مناقب نبوی کا گلدستہ

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اپریل 24, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,592
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مناقب نبوی کا گلدستہ
    فاضل واہل قلم معزز ہندؤوں کے ہاتھ سے
    مسٹرگو وند جی ڈیسائی:مسٹر گووند جی ڈیسائی گجرات کے ایک فاضل ہندو تعلیمیافتہ ہیں آپ نے گذشتہ ماہ میں ایک مضمون اسلام اور اہنسا پر تحریر کیا تھا اس مضمون کو گاندھی جی نے اپنے اخبار ینگ انڈیا میں درج کیا تھا آپ نے اس مضمون میں آنحضرت ﷺکی شان اقدس میں عقیدت کے جو پھول برسائے ہیں وہ آپ کے الفاظ میں حسبِ ذیل ہیں۔
    انسانی شرافت: یہ امرِ واقعہ ہے کہ ذاتی طور پر رسول عربی ایک ایسے شخص تھے جن میں بڑی انسانیت اور شرافت تھی آپ کی نسبت یہ کہا گیا ہے کہ آپ اپنے سے کم درجہ کے لوگوں سے بڑی رعایت کرتے تھے ۔اور اور آپ کا کمسن غلام چاہے کچھ ہی کرتا تھا آپ اس کا مضحکہ ارانے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔آپ کے خادم ابن عباس کہتے
    ہیں کہ میں دس سال تک آپ کی خدمت میں رہا لیکن آپ نے مجھے لفظ اُف تک نہیں کہا آپ نے مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں نہ کیا۔
    بچوں پر شفقت: آپ بچوں سے بڑا اُنس رکھتے تھے آپ اُن کو راستہ میں روک لیتے اور اُن کے سروں پر ہاتھ پیھرتے تھے آ ب بچوں کے ساتھ اچھلتے کودتے تھے اور اُن کے کھلونوں سے کھیلتے تھے ۔اپ نے عمر بھر کسی کو نہیں مارا ۔آپ نے شدید ترین الفاظ جو کبھی مخالفین مذہب کے متعلق کہے یہ تھے کہ اسے کیا ہے؟ خدا کرے اس کا چہرہ خاک آلود ہو جب آپ سے کہا گیا کہ فلاں شخص کو بد دعا دیں تو آپ نے جواب دیا کہ میں بد دعا دینے کیلئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ انسانوں کے ساتھ رحم کا سلوک کرنے آیا ہوں ۔آپ بیماروں کی مزاج پرسی کر نے جاتے اور جو جنازہ آپ کو ملتا تھا آپ اس کے تھے ہمراہ ہو لیتےتھے۔آپ ایک غلام کی شرارت بھی برداشت کر لیتے تھے اپنے کپڑے خود دھو تے اور پیوند لگالیتے تھے اور اپنے جوتوں کی خود مر مت کر تے تھے ،مصافحہ کر تے وقت اپنا ہاتھ پہلے نہیں ہٹاتے تھے اور نہ کبھی کسی اجنبی کے ساتھ باتوں کا کود خاتمہ کرتے تھے اور نہ آپ کسی کی بات سننے سے کان پھیرلیتے تھے ۔
    رسول عربی ﷺ میں تمام انسانوں سے زیادہ انسانیت تھی ،جب آپ اپن ی والدہ کی قبر پر جاتے تو روتےاور ان لوگوں کو رلاتے جو اس وقت آپ کے گرد وپیش کھڑے ہو تے تھے ۔
    نبوت کا تاجدار جھونپڑیوں میں جس قدر سادہ اتوار رکھتے تھےاسی قدر آپ مخیر تھے۔۔آپ اپنی بیویوں کے ساتھ جھو نپڑیوں کی ایک قطار میں رہتے تھے یہ جھو نپڑے کھجور کی ٹہنیوں کے ذریعہ جن پر مٹی لیپی جا تی تھی ایک دوسرے سے جدا تھے آپ خود آگ جلاتے اور جھو نپڑیوں میں جھاڑو دیتے تھے ۔آپ کےپاس جو کھانا ہو تا تھا اس میں سے ان لوگوں کو حصہ دتے تھے جو آپ کے پاس جاتے تھے ۔یہ حقیقت ہےکہ آپ کے مکان کے سامنے چبوترہ تھا اور اس پر ہمیشہ ایک تعداد ان غریبوں کی بیٹھی رہتی تھی جن کا گزارہ بالکل آپ کی خیرات پر منحصر تھا اور اس لئے ان غریوں کو اصحاب صفہ کہا جاتا تھا ۔آپ کا معمولی کھانا کھجوریں اور پانی یا جو کی روٹی ہو تی تھی ۔دودھ اور شہد آپ کا سامان عشرت تھا اور ان دونوں چیزوں کے آپ بڑے شائق تھے مگر آپ یہ چیزیں شاد ونادر ہی استعمال کرتے تھے ۔جب آپ عرب کے بادشاہ بن گئے تو بھی آپ ریگستانوں کی سیاحت کو بہت پسند کرتے تھے۔(لین پول)
    محمدداؤدالرحمن علی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں