معاشرے کے لیے راہِ نجات

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زوہا, ‏مئی 4, 2011۔

  1. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    ہم جانتے ہیں کہ خاندان کی ابتدا مرد و عورت کے باہمی تعلق سے ہوتی ہے، یہی مرد و عورت کچھ دنوں کے بعد والدین کہلاتے ہیں، بچے جوان ہوتے ہیں، تو ازدواجی رشتے پھلتے پھولتے اور کنبے و قبیلے وجود پذیر ہوتے ہیں۔ انسانی زندگی کا کارواں آگے بڑھتا ہے اور یہ رنگا رنگ وحدتیں پھیلتی اور سنورتی ہوئی معاشرے کا روپ دھارلیتی ہیں؛ لیکن جب کسی معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان بادسموم کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہوتو علامہ اقبال کی پیشین گوئی:

    تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
    جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

    کو مکمل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس معاشرتی تباہی و بربادی سے نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ قرآن و حدیث میں بتائے ہوئے واضح نقوش اور تاب ناک راہیں ہیں۔
    خاندان کے اِدارے کے لیے طلاق کا لفظ پیغام اجل ہے، اس کی تباہی دنیا کے بیش تر ملکوں میں خطرناک و باکی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق مغربی ممالک میں خاندانی اِدارے تیزی سے بربادی اور ویرانی کی راہ پر گامزن ہیں، اس کا ہلکا سا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک سال ۱۹۹۰/ میں امریکہ میں ۱۶۲۰۰۰/ شادیاں ہوئیں اور ۴۲۶۳۵ طلاق کے واقعات رونما ہوئے۔
    آسٹریلیا میں ۱۱۶۹۴۵/ شادیاں ہوئیں اور ۱۱۱۷۰۰۰/طلاقیں، ڈنمارک میں ۳۰۸۹۴/ شادیاں اور ۱۵۱۵۲ طلاقیں، سوئزرلینڈ میں ۴۶۶۰۳/ شادیاں ہوئیں اور ۱۳۱۸۳/ طلاق کے واردات پیش آئے۔ یہی حال کم وبیش دگر ممالک کا ہے جہاں خاندانی اِدارے برق رفتاری سے اجڑ رہے ہیں جب کہ ان ملکوں میں باضابطہ شادی کا رواج کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے اور بغیر شادی کے اکٹھے رہنے کو محبوب ترین عمل تصور کرتے ہیں۔
    اِس کے علاوہ نیوز ویک میں ۱۶/جولائی ۱۹۹۰/ کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال تیس چالیس عورتوں پر جسمانی تشدد ہوتا ہے، ہر اٹھارہ سیکنڈ کے بعد ایک عورت تشدد کا نشانہ بنتی ہے، امریکہ میں مقیم ہر چار عورتوں میں سے تین کم از کم ایک مرتبہ تشدد کے جرم کا نشانہ بن چکی ہوتی ہیں۔
    اس کے برعکس ساری دنیا کو انسانیت کی لڑی میں پرونے کے لیے آنے والے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش اسلوبی سے طلاق دیے جانے کو بھی ”ابغض المباحات“ (جائز کاموں میں سب سے برا) قرار دیا ہے۔ پھرمیاں بیوی کے درمیان اختلاف کی صورت میں یہ طریقہ نہیں ہے کہ نوبت فوراً طلاق تک پہنچ جائے؛ بلکہ ایک طرف خاتون سے کہا گیا ہے کہ اگر اس کا شوہر بدمزاج ہے تو جدائی کے بجائے صلح کی راہیں تلاش کی جائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بدسلوکی یا
    بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں بیوی پر کچھ حقوق کی کمی بیشی پر آپس میں صلح کرلیں اور صلح ہر حال میں بہتر ہے۔ (النساء: ۱۲۸)
    دوسری طرف مرد کو تلقین کی گئی کہ اگر عورت بدمزاج، سرکش، بداخلاق اور بدسلوکی پر آمادہ ہوتو پہلے اسے نصیحت کرو، پھر اسے خواب گاہ میں تنہا چھوڑ دو؛ تاکہ اسے احساس ہوکہ عارضی جدائی مستقل جدائی کا باعث بھی ہوسکتی ہے پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو اسے سرزنش کرو اگر صلح پر آمادہ ہوجائے تو اسے اذیت دینے کے بہانے مت تلاش کرو اور اگر کام بنتا نظر نہ آئے تو پھر معاملہ دونوں خاندانوں کےمعزز( سربراہ) کے پاس لے جاؤ کہ شادی اسلامی معاشرے میں محض لڑکے لڑکی کا معاہدہ نہیں بلکہ یہ دو خاندانوں میں مودت والفت پیدا کرنے کا موجب ہے۔ اگر دو طرفہ فیصلہ کرنے والے راہِ مصالحت تلاش کرنا چاہیں تو خاندان ٹوٹنے سے بچ جائے گا؛ لیکن اگر کوئی راہِ مصالحت تک رسائی ممکن نہ ہو تو مرد مخصوص حالات اور شرائط کے مطابق ایک طلاق دے؛ تاکہ فریقین کے درمیان نظر ثانی کی راہیں وَا رہیں۔
    قرآن وحدیث کی ان تصریحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان کو بچانے کے سلسلے میں اسلامی شریعت کس قدر حساس ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں لوگ آغاز ہی تین طلاقوں سے کرتے ہیں اور جب ان کے حواس بحال ہوتے ہیں اورعقل ٹھکانے لگتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ لٹ گیا ہے پھر مختلف فقہی مذاہب کے دروازے پر دستک دے کر علما کے سامنے دست بستہ واپسی کی راہیں معلوم کرتے پھرتے ہیں۔ جو شخص یک بارگی تین طلاق دیتا ہے وہ قرآن وحدیث کی صریح نص کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے جو یقینا عظیم جرم ہے،
    کیا یہ مجرم کسی سزا کا مسحق نہیں؟ اگر ایک آدمی ظہار و ایلا وغیرہ کے بعد کفاروں سے گزرکر واپس آسکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ طلاق کے سلسلے میں قطعی نص کی صریح خلاف ورزی کرنے والے کے لیے کوئی تعزیری سزا نہ ہو۔ اگر اس جرم کی سزا مقرر کردی جائے کہ مردوں کو پتہ ہو کہ مجھے دس کوڑے یا ایک سال قید، یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا کچھ نہ کچھ سزا لازماً بھگتنا پڑے گی تو کسی شخص کو بھی اتنا غصہ نہیں آئے گا کہ وہ نصوص قرآنیہ کو پامال کرتا ہوا خاندان کو تہ وبالا کردے۔
    یہ مذہب اسلام ہی ہے جو طلاق کے ناگزیر فیصلے کے بعد بھی نفرت کی دیوار کھڑی ہونے نہیں دیتا؛ بلکہ مطلقہ عورت کو بھی بہت سے حقوق ملتے ہیں۔
    اِرشاد باری تعالیٰ ہے: جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو انھیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کردیا جائے۔ (البقرہ: ۲۴)
    آج کے انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی اگر مطلقہ بیوی اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہے تو اسے ہماری عدالتیں صرف بچے کا خرچ دیتی ہیں جب کہ قرآن حکیم ان کو الگ سے اس کا خرچ دلاتا ہے۔
    اِرشاد باری تعالیٰ ہے: اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا حمل وضع نہ ہوجائے پھراگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تواس کی اجرت انھیں دے دو۔ (الطلاق:۶)
    یہ بحث ایک نومسلم خاتون ”خوالہ لکاتا“ کی رائے پر ختم کی جاتی ہے جو اس نے اسلامی پردے پر گفتگو کرتے ہوئے دی ہے؛ کچھ عورتیں صرف اس وقت عمدہ پوشاک زیب تن کرتی ہیں جب وہ گھروں سے باہر نکلتی ہیں انھیں یہ خیال نہیں رہتا کہ وہ گھروں کے اندر کس طرح رہتی ہیں؛ لیکن اسلام میں عورت اپنے شوہر کے لیے دل کش ہونے کی کوشش کرتی ہے اور شوہر بھی اپنی بیوی کے لیے پرُشکوہ اور بارعب نظر آنے کی کوشش کرتا ہے ایک دوسرے سے متعلق اسی قسم کے جذبات ازدواجی زندگی کو پُرلطف اور پُرمسرت بناتے ہیں
    کوئی عورت کسی مرد کی توجہ اپنی جانب کیوں مبذول کرانا چاہتی ہے جب کہ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے کیا وہ اس بات کو پسند کرتی ہے کہ دوسری عورتیں اس کے شوہر کو اپنی طرف مائل کریں؟ اِس طرح کوئی بھی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام خاندان کے استحکام کے لیے کتنا معاون و مددگار ہے حالیہ دنوں میں اعلیٰ خاندان کی انگریز عورتوں کی مسلم نوجوانوں میں دل چسپی کا محض سبب یہ ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام محکم اور پائیدار ہے جو محض نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ہے اگر آج کی انتہائی بزعم خود ترقی یافتہ اقوام بھی اس نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوش ہوجائیں تو ان کی بھی تقدیر سنورسکتی ہے۔
  2. سرحدی

    سرحدی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    91
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ماشاء اللہ بہت بہترین اور اصلاحی مضمون لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ حقیقتا آج کل معاشرتی برائیوں نے اتنی جگہ لے لی ہے کہ حالات کو ٹھیک طرح سے سمجھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے دین سے دوری نے ہمیں ظلمتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں میں دھکیل دیا ہے۔
    ایک طرف مرد حضرات ہیں کہ اپنا مقام و مرتبہ سمجھنے سے قاصر ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے ناواقف ہیں، تو دوسری طرف ہمارے ہاں کی خواتین اپنے آپ کو مرد کے شانہ بشانہ لانے کے لیے سر توڑ کوشش کرکے فطری تقاضوں سے بغاوت کرکے اپنا رتبہ اور مقام خاک میں ملارہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مرد و عورت اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں اور اسی کے اندر رہتے ہوئے ایک دوسرے کی ضروریات کا پوراپورا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزاریں تو اُمید ہے کہ آپس کے تعلقات کو مضبوط بنایا جاسکے۔
    جزاک اللہ، بہت قیمتی معلومات شیئر کی ہیں۔
  3. بلال جٹ

    بلال جٹ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    201
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    جزاک اللہ زوہا جی
    بہت اچھا لکھا ماشاءاللہ سے
  4. تانیہ

    تانیہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    346
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    تھینکس فار نائس شیئرنگ
    جزاک اللہ
  5. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    انوکھی شادی
    مفتی ناصرالدین مظاہری

    اترپردیش کے ایک شہرمیں ایک صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی ایک ترقی پذیرملک کے ترقی یافتہ خانوادے کے جنٹلمین سے کرنے میں فخرمحسوس کیا۔فضول خرچی کے جتنے ممکنہ طریقے ہوسکتے تھے سبھی کواستعمال کیا،بارات اورباراتی مہنگی ہوائی کمپنیوں سے کانپورپہنچے، باراتیوں کی شایان شان اسراف کیاگیا،کھانے کانظم بھی ان ہی کے معیارکاکیاگیا، جہیزجوبیٹی کودیا جاتا ہے لیکن یہاں معاملہ کچھ اورنرالاتھا،تمام باراتیوں کو ایک ایک خوبصورت کارسے نوازاگیا، کارگوجہازوں میں لادکربیٹی کوسامان سمیت رخصت کیاگیا۔

    شادی کے چنددنوں کے بعدخسرمحترم کودامادنے فون پرخوش خبری سنائی کہ ہم دونوں فلاں تاریخ کولکھنوہوائی اڈہ پہنچ رہے ہیں ،بیٹی اوردامادکے استقبال کے لیے خسرصاحب خودہی خوشی خوشی ہوائی اڈہ پہنچے ،ہوائی جہازآیاصرف بیٹی ایئرپورٹ سے باہرنکلتی نظرآئی ،باپ نے غایت اشتیاق سے دامادکے بارے میں پوچھا اوربیٹی نے غایت تحمل کے ساتھ باپ کے ہاتھوں میں طلاق نامہ تھمادیا۔

    وجہ یہ معلوم ہوئی کہ لڑکی والوں نے باراتیوں کانہ توشایان شان استقبال کیااورجہیزکے نام پرجوکچھ دیاگیاہے وہ دامادصاحب کی نظروں میں کباڑسے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

    کیاآپ نے غورکیاکہ اس شادی میں کس چیزکی کمی تھی؟ سچی بات یہ ہے کہ سنت وشریعت کے سوا کسی چیزکی کمی نہیں تھی، کورچشموں کوہمیشہ ایسے مناظرنظرآتے رہے ہیں ،جب جب سنتوں کامذاق اڑایاگیاہے انسانیت نے اپنا سر پیٹاہے، جب کبھی حوا کی بیٹی کو کھلونا بنایا گیا ہے معاشرہ کا ناسور ظاہرہوگیاہے۔

    ہم لوگ اصلاح معاشرہ کی اسکیمیں بڑے کروفرکے ساتھ بناتے ہیں اورچندہی مہینوں میں وہ اسکیمیں کاغذی رہ جاتی ہیں۔

    مصلحین معاشرہ خوداس سلسلہ میں اصلاح کے پہلوکومدنظرنہیں رکھتے،اپنے بچوں کی شادیوں میں ہورہی فضول خرچیوں کویہ کہہ کرکہ ”یہ توموجودہ دورکے تقاضے ہیں“دل کھول کراسراف کرتے ہیں۔

    آج کل کی شادیاں کیاہیں ؟گویاکاروباری معاملہ ہے،بڑھ چڑھ کردولت کی نمائش کی جاتی ہے،فحاشی وبے حیائی کابول بالا ہوتاہے،بے پردگی اورشرم وحیاکوبالائے طاق رکھ دیاجاتاہے ،خوبصورتی اورملبوسات کی نمائش کی جاتی ہے،اپنے سے کم تر کو رُسوا اور ذلیل کیاجاتاہے۔

    شادی کے لیے لڑکی کودیکھنے کاچلن بھی عجیب سے عجیب تر ہو گیا ہے ،پہلے تولڑکی والوں کے یہاں جانے کی اطلاع پہنچائی جاتی ہے، لڑکی والے مہمانوں کی آوٴبھگت اورخاطرمدارات کے سوسوجتن کرتے ہیں،ادھرلڑکے والے لڑکی کو کھڑاکرکے چلاتے ہیں اوردیکھناچاہتے ہیں کہ لڑکی لنگڑی تونہیں ہے،ہاتھوں سے کام کرایاجاتاہے کہ لُولی تونہیں ہے،بال کھلوائے جاتے ہیں کہ بال چھوٹے یاسفیدتونہیں ہیں،کانوں میں اذانیں دی جاتی ہیں کہ سماعت متأثرتونہیں ہے،تحریرپڑھنے کوکہاجاتاہے، محض یہ دیکھنے کے لیے کہ آوازبھدی تونہیں ۔

    لڑکی کواس قسم کے تکلیف دہ راستوں سے گزارکرعصری تعلیم کے بارے میں پوچھاجاتاہے ،گھریلوکام کاج کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں ،امورخانہ داری کی بابت سوالات کیے جاتے ہیں، لیکن جوچیزدیکھنی چاہیے تھی اس پرکسی کی توجہ نہیں ہوتی،لڑکی کے کرداروسیرت سے آگاہی حاصل نہیں کی جاتی،لڑکی دین دار اورنمازی ہے یانہیں؟ اس سلسلہ میں کوئی سوال نہیں کیاجاتا،حتیٰ کہ حسب ونسب پربھی دھیان نہیں دیاجاتا۔

    شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی فضل خرچی کاسلسلہ شروع ہو جاتاہے، تاریخ لکھنے کے لیے سادے کاغذیاسستے کارڈکے بجائے سونے اورچاندی کی طشتریوں پرتاریخیں کندہ کرائی جاتی ہیں،تاریخ کے لیے مہنگے ہوٹلوں کی بکنگ ہوتی ہے،کھانے کے نام پرکھانے ہی کی توہین کی جاتی ہے،سنجیدگی ومتانت کوخیرباد،سادگی کوسلام اور نمود ونمائش کوگلے لگا لیا جاتاہے، ریا اوردکھاوے کے ہرممکن طریقے اختیارکرکے غربت ومفلسی کامذاق ا ڑایاجاتا ہے۔

    بعض ظلمت زدہ اوربدعت زدہ علاقوں میں لڑکے والے لڑکی والوں سے کچھ ایسی فرمائشیں کرتے ہیں کہ اگرلڑکی والے مطلوبہ چیزیں یامطلوبہ رقم پوری نہیں کرتے تورشتہ توڑدینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، برادری میں ذلیل ورسواکرنے کی بات کی جاتی ہے ،عرف عام میں اس ”بھیک“کوتلک وغیرہ کہاجاتاہے، جوغیراسلامی مشرکانہ رسم ہے۔

    شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی امیرگھرانوں میں لڑکے اورلڑکی کے درمیان حائل پردہ کونہ صرف ختم کرادیا جاتا ہے، بلکہ لڑکے سے کہاجاتاہے کہ اپنی ہونے والی بیوی کوکہیں سیروسیاحت کے لیے لے جاوٴ،تاکہ ایک دوسرے کامزاج سمجھ سکیں اورآنے والی زندگی کوخوش گواراندازمیں چلانے کالائحہ عمل طے کرسکیں۔

    کیسی شرم وحیا،کیسی عفت وعصمت،کہاں کی تہذیب اورکیسی اسلامی ومشرقی تہذیب!! سب چیزوں کاجنازہ نکال دیاگیاہے۔

    شریعت کی تعلیمات کو دقیانوسی کہہ دیا گیا،اسلامی احکامات کوفرسودہ خیالی سے تعبیرکیاگیا،قرآنی ہدایات کوگئے گزرے وقتوں کی کہانی بتایاگیا،لیکن آج ہم جس تمدن اورمعاشرت میں جی رہے ہیں وہاں نہ توعفت وعصمت محفوظ رہی، نہ ہی حیااورشرافت کانام ونشان باقی رہا،اگراسلام کہے کہ لڑکی بارہ سال کی ہوجائے تواس کے والدین کوچاہیے کہ شادی کردیں تواُسے ایک مدعابنا لیاجاتاہے اورمختلف اعتراضات شروع کردیے جاتے ہیں، لیکن جب نفس واقعہ اور اصل تصویر سامنے آتی ہے توپھراسلام اوراسلامی تعلیمات کی خوبیاں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں۔

    شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریامہاجرمدنی نے اپنی تمام بچیوں کے نکاح جس سادگی کے ساتھ کیے وہ سادگی ہمارے لیے قابل تقلیدہے ،کسی بھی بچی کے نکاح کے موقع پرنہ تودعوت نامے شائع ہوئے، نہ ہی بارات کی مروجہ رسوم کی نوبت آئی ،نہ ہی بھیڑبھاڑجمع کی گئی،مہمانوں کی ضیافت کے لیے دیگیں نہیں کھنکیں،سارے مراحل اس طرح انجام تک پہنچے کہ قرب وجوارکے مخصوصین کوبھی بعدمیں پتہ چلاکہ حضرت کی فلاں صاحب زادی فلاں صاحب کے ساتھ فلاں تاریخ کومنسوب ہوگئی۔

    حضرت شیخ الحدیث کے ایک خادم حضرت مولاناحبیب اللہ مظاہری چمپارنی مدظلہ مقیم مدینہ منورہ کی خدمت میں لندن کے دوبڑے تاجرحاضرہوئے اورعرض کیاکہ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کانکاح پڑھادیں؟مولانانے فرمایاسعودی حکومت کاقانون ہے کہ نکاح کامحکمہ شرعیہ میں اندراج ہوتاہے اوروہاں کاقاضی نکاح پڑھاکرسندنکاح دیتاہے !انہوں نے کہاکہ ہمیں سرکاری قاضی کی ضرورت ہے نہ ہی ہمیں ان سے سندنکاح حاصل کرنے کی حاجت ،ہم لوگ تویہ سوچ کراپنے بچوں کوساتھ لائے ہیں کہ کسی عالم دین سے سادگی کے ساتھ نکاح کرادیں گے اورلندن کے مہنگے ہوٹلوں میں شادی کے اندر جوفضول اخراجات ہوتے ہیں ان اخراجات سے ہم ہندوستان کی پچاس بچیوں کی شادیاں کرادیں گے،چناں چہ حضرت مولانانے نکاح پڑھادیا۔(دعوة الصدق)

    لیکن آج شادی کی تیاریاں،بے جارسوم،بارات اورباراتیوں کی عیاشیاں،کھانے پینے کے لوازمات اوران کی ناقدری،کثیرمہر،نام ونمودکاشاہ کارولیمہ، جس کے ساتھ ”مسنونہ“لکھ کر گویا سنت نبوی کا تمسخر اور مذاق اڑایاجاتاہے، جہیز اورتلک، غرض تقریباً سبھی چیزوں میں سنت نبوی اوراسوہٴ رسول کادوردورتک پتہ نہیں ہوتا۔

    آج لڑکے والوں کی حریصانہ نظریں دوسروں کے مال ودولت پرہیں،لڑکی کیسی ہی ہو،دین اوردین داری سے دوردورتک تعلق نہ ہو،اللہ اوررسول اللہ کے نام تک سے ناواقف ہو،لڑکی والے بھلے ہی اسلام اوراسلامی تعلیمات کامذاق اڑاتے پھریں، لیکن جہیزکی کثرت ،باراتیوں کی آوٴ بھگت اورخاطرتواضع ہی معیارشادی بن چکاہے۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضول خرچی اورنام ونمودکی جو قباحتیں ارشادفرمائی ہیں اور شادی بیاہ کے سلسلہ میں جو راہ نما ہدایات ارشادفرمائی ہیں جب تک ہم ان پرعمل پیرارہیں گے قوم کاسرفخرسے بلندرہے گااورجب ہم سنت سے کنارہ کشی اختیارکرلیں گے توقدم قدم پرشرم وندامت اورخجلت وشرمندگی سے ہماراسرجھکتارہے گا۔
    ن م
  6. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بڑا عبرت ناک واقعہ سنا یا ۔اگر اب نہ سدھرے تو کبھی نہیں ۔شکریہ مفتی ناصر مظاہری صاحب۔یقینا یہ ایک کھلی اور اظہر من الشمش حقیقت ہے۔ ہم لوگ اصلاح معاشرہ کی اسکیمیں بڑے کروفرکے ساتھ بناتے ہیں اورچندہی مہینوں میں وہ اسکیمیں کاغذی رہ جاتی ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں