میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے آخری لمحات ۔۔۔ مولانا جلیل احمد اخون :: ٹائپنگ مکمل

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 17, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے آخری لمحات
    شیخ الحدیث حضرت مولانا الشاہ جلیل احمد اخون
    ۲۳رجب المرجب ۱۴۳۴ ہجری بمطابق 2جون 2013ء بروز اتوار بعد نماز مغرب شیخ العرب و العجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    ہر عاشق حق کی یہ تمنا رہی ہے کہ اس کی وفات اس دن ہو جس دن عاشقِ اعظم اور محبوبِ اعظم حضرت محمد ﷺ کی وفات ہوئی چنانچہ سب سے پہلے یہ تمنا یارِ غار و مزار قدوۃ الصدیقین سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی تھی جس پر امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’باب موت یوم الاثنین‘‘ (صفحہ186 بخاری جلد اوّل) قائم کیا ہے یعنی پیر کے دن مرنے کی تمنا کرنا مستحب ہے اور اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تمنا ذکر فرمائی ہے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ تمنا پوری ہوئی اور آپ کا انتقال پیر کے دن ہوا۔
    1997ء میں میرے مربی و شیخ عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ بہاول نگر تشریف لائے تو جامع مسجد نادرشاہ بازار میں فجر کے بعد بیان میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ مولانا جلیل احمد کے والد محترم مولانا نیاز محمد ختنی رحمہ اللہ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ پیر کے دن مرنے کی تمنا رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تمنا پوری فرما دی اور میں بھی یہ تمنا کرتا ہوں کہ میری موت بھی پیر کے دن ہو اسی دن یہ یقین ہو چلا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس پیارے بندے کی مراد کو پورا فرمائیں گے۔
    میرے مربی و شیخ اگرچہ 2000ء سے بستر علالت پر تھے اور اس حالت میں بھی آپ کا فیضان ہر طرح سے جاری و ساری تھا لیکن کچھ عرصہ سے بیماری شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ہر پیر کے دن دل ڈرتا رہتا کہ کوئی غم ناک واقعہ پیش نہ آ جائے۔
    بندہ چونکہ کراچی سے دور بہاول نگر کا رہائشی ہے اس دوری کی وجہ سے ہمیشہ احساس محرومی رہتا تھا لیکن ان دنوں میں ہر وقت دل پر یہ غم چھایا رہتا کہ اس دوری میں حضرت شیخ کو کچھ ہو گیا یہ کسک کبھی بھی دل سے نہ جائے گی۔
    29مئی کو بیماری کی شدت کی اطلاع ملی تو رخت سفر باندھا اور جمعرات 30مئی کو کراچی حاضر ہو گیا اگرچہ حضرت پر بار بار بیماری کا حملہ ہو رہا تھا لیکن جوں جوں پیر کا دن قریب آتا جا رہا تھا تو اندیشے بڑھتے جا رہے تھے اس سے پہلے بھی حضرت شیخ اپنے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم محمد مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم سے کئی بار پوچھ چکے تھے ’’آج کون سا دن ہے‘‘ (یہ حضرت کا خاص انداز تھا) تو مولانا فرماتے بدھ ہے یا جمعہ ہے جو بھی دن ہوتا تو آپ نفی میں سر ہلا دیتے۔
    بندہ اتوار کی صبح حضرت شیخ کی زیارت کر کے رہائش گاہ پر بغرض آرام آیا تو عصر کے بعد اطلاع ملی کہ حضرت کی حالت نازک ہوتی جا رہی ہے فوراً خانقاہ حاضر ہوا خانقاہ میں ایک بہت بڑا مجمع ذکر و دعا میں مشغول تھا اور سب کے چہروں پر غم کی چھائیاں صاف نظر آ رہی تھیں خاموش آنسو بہہ رہے تھے ایک دفعہ تو بندہ کو سمجھ نہ آیاکہ کیا کریں پھر خانقاہ کے اندر سے بلاوا آیا بندہ اندر حاضر ہوا اندر سب دل گرفتہ اور پریشان تھے حضرت کو آکسیجن دی جا رہی تھی ڈاکٹر صاحبان اپنی پوری کوشش میں لگے ہوئے تھے بندہ نے حضرت کے سر کو دبانا اور سہلانا شروع کر دیا۔ حضرت مولانا محمد مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم اور ان کے صاحبزادگان مولانا ابراہیم میاں صاحب، مولانا اسماعیل صاحب اور مولانا اسحاق صاحب آکسیجن تھیلی کے ذریعے حضرت کو سانس لینے میں مدد ے رہے تھے اور ان حضرات کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور سب لوگ گھٹی گھٹی آواز سے رو رہے تھے بندہ نے گھڑی پر نظر کی تو پیر کے داخل ہونے میں بیس منٹ باقی تھے دل کو کسی چیز نے پکڑ لیا حضرت کی کھلی آنکھیں بھی گھڑی کی طرف تھیں اور دل نے کہا کہ حضرت پیر ہی کا انتظا کر رہے ہیں حضرت کی آنکھوں سے ایک دو آنسو آپ کے گال پر لڑھک گئےجو بندہ نے ہاتھ سے پونچھ کر اپنے چہرے پر مَل لیے اور اور شدت جذبات سے حضرت کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ سات بج کر بیس منٹ پر جب مغرب کی اذان ہوئی تو بندہ نے حضرت کے چند خدام کے ساتھ خانقاہ کے اندر ہی حضرت کے پاس باجماعت نماز پڑھ لی اور باقی حضرات ،مسجد چلے گئے نماز پڑھ کر پھردوبارہ بندہ حضرت کے سر کو دبانے اور سہلانے لگا تو سکرات کے آثار شروع ہو گئےاور سانسوں میں وقفہ ہونے لگا حضرت کی پیشانی مبارک جو دبانے اور سہلانے سے خون کے اثر کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی اچانک نورانی ہونا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے زرد نورانی رنگ پھیل گیا؎
    عاشقان زرد رو کی چشم نم میں صبح دم
    ان کے جلوؤں کا یہ رنگ ارغوانی دیکھئے
    (حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
    اتنے میں حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر واپس تشریف لے آئے تو حضرت آخری سانسوں پر تھے اور چند منٹ بعد پورے عالم اسلام کو یتیم چھوڑ کر عالم بالا کی طرف رحلت فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    اور زرد نور پورے چہرے پر پھیل گیا اور ایک خاص اطمینان و سکون چہرے پر ہویدا ہو اجیسے تھکا ہارا مسافر اپنی منزل پر پہنچ گیا ہو، میں نے گھڑی پر نظر کی تو 7بج کر 42منٹ تھے اور پیر کو داخل ہوئے 22 یا 23 منٹ ہو چکے تھے اور خانقاہ کے اندر اور باہر آہ و بکا اور سسکیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور لوگ ایک دوسرے سے لپٹ کر رو رہے تھے، مجھے مولانا جلال الدین رومی (رحمہ اللہ تعالیٰ) کا یہ شعر یاد آ رہا تھا؎
    تو چناں خواہد خدا خواہد چنیں
    می دہد یزداں مراد متقیں
    تو جو چاہے گا وہی اللہ تعالیٰ چاہیں گے اللہ تعالیٰ اپنے متقین بندوں کی مراد پوری فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے بھی میرے شیخ کی مراد کو پورا فرمایا اور پیر کے دن کی موت عطا فرمائی۔
    بندہ عرض کرتا ہے کہ جمعہ کے دن کی موت خائفین کے لیے ہے اور پیر کے دن کی موت عاشقین کے لیے ہے۔
    حضرت شیخ کو غسل دینے کی تیاری شروع ہو گئی اور اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی سنت کے مطابق ہو چنانچہ غسل کی ذمہ داری حضرت کے پوتے مولانا اسحاق صاحب اور حضرت کے خدام حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب، مولوی برکت اللہ صاحب، بھائی مطاہر محمود صاحب پر عائد کر دی گئی اور ان کے تعاون کے لیے اور شرعی ہدایات کے لیے مفتی ارشاد احمد صاحب، مفتی غلام محمد صاحب اور بندہ کو مقرر کیا گیا۔
    تقریباً ساڑھے دس بجے حضرت کو غسل اور کفن دے کر خانقاہ میں زیارت کے لیے پہنچا دیا گیا بندہ ان خدمات و لمحات کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
    8بجے صبح حضرت شیخ کا جنازہ جامعہ اشرف المدارس سندھ بلوچ سوسائٹی میں پہنچ گیا کچھ دیر کے لیے جنازہ بڑی خانقاہ میں رکھا گیا جہاں آپ کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں ساڑھے آٹھ بجے جنازہ جنازہ گاہ مٰں لایا گیا الحمدللہ جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت بندہ نے بھی حاصل کی اور چھوٹے بھائی اور حضرت کے خلیفہ مفتی خلیق احمد اخون سلمہٗ اور فرزند محمد طلحہ نیاز اخون سلمہٗ نے بھی حاصل کی۔
    9بجے نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور ہزاروں افراد ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے نہ پہنچ سکے یہ وہ جنازہ تھا جس مںر پڑھنے والوں کی بخشش ہو جاتی ہے، جنازے مںہ آنے والے جہاں جنازے کا اجر لینے کے متمنی تھے وہاں اپنی بخشش کے بھی امیدوار تھے۔
    وصیت کے مطابق حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم نے نماز جنازہ پڑھائی اور سندھ بلوچ سوسائٹی مںی حضرت کے وقف کردہ قطعہ زمین برائے قبرستان میں آپ کی تدفین کر دی گئی اور آپ کی تدفین کا عمل آپ کے پوتے حضرت مولانا محمد ابراہیم میاں صاحب اور مولانا اسماعیل صاحب اور مولانا اسحاق صاحب اور دیگر اعزاء اور خدام کے ذریعے انجام پایا اور حضرت شیخ کی وصیت کے مطابق آپ کے پورے جسم کا رخ قبر کے شرقی دیوار کے سہارے قبلہ رو کر دیا گیا اور یہی شرعی حکم اور سنت ہے صرف چہرے کا قبلہ رخ کرنا کافی نہیں سب سے پہلے تین لپ مٹی حضرت کے صاحبزادے نے ڈالی پھر بندہ نے یہ سعادت حاصل کی اور پھر دیگر حضرات نے۔
    سورہ بقرہ کے اول اور آخری رکوع حضرت کے پوتے حضرت مولانا محمد ابراہیم میاں اور مولانا اسماعیل صاحب نے تلاوت کیے اور آخری دعا کروانے کا حکم بندہ کو ہوا سب نے قبلہ رو ہو کر دعا کی تقریباً ساڑھے دس بجے تدفین مکمل ہوئی اور قبرستان کو قبر کی زیارت کے لیے عام و خاص کے لیے کھول دیا گیا۔ رحمۃ اللہ رحمۃ واسعۃً (آمین)۔
    بہت روئیں گے کر کے یاد اہلِ میکدہ مجھ کو
    شرابِ دردِ دل پی کر ہمارے جام و مینا سے
    (حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے آخری لمحات
    شیخ الحدیث حضرت مولانا الشاہ جلیل احمد اخون

    ۲۳رجب المرجب ۱۴۳۴ ہجری بمطابق 2جون 2013ء بروز اتوار بعد نماز مغرب شیخ العرب و العجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    ہر عاشق حق کی یہ تمنا رہی ہے کہ اس کی وفات اس دن ہو جس دن عاشقِ اعظم اور محبوبِ اعظم حضرت محمد ﷺ کی وفات ہوئی چنانچہ سب سے پہلے یہ تمنا یارِ غار و مزار قدوۃ الصدیقین سیّدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی تھی جس پر امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’باب موت یوم الاثنین‘‘ (صفحہ186 بخاری جلد اوّل) قائم کیا ہے یعنی پیر کے دن مرنے کی تمنا کرنا مستحب ہے اور اس باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تمنا ذکر فرمائی ہے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ تمنا پوری ہوئی اور آپ کا انتقال پیر کے دن ہوا۔
    1997ء میں میرے مربی و شیخ عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ بہاول نگر تشریف لائے تو جامع مسجد نادرشاہ بازار میں فجر کے بعد بیان میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ مولانا جلیل احمد کے والد محترم مولانا نیاز محمد ختنی رحمہ اللہ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ پیر کے دن مرنے کی تمنا رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تمنا پوری فرما دی اور میں بھی یہ تمنا کرتا ہوں کہ میری موت بھی پیر کے دن ہو اسی دن یہ یقین ہو چلا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس پیارے بندے کی مراد کو پورا فرمائیں گے۔
    میرے مربی و شیخ اگرچہ 2000ء سے بستر علالت پر تھے اور اس حالت میں بھی آپ کا فیضان ہر طرح سے جاری و ساری تھا لیکن کچھ عرصہ سے بیماری شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ہر پیر کے دن دل ڈرتا رہتا کہ کوئی غم ناک واقعہ پیش نہ آ جائے۔
    بندہ چونکہ کراچی سے دور بہاول نگر کا رہائشی ہے اس دوری کی وجہ سے ہمیشہ احساس محرومی رہتا تھا لیکن ان دنوں میں ہر وقت دل پر یہ غم چھایا رہتا کہ اس دوری میں حضرت شیخ کو کچھ ہو گیا تو یہ کسک کبھی بھی دل سے نہ جائے گی۔
    29مئی کو بیماری کی شدت کی اطلاع ملی تو رخت سفر باندھا اور جمعرات 30مئی کو کراچی حاضر ہو گیا اگرچہ حضرت پر بار بار بیماری کا حملہ ہو رہا تھا لیکن جوں جوں پیر کا دن قریب آتا جا رہا تھا تو اندیشے بڑھتے جا رہے تھے اس سے پہلے بھی حضرت شیخ اپنے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم محمد مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم سے کئی بار پوچھ چکے تھے ’’آج کون سا دن ہے‘‘ (یہ حضرت کا خاص انداز تھا) تو مولانا فرماتے بدھ ہے یا جمعہ ہے جو بھی دن ہوتا تو آپ نفی میں سر ہلا دیتے۔
    بندہ اتوار کی صبح حضرت شیخ کی زیارت کر کے رہائش گاہ پر بغرض آرام آیا تو عصر کے بعد اطلاع ملی کہ حضرت کی حالت نازک ہوتی جا رہی ہے فوراً خانقاہ حاضر ہوا خانقاہ میں ایک بہت بڑا مجمع ذکر و دعا میں مشغول تھا اور سب کے چہروں پر غم کی چھائیاں صاف نظر آ رہی تھیں خاموش آنسو بہ رہے تھے ایک دفعہ تو بندہ کو سمجھ نہ آیاکہ کیا کریں پھر خانقاہ کے اندر سے بلاوا آیا بندہ اندر حاضر ہوا اندر سب دل گرفتہ اور پریشان تھے حضرت کو آکسیجن دی جا رہی تھی ڈاکٹر صاحبان اپنی پوری کوشش میں لگے ہوئے تھے بندہ نے حضرت کے سر کو دبانا اور سہلانا شروع کر دیا۔ حضرت مولانا محمد مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم اور ان کے صاحبزادگان مولانا ابراہیم میاں صاحب، مولانا اسماعیل صاحب اور مولانا اسحاق صاحب آکسیجن تھیلی کے ذریعے حضرت کو سانس لینے میں مدد ے رہے تھے اور ان حضرات کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور سب لوگ گھٹی گھٹی آواز سے رو رہے تھے بندہ نے گھڑی پر نظر کی تو پیر کے داخل ہونے میں بیس منٹ باقی تھے دل کو کسی چیز نے پکڑ لیا حضرت کی کھلی آنکھیں بھی گھڑی کی طرف تھیں اور دل نے کہا کہ حضرت پیر ہی کا انتظا کر رہے ہیں حضرت کی آنکھوں سے ایک دو آنسو آپ کے گال پر لڑھک گئےجو بندہ نے ہاتھ سے پونچھ کر اپنے چہرے پر مَل لیے اور شدت جذبات سے حضرت کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ سات بج کر بیس منٹ پر جب مغرب کی اذان ہوئی تو بندہ نے حضرت کے چند خدام کے ساتھ خانقاہ کے اندر ہی حضرت کے پاس باجماعت نماز پڑھ لی اور باقی حضرات ،مسجد چلے گئے نماز پڑھ کر پھردوبارہ بندہ حضرت کے سر کو دبانے اور سہلانے لگا تو سکرات کے آثار شروع ہو گئےاور سانسوں میں وقفہ ہونے لگا حضرت کی پیشانی مبارک جو دبانے اور سہلانے سے خون کے اثر کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی اچانک نورانی ہونا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے زرد نورانی رنگ پھیل گیا؎
    عاشقان زرد رو کی چشم نم میں صبح دم
    ان کے جلوؤں کا یہ رنگ ارغوانی دیکھئے
    (حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
    اتنے میں حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر واپس تشریف لے آئے تو حضرت آخری سانسوں پر تھے اور چند منٹ بعد پورے عالم اسلام کو یتیم چھوڑ کر عالم بالا کی طرف رحلت فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    اور زرد نور پورے چہرے پر پھیل گیا اور ایک خاص اطمینان و سکون چہرے پر ہویدا ہو اجیسے تھکا ہارا مسافر اپنی منزل پر پہنچ گیا ہو، میں نے گھڑی پر نظر کی تو 7بج کر 42منٹ تھے اور پیر کو داخل ہوئے 22 یا 23 منٹ ہو چکے تھے اور خانقاہ کے اندر اور باہر آہ و بکا اور سسکیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور لوگ ایک دوسرے سے لپٹ کر رو رہے تھے، مجھے مولانا جلال الدین رومی (رحمہ اللہ تعالیٰ) کا یہ شعر یاد آ رہا تھا؎
    تو چناں خواہد خدا خواہد چنیں
    می دہد یزداں مراد متقیں
    تو جو چاہے گا وہی اللہ تعالیٰ چاہیں گے اللہ تعالیٰ اپنے متقین بندوں کی مراد پوری فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے بھی میرے شیخ کی مراد کو پورا فرمایا اور پیر کے دن کی موت عطا فرمائی۔
    بندہ عرض کرتا ہے کہ جمعہ کے دن کی موت خائفین کے لیے ہے اور پیر کے دن کی موت عاشقین کے لیے ہے۔
    حضرت شیخ کو غسل دینے کی تیاری شروع ہو گئی اور اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی سنت کے مطابق ہو چنانچہ غسل کی ذمہ داری حضرت کے پوتے مولانا اسحاق صاحب اور حضرت کے خدام حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب، مولوی برکت اللہ صاحب، بھائی طاہر محمود صاحب پر عائد کر دی گئی اور ان کے تعاون کے لیے اور شرعی ہدایات کے لیے مفتی ارشاد احمد صاحب، مفتی غلام محمد صاحب اور بندہ کو مقرر کیا گیا۔
    تقریباً ساڑھے دس بجے حضرت کو غسل اور کفن دے کر خانقاہ میں زیارت کے لیے پہنچا دیا گیا بندہ ان خدمات و لمحات کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
    8بجے صبح حضرت شیخ کا جنازہ جامعہ اشرف المدارس سندھ بلوچ سوسائٹی میں پہنچ گیا کچھ دیر کے لیے جنازہ بڑی خانقاہ میں رکھا گیا جہاں آپ کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں ساڑھے آٹھ بجے جنازہ جنازہ گاہ مٰں لایا گیا الحمدللہ جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت بندہ نے بھی حاصل کی اور چھوٹے بھائی اور حضرت کے خلیفہ مفتی خلیق احمد اخون سلمہٗ اور فرزند محمد طلحہ نیاز اخون سلمہٗ نے بھی حاصل کی۔
    9بجے نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور ہزاروں افراد ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے نہ پہنچ سکے یہ وہ جنازہ تھا جس میں پڑھنے والوں کی بخشش ہو جاتی ہے، جنازے میں آنے والے جہاں جنازے کا اجر لینے کے متمنی تھے وہاں اپنی بخشش کے بھی امیدوار تھے۔
    وصیت کے مطابق حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا مظہر میاں صاحب دامت برکاتہم نے نماز جنازہ پڑھائی اور سندھ بلوچ سوسائٹی میں حضرت کے وقف کردہ قطعہ زمین برائے قبرستان میں آپ کی تدفین کر دی گئی اور آپ کی تدفین کا عمل آپ کے پوتے حضرت مولانا محمد ابراہیم میاں صاحب اور مولانا اسماعیل صاحب اور مولانا اسحاق صاحب اور دیگر اعزاء اور خدام کے ذریعے انجام پایا اور حضرت شیخ کی وصیت کے مطابق آپ کے پورے جسم کا رخ قبر کے شرقی دیوار کے سہارے قبلہ رو کر دیا گیا اور یہی شرعی حکم اور سنت ہے صرف چہرے کا قبلہ رخ کرنا کافی نہیں سب سے پہلے تین لپ مٹی حضرت کے صاحبزادے نے ڈالی پھر بندہ نے یہ سعادت حاصل کی اور پھر دیگر حضرات نے۔
    سورہ بقرہ کے اول اور آخری رکوع حضرت کے پوتے حضرت مولانا محمد ابراہیم میاں اور مولانا اسماعیل صاحب نے تلاوت کیے اور آخری دعا کروانے کا حکم بندہ کو ہوا سب نے قبلہ رو ہو کر دعا کی تقریباً ساڑھے دس بجے تدفین مکمل ہوئی اور قبرستان کو قبر کی زیارت کے لیے عام و خاص کے لیے کھول دیا گیا۔ رحمۃ اللہ رحمۃ واسعۃً (آمین)۔
    بہت روئیں گے کر کے یاد اہلِ میکدہ مجھ کو
    شرابِ دردِ دل پی کر ہمارے جام و مینا سے
    (حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ)

اس صفحے کو مشتہر کریں