مولانا حکیم محمد اختر سپرد خاک، نماز جنازہ میں کئی لاکھ افراد کی شرکت

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از خادمِ اولیاء, ‏جولائی 17, 2013۔

  1. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مجھ سے پہلے اگر کوئی دوست کمپوز کرچکاہے تو یہ اعزاز اسی کا ہے
    [align=center]منگل، روزنامہ اسلام، ۲۴؍ رجب ۱۴۳۴ھ مطابق 4 جون 2013ء
    سرخی: مولانا حکیم محمد اختر سپرد خاک، نماز جنازہ میں کئی لاکھ افراد کی شرکت
    ٭ ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نماز جنازہ میں شرکت کی، ٹریفک جام کے باعث ہزاروں لوگ شریک نہ ہوسکے
    ٭ تدفین جامعہ اشرف المدارس کے احاطے میں کی گئی، نماز جنازہ میں ملک و بیرون سے علماء و معتقدین نے بھی شرکت کی
    کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ممتاز روحانی شخصیت مولانا حکیم محمد اختررحمہ اللہ کو پیر کی صبح جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں علمائے کرام اور ان کے معتقدین سمیت کئی لاکھ سے زاید افراد نے شرکت کی جبکہ مختلف جماعتوں کے قائدین نے مولانا کے انتقال کو امت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال کی خبر ملتے ہی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا سے ان کے عقیدت مندوں، شاگردوں، خلفاء اور چاہنے والوں کی بڑی تعداد نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کراچی پہنچی۔ مولانا کی نماز جنازہ ان کے قائم کردہ دینی ادارے جامعہ اشرف المدارس سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں ان کی وصیت کے مطابق ان کے فرزند مولانا حکیم محمد مظہر کی اقتداء میں ادا کی گئی ۔ نماز جنازہ میں جید علماء وفاق المدارس کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا عبدالرزاق اسکندر، شیخ الحدیث مولانا زر ولی خان، مفتی محمد نعیم، مولانااسفندیار خان، مولاناعبدالرئوف سکھروی، مولاناعبدالواحد، مولانا زبیر اشرف عثمانی، مولانا امداداللہ،مولانا سعید عبدالرزاق اسکندر، مولانا شفیق بستوی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، قاری محمد عثمان، اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی اور مختلف سیاسی و مذہبی قائدین سمیت حضرت کے عقیدت مندوں، شاگردوں، خلفاء اور عام شہریوںکی ایک لاکھ سے زاید تعدادنے شرکت کی۔ لوگوں کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آمد نماز فجر کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی۔ نماز جنازہ صبح 9 بجے ادا کی گئی۔ قبل ازیںصفورہ گوٹھ، موسمیات، ایئرپورٹ، پہلوان گوٹھ، رابعہ سٹی اور دیگر علاقوں کی طرف جانے والے راستوں میں شدید ٹریفک جام کے باعث ہزاروں افراد نماز جنازہ میں شرکت نہ کرسکے ۔ سندھ بلوچ سوسائٹی کے علاوہ قرب و جوار کے علاقوں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر ہی نماز جنازہ ادا کی ۔بعد ازاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مولانا کو سندھ بلوچ سوسائٹی کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالحفیظ مکی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر احمد علی سراج، ڈاکٹر سعید عنایت اللہ، مولانا الیاس چنیوٹی، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور نائب امیراسداللہ بھٹو، کراچی کے امیر محمد حسین محنتی، جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا محمد غیاث، اسلم غوری، قاری شیر افضل، مفتی محمداسلم نعیمی، مولاناانتظارالحق تھانوی، علامہ عبداللہ غازی، علامہ آغاحسن صلاح الدین، علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی، علامہ ڈاکٹر عامرعبداللہ محمدی، علامہ غلام مصطفیٰ رحمانی، سید جمیل شاہ، حافظ ساجد، عمران مستقیم اور دیگر نے مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال پر دلی دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغامات میں انہوں نے کہاکہ وہ عارف باللہ اور روحانی شخصیت تھے۔ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اتحاد امت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔اس پرفتن دور میں وہ انسانیت کے لیے سکون وفلاح کا نشان تھے۔اجمیر پرائیڈ گلستان جوہر بلاک 12سندھ بلوچ سوسائٹی کے مکینوں نے بھی حضرت کے انتقال پر دلی افسوس اور رنج و غم کرتے ہوئے ان کے صاحبزادے مولانا حکیم محمد مظہر سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
    [/align]
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    یہ ابھی کمپوزنگ کیلئے رہتی تھی، مگر ٹائپ ہو چکی اس لیے کوئی بھائی نہ کرے۔
  3. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ ٹائپ ہوچکی کی مراد میری طرف سے ٹائپنگ ہے یا کوئی اور؟
  4. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ٹائپ ہو چکی سے مراد آپ کی ٹائپنگ ہے۔ احقر بھی کرنے والا تھا مگر آپ کی ٹائپنگ کے بعد چھوڑ دی۔
  5. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    منگل، روزنامہ اسلام، ۲۴؍ رجب ۱۴۳۴ھ مطابق 4 جون 2013ء
    سرخی: مولانا حکیم محمد اختر سپرد خاک، نماز جنازہ میں کئی لاکھ افراد کی شرکت
    ٭ ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نماز جنازہ میں شرکت کی، ٹریفک جام کے باعث ہزاروں لوگ شریک نہ ہوسکے
    ٭ تدفین جامعہ اشرف المدارس کے احاطے میں کی گئی، نماز جنازہ میں ملک و بیرون سے علماء و معتقدین نے بھی شرکت کی
    کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ممتاز روحانی شخصیت مولانا حکیم محمد اختررحمہ اللہ کو پیر کی صبح جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں علمائے کرام اور ان کے معتقدین سمیت کئی لاکھ سے زاید افراد نے شرکت کی جبکہ مختلف جماعتوں کے قائدین نے مولانا کے انتقال کو امت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال کی خبر ملتے ہی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا سے ان کے عقیدت مندوں، شاگردوں، خلفاء اور چاہنے والوں کی بڑی تعداد نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کراچی پہنچی۔ مولانا کی نماز جنازہ ان کے قائم کردہ دینی ادارے جامعہ اشرف المدارس سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں ان کی وصیت کے مطابق ان کے فرزند مولانا حکیم محمد مظہر کی اقتداء میں ادا کی گئی ۔ نماز جنازہ میں جید علماء وفاق المدارس کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا عبدالرزاق اسکندر، شیخ الحدیث مولانا زر ولی خان، مفتی محمد نعیم، مولانااسفندیار خان، مولاناعبدالرئوف سکھروی، مولاناعبدالواحد، مولانا زبیر اشرف عثمانی، مولانا امداداللہ،مولانا سعید عبدالرزاق اسکندر، مولانا شفیق بستوی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، قاری محمد عثمان، اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی اور مختلف سیاسی و مذہبی قائدین سمیت حضرت کے عقیدت مندوں، شاگردوں، خلفاء اور عام شہریوںکی ایک لاکھ سے زاید تعدادنے شرکت کی۔ لوگوں کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آمد نماز فجر کے بعد ہی شروع ہوگئی تھی۔ نماز جنازہ صبح 9 بجے ادا کی گئی۔ قبل ازیں صفورہ گوٹھ، موسمیات، ایئرپورٹ، پہلوان گوٹھ، رابعہ سٹی اور دیگر علاقوں کی طرف جانے والے راستوں میں شدید ٹریفک جام کے باعث ہزاروں افراد نماز جنازہ میں شرکت نہ کرسکے ۔ سندھ بلوچ سوسائٹی کے علاوہ قرب و جوار کے علاقوں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر ہی نماز جنازہ ادا کی ۔بعد ازاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مولانا کو سندھ بلوچ سوسائٹی کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالحفیظ مکی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر احمد علی سراج، ڈاکٹر سعید عنایت اللہ، مولانا الیاس چنیوٹی، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور نائب امیراسداللہ بھٹو، کراچی کے امیر محمد حسین محنتی، جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا محمد غیاث، اسلم غوری، قاری شیر افضل، مفتی محمداسلم نعیمی، مولاناانتظارالحق تھانوی، علامہ عبداللہ غازی، علامہ آغاحسن صلاح الدین، علامہ قاضی احمدنورانی صدیقی، علامہ ڈاکٹر عامرعبداللہ محمدی، علامہ غلام مصطفیٰ رحمانی، سید جمیل شاہ، حافظ ساجد، عمران مستقیم اور دیگر نے مولانا حکیم محمد اختر کے انتقال پر دلی دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغامات میں انہوں نے کہاکہ وہ عارف باللہ اور روحانی شخصیت تھے۔ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اتحاد امت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔اس پرفتن دور میں وہ انسانیت کے لیے سکون وفلاح کا نشان تھے۔اجمیر پرائیڈ گلستان جوہر بلاک 12سندھ بلوچ سوسائٹی کے مکینوں نے بھی حضرت کے انتقال پر دلی افسوس اور رنج و غم کرتے ہوئے ان کے صاحبزادے مولانا حکیم محمد مظہر سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

اس صفحے کو مشتہر کریں