نماز میں سدل کی کراہت کا بیان

'الحدیث الکریم و علومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏ستمبر 24, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم رکن

    پیغامات:
    322
    موصول پسندیدگیاں:
    120
    صنف:
    Female
    سنن ترمذي
    کتاب: نماز کے احکام و مسائل
    166۔ باب: نماز میں سدل کی کراہت کا بیان۔


    حدیث نمبر: 378

    حدثنا هناد، حدثنا قبيصة، عن حماد بن سلمة، عن عسل بن سفيان، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابي هريرة، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السدل في الصلاة " قال: وفي الباب عن ابي جحيفة، قال ابو عيسى: حديث ابي هريرة لا نعرفه من حديث عطاء، عن ابي هريرة مرفوعا، إلا من حديث عسل بن سفيان، وقد اختلف اهل العلم في السدل في الصلاة، فكره بعضهم السدل في الصلاة وقالوا: هكذا تصنع اليهود، وقال بعضهم: إنما كره السدل في الصلاة إذا لم يكن عليه إلا ثوب واحد، فاما إذا سدل على القميص فلا باس، وهو قول احمد وكره ابن المبارك السدل في الصلاة۔

    ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔

    امام ترمذی کہتے ہیں:
    ۱- ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں،

    ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

    ۳- سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہو گا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو (مطلقاً) مکروہ قرار دیا ہے۔

    32444 - 378

    تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الصلاة 86 (643)، (تعلیقا من طریق عسل عن عطائ، ومتصلاً من طریق سلیمان الأحول عن عطائ) (تحفة الأشراف: 14195)، سنن الدارمی/الصلاة 104 (1419) (حسن) (عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)»

    وضاحت:
    ۱؎
    : سدل کی صورت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کُرتا یا جبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔
    ۲؎: اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے، چاہے سدل کی جو بھی تفسیر کی جائے۔

    قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (764) ، التعليق على ابن خزيمة (918) ، صحيح أبي داود (650)

    قال الشيخ زبير على زئي: (378) ضعيف /جه 966 ¤ عسل : ضعيف (تق : 4578) وللحديث طريق آخر ضعيف جدًا عند أبى داود (643) وللحديث شواھد ضعيفة

اس صفحے کو مشتہر کریں