معاشرہ کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 16, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    معاشرہ کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟
    ناصرالدین مظاہری
    ایک مفتی صاحب سے کچھ سادہ لوح افراد نے مسئلہ معلوم کیا کہ ایک کنویں میں بلی گرکر مرگئی ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟مفتی صاحب نے مسئلہ بتایاکہ کنویں کا تمام پانی نکال دیا جائے ،عوام نے کنویں کا تمام پانی نکال کر مفتی صاحب سے کہا کہ پانی تو نکال دیا گیا لیکن بدبو اَب بھی باقی ہے ،وجہ معلوم کی گئی تو پتہ چلا کہ پانی تو نکال دیا گیا لیکن بلی اب بھی کنویں میں موجود ہے ۔
    آج ہمارے معاشرہ میں یہی ہورہا ہے ،ہم دنیا کی بدبو ختم کرنے کے فراق میں ہے لیکن اپنے اندر کی بدبودورکرنے پر ہماری کوئی توجہ نہیں ہے جب تک اپنے گردو پیش کے سدھا ر اوراصلاح سے پہلے ہم خود کو سدھارنے اورسنوارنے کی کوشش نہیں کریں گے معاشرہ نہیں سدھر سکتا۔
    اصلاح معاشرہ کے لئے وجودمیں آنے والی مختلف تنظیمیں اورتحریکات ،مختلف دینی اجتماعات اورمجلسوں میں معاشرہ کیلئے فکرمندی اوراظہارہمدردی کی آوازیں عموماًسنائی دیتی ہیں،مقررین ومفکرین،علماء وصلحائ، دانشوران قوم وملت،زعماء امت اوردینی ،اصلاحی اورسماجی خدمات پرمامورشخصیات کی تقریروں اور تحریروں کاخلاصہ یہی ہوتاہے کہ ملت کاسدھارکس طرح ممکن ہے؟معاشرہ کی صالحیت اورقوم کی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے؟ہماری قومی اورمذہبی شناخت اورپہچان کو کس طرح محفوظ رکھاجاسکتاہے؟
    اس سلسلہ میں منبرومحراب سے لے کراسٹیج تک ،قرطاس وقلم سے لے کراخبارات اورتصنیفات وتالیفات تک ہرجگہ اصلاح معاشرہ کارونارویاجارہاہے،علماء کی کوئی مجلس،دانشوروں کی کوئی نشست،مقررین کا کوئی اجتماع اس موضوع سے محروم نہیں ہوتا۔
    لیکن معاشرہ نہ تو سدھرنے کانام لیتاہے،نہ ہی اس کی اصلاح کی آوازیںمسلم گھروں تک پہنچتی ہیں،نہ ہی مسلمانوں کی کوئی جماعت خصوصیت کے ساتھ اس سلسلہ میں قدم اٹھاتی ہے؟نہ ہی زعمائے قوم تقریروں سے آگے کوئی قدم بڑھاتے ہیں،مقررین نے صرف تقریرکردینے کو اپنے فرض منصبی سے سبکدوش ہوناتصورکرلیا، اصلاحی تنظیموں نے کسی قابل قدرکارنامے کو شائع کرکے اپنے نفس کو خوش کرلیااورنتیجہ وہی ’’دھاک کے تین پات‘‘ پرمنحصررہا۔
    یہ بدنظمی اور بے ترتیبی اورکام میں بے برکتی اس وقت تک قائم رہے گی جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے اوربنائے ہوئے اصولوں پر کاربندنہیں ہوں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطافرمانے کے بعد سب سے پہلا حکم یہ دیاکہ ’’وَأَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الَاقْرَبِیْنَ‘‘آپ اپنے عزیزواقارب اورگھروالوں کو ڈرائیے،گھرسے تبلیغ کی شروعات کیجئے،ماں باپ ،بھائی بہنوں،بیوی بچوں اورقریبی عزیزوں کو دین کی طرف بلائیے ۔
    تمام انبیاء کرام کی یہی سنت ہے کہ دعوت تبلیغ اوراصلاح معاشرہ کا آغازاپنے گھروں سے کیا،حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے فرزندوں سے پوچھاکہ ماتعبدون من بعدی اوراولادکایہ جواب کہ نعبدالٰہک والٰہ آبائک ابراہیم واسمعیل واسحق الٰہاواحداونحن لہ مسلمون۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الحاح وزاری اورگریہ وبکاکے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ رب اجعلنی مقیم الصلوٰۃ ومن ذریتی ربناوتقبل دعائ۔
    خودباری تعالیٰ نے حکم دیاکہ یاایہاالذین آمنواقواانفسکم اہلیکم نارا نیز ارشاد فرمایا وأمر أہلک باالصلوٰۃ واصطبرعلیہا۔
    ان واضح ہدایات اورفرمودات سے صاف ظاہرہے کہ داعی کو سب سے پہلے اپنے سدھارکے لئے فکرمند ہوناچاہئے پھراپنے گھروالوں کی اصلاح کرنی چاہئے۔
    جب تک اللہ تعالیٰ کے اس اصول کے مطابق ہم عمل پیرانہیں ہوں گے ،ہماری دعوتیں بیکار،ہماری تبلیغ بے روح،ہماری تصنیفات بے اثراورہماری اصلاحی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔دنیاکے طول وعرض پر اسلام کی صداقت وحقانیت کا اعلان کرنے کے بجائے ہم اپنی اصلاح کی کوشش کریں ،اپنے کردارکودرست ،اپنے افکارکوپاک اوراپنی خودی کو بلندکرلیں توان شاء اللہ آدھی دنیاخودبخود اسلام کی طرف راغب ہوجائے گی۔
    ایک زمانہ تھا کہ یہودی وعیسائی اورمشرکین ومنکرین ،مسلمانوں کی نشست وبرخاست ، کرداروعمل اور فکروجذبہ کو دیکھ کرمسلمان ہوجاتے تھے اورآج ہم ہیں کہ ہماراکوئی عمل اسلام کی تعلیمات کے موافق نہیں ہے،ہماراہرقدم اسلام کی تعلیم کے خلاف اٹھتاہے،ہماری دعوتی گفتگوتضادات سے بھری ہوتی ہے،ٹھیک اس وقت جب ہم مسلمانوں کو اسلام کی روح اورتعلیم کاخوگربنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا ضمیر ہمیں ملامت کرتاہے کہ تمہاری زبان اورتمہارے عمل میں تباین ہے،تضادہے،دورنگی ہے،تم بدعت کو ختم کرنے کی بات کرتے ہواورحال یہ ہے کہ تمہارے گھروں میں بدعت نے اڈے قائم کرکررکھے ہیں،تم اسلام کی شاندارتعلیم کا قوم کو خوگربناناچاہتے ہواور خودتمہاری اولاد انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں زیرتعلیم ہے۔
    تم معاشرہ کی اصلاح کی بات کرتے ہوجب کہ خود تمہاراگھرانہ ہی اصلاح طلب ہے،تم اتحاداتفاق کادرس دیتے ہواورحال یہ ہے کہ تمہارے بھائی تم سے جداہیں،تمہارے والدین تم سے نالاں ہیںاورتمہارے اپنے تم سے خفاہیں۔
    اتحادہویااتفاق،صلح ہویامصالحت،معاشرہ کی درستگی ہویاتعلیم کاعموم ہرمیدان میں کردارکے غازی معدوم ہوتے جارہے ہیں،ریاکاری نے ہمارے ضمیرپرپڑاؤڈال رکھاہے،نفاق کے جراثیم ہمیں کھوکھلاکررہے ہیں، ہمارا کام تلقین وہدایت کے بجائے طعن وتشنیع رہ گیاہے،دوسروں کی خوبیوں کوبنظراستحسان دیکھنے کے بجائے رقابت اور حسدکے خوگرہوگئے ہیں،اتحادکی بات کرتے ہیں اوربرادری عصبیت کے کیڑے ہمارے ذہنوں میں کلبلارہے ہوتے ہیں،دعوت کے لئے ہم فکرمندہیں لیکن کبھی اس کی توفیق نہیں ملی کہ اپنے گھروالوں ،بچوں اورعزیزواقارب کودین کاخوگربنائیں۔غورکیجئے !جب برائیاں ہمارے اندرموجودہیں تواچھائیاں کیونکرنظرآسکتی ہیں،بیماریاں ہمارے وجودکوکھوکھلاکررہی ہیں اورہم ظاہری وباہری علاج پرتکیہ کئے بیٹھے ہیں،دین اورشریعت کی نظروں میں ہم بے وقعت ہوتے جارہے ہیں اورخودکو مصلح ومفکرسمجھنے کامرض ہمارے نفس کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے۔
    بقول ایک داعی اورمفکرکے کہ
    ’’آپ کیلئے فکرکی بات یہ نہیں ہے سماج بگڑرہاہے ،فکرکی بات یہ ہے کہ آپ بگڑرہے ہیں،آپ سدھرجائیں توسماج سدھرجائے ،خرابی سماج میں نہیں خرابی آپ میں ہے ،حیرت ہے کہ آپ باہر کی خرابیوں کے تذکرے کررہے ہیں حالانکہ خرابی جو کچھ ہے آپ کے اندرہے ،تعجب ہے کہ آپ دوسروں کی اصلاح کے لئے بے چین وبے قرارہیں حالانکہ اصلاح کی ضرورت آپ کو ہے ،آپ کو دوسرے لوگ مریض نظرآرہے ہیں ،حالانکہ سب سے بڑے مریض آپ ہیں ،آپ کی اپنی کشتی بھنورمیں ڈانواڈول ہے لیکن آپ کو دوسروں کی کشتیاں ساحل سے لگانے کی بیتابی وبے قراری ہے؟آپ کے گھر کا کل اثاثہ راکھ کا ڈھیر بنتاجارہاہے لیکن آپ دوسروں کے یہاں لگی آگ تلاش کرنے میں مصروف ہیں کہ اسے بجھادیں،اس طرزفکروعمل میں آپ تنہانہیں ہیں ہرایک آپ ہی کی طرح سوچ رہاہے ،ہرایک چاہتاہے کہ اصلاح ہولیکن دوسرے کی،ہرایک چاہتاہے کہ برائیاں ختم ہوں لیکن دوسروں کی زندگی سے ،ہرایک کی تمناہے کہ نیکی اوربھلائی کاچلن عام ہو لیکن یہ سب کچھ دوسرے کریں،ہرایک سارے جہاں کاجائزہ لینے کے لئے نہایت چاق وچوبندہے لیکن اپنے جہاں سے بے خبرہے اوراس بشر کی پستی کایہی اصل سبب ہے‘‘ (اصلاح معاشرہ ص ۱۷)
    باہمہ ذوق آگہی ہائے رے پستئی بشر
    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر
    یادرکھئے!جب کفرکعبہ سے اٹھے گاتومسلمانی باقی نہیں رہ سکے گی اورجب داعی اورمصلح ہی بیمارہوں گے توقوم ومعاشرہ شفانہیں پاسکتے۔
    اپنے من میں ڈوب کر پاجاسراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر
    یادرکھئے!جب کفرکعبہ سے اٹھے گاتومسلمانی باقی نہیں رہ سکے گی اورجب داعی اورمصلح ہی بیمارہوں گے توقوم ومعاشرہ شفانہیں پاسکتے۔
    اپنے من میں ڈوب کر پاجاسراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
    بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کو مشتہر کریں