مگس کوباغ میں نہ جانے دو . نہ حق خون پروانے کا ہو گگا

'مزاحیہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نبیل خان, ‏اکتوبر 26, 2012۔

  1. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    دوستو بات دراصل یہ ہے کہ شہد کی مکھی باغ میں جائے گی تو پھولوں کا رس چوسے گی پھر چھتے میں شہد بنائے گی اور پھر اس چھتے کی موم سے موم بتی تیار ہو گی اور وہ موم بتی سیل ہو گی اور پھر اس موم بتی کو جلایا جائے گا اور جب موم بتی جلے گی تو اس پر پروانہ آئے گا اور جل کر راکھ ہو جائے گا ۔۔۔۔ اس لیے اگر شہد کی مکھی کو باغ میں جانے سے روک دیا جائے تو نہ چھتہ بنے گا ، نہ موم بتی بنے گی اور نہ ہی بیچارے پروانے کا خون ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے کہتے ہیں کہ

    مگس کو باغ میں نہ جانے دو
    نہ حق خون پروانہ ہو گا
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    141
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    کیا خوب بچا یا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے چارے پروانے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  3. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,568
    موصول پسندیدگیاں:
    15
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    مگس کو باغ میں نہ جانے دو
    نہ حق خون پروانہ ہو گا
    مگس پہ زرداری ٹیکس لگانے سے بھی پروانہ بچ جاے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,554
    موصول پسندیدگیاں:
    71
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
  5. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    452
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس صفحے کو مشتہر کریں