موجودہ مدارس میں تعلیم کااوسط کم ہے

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از masoodazeezi, ‏دسمبر 6, 2012۔

  1. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    موجودہ مدارس میں تعلیم کااوسط کم ہے
    بعض اصحاب فکر کو مدارس کے موجوہ طرز تعلیم ، طرزانتظام سے اختلاف ہے ، وہ اختلاف اگر اہل مدارس کے علاوہ کی طرف سے ہوتاتو شاید اتنا اہم بھی نہ سمجھا جاتا اوراس کی وقعت بھی زیادہ نہ ہوتی ، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے ، جیسا کہ نصاب تعلیم کے سلسلہ میں بھی آواز لگانے والے سواصدی پہلے اہل مدارس ہی تھے ، اور اب نظام مدارس کے سلسلہ میں آواز لگانیوالے بھی اہل مدارس ہی ہیں ، بعض اہل مدارس جواس سلسلہ میں فکر مند ہیںان کا کہنا ہے کہ ہمارے مدارس میں تعلیم کا جو اوسط ہے وہ کافی کم ہوتاجارہاہے ، مثلاً سالانہ چھٹی کہیں تو شروع شعبان میں ، کہیں نصف شعبان میں اور کہیں اخیر عشرے کی ابتدا میں ہوجاتی ہے ، پھر عید کے بعد داخلوں کی کارروائی ہوتے ہوتے کہیں پندرہ شوال اور اکثر جگہ شوال کا اخیر ہی ہوجاتاہے ، جب پڑھائی شروع ہوتی ہے، پھر عیدالاضحی کے موقع پردور والے طلبہ ٹکٹوں کے چکر میں پڑجاتے ہیں اور کنشیسن فارم حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگ جاتے ہیں ، یوں ذی الحجہ کا بھی اکثر حصہ چھٹیوں کی نذر ہوجاتاہے، پھر کہیں ماہانہ ٹیسٹ ہوتاہے،کہیںدو ماہی ٹیسٹ ہوتاہے، کہیں سہ ماہی ہوتاہے اوراکثر جگہ ششماہی امتحان ہوتاہے، تواس میں بھی چھٹی ہوتی ہے اور اچھا خاصہ وقت گذر جاتاہے، غرضیکہ سال کے بارہ مہینوں میں ۲؍ ماہ توشعبان رمضان شوال میں سے نکل جاتے ہیں ، ایک ماہ عیدالاضحی اور ششماہی کی تعطیل میں نکل جاتاہے ، باقی ۹؍ ماہ میں ۳۶؍ جمعے آتے ہیں، او رجمعہ کے ساتھ اکثر جگہ جمعرات کی شام کا وقت تو متأثر ہوہی جاتاہے ؛لیکن اگر جمعوں کے ۳۶؍دن نہ لگائیں جائیں، تب بھی ۳؍ ماہ توضائع ہو ہی جاتے ہیں، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ امت کا اوراس کے مال کا اور امت کے افراد کے وقت اور صلاحیت کا استحصال تونہیں ہورہاہے ؟۔​
  2. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کہیں طلبہ کا قیمتی وقت تو ضائع نہیں ہورہاہے ؟​

    اگر چہ بعض حضرات اس طرح بھی جواب دیتے ہیں کہ نہیں صاحب! ہمارے یہاں جونصاب ہے، وہ پورا ہوجاتاہے ، کوئی کتاب ناقص نہیں رہتی، اورہمارے یہاں طلبہ کی استعداد بھی اچھی ہے ، ماشاء اللہ سب ان کو ہضم ہوجاتاہے ، یہ اور اس طرح کی باتیں اپنے دل کو اور اپنے ماحول اور اپنی پرانی عادت کوسمجھانے اور تسلی دینے کے لیے توبہت اچھی اور قابل اطمینان ہیں ، مسئلہ اس کا نہیں کہ نصاب پورا ہوجاتاہے، اور صلاحیت بھی بزعم خویش صحیح ہوجاتی ہے، مسئلہ اس قیمتی وقت کاہے جو ضائع ہوجاتا ہے ، اگر ۹؍ ماہ میں مجوزہ نصاب پورا ہورہاہے، اورصلاحیت بھی مناسب بن رہی ہے، تو نصاب کو بڑھا کر او رکم سے کم چھٹی کرکے مزید صلاحیت بنائی جاسکتی ہے ، اگر نصاب جوں کا توں رکھناہے، توطلبہ کے۷؍یا۸؍ سال کیوں ضائع کئے جارہے ہیں، یہی نصاب ،یہی کام،یہی صلاحیت ۵؍ یا ۶؍سال میں کیوں نہیں ہوپاتی ، تاکہ اگلے دویاتین سال میںطالب علم حدیث میں، تفسیر میں ، فقہ میں، ادب میں یا انگریزی زبان میں تخصص کرلے او راتنے وقت میں وہ اپنے آپ کو زیادہ مفید اور باصلاحیت بنالے اور امت کے لیے زیادہ کا رگر ثابت ہوجائے، مدارس کے اس نظام کے سلسلہ میں نص تو ثابت ہے نہیں ، یہ تو حالات اور وقت کے تقاضے کے مطابق اکابرین نصاب اور نظام وضع کرتے رہے ، تو اس سلسلہ میں اگر علماء کرام غور فرماویں اور سنجیدگی سے جوامت کے طلبہ کا وقت ضائع ہورہاہے - جس کے ضائع ہو نے کا کم لوگوں کو احساس ہے -اس کوضائع ہونے سے بچانے کے لئے جوبھی نظام بنائیں گے توآئندہ آنے والی نسلیں اس کو بھی اکابرہی کا نظام سمجھیں گی ، اس لیے کہ ہر پہلا بعد والے کے لیے اکابرمیں ہی شمارہوتاہے ، اس لیے بعض اہل علم مفکرین کا کہنا ہے کہ جہاں ارباب مدارس بہت حدتک اصلاح نصاب کے سلسلہ میں حرکت میں آئے ہیں، اورکچھ نہ کچھ نصاب کے سلسلہ میں کوشش کی ہے ، وہ نظام مدارس کے سلسلہ میں بھی کوشش کریں ۔​
  3. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بعض حضرات کا عذر​
    [align=justify]بعض حضرات کہتے ہیں کہ اصل میں رمضان شریف میں حصول زر اور چندہ کے لیے علماء اور سفر اء مدارس دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہیں، اوراس سے پہلے اور بعد میں ان کو اپنی گھریلو ضروریات کی وجہ سے گھروں پربھی جانا ہوتاہے،اور بہت سے طلبہ واساتذہ کو رمضان میں قرآن شریف سناناہوتاہے، اس لیے یہ اتنا وقفہ ناگزیر ہے ، تو پھر اس کا حل کیا ہے ؟اس کے لیے اکابرعلماء کو سوچنے کی ضرورت ہے ، یاجو ملت کے دردمند، فکر مند حضرات ہیں ، ان کے ذہن میں اس سلسلہ میں جو تجاویز آتی ہیں یا تووہ اپنی تجاویز اور تدابیر لکھ کر اکابر علماء سے رجوع کرکے اوران کی خدمت میں پیش کریں ، یا جواس طرح کی فکر رکھنے والے حضرات ہیں، وہ آپس میں ایک جگہ جمع ہوکر یا خط وکتابت او رمراسلت کے ذریعہ سے ایک دوسرے کو آگاہ کرکے صحیح لائحہ عمل پیش کریں ، شاید کہ امت کے لیے کوئی اچھا نسخہ ہاتھ آجائے ، یہ معاملہ اگر چہ بہت مشکل اور دشوار ہے ، مگر انسان کے لئے کوئی مشکل نہیں ، حل کرنا چاہے توکرسکتاہے ۔​
    [/align]
  4. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    طلبہ کی تربیت اور دینی مسائل سے واقفیت ​
    ایک دوسری بات جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ طلبہ کی تربیت ہے، تربیت کے سلسلہ میں ہمارے مدارس میں بہت کوتاہی ہورہی ہے ، ماشاء اللہ پڑھائی پر بہت محنت ہورہی ہے ، خاص طورسے نئے مدارس میں تعلیم زیادہ اچھی ہورہی ہے ، مگر تربیت کے سلسلہ میں ہرجگہ کافی کوتاہی ہے ،حفظ وقرأ ت کے مدارس میں مسائل دینیہ کے سلسلہ میں توجہ کم ہے ، مثلاً ایک طالب علم حافظ توبہت اچھا ہوگیا ، یاد بھی ماشا ء اللہ خوب ہے ، تجوید وترتیل اور ادائیگی تلفظ بھی بہترین ہے ، مگر اس کومسائل معلوم نہیں اور سیرت نبوی کاپتہ ہی نہیں،کم سے کم حفاظ کرام اور قراء حضرات کو قرآن شریف کے ساتھ ساتھ مسائل نماز وغیرہ ضرور سکھائیں جائیں ، تاکہ وہ جب کہیں مسجد میں جاکر امامت کریں ، تو موٹے موٹے پیش آنے والے مسائل کو وہ بتاسکیں ، اورخود عمل کرسکیں ، او راردو بھی ان کی اچھی ہوجانی چاہئے تاکہ وہ کتاب صحیح پڑھ سکیں، کوئی چیز صحیح لکھ سکیں، بعض امام یا استاذ حافظ قاری بہترین مگر جب وہ درخواست لکھتاہے ، یا مسجد کی کاپی یانکاح نامہ کافارم بھرتا ہے، تووہ نام تک بھی صحیح نہیں لکھ پاتا، اس وقت بہت کوفت اور تکلیف ہوتی ہے۔
    دینی مزاج اور دینی ذہن بنانے کی ضرورت
    تربیت میں جہاں لکھنا پڑھنا اورمسائل سے واقف کراناہے، وہیں ان کا مزاج بھی دینی بنانا ہوتاہے ، بعض اچھے خاصے حافظ قاری بظاہر امامت بھی کراتے ہیں ،مگر مزاج دینی نہیں ، دینی ذہن نہیں ، اس میں ہمارے اساتذۂ مدارس کی غفلت ہے ، جو تھوڑی سی توجہ سے دورکی جاسکتی ہے۔​
    نوفارغین کی تعلیم کا حال
    رہا مدارس سے فارغ ہونیوالے فضلا وعلماء کا مسئلہ تو ان کی بھی دینی تربیت کی ضرورت ہے ، شاید بعض اس پر اعتراض بھی کرے کہ صاحب! یہ آٹھ سال مدرسے میں رہے، کیا ان کی تربیت نہیں ہوئی ، پھران کی تربیت کہاں ہوگی ؟بات صحیح ہے، جب یہ آٹھ سال مدرسے میں رہے، تو ان کی تربیت ہونی چاہئے، اورمدارس ہی تو اصل تربیت گاہ ہیں ، مگر جب ہم فارغ ہونیوالے علماء وطلبہ کا مزاج اور ان کی صلاحیت دیکھتے ہیں تو اکثر مرتبہ افسوس ہوتاہے ، اس پربعض حضرات یہ کہہ کر سکون حاصل کرلیتے ہیں کہ اب تو دیوبند اور ندوہ سے بھی شیخ الہند ،حضرت تھانوی ، سید سلیمان ندوی اورعلی میاں ندوی نہیں پیدا ہورہے ہیں، ہر جگہ انحطاط ہے ، صلاحیت کا فقدان ہے ، ایسا نہیں ہے، ہم مانتے ہیں کہ ماحول کا اثر ضرور ہوتاہے ، مگر ماحول کے بھی تو کوئی ذمہ دار ہوں گے ، ہمیں تجربہ ہواہے کہ جب کہیں فضلائے مدارس کا تخصص کے کسی شعبہ میں داخلے کے لیے ٹیسٹ لیا جاتا ہے تو زیادہ تر صحیح جواب نہیں دے پاتے، کم علماء ہی صحیح جواب دے پاتے ہیں، جس پر ہم خوش ہورہے ہیںکہ ہمارے یہاں اتنے طلبہ ہیں، اتنے دورۂ حدیث میں ہیں۔​
    فارغین کے لیے تخصصات کے کورس اوران کی بدعنوانیاں
    آج کل بہت سی جگہوں پر ان نوفارغین علماء کے لیے مختلف قسم کے تخصصات کھولے جارہے ہیں ، کہیں عربی ادب کے لیے ، کہیں فقہ وافتاء میں تخصص کے لئے، کہیں انگریزی کے لیے، کہیں دعوتی مزاج بنانے کے لیے ،اور ان کو ہر طرح کی سہولت بہم پہچانے کی سعی کی جارہی ہے ، جس پر کثیر صرفہ ہورہاہے، اورا بھی آٹھ سال تک اہل مدارس نے ان پر صرفہ کیا ہی تھا، اب یہ تخصصات کھولنے والے مزید ان پر یہ نوازش کررہے ہیں کہ پورا خرچ کھانے پینے کا، رہنے سہنے کا اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کو وظائف بھی دے رہے ہیں ، وہ وظائف بھی امت کے متمول مخیرین اصحاب خیر کے دئے ہوئے ہوتے ہیں ، پھر یہ سند یافتہ علماء بشکل طلبہ جتنی بے اصولیاں ، بدعنوانیاں کرتے ہیں ، اس کا تجربہ ان سب کو ہے ، جنہوں نے ان کے لیے یہ مراعاتی کورس شروع کئے ہوئے ہیں۔​
    اکثر فارغین کی فکر​
    اورجب یہ فضلا کرام اپنا کورس پورا کرلیتے ہیں ، پھر کسی مدرسہ میں ان کو مدرس یا استاد
    رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تواکثر تو جوعربی کی کچھ شدبد حاصل کرلیتے ہیں ، یا انگریزی کا کورس کرلیتے ہیں تویا تووہ کسی کمپنی کی جوب تلاش کرتے ہیں یا کسی غیر ملکی فرم میں سیٹ ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اگر مدرسہ میں رکھنے کی بات کی جاتی ہے توان کا مطالبہ بڑی کتابوں اور بڑے درجوں کا ہوتا ہے یا اگر اہل مدارس ان کو بڑی کتاب یا بڑا درجہ دیتے ہیں، تو وہ سبحان اللہ ، الحمدللہ کہتے ہیں اور اللہ کا شکراداکرتے ہیں ، اورجب تنخواہ کی بات ہوتی ہے توزیادہ سے زیادہ مطالبہ کرتے ہیں ، عام طورسے اکثر مدارس میں ۲؍ ہزار سے ۵؍یا ۶؍ہزار تک تنخواہ دی جاتی ہے ، اس لیے وہ اس کو حقیر اور معمولی سمجھ کر یا تو دوسری طرف نگاہ رکھتے ہیں، یا پھر صحیح نیت سے اخلاص کے ساتھ کام نہیں کرتے، اگر چہ مدارس میں لوگ معمولی تنخواہوں پر ہی کام کررہے ہیں ۔
    اہل مدارس کے لیے غور کا ایک پہلو
    مگر اہل مدارس کے لیے یہ پہلو بھی غور کرنے کے لائق اور اہم ہے -اگرچہ آج کل مشہور ہے کہ مدارس کی کثرت ہے ، مگر ضرورت اب بھی پوری نہیں ہورہی ہے -وسائل بھی خوب ہیں اور مدارس کے سالانہ اخراجات بھی ماشاء اللہ کافی ہیں ، تواگرچہ اکابر کے طرز پر تھوڑے پر قناعت کرنے کی تربیت کرنی چاہئے ؛لیکن پھر بھی اساتذہ کرام وعلماء کرام کے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ دی جائے ، تاکہ وہ یکسو ہوکر اپنے فرائض منصبی کو اچھی طرح پوراکرسکیں ، مگر آج کل یہ ہورہاہے کہ تعمیرات میں خوب خرچ ہے ، مدرسے کی ترقی پر بھی خوب خرچ ہے، طلبہ کوزیادہ سے زیادہ سہولت پہنچانے پر بھی خرچ ہے ، مگر اساتذہ کی تنخواہوں پر کم خرچ ہے ، اس لیے ارباب مدارس اساتذہ کی تنخواہ بھی معقول رکھیں ۔​
    مدارس میں تقرر کے وقت ان فضلاء کارویہ
    اورجب ان نوفارغ علماء کرام کو مدرسے میں رکھتے وقت سب باتیں ہوتی ہیں، تووہ سب کو دلچسپی سے سنتے ہیں ،مگرجب ذمہ دار کسی مولانا سے یہ کہتاہے کہ رمضان میں یا فصل پہ چندہ بھی کرناہوگا ، تویہ برجستگی سے کہتاہے کہ حضرت یہ کام تومیں نے کبھی کیا ہی نہیں ، حالانکہ مدرّسی بھی پہلی مرتبہ کررہا ہے ، پہلی مرتبہ عملی زندگی میں قدم رکھ رہاہے، بڑی کتاب ملی، سبحان اللہ ، اچھی رہائش گاہ ملی الحمدللہ ، معقول تنخواہ ملی ماشاء اللہ، اور جب چندے کی بات آئی تو کہتاہے کہ حضرت یہ کام تو میں نے کبھی کیا نہیں ، بھلا اس اللہ کے بندے سے کوئی پوچھے کہ توابھی تک جو مدارس میں پڑھ کر آیا ہے، تو چندہ کے پیسے ہی سے توپڑھ کر آیا ہے ، اوراگر کوئی ایسا بھی ہوکہ اس نے مدرسے میں کھانے کی فیس جمع کی ہو،تو مدرسے کی درس گاہ، درسگاہ کا سامان، مدرسہ کی لائٹ ، مدرسے کے اساتذہ کی تنخواہ وہ سب عوام کے چندے ہی سے تو ہے ، اگر کوئی چندہ نہیں کرے گا تو مدرسہ کا نظام کیسے چلے گا، جب اس لائن میں لگناہے، تواس لائن کے جو کام ہیں، وہ بھی دین ہی تو ہے ، بعض قابل اساتذہ اپنے تعلقات یا بڑوں کی سرپرستی اور سفارش پر یہ طے کرکے مدرس ہوجاتے ہیں کہ میں چندہ نہیں کروں گا،ذمہ دار بعض مصالح کی بنا پر ایسے استاد کو برداشت کرتاہے اور وہ استاد اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتاہے ، حالانکہ وہ چندہ ہی کے پیسے سے پڑھ کر اس عہدہ کے قابل ہوسکاہے ، توکیا دوسرے جو چندہ کرتے ہیں وہ سب بدقسمت ، بددین یا مردود ہیں ، العیاذبااللہ ،چندہ کرنا دین کے لیے مسنون ہے،حمیت ِاسلامی اور غیرتِ دینی کا تقاضہ بھی ہے، اوربعض مرتبہ توضروری بلکہ بعض حالات میں اگر کہوں توفرض ہوجاتاہے۔
    اہل مدارس واساتذہ کو توجہ دینے کی ضرورت
    اس سلسلہ میں اہل مدارس اور اساتذہ کرام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے ، ان کا دینی ذہن ، دینی مزاج اور دین پسند بنانا ضروری ہے ، ان کے اندردینی حمیت کا پیدا کرنا ضروری ہے ، اپنے پیٹ کے لیے اپنے بال بچوں کے لیے تو ساری دنیا کما ہی رہی ہے ، اگر چہ یہ بھی مذموم نہیں ، مگرقوم کے لیے، ملت کے لیے، ملک کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے، اگر ہمارے ان طلبہ کی، ان فارغ ہونے والے علماء کی تربیت نہیں کی گئی اوریہ غول کے غول یونہی فارغ ہوتے رہے ، توان کا نرا فارغ ہونا ، فکری انارکی کا باعث ہی ہوگا، اللہ مجھے معاف کرے ، با ت سچی ہے، اس لیے کہ ایسا علم جس کے ساتھ نافعیت نہ ہو، نرا گمراہ کن ہوسکتاہے ، جو باتیں قلم سے نکلیں ہیں ، ایسا نہیں کہ راقم سطور ان سے بری ہے ، بلکہ وہ بھی اسی طبقہ کا ایک آدمی ہے،وہ سب سے پہلے ان باتوں کو اپنے نفس سے ہی مخاطب کرتاہے ، یہ باتیں بعض احباب کے کہنے سے دل میںآگئی ہیں، اس لیے لکھ دی ہیں، شاید ہماری جماعت میں سے کوئی کھڑا ہو، اوران باتوں پر غور وفکر کرکے امت کے لیے کوئی صحیح لائحہ عمل پیش کردے ، اور امت اس کو قبول کرکے صحیح راہ اختیار کرلے ، جس کا فیض متعد ی ہو ،اللہ تعالی ہم سب کو صحیح سمجھ عطافرمائے ، بس اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے ، اس کے لیے کوئی مشکل نہیں’’وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز‘‘۔​
  5. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کاش ذمہ داران مدرسہ جاگیں اور دیکھیں وقت کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔اور ہم وہی پرانی ڈگر پر گھسٹ رہے ہیں ۔نصاب میں تبدیلی نہ سہی نظام میں تو تبدیلی ضرور لائیں۔جس سے عزیزان طلبا ء کا بھلا ہو ۔
    مسعود عزیزی صاحب کے مشورے وگزارشات سے جزئی طور پر بھی اختلاف مشکل ہے۔اللہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فر مائے۔
  6. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت شکریہ ۔ ۔ ۔
  7. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  8. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    مردوزن کابے محابہ اختلاط اور مخلوط تعلیم
    آج کل ہمارے مقررین، مبلغین، داعی حضرات جب تقریر کرتے ہیں ،یاکوئی اصلاحی مجلس قائم کرتے ہیں ،یا اخباریا کسی رسالہ میں مضمون لکھتے ہیں ، تو جوش میں مردوزن کے بے محابا اختلاط کوپوری قوت او ر تاکید کے ساتھ ناجائز اور حرام قرار دیتے ہیں ، او ر معاشرے میں اس کے جو بھیانک نتائج آشکارا ہورہے ہیں ان کی طرف اشارے بھی کرتے ہیں اورا س سلسلہ میں جو حادثات او ر غلط واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں ، ان کو بیان بھی کرتے ہیں ، اور عملاً ان کی خبریں اخبارات میں آئے دن پڑھنے کو بھی ملتی رہتی ہیں،پھر جوطلبہ وطالبات مخلوط تعلیم حاصل کرتے ہیں ، اور ایسے اسکول وکالج جن کے یہاں Co-Educationکانظم ہے ، ان کو بھی ہدف ملامت بنایا جاتاہے ، ا وراس سلسلہ میں عوام کو او رطلبہ وطالبات کے وارثین کو واضح ہدایات بھی دی جاتی ہیں اور ان کی خیر خواہی میں ان کوایسے اسکولوں سے اپنے بچوں کو ہٹانے کی ہمدردانہ او رخیرخواہانہ نصیحت بھی کی جاتی ہے، اوراس میں کوئی شک نہیں کہ ان چیزوںاوران باتوں سے معاشرے میں جو بے راہ روی پھیل رہی ہے اور جو غلط باتیں، یا بے شرمی کی چیزیں پنپ رہی ہیں ، ان کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ، اوران باتوں کی طرف بے چارے عوام اور ایجوکیٹیڈ،دنیوی تعلیم یافتہ لوگوں کا دھیان تو کم جاتاہے ، وہ تو اپنی جنٹل مینی اور جدت پرستی یا زمانے کی آواز میں آواز ملانے کی وجہ سے اور ’’چلوتم اُدھرکوہواہو جدھرکی ‘‘ اس کی بنا پر خیال تک میں بھی یہ بات نہیں لاتے ۔
    ان باتوں کی طرف علما ء کرام ،مدارس کے ذمہ داران ، مقررین او رمبلغین حضرات ہی توجہ دلاتے ہیں ، چونکہ وہی اپنی دور رسی ودور اندیشی او رعلم وفہم کی روشنی میں ان کے خطرناک نتائج اورخدشات کو سمجھ سکتے ہیں۔
  9. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اکثر مدارس میں طلبہ کا اختلاط​
    مگر اس وقت حیرت ہوتی ہے جب ان کے گھروں کے اندر- گھر اس معنی میں کہ وہ مدارس کے ذمہ داران ہیں، اور مدارس کے خود مختار اور سیاہ وسفید کے مالک ہیں ، اگرچہ بعض جگہ نام نہاد شورائیں بھی ہیں، مگر ان کی حقیقت ہاتھی کے دانت سے زیادہ نہیں- مدارس میں طلبہ ایک ساتھ لیٹتے ہیں ، بعض جگہ تودودوفٹ جگہ ، بعض جگہ تین تین فٹ جگہ طلبہ کو ملتی ہے ، اوروہ ایک ساتھ لیٹتے ہیں ۔
    حدیث میں دس سال کے بچوں کے بستر الگ کرنیکی ہدایت
    حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :’’مُرُوْا أَوْلاَدَکُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَہُمْ اَبْناَئُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا وَہُمْ اَبْنَائُ عَشَرٍ وَفرِّقُوْا بَیْنَہُمْ فِیْ الْمَضَاجِعِ‘‘ (۱) کہ جب بچے دس سال کے ہوجائیں تو ان کے بستر الگ کردو، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں کتنا بڑا پیغام ہے ، اور کس اعلی اخلاق کی طرف رہنمائی ہے۔​
    طلبہ کے اس اختلاط کے نقصانات​
    ’’صاحب البیت ادری بما فیہ‘‘ کے پیش نظر اس شکل میں طلبہ میں جو بداخلاقی اوراخلاقی گراوٹ پیداہوتی ہے ، اس کا ذمہ دار کون ہے ؟اور ذمہ دار کوئی بھی ہو، مگر وہ طلبہ جو اس اختلاط کی بنا پر گھنا ؤنے جرم اور غیر فطری عمل کے مرتکب ہوجاتے ہیں، بعض کی زندگی توتہہ وبالا ہوجاتی ہے، اور یہ بات نہیں کہ تمام ہی طلبہ اس سلسلہ میں بے راہ روی اختیار کرکے حدسے تجاوز کرتے ہیں ، بلکہ کچھ ہی ہوتے ہیں مگر ان کا اثر بہت سوں پر پڑتاہے، اور اس اخلاقی گراوٹ کا اگرچہ اعتراف بہت سے حضرات کو ہے ، اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ مہمانان رسول ہیں ، ان کی نسبت بہت عالی ہے ، فرشتے ان کے لیے پربچھاتے ہیں ، سمندر کی مچھلیاں ان کے لیے دعائیں کرتی ہیں، مگر بے چارے اہل مدارس کیا کریں، طلبہ کی کثرت ہے ، اس کا بظاہران کو کوئی حل سمجھ میں نہیں آتا ، بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ جی سینکڑوں سالوں سے یہی نظام چل رہاہے ، ہمارے اکابرین نے اسی طرح زندگی گزاری ہے ، اللہ کے بندو! اکابرین نے روکھی سوکھی کھا کر بھی توزندگی بسر کی ہے، اس میں کیوں ان کا اتباع نہیں کیاجاتا؟۔
    اس مشکل کا حل

  10. masoodazeezi

    masoodazeezi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    18
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بعض اہل مدارس کا کمزور عذر​
    بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ جی ہمارے یہاںطلبہ زیادہ ہیں ، جگہ تھوڑی ہے ، کمرے کم ہیں ، تختوں کے لیے زیادہ کمروں کی ضرورت ہے ، تو ہم نہیں کہتے کہ طلبہ کم کریں،لیکن اس پہلو پر اس طرح غورتوکرہی سکتے ہیں کہ جب وسائل کی کثرت ہے اوربالیقین ہے ، جتنا خرچ پورا مدرسہ بنانے میں ہوتاہے ، اس سے کہیں زیادہ عالیشان مسجد بنانے میں ، مسجد کی تزئین کرنے میں ، پتھر لگانے میں ہوجاتاہے ، یا زیادہ نہ سہی بلکہ برابر یاتھوڑا کم تو ہو ہی جاتاہے ، تو کیا کچھ زیادہ کمرے بناکے ،کچھ تخت نہیں بناسکتے،واللہ! یہ کوئی طنزوتحقیراور کسی عجب وبڑائی کی بات نہیں بلکہ دل کی کڑھن کی بات ہے۔​
    قوم ہر وقت تعاون کرتی ہے ​
    جب قوم تعاون کرتی ہے ، تواس مدمیں بھی ان سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے،کیونکہ مدارس کا وجود ، مدارس کا قیام یہ قوم کے طلبہ کے اخلاقیات کو درست کرنے کے لیے اور اخلاقیات کی تعلیم کوعام کرنے کے لیے ہے، جب اخلاقیات کو درست کرنا ہے تواخلاقیات کے اس شعبہ کی طرف دھیان کیوں نہیں جاتا؟اور اگر کہیں یہ نظام ممکن نہ ہو، کہیں بھی ہندوستان میں نہ چل رہاہوتو عذر معقول ہوسکتاہے، مگر ہم دیکھتے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے مدارس میں یہ نظام چل رہاہے ، اورطلبہ کے لیے تخت کا انتظام کیا جارہاہے ، خود راقم کے یہاں بھی تخت کا نظم ہے،اور تختوں کے لیے مستقل ایک مخیر سے رقم حاصل کی ہے ، توسب کو اس سلسلہ میں سوچنے کی ضرورت ہے ، سب کے سرتھوپنے والی بات نہیں ہے ، بلکہ ہرایک کو اپنے تئیں اپنے مدرسے کے تئیں اوراپنے عزیز طلبہ کے تئیں غور کرنے کی ضرورت ہے ، یہ نہ دیکھیں کہ کون کہہ رہاہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ بات معقول ہے یاغیرمعقول ، اس کے تناظر میں سوچنا ہے ۔[/align]

    مدارس میں کھانے کی تقسیم کامروجہ طریقہ


    صحیح طریقہ
    اگر وہ روٹی کو دسترخوان یاکپڑے میں لپیٹ کر لے جائے اور سالن کوڈھک کر لے جائے تو کتنا اچھاہے ، کیا یہ تہذیب نہیں ہے ، ہمیں تو اخلاقیات کی بھی تعلیم دینی ہے اور تہذیب بھی سکھانی ہے ،ہم رات دن مغربی تہذیب کی تو بکھیاں ادھیڑتے ہیں، مگر اپنی تہذیب کی پاسداری نہیں، اس لیے اس کا بہتر طریقہ آج کے زمانہ میں ناشتہ دان ،یا ٹپن دان ہوسکتاہے کہ اس کے ایک ڈبے میں سالن دوسرے میں روٹی رکھ کر اچھے اندا ز میں پردے کے ساتھ کمرے تک لے جایاجاسکتا ہے ۔

    کھانا کھلانے کا دوسرا طریقہ
    [align=justify]
    طلبہ کی عادت

    ہمیں تجربہ ہے کہ ہمارے یہاں فضلا کا ایک اختصاص کاکورس ہے ، تو بعض مرتبہ ان فضلا ء کو ان کی بے اصولی اور بدعنوانی پر ہدایت کی جاتی ہے، روک ٹوک کی جاتی ہے اوران کی گرفت کی جاتی ہے، توبعض مرتبہ جوان کے پڑھانے والے استاد ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی فضلا ہیں ، علماء ہیں ، کم سے کم ان کا تو خیال رکھنا چاہئے، ان کا احترام کرنا چاہئے، میں عرض کرتاہو ں کہ بھاڑ میں جائیں ایسے علماء او رفضلا جو اصول کا خیال نہ رکھتے ہوں،یہی علماء اورفضلا جب کھانا لیتے ہیںتو ہاتھوں میں روٹی اسی طرح لے جاتے ہیں جس طرح گذشتہ آٹھ دس سال سے عادت ہے ، مجھے بتلاتے بتلاتے شرمندگی ہونے لگی ، کیا کہاجائے علما ء امت اورفضلائے امت کو، جو کل قیادت کرنے والے ہیں ، وہ ایک بھی ماننے کو تیا رنہیں ہے او رناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے ہیں ۔
    اچھی چیز کو اختیار کرنے
    اور بری چیز کو چھوڑنے کااصول اپنانا چاہئے
    بس’’اِنَّمَااَشْکُوْ بَثَّی وَحُزُنِیْ اِلیَ اللّٰہِ‘‘ اللہ ہی کو اپنا دردوغم سناتاہوں اور امت کے سنجیدہ علما ء ، سنجیدہ افراد اور مفکرین کو باور کرانا چاہتاہوں کہ کچھ سوچیں ، کب تک اس پرانی روش اور ڈگر پرچلتے رہیں گے ، جن چیزوں میں پرانی ڈگر پر چلنے کی ضرورت ہے، ان کو تو پس پشت ڈالا ہواہے اور جہاں صحیح بات بتلانے کی اور اختیا رکرنے کی ضرورت ہے، وہاں کہہ رہے ہیں کہ پرانا طریقہ ہی ٹھیک ہے ، پرانا طریقہ وہ تو صحیح ہے جس پر صحابہ نے زندگی گزاری، اسلاف نے زندگی گزاری؛ لیکن جن چیزوں میں اللہ نے جدت اور بدعت حسنہ کے اختیا رکرنے کی اجازت دی ہے ، وہاں انتظامی طورپر صحیح چیزوں کو’’خُذْمَاصَفَاوَدَعْ مَاکَدِرْ‘‘ کے پیش نظر لیا جاسکتاہے ، ان کو اختیا رکرنے میں کیا قباحتہے ؟ اللہ ہی ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے اور صحیح لائحہ عمل تیار کرکے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بس اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے ۔
  11. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    وفقك الله لخير الدارين .

اس صفحے کو مشتہر کریں