نظریہ وحدت الوجود پر کافی و شافی بحث اور اعتراضات کا جواب

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب علم, ‏مارچ 31, 2020۔

  1. طالب علم

    طالب علم عمر گزری مری کتابوں میں رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    کشمیر
    فی زمانہ کچھ منافق قسم کے لوگ اکابرین اہل سنّت والجماعت احناف دیوبند کے بارے میں یہ دعویٰ بڑے زور و شور سے کررہے ہیں کہ یہ حضرات وحدت الوجودی ھے۔ان منافقین کی اس محنت، مشقت ، کدوکاش اور پروپیگنڈہ کی حقیقت لا مذہب غیر مقلدوں نے جو اعتراضات قائم کئے ہیں انکے تمام اعتراضات کے علمی اور معقول جوابات دئے جا چکے ہے ۔
    جنکی لنک یہ رہی
    پوسٹ نمبر 1
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077487339278906/
    پوسٹ نمبر 2
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077557455938561/
    پوسٹ نمبر 3
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077605495933757/
    پوسٹ نمبر 4
    اعتراضات کی جوابی پوسٹ لنک اور انٹی جی کے 7 جھوٹ
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1077726085921698/
    پوسٹ نمبر 5
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1078212032539770/
    پوسٹ نمبر 6
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1078250999202540/

    اہل باطل نے اپنے تئیں اس کا حل یہ نکالا کہ بجائے اپنی شکست اور لوگوں کے ڈر سے اس کے جھمیلے میں پڑنے کے صرف جھوٹ پر جھوٹ بولنے شروع کیے
    جیسے آپ اس لنک میں دیکھ سکتے ہے
    https://www.facebook.com/577458639281781/posts/1079212565773050/
    اور ہم نے اکابرین نام نہاد اہل حدیث ہی کو صوفی و وحدت الوجودی ثابت کردیا تاکہ نام نہاد اہل حدیث وحدت الوجودی پر اعتراض کرنے اوران پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اکابرین کو بھی کافر لکھے

    اہل باطل لا مذہب غیر مقلدین کا یہ طریقہ واردات نیا بالکل نہیں بلکہ ہر اس معاملہ میں جس میں یہ دلائل سے کورے اورانکا دامن نصوص سے خالی ہو یہ لوگ یہی آزمودہ حربہ آزماتے ہیں۔
    جب ہم نے کتب اہل حدیث سے حوالہ جات دکھا دئے تو یہ انٹی جی گول مول، کر کے اپنے جھلا کا دفاع کرنے لگی
    کیوں کہ اس نے دعوا کیا تھا
    عقیدہ وحدت الوجود خالص کفر اور شرک ہے تو جب ان کے اکابرین کی باری آیی تو یہ گہونگی ہو گیی
    صورتحال میں جو الزام اس نے ہم پر دیا تھا وہ لوٹ کر ان لا مذہب غیر مقلدوں پرلگ رہا ہے اب کہی اپنی کتب کا انکار تو کہی جھوٹ دھونکھا فریب

    اس کی موجودہ مثال ایک لامذہب و بدمذب یہ انٹی جی کھوسٹ فیس بک کی مناظرہ کی ہے جس نے مناظر اسلام حافظ نعمان صاحب کی ایک اور تحریر کا جواب دینے کی ناکام کوشش کی ہے جب بے دست و بے دلیل کو کوئی ٹھوس دلیل ہاتھ نہ آئی تو جھوٹ فریب دجل و خیانت جو انکو ورثے میں ملتے ہیں انہی سے کام چلا کر اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کی ہے

    اور یہ انٹی جی ہماری پوسٹ کے جواب میں لکھتی ہے

    {{{⭕(1) غیرمقلدین نے اکابر وحدة الوجود اور وحدة الشہود کے قائل ہیں اور اسے صحیح قرار دیتے ہیں جیسے میاں نذیر حسین دہلوی ، ان کے شاگرد ، عبد اللہ روپڑی صاحب ، ثناء اللہ امرتسری صاحب وغیرہ
    ( خطبات بہاولپوری / ج : 1 / ص : 326
    فتاوی اہلحدیث / ج : 1 / ص : 152
    فتاوی ثنائیہ / ج : 1 / ص : 334 )⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب: حافظ عبداللہ بہاولپوری رح تو قطعا وحدت الوجود کے قائل نہیں تھے نہ انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے یہ لامذہب کا بہاولپوری پر صریح جھوٹ ہے }}}

    (1) ہمارا جواب الجواب : اگر جھوٹ ہے تو ثابت کیوں نہیں کیا عجیب بات ہے انٹی جی نے کہا ہے جھوٹ ہے تو بس کہنے سے جھوٹ ہو گیا حوالہ ہم نے پیچھے دیا ہوا ہے یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں

    آگے انٹی جی لکھتی ہے

    {{{٢: میاں نذیر حسین دہلوی رح عبداللہ روپڑی رح اور علامہ ثناءاللہ رح بھی قطعا فرقہ لامذہب دیوبندیہ کے کفریہ عقیدہ وحدت الوجود جن کا ثبوت سابقہ پوسٹوں میں دیا جاچکا ہے فرقہ دیوبندیہ کی عبارات سے ۔ایسے عقیدہ کو قطعا ان اہل حدیث علماء نے صحیح قرار نہیں دیا یہ اہل حدیث علماء پر صریح بہتان ہے البتہ عوام کو گمراہی سے بچانے کے لیے یہ علماء وحدت الوجود کا معنی یہ کردیتےتھے کہ ساری کائنات کو وجود بخشنے والا صرف اللہ ہے
    جب کہ اس کے برعکس فرقہ دیوبندیہ کا وحدت الوجود کاعقیدہ کفریہ شرکیہ ہے جو انکی کتب کی عبارات سے واضح ہے جیسا کہ شمائم (یعنی شمائل) امدادیہ ص٣٨پر لکھا ہواہے

    بندہ قبل وجود باطن خدا تھا
    خدا ظاہر بندہ کنت کنزا" مخفیا
    (شمائم امدادیہ صفحہ 38)
    یعنی بندہ اپنے وجود سے پہلے مخفی طور پر خدا تھا اور رب ہی ظاہر میں بندہ ہے معاذاللہ ثمہ معاذاللہ
    میں پوچھتی ہوں کونسا اہل حدیث اس کفریہ عقیدہ کو صحیح قرار دیتا تھا؟ ؟؟ }}}

    (2) ہمارا جواب الجواب :آگے انٹی جی وہ ہی پچھلا چلا رہی ہے جس کا جواب ہم پھلے ہی دے چکے ہے جو آپ اپر لنک میں پڑھ سکتے ہے مزید بھی دیتے جائے گے
    اکثر غیر مقلدین شمائم امدادیہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ دیوبندی لوگوں کو اللہ بننا سکھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ اس وحدت الوجود کی تشریح بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ''جو شخص عبد و رب میں عینیت حقیقی لغوی کا اعتبار کرے وہ ملحد وزندیق ہے کیونکہ اس عقیدے میں عابد و معبود ساجد و مسجود میں کوئی فرق نہیں رہتا۔۔'' (شمائم امدادیہ،67،68)
    یہاں مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ واضح طور پر عقیدہ حلول کا رد کر رہے ہیں اور اس عقیدے کو زندیق قرار دے رہے ہیں جہاں بندہ اور رب ایک ہو جاتا ہے۔۔ اس کی مثال کے طور پر انہوں نے شیشہ اور اس کا عکس کا حوالہ دیا ۔۔۔اسی کتاب میں انہوں نے واضح لکھا کہ ''یہ وحدت اعتباری اصطلاحی ہے نہ باعتبار حلول ہے ''
    غیر مقلدین کے شیخ السلام ثناء اللہ امرتسری صاحب نے وحدت الوجود کی تشریح پہلے شیخ ابن عربی ؒ کا ادب و احترام سے نام لیتے ہوئے ان کا حوالہ نقل کیا اور اس کے بعد شیشے کی مثال دیتے ہوئےاس عقیدہ کو قران کی آیت سے ثآبت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ''شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ نے اس کے متعلق ایک پر معنی رباعی لکھی ہے۔شیخ ممدوح فرماتے ہیں کہ دنیا میں کسی چیز کی مستقل ہی نہیں ہے۔ یہ سب تیری قدرت کے نشان ہیں۔ اور تیری طرف توجہ دلانے والے ہیں۔۔اس تشریح کے مطابق وحدۃ الوجود کی مثال یہ ہے۔ کہ کسی مکان کی کوٹھڑیوں میں مختلف رنگ کے شیشے لگادیئے جایئں۔ کوئی سفید۔ کوئی سرخ۔ کوئی سبز۔ کوئی سیاہ۔ ان کے پیچھے ایک لیمپ رکھ دیا جائے تو باہر سے دیکھنے والا ان شیشوں کو مختلف رنگوں میں دیکھے گا۔ ہاں ایک نظر لمپ کی وحدت کو ملحوظ رکھے گا۔ قرآن مجید بھی اس تشریح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیت۔ ۔ ۔ ۔ اس تشریح کے مطابق وحدۃ الوجود کے معنی وحدۃ الموجد کے ہوں گے۔ جو بالکل ٹھیک ہے مولانا سیالکوٹی کا مطلب غالباً یہی ہوگا۔(فتاوی ثنائیہ،1،149/150)

    اس کے بعد غیر مقلدین کے مشہور محدث روپڑی نے اپنی کتاب میں وحدت الوجود کو توحید الہیٰ قرار دیتے ہوئے اس کی مراد کو صحیح تسلیم کیا ، اس کو حدیث سے ثابت کیا اور شیشے کی مثال دی۔'' توحید حالی وحدۃ الشہود ہے اور توحید الٰہی وحدۃ الوجود ہے۔ یہ اصطلاحات زیادہ تر متاخرین صوفیاء( ابن عربی وغیرہ) کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔ متقدمین کی کتب میں نہیں۔ ہاں مراد ان کی صحیح ہے، توحید ایمانی اور توحید علمی تو ظاہر ہے توحید حالی کا ذکر اس حدیث میں ہے۔۔۔یہ حالت چونکہ اکثر طور پر ریاضیت اور مجاہدہ سے تعلق رکھتی ہے ، اس لیے یہ عقل سے سمجھنے کی شئے نہیں ہاں اس کی مثال عاشق ومعشوق سے دی جاتی ہے۔عاشق جس پر معشوق کا تخیل اتنا غالب ہوتا ہے کہ تمام اشیاء اس کی نظر میں کالعدم ہوتی ہیں‘ اگر دوسری شئے کا نقشہ اس کے سامنے آتا ہے تو محبوب کاخیال اس کے دیکھنے سے حجاب ہو جاتا ہے گویا ہر جگہ اس کو محبوب ہی محبوب نظر آتا ہے خاص کر خدا کی ذات سے کسی کو عشق ہو جائے تو چونکہ تمام اشیاء اس کے آثار اور صفات کا مظہرہیں اس لیے خدائی عاشق پر اس حالت کا زیادہ اثر ہوتا ہے یہاں تک کہ ہر شئے سے اس کو خدا نظر آتا ہے وہ شئی نظر نہیں آتی ہے جیسے شیشہ دیکھنے کے وقت چہرے پر نظر پڑتی ہے نہ کہ شیشہ پر۔
    (فتاوی علمائے اہلحدیث،9/329،330)
    غیر مقلدین کے ایک اور عالم شفیق الرحمان نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا کہ 'علمائے دیوبند ، ثناء اللہ امرتسری اور محدث روپڑی کا عقیدہ وحدت الوجود ایک ہی ہے'' تو ان حوالوں سے ثابت ہوا کہ وحدت الوجود پر جو عقیدہ مولانا امداد اللہ مہاجر مکی کا ہے وہی عقیدہ غیر مقلدین کے ثناء اللہ امرتسری اور محدث روپڑی کا بھی ہےجو کہ ان کے بقول قران و حدیث سے ثابت ہے
    پر انٹی جی اسکو تو جھوٹ ہی بولے گی

    پھر آگے لکھتی ہے
    {{{⭕غیرمقلدین کے شیخ الاسلام وحدة الوجود کے غلط تشریح کو قادیانیوں کے کھاتے میں ڈالتے ہیں کہ وحدة الوجود کی کفریہ تشریح قادیانی کرتے ہیں۔
    ( فتاوی ثنائیہ / ج : 1 / ص : 150 )
    یہی کام آج کل کے غیرمقلدین اور ان مجہول مضمون نگار صاحبہ کا ہے۔ فیاللعجب⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب:یہ بھی اس نام نہاد کھوسٹ مناظر کا علامہ ثناءاللہ امرتسری رحمہ اللہ پر صریح بہتان ہے کہ صرف قادیانی ہی عقیدہ وحدت الوجود کا کفریہ عقیدہ رکھتے ہیں اور اس سے مراد وہ لیتے ہیں جو کفر ہے بلاشبہ قادیانی کو علامہ رحمہ نے غلط تشریح کرنے والوں میں شامل ضرور کیا ہے لیکن فرقہ لامذہب الدیوبندیہ کو اس سے بری کہیں بھی قرار نہیں دیا بلکہ انکے حلولی وجودی بھی قادیانی کیطرح کفریہ تشریح و عقائد بیان کرتے رہے ہیں جسکے دلائل سابقہ پوسٹوں میں دیے جاچکے ہیں اور مزید اوپر ایک دلیل اور بھی پیش کر دی گئ ہے علامہ ثناءاللہ رحمہ لکھتے ہیں
    "وحدت الوجود کی دوسری تشریح میں وحدت الموجودات لئے جاتے ہیں۔ چنانچہ صوفیانہ رباعی اس تشریح کی یوں مظہر ہے۔

    در ولق گدا ودر الطلس شاہ ہمہ اوست در منزل جاناںچوتر خویش گزشتی(1)

    درانجمن فرق نہاں کانہ جمع باللہ ہمہ اوست خم باللہ ہمہ اوست

    اس عقیدے کے صوفیاء کے نزدیک انجمن فرق سے مراد یہ دنیاوی امتیازات ہیں۔ نہاں خانہ سے مراد وہ وحدت بحت ہے جو ان امیتازات سے پہلے تھی۔ شاعر کہتا ہے اس انجمن دنیا میں بھی اور نہاں خانہ میں بھی وہی ایک ہے۔ دوسرا کوئی نہیں۔ غالب مرھوم گو اس فن کے آدمی نہ تھے مگر پھر بھی یہ کہہ گئے ہیں۔ فرماتے ہیں۔

    جب کہ تجھ بن یہاں نہیں کوئی پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے۔

    سکھوں کے گرونانک کا بھی یہی عقیدہ تھا جو کہہ گئے ہیں۔

    آپے ٹھاکر آپے سیوک نانک جنت بے چارہ

    یہ تشریح ایسی ہے کہ اس کو کوئی نوکر شرع نہیں مان سکتا۔ بدقسمتی سے یہی تشریح زیادہ مشہور بھی ہوگئی ہے۔(فتاوی ثنائیہ جلد1/ ص148۔ 150)
    علامہ صاحب تو اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ یہی (کفریہ) تشریح ہی زیادہ مشہور بھی ہوگئ ہے جسکو کوئ نوکر شرع نہیں مان سکتا جو صوفیوں وحدت الوجودیوں کی عبارات و اشعار سے ظاہر ہورہی ہے اور اس کو سکھوں کے گرو نانک کا عقیدہ قرار دے رہے ہیں }}}

    (3) ہمارا جواب الجواب : اس میں کہتی ہے سابقہ پوسٹ میں دلائل دئے ہے پر وہاں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے صرف جھوٹ کی مشین گن چلا رہی ہے اور الزام لگا دیا ہے
    ((( فرقہ لامذہب الدیوبندیہ کو اس سے بری کہیں بھی قرار نہیں دیا بلکہ انکے حلولی وجودی بھی قادیانی کیطرح کفریہ تشریح و عقائد بیان کرتے رہے ہیں جسکے دلائل سابقہ پوسٹوں میں دیے جاچکے)))

    پر وہ پوسٹ کہاں ہے جس میں یہ دلیل ہے کہ آپ کے امرتسری نے ہم کو یہ بات لکھی لعنت اللہ علی الکاذبین
    پھر انٹی جی امرتسری صاحب کی دوسری تشریح لے کر آیی ہے انٹی جی اور اسکو ہمارے کھاتے میں ڈالنے کی ناکام کوشش کی پر کوشش ناکام رہی اس سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو رہا ہے عجیب بات ہے
    مزید انکا حوالہ اس بارے میں قصور اپنا نکل آیا
    غیرمقلدین کے پیشوا اور صحاح سۃ کے مترجم علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:
    ومن الصفات الفعلیۃ الحادثۃ الاستہزاء والسخریۃ والمکر والخدع والکید
    ہدیۃ المہدی ص7
    اللہ تعالیٰ کی صفات فعلیہ حادثہ میں سے مذاق، ٹھٹہ، مکردھوکا اورداؤ لگانا ہے۔
    یظہر فی ای صورۃ شاء
    ہدیہ المہدی ص7
    ترجمہ: اﷲتعالیٰ جس صورت میں چاہتے ہیں ظاہر ہوسکتے ہیں۔
    اس عبارت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ علامہ صاحب کابھی وہ ہی عقیدہ ہے جو عیسائیوں اور ہندؤوں کاہے۔ عیسائیوں کاعقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ کی شکل میں ظاہر ہوا اور ہندوؤں کاعقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کرشن اور رام چندر کی شکل میں ظاہر ہوا اور سامری کا عقید ہ تھا کہ اللہ تعالیٰ بچھڑے کی شکل میں ظاہرہوا۔ نعوذ باﷲ
    نزل الابراراور ہدیۃ المہدی میں ہے
    ولہ تعالیٰ وجہ وعین وید وکف وقبضۃ واصابع ومساعد ونزاع وصدر وجنب وحفو وقدم ورجل وساق …الخ۔
    ہدیۃ المہدی ا ص9 نزول الابرار 1 ص3
    یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے (یہ اعضاء ثابت ہیں )چہرہ،آنکھ، ہاتھ، ہتھیلی، مٹھی، انگلیاں ، بازو، سینہ، ایک پہلو، ایک کوکھ، ٹانگ اور پاؤں وغیرہ۔ نعوذ باﷲ
    غیر مقلدین ید سے ایک ہاتھ مراد لیتے ہیں شاید اسی وجہ سے ایک ہاتھ سے سلام کرتے ہیں اگر اس بات کو سامنے رکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ غیر مقلدین کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی آنکھ، ہاتھ، ہتھیلی، مٹھی وغیرہ سب ایک ایک ہیں۔

    انٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{آگے پھر بہتان تراشی کرتے ہوے لکھتا ہے
    ⭕ جہاں تک بات ہے علی زئی صاحب کی تو وہ خود غیرمقلدین کے یہاں معتبر نہیں ہیں۔ چنانچہ علی زئی صاحب کی زندگی میں ہی خود فرقہ غیرمقلدیہ نے ان کے خلاف اتنا لکھا جتناکہ علی زئی وحید الزمان حیدرآبادی کے خلاف بھی نہ لکھ سکے۔ تفصیل طلب کرنے پر حوالہ جات نمبروار پیش کئے جائیں گے ان شاء اللہ⭕
    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب :۔یہ بھی اس نام نہاد کھوسٹ مناظر کا جماعت اہل حدیث پر صریح بہتان ہے کہ زبیر علی زئی رحمہ جماعت اہل حدیث میں معتبر نہیں ہیں یہ الگ بات ہے کہ کسی مسلہ میں علماء کا دلائل کی بنیاد پر اختلاف ہوسکتا ہے لیکن کسی اختلاف کو بنیاد بناکر یہ باور کرانا کہ وہ پوری جماعت میں معتبر نہیں ہیں صریح بہتان ہے جو نام نہاد مناظر نے روایتی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوے لگایا ہے میرا مطالبہ ہے اس کذاب سے جو مسلسل جھوٹ کی مشین گن چلا رہا ہے کہ کوئی سے پانچ معتبر اہل حدیث علماء سے حافظ زبیر علی زئی کا رد دکھاے کہ انکی کتب معتبر نہیں ہیں}}}

    (4) ہمارا جواب الجواب : کتنی عجیب بات ہے انٹی جی کی دماغ کی بتی گل ہے شاید کہتی ہے کسی مسلہ میں اختلاف ہو سکتا ہے تو پتا چلا انکا جو پرانا مشہور دعوا تھا اربعہؒ کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف رجوع کیا ہے؟
    فرقہ اہلحدیث ائمہ اربعہؒ کے اجتہادی اختلافات کو قرآن و حدیث کی طرف لوٹا کر ختم کرنے کے دعوے میں بری طرح نا کام غیرمقلدین نے کیا لوٹایا ہے اللہ اور رسول کی طرف
    اور یہ کوئی معمولی اختلاف نہیں ہے عقائد میں بھی آپس میں اختلافات ہیں
    یہ وہ اختلافات ہیں جن میں ایک فریق کا گمراہی پر ہونا لازم آتا ہے۔
    جیسے شیعہ اور مرزئی اپنے عقائد کی بنا پر صریح گمراہ بلکہ کافر ہیں عقائد کا اختلاف جو گمراہی سے شروع ہوتا اور حد کفر تک پہنچتا ہے۔
    ٹینشن نا لے مزید حوالہ جات آپ کو دکھاتے جائے گے

    پھر انٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{آگے کہتا ہے
    ⭕ اب جو جواب وحدة الوجود کے بارے میں علی زئی صاحب نے دیا ہے وہ بھی صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ غیرمقلدین کے جن اکابر نے شیخ ابن عربی اور وحدة الوجود کی تعریف کی ہے وہ شیخ صاحب اور ان کی کتب سے واقف تھے۔
    ملاحظہ ہو
    ہدیة المھدی / ص : 51
    فتاوی ثنائیہ / ج : 1 / ص : 334
    تراجم علماء حدیث ہند / ص : 158
    فتاوی نذیریہ / ج : 1 / ص : ص : 130 ، 131
    وغیرہ⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب:یہاں بھی اس نے خیانت سے کام لے کر جھوٹ کا سہارا لیا ہے کیونکہ حافظ رحمہ نے علماء کے مختلف گروہ ذکر کیے ہیں
    ١)۔جو ابن عربی کے عقائد سے آگاہ نہیں ہیں
    ٢) -جو ابن عربی سے کفریہ عبارات کی نفی کرتے ہیں یعنی انکو ابن عربی سے ثابت ہی نہیں مانتے
    ٣)-جو ثابت مانتے ہیں لیکن انکو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    ۴) -جو ثابت بھی مانتے ہیں اور انکا عقیدہ بھی ابن عربی جیسا ہی ہے تو ان دونوں کا حکم ایک جیسا ہے
    اور گروہ نمبر دو۔ تین اگر خود صحیح العیقدہ ہیں تو ابن عربی سے متعلق مکمل آگاہی نہیں رکھتے

    یہی بات درست و حق معلوم ہوتی ہے جو اس بات سے متفق نہ ہو تو وہ یہ ثابت کرے ان علماءکی کتب سے کہ وہ ابن عربی اور "علماء ومحدثین کا ابن عربی سے متعلق موقف" سے مکمل آگاہ تھے }}}

    (5) ہمارا جواب الجواب :کہتی ہے یہاں بھی اس نے خیانت کی حد ہے انٹی جی تو جھوٹ پر جھوٹ بولتی جا رہی ہے پھر گروہ ذکر کرتی ہے چالاکی سے

    جس کا نچود انٹی جی نکالتی ہے یعنی جنہوں نے ابن عربی رح کی تعریف کی اور انکو القاب سے نوازا وہ ابن عربی رح کے موقف سے مکمل آگاہ نہیں تھے
    تو انٹی جی ان میں اپنے علماء کو ڈال کر دفاع کر رہی ہے بیچاری تو انٹی جی یہ کیسے بڑے بڑے اکابرین تھے آپ کے جو آپ کے حساب سے کفریہ عقیدہ ہے انہوں نے اپنایا وہ اس قابل بھی نہیں تھے اس موقف پر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آییں واہ کیا حماقت ہے

    مولانا نواب صاحب بھوپال مرحوم ''تکثار'' میں علامہ شوکانی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے چالیس سال تک شیخ اکبر کی تکفیر کی۔ آخر میرے رائے غلط معلوم ہوئی۔ تو میں نے رجوع کیا۔ نواب صاحب مرحوم شیخ ممدوح کو عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور مولانا مذیر حسین المعروف حضرت میاں صاحب دہلوی شیخ ممدوح کو ''شیخ اکبر'' لکھتے ہیں۔ (معیار الحق ص 128)
    اس حوالے سے تو ثابت ہو گیا ہے وہ بلکل واقف تھے تب ہی تکفیر کی تھی آخر میں رائے غلط معلوم ہوئی اور انٹی جی کہ رہی واقف نہیں تھے عجیب بات ہے اپر آپ دیکھ سکتے ہے ہم نے ایسے حوالے پیش کیے جن سے وہ مکمل آگاہ تھے اب یہ پیش کرے اپنے ان اکابرین کا حوالہ جس سے یہ ثابت ہو یہ واقف نہیں تھے بلکہ کوبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ان کے حق میں مناظرہ کیا القاب سے نوازا
    اور انکا غیر مقلدین کے ایک اور عالم شفیق الرحمان نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا کہ 'علمائے دیوبند ، ثناء اللہ امرتسری اور محدث روپڑی کا عقیدہ وحدت الوجود ایک ہی ہے'' تو ان حوالوں سے ثابت ہوا کہ وحدت الوجود پر جو عقیدہ مولانا امداد اللہ مہاجر مکی کا ہے وہی عقیدہ غیر مقلدین کے ثناء اللہ امرتسری اور محدث روپڑی کا بھی ہےجو کہ ان کے بقول قران و حدیث سے ثابت ہے مزید اپر حوالہ گزر چکا ہے

    پھر انٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{آگے لکھتا ہے
    ⭕ اب ہم غیرمقلدین کی کچھ عبارات نقل کرکے ان سے ان کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہ ان کا کیا حکم ہوگا
    (1) دیکھو کرنا کروانا جو کچھ ہے وہ اللہ ہی نے ہے۔ ( خطبات بہاولپوری / ج : 4 / ص : 356 )
    جبکہ علی زئی صاحب اس قسم کے جملے کو وحدة الوجود کا نظریہ قرار دیتے ہیں ( توضیح الاحکام / ص : ج : 1 / ص : 59 )⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب: حافظ عبداللہ بہاولپوری وحدت الوجود کے کفریہ شرکیہ عقیدے کے سخت مخالف تھے اس خیانت باز و دھوکہ باز کھوسٹ مناظر کا یہ باور کرنا کہ حافظ بہاولپوری بھی عقیدہ وحدت الوجود کے قائل تھے صریح بہتان ہے چنانچہ حافظ رحمہ وحدت الوجود کا رد کرتے ہوے لکھتے ہیں
    " اب وحدت الوجود کا عقیدہ صوفیوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔آپ سب کچھ نہ کچھ سکو ل کی تعلیم رکھتے ہیں۔یہ جدھر دیکھتا ہوں تو ہی تو ہے اور ہمہ اوست کا عقیدہ یہ وحدت الوجود کا عقیدہ....اور یہ خالصتاً کفر ہے۔ ایسا گندہ عقیدہ ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔(خطبات بہالپوری، جلد 1، صفحہ 327)

    (6) ہمارا جواب الجواب :
    تو خود حافظ بہاولپوری کے نزدیک میاں نذیر حسین اور انکے شاگرد سب کے سب کافر ہووے ہے جیسے ہم انکا حوالہ ذکر کر چکے ہے (خطبات بہاولپوری / ج : 4 / ص : 356 )
    حوالہ پیچھے گزر چکا ہے شاید دماغی مریض تھے خود میاں اور انکے شاگردوں کو وحدت الوجود کا شکار بھی مان رہے ہے اور خود کافر بھی

    اب اس آندھی پرست انٹی جی سے کہتے ہے یہ حماقت والے کام آپ کے جھلا کیوں کرتے ہے

    پھر آنٹی جی آگے جھوٹ لکھتی ہے

    {{{جہاں تک بات ہے حافظ زبیر علی زئ رح کی انہوں نے تمھاری عبارت سے تمھارا کفریہ عقیدہ دکھایا ہے۔
    جو لکھا ہوا ہے کہ "(زنا) کرنے والا اور کرانے والا کون وہ تو وہی ہے" یعنی اللہ معاذاللہ ثمہ معاذاللہ تم حلولیوں نے تو اللہ پر زنا کی تہمت لگا دی استغفراللہ ایسا خبیث عقیدہ تو یہود نصرانیوں کا بھی نہیں تھا جو تم وجویوں کی کتب میں لکھا ہوا ہے }}}

    (7) جواب الجواب :کیا آپ کو پتا ہے اسکا حوالہ کیوں نہیں دیا گیا کیا ماجرا ہے تو اسکی چھترول پھلے ہو چکی ہے اس پر
    جس کی لنک پوسٹ نمبر 1 میں اپر ہے
    ہم نے تو جواب دیا ہے پھلے ہی پر بلکل انکی عبارت ایسے ہی ہے انکی کتاب میں
    (دیکھو کرنا کروانا جو کچھ ہے وہ اللہ ہی نے ہے۔ ( خطبات بہاولپوری / ج : 4 / ص : 356 )
    بلکل ایک جیسے عبارت اور خود لکھا ہے زبیر میاں اسکو کفریہ عبارت مانتے ہے تو اس پر کفر کا فتویٰ کب دوگے انٹی جی

    پھرانٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{اور حافظ بہاولپوری رحمہ کی عبارت بھی تم نے کانٹ چھانٹ کر پیش کی ہے جس کا یقینی مطلب یہی ہے کہ کسی اچھے کام کی نسبت حافظ رحمہ نے اللہ کیطرف کی ہے کہ فلاں جو کام ہے کرنے کرانے والا اللہ ہی ہے یعنی اللہ کے حکم سے ہی ہوگا اور اچھی کام کی نسبت اللہ کیطرف کرنا ممنوع نہیں ہے بلکہ برے کام کی نسبت اللہ کیطرف کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ حالت ہے آپ کی آپ جیسے نیم حکیم اندھے تقلید پرست کو تو بنیادی عقائد کا پتہ نہیں اور مناظر اسلام بنے گھوم رہے ہو جھوٹوں کی فیکٹری }}}

    (8) جواب الجواب :ہاہاہاہا حد ہے اپنی باری آیی تو تاویل شروع بجائی فتویٰ کفر کے کہتی ہے عبارت کانٹ چھانٹ کر پیش کی تو تم اسکی تاویل کیوں کر رہی ہو پھر انٹی جی جھوٹ کی حد ہوتی ہے
    ملکہ جی کو جواب نہیں بن پایا تو طعنے دینے لگی ہے عجیب بات ہے آپ جیسے نیم حکیمہ اندھی آنٹی جی کو تو بنیادی عقائد کا پتہ نہیں اور فیس بک پر مناظرہ بنے گھوم رہی ہو جھوٹوں کی فیکٹری

    انٹی جی پھر آگے لکھتی ہے

    {{{آگے لکھتا ہے
    ⭕اللہ پاک انسان کی قدرت کا مظہر اور پرتو ہے۔ ( تفسیری حواشی احسن البیان ذیل سورة تین )
    جبکہ دیگر غیرمقلدین اس کو اللہ پاک پر بہتان اور عقیدہ وحدة الوجود قرار دیتے ہیں۔ ( عقیدہ صوفیت / ص : 99 )⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب: اگر اس سے مراد صلاح الدین یوسف کی حواشی تفسیر احسن البیان ہے تو یہ صریح بہتان ہے اس میں کہیں یہ عبارت نہیں لکھی ہوئی ہے
    نیز مظہر کا معنی عکاسی کرنا والا خبر دینے والا کے ہیں اور پرتو فارسی کا لفظ ہے جسکا معنی عکس یعنی عکاسی کرنے والا ترجمان کے ہیں اگر اس عبارت کو صحیح بھی مان لیا جاے جو کہ نرا بہتان ہے پھر بھی اس سے کفریہ عقیدہ وحدت الوجود کسی طور پر ثابت نہیں ہوتا

    (8) جواب الجواب :لگتا ہے انٹی جی کو حوالہ ہی سمجھ نہیں آیا اور چلی ہے کفر کے فتویٰ کی گن لے کر ہوائی فائرنگ کر رہی ہے
    اسکو پھر آنکھیں کھول کھول کر پڑھنا شاید سمجھ آییں کیا لکھا ہے اور تو جواب کیا دے رہی ہے انٹی جی

    پھر انٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{⭕ ( اللہ کے عاشق کو ) ہر شئی سے۔۔۔۔۔خدا نظر آتا ہے ( فتاوی اہلحدیث / ج : 1 / ص : 153 )⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب: دلائل سے خالی دامن ادھوری اور مبہم جملے کانٹ چھانٹ کر اندھے مقلدوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے چکر میں ہے یہ بیچارہ تو اس پر عرض کرتی چلوں کہ پوری عبارت لگاو اپنی روایتی خصلت منافقت سے اپنے جیسے اندھے مقلدوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرو یہاں تمھاری دال نہیں گلنے والی
    اگر میں ان ادھورے الفاظ پر ہی تبصرہ کروں تو بھی اس سے وہ ثابت نہیں ہوتا جو آپ کرنا چاہ رہے ہو کیونکہ الفاظ ہیں "ہر شے سے خدا نظر آتا ہے " کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق پر غور فکر کرتا ہے تو ہر چیز میں اللہ کی قدرت کا اظہار اور اللہ کی وحدانیت کا اظہار اسے نظر آتا ہے
    اگر الفاظ ہوتے کہ "ہرشے اسے خدا نظر آتی ہے" تو پھر اعتراض کرتے }}}

    (9) جواب الجواب :دلائل سے خالی دامن ادھوری اور اپنے اندھے غیر مقلدوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے چکر میں ہے یہ بیچاری تو اس کا جواب دے نہیں سکی تو اپنی روایتی خصلت منافقت سے تاویل شروع کی ہر شی سے خود نظر آتا ہے شی چیز کو کہتے ہے تو آپ نظریں سمجھے ہو گے کس کس چیز سے خدا نظر آتا ہے انکو لکھنے کی ضرورت نہیں

    پھر انٹی جی آگے لکھتی ہے

    {{{ آگے لکھتا ہے
    ⭕مسلم نے حرم میں راگ گایا تیرا
    ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا
    دہریے نے کیا دہر سے تعبیر تجھے
    انکار کسی بھی نہ بن آیا تیرا
    ( فتاوی ثنائیہ / ج : 1 / ص : 150 )

    یہ شعر ثناء اللہ امرتسری صاحب نے بطور شاہد پیش کیا ہے اور اس میں اللہ پاک کو بُت میں بھی مانا گیا ہے نعوذباللہ۔⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب:حقیقی مناظر اسلام علامہ ثناءاللہ امرتسری رحمہ نےوحدت الوجود پر اپنا موقف لکھنے کے بعد قارئین کے لیے وحدت الوجود کے عقیدےکو سمجھنے کے کیے اطلاع کے عنوان کے تحت لکھاہے کہ:

    "اطلاع

    ناظرین کی آگاہی کےلئے میں بتاتا ہوں کہ اس مسئلے کے متعلق حضرت مجدد صاحب سرہندی کا ایک مکتوب اور مولانا اسماعیل شہید کا بھی ایک عربی مکتوب شائع شدہ ہے۔ ناظرین اس سے مزید فائدہ اٹھایئں۔ مولانا حالی نے اس کے متعلق ایک رباعی لکھی ہے۔ جو یہ ہے۔

    مسلم نے حرم میں راگ گایا تیرا ۔ ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا

    دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے ۔ ۔ انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا"

    قارئین علامہ ثناءاللہ رحمہ نے یہ بطور اطلاع کے بات لکھی ہے یہ ان کا ہر گز عقیدہ نہیں تھا اگر اس طلاع سے پہلے وہ اپنا عقیدہ بیان نہ کرتے تو پھر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا لیکن اس نام نہام مناظر نے یہاں بھی منافقت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ اسی فتوی کے ایک عبارت میں اوپر بیان کر چکی ہو جس میں صوفیوں وحدت الوجودیوں کے عقیدہ اور سکھوں کے گرونانک کے عقیدے کو علامہ رح نے ایک ہی عقیدہ قرار دیا ہے اب میں اس فتوی کی شروع کی عبارت بھی پیش کر دیتی ہوں علامہ رح لکھتے ہیں

    "مسئلہ وحدت الوجود

    اس صورت میں اس پر بحث کی جائے کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیا جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین و من بعدہم کے زمانہ میں نہ تھا۔ اس کا مدعا بیان کرنے میں دو قول ہیں۔ ایک موافق شرح دوسرا مخالف شرح 1۔ ساری دنیا کا وجود یعنی ہستی بخشنے والا ایک ہے۔ جس کا نام القیوم ہے۔ 2۔ دوسرے معنی میں موجودات بلحاظ اصل کے سب ایک ہیں۔ (3 مارچ 1933ء؁)

    در انجمن فرق نہاں خانہ جمع باللہ ہمہ اوست ثم باللہ ہمہ اوست

    شرفیہ

    میں کہتا ہوں(مروجہ ) تصوف جو گبوں سادھووں کا فلسفہ ہے۔ ہمہ اوست کا عقیدہ صریح کفر ہے۔ یہ قرآن وحدیث کی تکذیب ہے۔ اس عقیدہ پر نہ اللہ تعالیٰ معبود رہتا ہے۔ نہ خالق نہ رازق نہ مبعبود پھر نہ کچھ حلال نہ حرام۔ اپنے خیالات رکھنے والے اور پھر مسلمانی کا دم بھرنے والے۔ حقیقت میں شیطان کے بندے ہیں۔ بے ایمان ہیں۔ یہ لوگ محض تقیہ اور نفاق کے طور پر شریعت کا دم بھرتے ہیں۔ رسمی طور پر نہ دل سے ۔"
    (فتاوی ثنائیہ۔ جلد1/ ص148۔ 150)
    وحدت الوجود اور ہمہ اوست یہ دونوں ایک ہی عقیدے کے دو نام ہے

    (10) جواب الجواب :کہتی ہے امرتسری صاحب اپن موقف بیان کرتے ہے انٹی جی کہتی ہے اگر اس طلاع سے پہلے وہ اپنا عقیدہ بیان نہ کرتے تو پھر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا تو مولانا امداد اللہ مہاجر مکیؒ اس وحدت الوجود کی تشریح بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ''جو شخص عبد و رب میں عینیت حقیقی لغوی کا اعتبار کرے وہ ملحد وزندیق ہے کیونکہ اس عقیدے میں عابد و معبود ساجد و مسجود میں کوئی فرق نہیں تو ان پر اعتراض کیوں حد ہے خباثت کی جہالت کی انٹی جی کی عقل پر ماتم ہو جب اپنے بابا کی بات آیی تو کفر کے فتویٰ کے بجائی تاویل شروع
    حالانکہ وہا بھی صاف نظر آرہا ہے ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا وغیرہ تو اس پر بھی کفر کا فتویٰ لگنا چاہے ہم نے بطور حوالہ امرتسری کو پیش کیا ہے جواب الجواب نمبر 2 میں دیکھے اپر

    پھر انٹی جی لکھتی ہے

    {{{آگے لکھتا ہے
    ⭕اب علی زئی اصول پر یہ سب غیرمقلد اکابر کافر بنتے ہیں اور جو غیرمقلد انہیں کافر نہ کہے وہ بھی کافر بنتا ہے۔ سبحان اللہ ( بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم )⭕
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب: جب کسی اہل حدیث سے وحدت الوجود کے کفریہ عقیدے کا ثبوت ہی نہیں ملتا جیسا حلولیہ دیوبندیہ فرقہ کی عبارات سے ملتا ہے تو کافر کس الکوفی الگٹری الدیوباندری اصول سے بنتے ہیں عقل گھاس چرنے گئ ہے نیم حکیم کی تم علماے حدیث کی تحریروں سے اس کفریہ عقیدے کا ثبوت لاو پھر فتوی ہم لگائیں گے ثبوت تو لاو

    (11) جواب الجواب :ہاہاہا حد ہوتی ہے جھوٹ کی پیچھے ہم 4 حوالے دے چکے ہے اور اس میں بھی کہی حوالے ہے
    مزید اور حوالہ دیتا چلو نواب صاحب لکھتا ہہے
    التاج المکلل ص90
    توہم واشیاء بلیل
    فہم یسعی بیننا بالتباعد
    فعانقۃ حتیٰ اتحدنا تعانقا
    فلما اتانا ما رای غیر واحد


    یعنی رات کے وقت رقیب نے ہمارے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے محبوب کے ساتھ اس طرح معانقہ کیا کہ ہم بالکل ایک ہوگئے جب رقیب آیا تو اسے ایک کے علاوہ دوسرانظر نہیں آیا۔ اسی مضمون کاایک فارسی شعر نقل کرنے کے بعدنواب صاحب موصوف فرماتے ہیں اور عجب نہیں یہی لوگ (اہل حدیث) محبت اور اتحاد والے بلکہ حق وانصاف کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ وحدت مطلقہ کے مالک ہیں۔

    انٹی جی آگے لکھتی ہے
    {{{آخرمیں ابن عربی کے دفاع میں چند علماء کے نام لکھے گئے ہیں جن کارد پچھلی ایک پوسٹ میں "ابن عربی کا رد" کے عنوان کے تحت بیان کر دیا گیا ہے جس کو دوہرانا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ پوسٹ پہلے ہی کافی لمبی ہوچکی ہے}}}

    (12) جواب عرض ہے انٹی جی ابن عربی رح کے دفاع میں چند علماء کے نام لکھے تو ضرور ہے پر آپ کی پچھلی پوسٹ میں پتا نہیں کیا کیا ہوتا ہے بےشرم انٹی جی جھوٹ بھی صفائی سے بولتی ہے اپنے کسی بھی حوالے کا رد نہیں کیا کیوں عوام کو بیوقوف بنا رہی ہو حد ہے پچھلی پوسٹ میں ہم نے آپ کے کتب سے ابن عربی رح اور غیر مقلدین جنہوں نے دفاع کیا ہے مزید اس لنک میں آپ اصلیت جان لیجیے نظریں
    کرام
    https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1078250999202540&id=577458639281781
  2. طالب علم

    طالب علم عمر گزری مری کتابوں میں رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    کشمیر

اس صفحے کو مشتہر کریں