میرا یوم پیدائش

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از ضیاء, ‏دسمبر 28, 2017۔

  1. ضیاء

    ضیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    بر موقعہ یوم ولادت
    از ضیاء
    ------------------------------------------------------
    یوم ولادت 8 اکتوبر 1996
    یوم وفات. لا علم لنا الا ما علمنی اللہ

    آج میرا بائیسواں یوم پیدائش بالفاظ دیگر جنم دن ہے
    واضح رہے کہ یوم ولادت کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ جنم دن کہنے میں مضائقہ ہی نہیں بلکہ حرح عظیم ہے
    ایسا لوگ کہتے ہیں میں نہیں کہتا ہاں میں لکھتا ہوں
    بہر کیف لکھنے اور کہنے کے چکر میں بات کہیں دور نہ چلی جائے اس لئے کہنا بند اور لکھنا جاری.......
    بہر حال آج سے بائیس سال قبل میں جزء لا یتجزی بھی نہیں تھا کہ رب تعالی نے مجھے وجود بخشا اور میں لاشئ سے وجود اور لا شعور سے شعور میں آگیا
    ہر ہر سال ایک سال اور ہر ہر ماہ ایک ایک ماہ میری عمر سے کم بھی ہوتا گیا اور بڑھتا بھی گیا
    کم ہونے کا غم تھا اور بڑھنے کی خوشی سی...

    انہیں ماہ و سال کی گردش میں میں نے اسکولوں کے بھی چکر لگائے اور مدرسوں کے بھی دورے کئے
    کئی کالج تبدیل ہوئے اور ہنوز ہو رہے ہیں اور ایک دو مدرسہ بھی.
    ڈگریاں بھی حاصل ہوئیں اور کئی سندیں بھی. بہت سے نئے لوگ میری زندگی میں آئے بھی اور بے شمار لوگ میری زندگی سے گئے بھی
    کسی کے آنے کی خوشی ہوئی اور کسی کے جانے کا قلق
    کچھ ہیں جنہیں بھلا دیا اور کچھ ہیں جنہیں بھلایا نہ جاسکا
    کئی تو وہ ہیں جو آکر چلے گئے
    اور بہت سے وہ ہیں جو جا کر نہیں آئے
    غم تو بہر حال دونوں کا ہے
    صبح اٹھونگا تو سب مبارک باد دینگے
    تذکرے بھی ہونگے
    اور کئی طرح کی باتیں بھی پیش آئینگی
    امی کو جلدی سے رشتہ کر دینے کی عجلت
    اور ابو کو میرے کیرئر کی فکر
    دوستوں کو مجھ سے پارٹی لینے کا موقعہ
    اور
    اور مجھے ...... مجھے بھی کئی طرح کے غم لاحق ہونگے
    جی ہاں کل میں چھوٹا تھا آج ذرا اور بڑا ہوگیا ذرا سی ذمہ داری اور بڑھ گئی اور یہ ہر سال ذرا ذرا سی بڑھ کر اسقدر ہوئی جاتی ہے کہ اب میرے کاندھے بوجھل اور بازو شل ہوگئے

    کل تک جب کہ میں بہت چھوٹا, چھوٹا سا اور صرف چھوٹا تھا(لف و نشر مرتب)
    مجھ سے مواخذہ کم ہوتا تھا لیکن اب میری گردن کسی کی غلام ہے
    میری حیات قفس عنصری کے ساتھ ساتھ کئیوں کی مسجون اور محبوس ہوچکی ہیں
    لہذا ایک غلام جو اپنی ایک سانس کا بھی مالک نہیں
    جس کو ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ کب وہ حالات کی بھینٹ چڑھ جائے کب وہ صعوبتوں اور مذلتوں کے قعر عمیق میں سر بہ زمیں اور پا بہ سماں گر پڑے اور اس وقت یہ رسمی مبارکباد دینے والے کیا یہ اعانت کو آئینگے جنہیں ہر سال جنم دن اور یوم ولادت تو یاد ہوتا ہے لیکن پورے سال یہ میرے غموں اور خوشیوں میں بھی شریک نہ رہے کیا پورے سال یہ اذیتوں اور صعوبتوں کے ازالہ کے لئے بھی معاون خاص اور بازو بن کر سہارا دینے اور لینے کو تیار ہوئے

    جی ہاں !کوئی نہیں
    آئے بھی خالی ہاتھ اور اکیلے
    اور جانا بھی خالی ہاتھ اور اکیلے

    تب تو بس یہی کہنا ہوگا جو میں سنہ دوہزار چودہ میں کہا تھا
    مکمل نظم کا شعر

    تجھے کہہ رہا ہے یہ سال نو
    کہ تو فرحتوں میں نہ مست ہو
    تری عمر کا یہ برس گیا
    تری عمر اب تو تمام ہے

    مجھےغم ہے اب تو یہی ضیاء
    کہ روا برس میں نے کیا کیا
    یونہی ساری عمر گذار دی
    یہ تو حسرتوں کا مقام ہے
    ------------------------------------------------

    ضیاء

اس صفحے کو مشتہر کریں