موت العالم موت العالم۔اداریہ ضرب مومن۔کمپوزنگ و تصحیح مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از خادمِ اولیاء, ‏جولائی 17, 2013۔

  1. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم
    ضرب مومن کا اداریہ
    مجھ سے پہلے اگر کسی دوست نے اسے ٹائپ کردیاہے تو وہی اس کا مستحق ہے۔
    ورنہ ^o^||3
    ضربِ مؤمن: 27 رجب تا3 شعبان 1434 ھ بمطابق7تا13جون 2013
    اداریہ:

    [size=xx-large]موت العالم موت العالم​
    [/size]
    ممتاز عالم دین عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد 90 سال کی عمر میں اتوار کو کراچی میں عصرومغرب کے درمیان انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جناز پیر کو صبح نو بجے جامعہ اشرف المدارس میں ادا کی گئی۔ مولانا شاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا 1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گائوں اٹھیہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ آپ کی دو بہنیں تھیں۔ ابتدائی اور عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی۔ شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے اور پھر جوانی میں عالم دین کا کورس مکمل کیا۔ مولانا حکیم محمد اختر نے ابتدا میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سید بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا۔ اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔
    بعدازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے، جہاں ان کے مدرسے میں جوانی میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہردوئی میں مولانا شاہ ابرار الحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا، جس میں 5000 سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقا کے معروف کرکٹر عبداللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی 2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی گزشتہ دن عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    عربی کی کہاوت ہے کہ عالِم کی موت درحقیقت عالَم (کائنات) کی موت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قیامت کے قریب علم اُٹھ جانے اور جہالت کے رواج پاجانے کی وجہ یہی بتائی کہ ایک ایک کرکے بڑے علماء ومشائخ اُٹھتے جائیں گے جس سے علم بتانے والے کم رہ جائیں گے تو صرف جہال ہوں گے جو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ آج کل کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ ایک ایک کرکے مشاہیر دنیا سے گزرتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف شرعی رہنمائی کی جرات کرنے والے نام نہاد اسکالرز برساتی مینڈکوں کی طرح جگہ جگہ سے برآمد ہورہے ہیں۔ مولانا حکیم محمد اختر صاحب نہ صرف یہ کہ مذہبی علوم پر دسترس رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے علی گڑھ سے عصری تعلیم، خصوصاً حکمت کی تعلیم بھی حاصل کررکھی تھی۔
    آپ کی دو تعلیموں کی مہارت، ادبی ذوق، گفتگو میں روانی اور شخصیت میں محبوبیت ایسی صلاحیتیں تھیں کہ ہر کوئی آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ تقریباً ہر طبقے کے لوگ بلکہ ہر ملک کے لوگ آپ کے مریدین میں شامل ہیں۔ آپ کے خلفاء کا سلسلہ بھی کافی طویل ہے اور ان کی خدمات کا دائرہ کار ملک کے طول وعرض بلکہ بیرون ملک بھی بہت نمایاں ہے۔ تقریر میں حضرت والا کا منفرد دلنشین اسلوب دل ودماغ کو معطر کردیتا تھا۔ چنانچہ ان کی مجالس میں آنے والا عام کے طورپر تعلق رکھے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ کی مجالس کااثر ضرور محسوس کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے بیورو کریٹ، افسران، آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں سے وابستہ نوجوان اور اساتذہ آپ کی مجالس میں باادب بیٹھے نظر آتے تھے۔ پھر آپ کی قبولیت کی ایک اور علامت 7 زبانوں میں آپ کی کتابوں کے تراجم ہونا ہے۔ اس سے ان کتابوں کی افادیت کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مختلف زبانوں سے اہلِ علم ازخود اس جانب متوجہ ہوئے اور انہوں نے تراجم کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ حضرت پھول پھوریؒ کے خادم خاص تھے۔ پھر آپ ان کے سوتیلے فرزند بھی بنے اور خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔ آپ کی شخصیت میں حضرت پھولپھوریؒ کا تصلب (رسوخ) بہت نمایاں تھا۔ اسی طرح آپ حضرت شاہ ابرار الحق صاحبؒ کے بھی خلیفہ تھے۔
    حضرت شاہ ابرار الحق صاحب سنتوں پر انتہائی مستعدی اور باریک بینی سے عمل کرنے اور کروانے میں ممتاز تھے۔ چنانچہ یہی رنگ حضرت والا کی مجالس میں بھی نظر آیا۔ آپ کی کئی کتابیں سنت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے بیانات پر مبنی ہیں۔ بلکہ یہ موضوع تو آپ کی ہر تحریر کا لازمی عنصر رہا ہے۔ حضرت کے مریدین بھی حضرت سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ کسی ضابطے کی پابندی کے بغیر بھی، آپ کے مریدین آپ کے جیسا لباس، ٹوپی اور وضع قطع رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ 2000ء سے حضرت صاحب فراش تھے، لیکن مریدین کے ذوق وشوق میں کچھ کمی نہ آئی تھی۔ آپ کی صحت کے لیے دُعائوں پر مبنی ای میل، SMS، ٹوئٹس، پوسٹس سے سوشل میڈیا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ساری محبتیں یقینا حضرت والا ہی نے ان لوگوں میں تقسیم کی تھیں جو آج شیخ کو واپس مل رہی ہیں۔
    حضرت والا کا حضرت مفتی رشید صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے ساتھ بڑا قریبی تعلق رہا۔ چنانچہ دونوں حضرات کے کاموں میں بھی بہت سے جگہ یکسانیت نظر آتی ہے۔ دونوں حضرات نے صحافت میں ایک ہفت روزہ نکالا۔ دونوں نے رفاہی کاموں کے لیے ٹرسٹ قائم کیے۔ دونوں حضرات نے پاکستان کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ افغانستان میں رفاہی خدمات کا جال بچھاکر مشنری این جی اوز کے عزائم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ دونوں کی جرات مندانہ خدمات پر امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں۔ ناظم آباد نمبر 4 میں تعلیمی شعبے میں دونوں کا ابتدا کی بنیاد رکھی جو آج جامعۃ الرشید اور اشرف المدارس کے نام سے مشہور ہیں۔ دونوں اداروں میں تعلیمی مزاج، معیار اور طلبہ کی تربیت کے حوالے سے کئی قدروں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ حضرت والا کی جانب سے ضربِ مؤمن کی خدمات کی ہمیشہ حوصلہ افزائی ہوتی رہیں۔ اپنے تمام شعبہ جات کی موجودگی کے باوجود وسعت ظرفی اور للہیت کی وجہ سے دوسرے اداروں سے بھی ایسے ہی والہانہ لگائو تھا جیسا کہ اپنے اداروں سے تھا۔
    آپ کی باغ وبہار شخصیت کا ایک دلربا پہلو آپ کا ادبی ذوق تھا۔ آپ خود بھی اشعار کہتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بہت کثرت سے اشعار پڑھے جاتے تھے۔ آپ کے خلفاء میں سے نامور اصلاحی شاعر بھی ہیں جن کی شاعری سلوک اور اصلاح نفس کے لیے بہت اکسیر ثابت ہوئی ہے۔ جو لوگ نازک مزاج ہوتے ہیں یا مجاہدے کی ہمت نہیں رکھتے ان کو بھی آپ کی مجالس سے خاطر خواہ فائدہ محسوس ہوتا تھا، آپ کے طریق میں مایوسی کسی کے لیے نہیں تھی۔ آپ کی مثنوی کی تشریح ذوق رکھنے والوں کے لیے بیش قیمت ہدیہ ہے۔ آپ کی تشریحات محبت الٰہی میں ڈوبی ہوئی اور عشق حقیقی پیدا کرنے والی ہیں۔ عشق مجازی اور بدنظری آپ کے خصوصی موضوعات رہے، آپ کے حلقۂ اثر میں عشق مجازی سے نجات پانے والوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
    آپ کے افادات اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں شمار کرنا ایک تحریر میں ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اکابر علماء آپ کے رحلت فرمانے سے ہونے والے خلا کو محسوس کررہے ہیں۔ چنانچہ تعزیتی بیانات میں مولانا سلیم اللہ خان صاحب، مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد صاحب وغیرہ نے یہ قدر مشترک کے طورپر فرمایا کہ آپ کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا بہت دیر میں پورا ہوسکے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی منشا اور حکمت ہی ہر چیز پر غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی شان کے مطابق بڑھا چڑھاکر عوض دیں اور لواحقین اور متعلقین کو صبر جمیل اور اپنے شیخ کی پاکیزہ تعلیمات پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
    ٭ ٭ ٭​
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    موت العالم موت العالم
    ضرب مؤمن اداریہ
    ممتاز عالم دین عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد 90 سال کی عمر میں اتوار کو کراچی میں عصرومغرب کے درمیان انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جناز پیر کو صبح نو بجے جامعہ اشرف المدارس میں ادا کی گئی۔ مولانا شاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا 1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گاؤں اٹھیہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ آپ کی دو بہنیں تھیں۔ ابتدائی اور عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی۔ شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے اور پھر جوانی میں عالم دین کا کورس مکمل کیا۔ مولانا حکیم محمد اختر نے ابتدا میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سید بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا۔ اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔
    بعدازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے، جہاں ان کے مدرسے میں جوانی میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہردوئی میں مولانا شاہ ابرار الحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا، جس میں 5000 سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ دنیا بھر میں مولانا کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں جنوبی افریقا کے معروف کرکٹر عبداللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی 2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی گزشتہ دن عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
    عربی کی کہاوت ہے کہ عالِم کی موت درحقیقت عالَم (کائنات) کی موت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قیامت کے قریب علم اُٹھ جانے اور جہالت کے رواج پاجانے کی وجہ یہی بتائی کہ ایک ایک کرکے بڑے علماء ومشائخ اُٹھتے جائیں گے جس سے علم بتانے والے کم رہ جائیں گے تو صرف جہال ہوں گے جو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ آج کل کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ ایک ایک کرکے مشاہیر دنیا سے گزرتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف شرعی رہنمائی کی جرات کرنے والے نام نہاد اسکالرز برساتی مینڈکوں کی طرح جگہ جگہ سے برآمد ہورہے ہیں۔ مولانا حکیم محمد اختر صاحب نہ صرف یہ کہ مذہبی علوم پر دسترس رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے علی گڑھ سے عصری تعلیم، خصوصاً حکمت کی تعلیم بھی حاصل کررکھی تھی۔
    آپ کی دو تعلیموں کی مہارت، ادبی ذوق، گفتگو میں روانی اور شخصیت میں محبوبیت ایسی صلاحیتیں تھیں کہ ہر کوئی آپ کا گرویدہ ہوجاتا۔ تقریباً ہر طبقے کے لوگ بلکہ ہر ملک کے لوگ آپ کے مریدین میں شامل ہیں۔ آپ کے خلفاء کا سلسلہ بھی کافی طویل ہے اور ان کی خدمات کا دائرہ کار ملک کے طول وعرض بلکہ بیرون ملک بھی بہت نمایاں ہے۔ تقریر میں حضرت والا کا منفرد دلنشین اسلوب دل ودماغ کو معطر کردیتا تھا۔ چنانچہ ان کی مجالس میں آنے والا عام طورپر تعلق رکھے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ کی مجالس کااثر ضرور محسوس کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے بیورو کریٹ، افسران، آئی ٹی اور دیگر جدید شعبوں سے وابستہ نوجوان اور اساتذہ آپ کی مجالس میں باادب بیٹھے نظر آتے تھے۔ پھر آپ کی قبولیت کی ایک اور علامت 7 زبانوں میں آپ کی کتابوں کے تراجم ہونا ہے۔ اس سے ان کتابوں کی افادیت کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مختلف زبانوں سے اہلِ علم ازخود اس جانب متوجہ ہوئے اور انہوں نے تراجم کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ حضرت پھول پھوریؒ کے خادم خاص تھے۔ پھر آپ ان کے سوتیلے فرزند بھی بنے اور خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔ آپ کی شخصیت میں حضرت پھولپھوریؒ کا تصلب (رسوخ) بہت نمایاں تھا۔ اسی طرح آپ حضرت شاہ ابرار الحق صاحبؒ کے بھی خلیفہ تھے۔
    حضرت شاہ ابرار الحق صاحب سنتوں پر انتہائی مستعدی اور باریک بینی سے عمل کرنے اور کروانے میں ممتاز تھے۔ چنانچہ یہی رنگ حضرت والا کی مجالس میں بھی نظر آیا۔ آپ کی کئی کتابیں سنت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے بیانات پر مبنی ہیں۔ بلکہ یہ موضوع تو آپ کی ہر تحریر کا لازمی عنصر رہا ہے۔ حضرت کے مریدین بھی حضرت سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ کسی ضابطے کی پابندی کے بغیر بھی، آپ کے مریدین آپ کے جیسا لباس، ٹوپی اور وضع قطع رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ 2000ء سے حضرت صاحب فراش تھے، لیکن مریدین کے ذوق وشوق میں کچھ کمی نہ آئی تھی۔ آپ کی صحت کے لیے دُعاؤں پر مبنی ای میل، SMS، ٹوئٹس، پوسٹس سے سوشل میڈیا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ساری محبتیں یقینا حضرت والا ہی نے ان لوگوں میں تقسیم کی تھیں جو آج شیخ کو واپس مل رہی ہیں۔
    حضرت والا کا حضرت مفتی رشید صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے ساتھ بڑا قریبی تعلق رہا۔ چنانچہ دونوں حضرات کے کاموں میں بھی بہت سے جگہ یکسانیت نظر آتی ہے۔ دونوں حضرات نے صحافت میں ایک ہفت روزہ نکالا۔ دونوں نے رفاہی کاموں کے لیے ٹرسٹ قائم کیے۔ دونوں حضرات نے پاکستان کے ساتھ ساتھ جنگ زدہ افغانستان میں رفاہی خدمات کا جال بچھاکر مشنری این جی اوز کے عزائم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ دونوں کی جرات مندانہ خدمات پر امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں۔ ناظم آباد نمبر 4 میں تعلیمی شعبے میں دونوں کا ابتدا کی بنیاد رکھی جو آج جامعۃ الرشید اور اشرف المدارس کے نام سے مشہور ہیں۔ دونوں اداروں میں تعلیمی مزاج، معیار اور طلبہ کی تربیت کے حوالے سے کئی قدروں میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ حضرت والا کی جانب سے ضربِ مؤمن کی خدمات کی ہمیشہ حوصلہ افزائی ہوتی رہیں۔ اپنے تمام شعبہ جات کی موجودگی کے باوجود وسعت ظرفی اور للٰہیت کی وجہ سے دوسرے اداروں سے بھی ایسے ہی والہانہ لگاؤ تھا جیسا کہ اپنے اداروں سے تھا۔
    آپ کی باغ وبہار شخصیت کا ایک دلربا پہلو آپ کا ادبی ذوق تھا۔ آپ خود بھی اشعار کہتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بہت کثرت سے اشعار پڑھے جاتے تھے۔ آپ کے خلفاء میں سے نامور اصلاحی شاعر بھی ہیں جن کی شاعری سلوک اور اصلاح نفس کے لیے بہت اکسیر ثابت ہوئی ہے۔ جو لوگ نازک مزاج ہوتے ہیں یا مجاہدے کی ہمت نہیں رکھتے ان کو بھی آپ کی مجالس سے خاطر خواہ فائدہ محسوس ہوتا تھا، آپ کے طریق میں مایوسی کسی کے لیے نہیں تھی۔ آپ کی مثنوی کی تشریح ذوق رکھنے والوں کے لیے بیش قیمت ہدیہ ہے۔ آپ کی تشریحات محبت الٰہی میں ڈوبی ہوئی اور عشق حقیقی پیدا کرنے والی ہیں۔ عشق مجازی اور بدنظری آپ کے خصوصی موضوعات رہے، آپ کے حلقۂ اثر میں عشق مجازی سے نجات پانے والوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
    آپ کے افادات اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں شمار کرنا ایک تحریر میں ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اکابر علماء آپ کے رحلت فرمانے سے ہونے والے خلا کو محسوس کررہے ہیں۔ چنانچہ تعزیتی بیانات میں مولانا سلیم اللہ خان صاحب، مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد صاحب وغیرہ نے یہ قدر مشترک کے طورپر فرمایا کہ آپ کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا بہت دیر میں پورا ہوسکے گا۔ بہرحال اللہ تعالٰی کی منشا اور حکمت ہی ہر چیز پر غالب ہے۔ اللہ تعالٰی مرحوم کو اپنی شان کے مطابق بڑھا چڑھاکر عوض دیں اور لواحقین اور متعلقین کو صبر جمیل اور اپنے شیخ کی پاکیزہ تعلیمات پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
    ٭ ٭ ٭
  4. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    شکر ہے جی
    کہیں میرے علاوہ یہ بھی کسی نے کمپوزتو نہیں کرڈالی؟

اس صفحے کو مشتہر کریں