نئے سال کا آغاز اور مبارک باد

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏ستمبر 11, 2018۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,187
    موصول پسندیدگیاں:
    1,672
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    *نئے سال کا آغاز اور مبارکباد!*
    (✍ : مفتی سفیان بلند)

    نئے اسلامی سال کے آغاز پر مختلف حضرات کی طرف سے مبارکبادی کا عمل جاری رہتا ہے اور اس میں عوام و خواص سب ہی شامل ہیں، اس موضوع کی مناسبت سے کچھ تحقیق اور فتاوی خلاصہ کے ساتھ پیش پیش خدمت ہے۔

    *1- سال نو کے آغاز پر مبارکباد دینے والی تین روایات اور ان کی تحقیق*

    ١- كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يتعلَّمونَ هذا الدُّعاءَ إذا دخَلَتِ السَّنةُ أوِ الشَّهرُ *اللَّهمَّ أدخِلْه علينا بالأمنِ والإيمانِ والسَّلامةِ والإسلامِ ورِضوانٍ مِن الرَّحمنِ وجوازٍ مِن الشَّيطانِ*
    (الراوي: عبد الله بن هشام المحدث: الطبراني - المصدر: المعجم الأوسط - الصفحة أو الرقم: ٢٢١/٦)
    خلاصة حكم المحدث: لا يروى هذا الحديث عن عبد الله بن هشام إلا بهذا الإسناد تفرد به رشدين بن سعد

    ٢- كان أصحابُ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يتعلَّمون هذا الدُّعاءَ إذا دخَلَتِ السَّنَةُ أو الشَّهرُ *اللهمَّ أدخِلْه علينا بالأمنِ والإيمانِ والسَّلامةِ والإسلامِ ورِضوانٍ مِنَ الرَّحمنِ وجَوازٍ مِنَ الشَّيطانِ*
    (الراوي: عبدالله بن هشام المحدث: الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: ١٤٢/١٠)
    خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن‏‏

    ٣- كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى الله عليهِ وآلِهِ وسلَّمَ يَتعلَّمونَ الدُّعاءَ كمَا يتعلَّمونَ القُرْآنَ إذا دخل الشَّهرُ أوِ السَّنةُ *اللَّهُمَّ أدْخِلْهُ علينا بالأمْنِ والإيمَانِ والسَّلامَةِ والإسْلامِ وجِوارٍ منَ الشَّيطَانِ ورِضْوانٍ مَنَ الرَّحمَنِ*
    (الراوي: عبدالله بن هشام المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: الإصابة - الصفحة أو الرقم: ٣٧٨/٢)
    خلاصة حكم المحدث: موقوف على شرط الصحيح

    *2- ان تین روایات کی تحقیق*
    پہلی روایت کی سند کمزور ہے، اس میں *رشدین بن سعد* نے ہی اس طریقے سے روایت کی ہے، دوسری روایت کی سند حسن ہے یعنی صحیح سے اگرچہ کمزور ہے لیکن ضعیف نہیں ہے بلکہ دلیل بننے کے قابل ہے، تیسری روایت کی سند بخاری اور مسلم کے درجے کی ہے۔

    ان تینوں روایات میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ حضور اکرم ﷺ سے ثابت ہے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بتایا گیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو سکھاتے تھے۔

    *3- سال نو کے آغاز پر دعا*
    جہاں تک سال نو کے آغاز کی دعاء کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مختلف روایات کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوا کہ صرف ایک صحابی یعنی *عبد اللہ بن ھشام رضی اللہ عنہ* کی روایت میں یہ لفظ وارد ہوا ہے (أوِ السَّنةُ) یعنی سال داخل ہونے کے وقت۔
    ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس طرح کی دعا صرف مہینہ کے داخل ھونے پر منقول ہے، جیسے :
    *حضرت طلحة بن عبيد الله، حضرت ابن عمر، حضرت عبادة بن الصامت، حضرت أنس بن مالك، حضرت رافع بن خديج، حضرت علی بن ابي طالب اور حضرت عائشة رضی اللہ عنہم*
    ان سب حضرات میں سے کسی نے سال کے شروع پر دعا پڑھنا ذکر نہیں کیا۔
    اس سے پتہ چلا کہ حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت میں سال (أوِ السَّنةُ) کا لفظ مدرج ہے، یعنی کسی بعد والے راوی نے اپنی طرف سے بڑھایا ہے اور اس سے بھی سال کے پہلے مہینہ کا چاند دیکھنے کے وقت پڑھنا مراد ہے، یعنی (أدخله علینا اور إذا دخَلَت ) سے وہ مہینہ مراد ہے نہ کہ سال کیونکہ *نئے سال کے لئے کوئی دعا صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے،* اگر ایسا ہوتا تو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نقل کرتے۔
    *اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس دعا پر (نئے سال کی دعا) کا عنوان نہ لگایا جائے* بلکہ یہ ہر مہینہ کے داخل ہونے پر پڑھنے کی دعا کی ترغیب دی جائے، چنانچہ صرف ذی الحج کے اخیر میں یہ پیغام شائع کرنا مناسب نہیں بلکہ ہر مہینہ کے اخیر میں بتلایا جائے اور جب ہر ماہ یہ پڑھی جائے گی تو سال کے لئے پڑھنے والی بات خود اس کے ضمن میں آجائے گی کہ ہر ماہ میں محرم کا مہینہ بھی داخل ہے اور پھر علیحدہ سے سال کا ذکر اضافی بھی ہوگیا۔

    *4- نئے سال کے آغاز پر مبارکباد دینا*
    جہاں تک مبارکباد دینے کا تعلق ہے تو اس کی بابت عرض ہے کہ :

    ● شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نئے سال کی مبارکباد دینے کا حکم کیا ہے اور مبارکباد دینے والے کو کیا جواب دینا چاہیے تو شيخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس مسئلہ میں صحیح یہی ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو مبارکباد دیتا ہے تواسے جوابا مبارکباد دو لیکن اسے نئے سال کی مبارکباد دینے میں خود پہل نہ کرو، مثلا اگر کوئی شخص آپ کویہ کہتا ہے کہ ہم آپ کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہیں تو آپ اسے جواب میں یہ کہیں کہ اللہ تعالی آپ کو خیر و بھلائی دے اور اسے خير و برکت کا سال بنائے، لیکن آپ لوگوں کو نئے سال کی مبارکباد دینے میں پہل نہ کریں، اس لئے کہ میرے علم میں نہیں کہ سلف رحمہم اللہ تعالی میں سے کسی ایک سے یہ ثابت ہو کہ وہ نئے سال پر کسی کومبارکباد دیتے ہوں۔

    ● بعض مشائخ نے ہجری سال کے شروع ہونے کی مبارکباد دینے کے بارے میں کہا ہے کہ کسی مسلمان کو تہواروں مثلا عید وغیرہ پر دعا کے الفاظ کو عبادت نہ بتاتے ہوئے مطلقا دعا دینے میں کوئي حرج والی بات نہيں اور خاص کر ایسا کرنے میں جب محبت و مودت اور خوشی وسرور مسلمان کے سے خوشدلی سے پیش آنا مقصود ہو۔
    امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مبارکباد دینے میں ابتداء نہيں کرونگا لیکن اگر مجھے کوئی مبارکباد دے تو میں اسے جواب ضرور دونگا، اس لئے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے لیکن مبارکباد دینے کی ابتداء کرنا سنت نہيں، نہ اس کا حکم دیا گيا ہے اور نہ ہی اس سے روکا گيا ہے، واللہ اعلم


    ● *کتاب النوازل* (٢٤١/١٧) میں ہے کہ اگر مبارک باد دینے کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں کو اِسلامی مہینوں کے متعلق اَہمیت کا احساس ہو اورمحض رسم مقصود نہ ہو، تو اِسلامی سال پر مبارک باد دینے کی گنجائش ہے۔
    *عن عبید اللہ عن أبیه عن جدہ طلحة بن عبید اللہ رضی اللہ عنه أن النبي صلی اللہ علیه وسلم کان إذا رأی الہلال، قال: اللّٰهم أہلِه علینا بالیمن والإیمان والسلامة والإسلام ربي وربک اللہ۔* (سنن الترمذي، أبواب الدعوات / باب ما یقول عند رؤیۃ الہلال ۲؍۱۸۳، عمل الیوم واللیلة ٥٩٦)

    *خلاصہ یہ ہے کہ نئے اسلامی سال کی مبارک باد دینا جائز و مباح ہے البتہ سنت سے ثابت نہیں* (مستفاد : دارالافتاء دارالعلوم دیوبند: جواب : ٤٩٦٤٤) اور اس طرح کی مبارک باد وغیرہ سے آہستہ آہستہ وہ عمل رسم و رواج کا درجہ اختیار کرلیتا ہے، اور اسی طرح بدعتیں وجود میں آتی ہیں، ہجرت کے بعد حضور اکرم ﷺ دس سال مدینہ میں رہے اور آپ کے بعد ۳۰ سال خلافت راشدہ کا عہد رہا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہ میں اس واقعہ کی اتنی اہمیت تھی کہ اسی کو اسلامی کلینڈر کی بنیاد و اساس بنایا گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد سے ہی ہجری تقویم کو اختیار کر لیا گیا تھا، لیکن ان حضرات نے کبھی سالِ نو یا یوم ہجرت منانے کی کوشش نہیں کی، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اس طرح کے رسوم و رواج کا قائل نہیں ہے، کیونکہ عام طور پر رسمیں نیک مقصد اور سادہ جذبہ کے تحت وجود میں آتی ہیں، پھر وہ آہستہ آہستہ دین کا جزو بن کر رہ جاتی ہیں، اس لئے اسلام کو بے آمیز رکھنے کے لئے ایسی رسموں سے گریز ضروری ہے۔(کتاب الفتاوی ٢٧٠/١)
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں