحاب الحديث قد كتبوا كل شيء من الموضوع والكذب، ولا يحسن أن يقال: إن الصحابة الذين رووها ماتوا، ولم يحدثوا بها التابعين.

    فإن الأمر قد وصل إلى أحمد وما كان الأمر ليذهب هكذا عاجلا.

    ومعلوم أنه لو جمع الصحيح والمحال الموضوع وكل منقول عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بلغ خمسين ألفا فأين الباقي؟ ولا يجوز أن يقال: تلك الأحاديث كلام التابعين فإن الفقهاء نقلوا مذاهب القوم ودوّنوها وأخذوا بها، ولا وجه لتركها ففهم كل ذي لب أي الإشارة إلى الطرق وما توهمه الحاكم فاسد، ولو عرض هذا عليه وقيل له: فأين الباقي؟ لم يكن له جواب. لكن الفهم عزيز اهـ كلام ابن الجوزي باختصار.

    ولما نقل الإمام أبو الحسن السندي المدني في حواشيه، على مسند أحمد عن الطيبي في شرح المشكاة أن أحمد قال: صح من الأحاديث سبعمائة ألف وكسر، عقّبه بقوله:

    والمراد بهذه الأعداد الطرق لا المتون
    اس کلام میں میرا خیال ہے ساری بحث موجود ہے ۔

    ہم محدثین سے حسن ظن رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک روایت کے فالتو طرق چھوڑ دیے جن کا بنیادی راوی ایک ضعیف راوی ہو ۔آگے چاہے اس کے طرق میں اضافہ ہو جائے ۔ تابعین کے ایک دور کا راوی ہے جابر جعفی اب اس کی روایات کئی کتب میں موجود ہوتی ہیں ۔اب وہ ہزاروں روایتیں بیان کرتا تھا اس کے شاگرد بھی بہت تھے ۔ سفیان ؒ و شعبہؒ بھی اس کی روایت لیتے تھے ۔ائمہ نے بہت احتیاط سے اس کی روایتوں کو چن لیا ۔

    اگر آپ کبھی شیعہ کتب میں روایات دیکھیں تو ان میں یہ راوی کثرت سے ملے گا۔

    اسی طرح ایک انتہائی صحیح روایت جو ثابت ہو چکی اس کے بھی فالتو طرق چھوڑ دیے ۔ کیونکہ روایت ثابت ہوگئی ۔



    اس پر میرے کچھ ذاتی خیالات ہیں وہ بیان کرتا ہوں ۔ اس کوصرف میرے ہی سمجھیے گا ۔ غلطی پہ زیادہ توجہ نہیں دینا۔

    یہ جو آپ نے فرض کیا ہے کہ طرق بڑھتے رہے ۔ ان تمام ائمہ کے کلام میں یہ تو موجود ہے کہ یہ روایتیں بیان یا مذاکرہ میں تو ہوتی تھیں ۔یا حفظ میں ۔ لیکن مدون ہونا اور چیز ہے ۔

    اور بعض جگہہ طرق بڑھنا تو ٹھیک ہے ۔ تو بعض جگہہ الٹا حساب ہے ۔ جیسے کوفہ میں روایات بھری ہوئی تھیں ۔ لیکن ان کے محدثین روایت کرنے میں تشدد کرتے تھے ۔ یہی یحیی بن معینؒ دس لاکھ کے حافظ تھے ۔ لیکن ان کی آگے روایات ہزار سے بھی کم ہوں گی۔

    یا جیسے ابوبکرؓ اور ابو ہریرہؓ کا تقابل۔

    امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے دور میں یا کچھ بعد تک آثار صحابہؓ و تابعین کو روایت کرنا یا ان کے بھی طرق اکٹھے کرنا کم ہو گیا تھا ۔ جیسا کہ کتب احادیث سے ظاہر ہے ۔مرفوع کی طرف زیادہ توجہ ہو گئی تھی ۔اس لئے طرق بڑھنا ضروری نہیں ۔

    ایک اور بات میری ناقص فہم میں یہ کہ اگر طرق کو تمام محدثین کی رحلات سے اورکتب اثبات سے جوڑ کر دیکھیں
    تو ہر سند الگ
    کاؤ نٹ کر سکتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ روایا ت لاکھوں پھر کڑوڑوں تک جا سکتی ہے ۔

    واللہ اعلم
    Last edited: ‏مارچ 31, 2016
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    435
    موصول پسندیدگیاں:
    271
    صنف:
    Male

    جزاك الله خیرا۔ بس میں یہی کہہ رہا تھا کہ یہ تعداد اس زمانے میں تعدد طرق سے ہونا بہرحال مشکل معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ہو۔

    یہ کلام میری نظروں سے پہلی بار گزرا ہے۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر دیں۔ ویسے یہ سوالات و جوابات اساتذہ سے کئی بار سنے ہیں۔
    یہ سب باتیں جو ہم نے تعدد طرق کی کیں یہ دس پندرہ لاکھ روایات میں تو ممکن ہے لیکن اسی نوے لاکھ میں عقلا محال معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم

    ایك ہی راوی بعض کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔ جابر جعفی کو ہی لے لیجیے۔ ثوریؒ اور شعبہؒ نے صرف اس کی روایات نہیں لیں بلکہ اس کی توثیق بھی کی ہے۔ اس کے لیے تہذیب الکمال دیکھ سکتے ہیں۔ تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعد میں آنے والوں نے صرف اپنے معیار کے مطابق اس راوی کی ہزاروں احادیث کو چھوڑ دیا؟ حالانکہ عین ممکن تھا کہ وہ دیگر کے نزدیک ثقہ ہوتا؟

    دوسری بات تمام محدثین فقہاء نہیں تھے۔ صحیح روایات میں بھی بعض میں کمی اور بعض میں زیادتی ہوتی ہے اور اس کمی اور زیادتی پر زیلعیؒ کے قول کے مطابق تعداد رواۃ کا بھی اثر ہوتا ہے۔ عقلا بھی یہی بات ہے۔
    پھر سب ہی رواۃ روایت باللفظ نہیں کرتے تھے بلکہ بالمعنی بھی کرتے تھے۔اسی لاکھ طرق میں یہ روایت بالمعنی کتنی ہوگی اس کا اندازہ آپ موجود روایات کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں۔ اس روایت بالمعنی سے بہت سی چیزیں حاصل ہوتی ہیں جو اگر وہ غیر فقہاء محدثین نہیں نکال سکتے تھے تو فقہاء کے لیے چھوڑ سکتے تھے۔
    پھر روایت ہر راوی کے لیے الگ سے باعث افتخار ہے کہ تاقیامت اسے ثواب ملے اس پر۔ اسی لاکھ میں سے اگر موجود روایات دس لاکھ بھی ہوں (جو کہ یقینا نہیں ہیں) تو بھی کتنے روات رہ گئے؟

    بہرحال یہ ایسی باتیں ہیں جن میں طرفین کے پاس ہی کوئی قطعی دلیل نہیں اور نہ ہی ان ابحاث کا فائدہ ہے۔ اگر امام مالکؒ کا یہ قول ہے تب بھی عمدہ بات ہے اور اگر نہیں ہے تو امام احمد کا تو ہے ہی۔
  9. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    صحيح ہے ان ابحاث کا فائدہ نہیں ۔ یہ تو جواب اعتراض کی وجہ سے دیے گئے ہیں ۔
    حالانکہ اہم بات صرف یہ ہے کہ تمام ائمہ کا مقصد وہ حاصل بتانا تھا جو انہوں نے اتنی کثیر احادیث سے منتخب کر کے پیش کیا ۔
    جیسے امام ابو حنیفہؒ کا حاصل وہ ۵ احادیث کی اہمیت بتانا ہے ۔ یہ بنیادی حدیثیں دوسرے ائمہ نے بھی بتائیں ۔
    امام احمدؒ کا مسند احمد کی اہمیت کا بتانا ہے ۔
    امام یحییؒ کا رجال پر جرح و تعدیل کا صحیح حقدار ہونا بتانا ہے ۔ اگر کبھی کسی جگہہ یہ سوال رکھ دیا جائے کے متقدمین کے صرف ایک امام کو پیش کریں جس کو جرح و تعدیل میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ تو وہ یحیی بن معین ؒ ہی ہوں گے۔
    امام بخاریؒ کا صحیح بخاریؒ کی اہمیت بتانا ہے ۔
    اللہ کی حکمت ہے جو چیز ضروریات دین میں سے ہے ۔ وہ امت سے مخفی نہیں رہ سکتی ۔
    Last edited: ‏مارچ 31, 2016
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. ابن عثمان

    ابن عثمان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    195
    موصول پسندیدگیاں:
    192
    صنف:
    Male
    اپنی پرانی پوسٹوں کو دیکھتے ہوئے یہاں نظر پڑی تو محسوس ہوا کہ غیر محسوس طور پہ زیادتی ہوگئی ۔۔

    محترم @دیوان بھائی ۔۔کا اتنا علمی مضمون ابھی جاری تھا ۔۔۔اور ہم دو بھائی ۔۔دوسری بحث میں الجھ گئے۔۔
    اگر ۔۔دیوان بھائی ۔۔ اسے پڑھ لیں تو ۔۔ان سے گزارش ہے وہ مضمون کو ضرور مکمل کریں ۔

    اور انتظامیہ کے بھائیوں سے گزارش ہے کہ۔۔۔۔اگر ہوسکے تو۔۔۔۔۔ پوسٹ نمبر 3 سے لے کر آخر تک کی تمام پوسٹیں اٹھا کر ایک دوسرے تھریڈ ۔۔۔میں ۔۔۔۔’’5 لاکھ احادیث ۔طرق یا متون‘‘ کے نام سے ایک تھریڈ بنا کر اس میں ڈال دیں ۔۔۔
    یوں ۔۔۔بحث ۔۔۔الگ۔۔۔ہوجائے گی ۔۔جزاکم اللہ خیرا۔

اس صفحے کو مشتہر کریں