نظم ۔۔۔ تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از ذیشان نصر, ‏اپریل 5, 2012۔

  1. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
    تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!

    یہ تہذیب وثقافت، کس کی ہے یہ عنایت
    چاہے فکر و عمل ہو، یا ہو رسم و روایت
    یہ غیروں کی غلامی ، یہ اپنوں سے بغاوت
    تو نے سوچا کبھی تو، کیسی ہے یہ محبت

    تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
    تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!
    اُلفت ہے نہ امانت، چاہت ہے نہ صداقت
    غیرت ہے نہ شرافت، عزت ہے نہ دیانت
    شدت ہے یا شرارت، دھوکہ ہے یا عداوت
    بربادی کا سماں وہ، ہو جیسے کہ قیامت

    تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
    تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!
    یاں کھویا ہے سبھی کچھ، پایا کچھ بھی نہیں تب
    تاریکی ہے کیوں اب؟ روشن جو ہے دیا جب
    پھر ختم یہ ہو گا کب ؟ آزادی کا سفر اب
    یاں کب ہو گا اُجالا؟ ذیشاں ہو گی سحر کب؟

    تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
    تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!​
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    تم ہی کھولو ذرا لب، آزادی ہے کہاں اب؟
    تم کو کیسے کہوں پھر؟ میں آزادی مبارک!

    اس میں کیا شک ہے
  3. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہترین شاعری ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ شئیرنگ کا شکریہ
  4. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پسندیدگی کے لئے تمام احباب کا شکر گذار ہوں۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں