ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر کراچی میں انتقال کر گئے ۔ روزنامہ دنیا کراچی

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 21, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر کراچی میں انتقال کر گئے
    روزنامہ دنیا کراچی


    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر کراچی میں انتقال کرگئے
    مرحوم کی عمر 90 برس تھی، فالج میں مبتلا تھے، اشرف المدارس کے بانی ہیں۔ 150 سے زائد کتابیں لککھیں، نماز جنازہ آج گلستان جوہر میں ادا کی جائے گی۔
    کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر اتوار کو کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی عمر 90 سال تھی اور وہ گزشتہ 13 سال سے فالج میں مبتلا تھے، ان کی نماز جنازہ پیر کو صبح نو بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی جائے گی، مختلف جید علماء نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو امت کا عظیم نقصان قرار دیا ہے، مولانا شاہ حکیم محمد اختر 1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے اور ان کی دو بہنیں بھی تھیں حکیم محمد اختر نے ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طیبہ کالج علی گڑھ میں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سر انجام دیتے رہے اور بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے، مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا جس میں 5000 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زائد شاخیں ہیں۔ مواعظِ حسنہ کے حوالے سے چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد 150 سے زائد ہیں ان سے زیادہ زیر تکمیل ہیں۔ مولانا کی مشہور کتاب معارف مثنوی ہے جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقا کے معروف کرکٹر عبد اللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا کے سوگواروں میں ایک بیٹا مولانا حکیم محمد مظہر، ایک بیٹی، پوتے پوتیاں، نواسے اور نواسیوں کے علاوہ ہزاروں خلفاء، مریدین، شاگرد اور لاکھوں عقیدت مند ہیں۔ مولانا کی نماز جنازہ پیر صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔ دریں اثناء مختلف جید علماء شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی عبد الرحیم، مفتی محمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، سید منور حسن، حافظ محم سعی، مولانا فضل الرحمن خلیل، پیر عزیز الرحمان ہزاروی، مفتی محمد نعیم، مولانا سیف اللہ خالد، مفتی محی الدین، مفتی ابو ہریرہ محی الدین، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اورنگزیب فاروقی، قاری محمد عثمان، ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی اور دیگر نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال کو امت کا عظیم نقصان قرار دیا ہے۔
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,290
    موصول پسندیدگیاں:
    1,707
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر کراچی میں انتقال کرگئے
    روزنامہ دنیا کراچی

    مرحوم کی عمر 90 برس تھی، فالج میں مبتلا تھے، اشرف المدارس کے بانی ہیں۔ 150 سے زائد کتابیں لکھیں، نماز جنازہ آج گلستان جوہر میں ادا کی جائے گی۔
    کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز عالم دین مولانا شاہ حکیم محمد اختر اتوار کو کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی عمر 90 سال تھی اور وہ گزشتہ 13 سال سے فالج میں مبتلا تھے، ان کی نماز جنازہ پیر کو صبح نو بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی جائے گی، مختلف جید علماء نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو امت کا عظیم نقصان قرار دیا ہے، مولانا شاہ حکیم محمد اختر 1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے اور ان کی دو بہنیں بھی تھیں حکیم محمد اختر نے ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طیبہ کالج علی گڑھ میں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سر انجام دیتے رہے اور بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے، مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا جس میں 5000 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زائد شاخیں ہیں۔ مواعظِ حسنہ کے حوالے سے چھوٹی بڑی تصانیف کی تعداد 150 سے زائد ہیں ان سے زیادہ زیر تکمیل ہیں۔ مولانا کی مشہور کتاب معارف مثنوی ہے جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدین اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقا کے معروف کرکٹر عبد اللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا کے سوگواروں میں ایک بیٹا مولانا حکیم محمد مظہر، ایک بیٹی، پوتے پوتیاں، نواسے اور نواسیوں کے علاوہ ہزاروں خلفاء، مریدین، شاگرد اور لاکھوں عقیدت مند ہیں۔ مولانا کی نماز جنازہ پیر صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔ دریں اثناء مختلف جید علماء شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی عبد الرحیم، مفتی محمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، سید منور حسن، حافظ محم سعی، مولانا فضل الرحمن خلیل، پیر عزیز الرحمان ہزاروی، مفتی محمد نعیم، مولانا سیف اللہ خالد، مفتی محی الدین، مفتی ابو ہریرہ محی الدین، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اورنگزیب فاروقی، قاری محمد عثمان، ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی اور دیگر نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال کو امت کا عظیم نقصان قرار دیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں